شاہینوں نے سری لنکن کو ون ڈے سیریز میں دھول چٹا کر بدلہ چکادیا

شاہینوں نے سری لنکن کو ون ڈے سیریز میں دھول چٹا کر بدلہ چکادیا ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )
پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد بلند مورال کے ساتھ اور سری لنکا کی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھارت کے ساتھ سیریز میں بد ترین شکست جس میں انڈین ٹیم نے0۔5سے وائٹ واش کیا اور زمبابوے سے بھی شکست کے بعد ڈری سہمی متحدہ عرب امارات پہنچی تو یہی توقع تھی کہ پاکستان اسے ہر میدان میں ناک آؤٹ کردے گامگر خلاف توقع اس نے ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو وائٹ واش کر دیامگر شاہینوں نے ون ڈے سیریز میں سری لنکا کو بہترین بیٹنگ ،نپی تلی باؤلنگ اور عمدہ فیلڈنگ کی بدولت اسے ہر شعبہ میں ناک آؤٹ کرتے ہوئے سیریز کو0۔5 سے وائٹ واش کر دیا رواں سال سری لنکا کی ٹیم نے جنوبی افریقہ ،بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں وائٹ واش کی ہیٹرک مکمل کی،چیمپئینز ٹرافی میں بھارت سے شکست کے بعد یہ پاکستان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں لگاتار 9ویں کامیابی ہے، شارجہ میں کھیلے گئے سیریز کے 5ویں اور آخری میچ میں سری لنکن کپتان اپل تھرنگا نے ٹاس جیت کر پہلے بینگ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا بیٹنگ وکٹ ہے لہٰذا بڑا سکور کریں گے مگر ان کی خوش فہمی اس وقت روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئی جب عثمان شنواری نے اپنے دوسرے میچ کے پہلے اوور کی آخری دو بالوں پر صرف ایک سکور پر سمارا اور چندی مل کو آؤٹ کر سنسی پھیلا دی ،شنواری نے اننگز کے تیسرے اور اپنے دوسرے اوور میںیہی کارنامہ پھر دہرا دیا ،8ویں اوور کی تیسری اور چوتھی گیندوں پر تھرنگا اور ڈکویلاکو 8۔8سکور پر آؤٹ کر دیا،عثمان شنواری نے اپنی اسپیل کی 21گیند پر سری وردانا کو پویلین بھیج کر 5وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا یوں صرف20کے مجموعہ پر رومان رئیس کی تباہ کن باؤلنگ نے آدھی ٹیم گراؤنڈ سے باہر ہو گئی ،حسن علی نے لہیرو تھریما اور چمیرا جبکہ شاداب خان نے پریرز اور ویندرکا شکار کیا جبکہ سکیگو رن آؤٹ ہوئے اس سیریز کے ہر میچ میں سری لنکا کا ایک ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا،اس میچ میں سری لنکا کے تین کھلاڑی صفر ،4 کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نہ ہو سکے ،پریرا 25رنز بنا کرٹاپ سکورر رہے،سری لنکا کی پوری ٹیم 27ویں اوور میں103سکور بنا کر آؤٹ ہو گی،پاکستان نے104کا ہدف 21ویں اوور میں1وکٹ پرحاصل کر کے تاریخ میں پہلی مرتبہ سری لنکا کو پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا اس سے قبل پاکستان نے 2008میں 5میچوں کی سیریز میں وائٹ واژ کیا تھا ،پاکستانی اوپنر فخر زمان اور امام الحق نے نہایت پر اعتماد آغاز کیا مگر 84کے مجموعی اور اس کے الٹ 48انفرادی سکور پر فخر زمان آؤٹ ہوگئے ان کے بعد فہیم اشرف کو بھیجا گیا اور بغیر کسی نقصان کے ہدف حاصل کر لیا اس میچ میں بیٹنگ کرنے والے تینوں پاکستانی بیٹسمین بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے تھے،امام الحق نے45 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی،عثمان شنواری کو مین آف دی میچ کا اعزاش دیا گیا ،اس میچ میں پاکستان نے جنید خان کی جگہ فہیم اشرف کو کھلا کرٹیم میں ایک تبدیلی کی جبکہ سری لنکا نے چار کھلاڑی بدلے،ون ڈے سیزیز کے لئے ٹیسٹ ٹیم کے صرف چار کھلاڑیوں سرفراز احمد(کپتان)،حارث سہیل،بابر اعظم اور حسن علی ون ڈے اسکواڈ کا حصہ بنے باقی سب کی گھر واپسی ،جب کہ محمد حفیظ ،شعیب ملک،احمد شہزاد،عماد وسیم،عثمان خان شنواری،فہیم اشرف،امام الحق،فخر زمان،جنیدخان ،شاداب خان،رومان رئیس،کویو ای اے بھیجا گیا،محمد عامر انجری کے باعث ون ڈے سکواڈ سے باہر ہوئے ،پاکستانی شاہینوں نے ون ڈے سیریز میں سری لنکا کو بہترین بیٹنگ،نپی تلی باؤلنگ اور فیلڈنگ کے بل بوتے پرناک آؤٹ کر دیا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوظہبی میں کھیلے پہلے میچ میں سری لنکن کپتان اپل تھرنگا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو احمد شہزاد اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا،احمد شہزاد بغیر کسی رن بنائے پویلین لوٹ گئے،43کے مجموعی سکر پر فخر زمان کودھننجیانے آؤٹ کر دیامحمد حفیظ نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 32رنز پر جیفرم ویندرسے کی گیند کا شکار ہوئے،بابر اعظم نے 103 اور شعیب ملک نے81رنز کے ساتھ تیسری وکٹ کے لئے 139رنز کی شاندار شراکت قائم کی ،کپتان سرفراز احمد اس میچ میں صرف ایک سکور بنا پائے پاکستان نے چھ وکٹ پر292کا ٹوٹل بنایا،سری لنکن ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ انداز اپنایا مگر رومان رئیس نے پہلی جوڑی کو توڑ دیا،اس کے بعد ان کی وکٹیں پتوں کی طرح جھڑنے لگیں حسن علی نے دو لگاتار گیندوں پر کشال مینڈس اور ملندرا سری ورنا کو آؤٹ کیا تو اس وقت تک آدھی ٹیم صرف67کے ٹوٹل پر پویلین پہنچ چکی تھی اور پوری ٹیم 8 وکٹ پر 209سکور کر پائی یوں پاکستان نے یہ میچ83رنز سے جیت کر بہترین آغاز کیا،اس میچ میں دھننجیا نے اننگز کی آخری گیند پر اپنی پہلی نصف سینچری مکمل کی رومان رئیس اور حسن علی نے تین تین وکٹیں حاصل کیں شعیب ملک کو مین آف دی میچ کا اعزاز ملا،دوسرے میچ میں سرفراز احمد نے اس ٹور میں پہلی بار ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا،احمدشہزاد اس میچ میں بھی ناکام اور صرف79کے مجموعہ پر آدھی ٹیم کو سری لنکا کے باؤلرز نے شکار کر لیا پھر عماد وسیم اور شاداب خان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا شاداب خان نے اپنے کیرئیر کی پہلی نصف سینچری مکمل کی،سری لنکا کی جانب سے لہیرو گھاکے نے چار اور تھسارا پریرا نے دو کٹیں حاصل کیں،جواب میں پاکستانی باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ پر سری لنکا کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیااس کے 7کھلاڑی صرف97رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے اس موقع پر جیفری ویندر کپتان کا ساتھ نبھانے آئے اورمشکل وقت میں آٹھویں وکٹ کے لئے 76رنز کی عمدہ شراکت قائم کی جسے رومان رئیس نے ختم کیا جبکہ آخری کھلاڑی رن آؤٹ ہوا پاکستان نے یہ میچ32رنز سے جیتاتین وکٹ حاصل کرنے پر شاداب خان مین آف دی میچ کے حق دار ٹھہرے،دونوں ٹیموں نے اس میچ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی ،تیسرے میچ میں ٹاس سری لنکا نے جیتا اور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیااوپنر نے 59رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا اس شراکت کو حسن علی نے ڈکویلا کو آؤٹ کر کے ختم کیا ،دنیش چندی مل اور اپل تھارنگا کو شاداب خان ،سری وردنا جنید خان،یوگیدرا،اکیلا دھننجیا،ا اور جیفری تھرما کو حسن علی ،تھری مانے کو محمد حفیظ نے آؤٹ کر کے آٹھویں وکٹ حاصل کی اگلے ہی اوور میں حسن علی نے جمیرا کو آؤٹ کیا اور مزید اگلے اوور میں تھسارا پریرا رن آؤٹ ہو گئے تو سری لنکا کی 207سکور بنا کر آؤٹ ہو گئی ،حسن علی نے اس میچ میں پانچ اور شاداب خان نے دو شکار کئے، پاکستان نے اس میچ میں اوپنر احمد شہزاد کی خراب کارکردگی پر امام الحق کو ڈیبیو کرایا گیا سنیئر کھلاڑی محمد حفیظ نے انہیں کیپ پہنائی جبکہ عماد وسیم کی جگہ فہیم اشرف کو موقع دیا گیا،امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیاتو76کے مجموعی سکور پر 29انفرادی رنز پر فخر زمان سٹمپ آؤٹ ہو گئے پچھلے 5ون ڈے میچوں میں لگا تار سینچریاں بنانے والے بابر اعظم 30رنز پر گماگے کووکٹ دے بیٹھے ڈیبیو کرنے والے امام الحق نے ذمہ درانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پہلی سینچری5چوکوں اور2چھکوں سے مکمل کی ان کے بعد محمد حفیظ اور شعیب ملک نے کوئی وکٹ نہ گرنے دی اور48گیندیں قبل ہی میچ جیت کر سیریزبھی پاکستان کے نام کر دی،چوتھے میچ میں بھی سری لنکا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا تو اس کی بیٹنگ لائن پھر فلاپ ہو گئی ان کی پہلی وکٹ دوسرے ہی اوور میں دو رنز پر بکھر گئی ،پہلا میچ کھیلنے والے عثمان شنواری نے کپتان اپل تھرنگا کی وکٹ حاصل کر کے اپنے کیرئیر کا شاندار آغاز کیا،سری لنکا کی پانچ وکٹیں 91رنز پر گر چکی تھیں ،شاداب خان نے اپنے اسپیل کی پہلی اور دوسری گیندوں پر سکیلگو پرسنا اور تھسارا پریرا کی وکٹیں حاصل کر کے سری لنکن بیٹنگ کو مزید تباہ کر دیا سری لنکا کی جانب سے لہیرو تھری مانے نے 62 سکور کئے ،حسن علی نے3،شاداب اور عماد وسیم نے 2۔2شکار کئے، سری لنکا نے پاکستان کوجیت کے لئے 174رنز کا ہدف دیا،فخر زمان مسلسل دومیچوں میں غیر ضروری شارٹ کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپ آؤٹ ہوئے،پہلے ہی میچ میں سینچری کرنے والے امام الحق دو سکور اور عبدالحفیظ 9سکور بنا کر وکٹیں تھما بیٹھے،بابر اعظم کے ساتھ شعیب ملک نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں119رنز کا ناقابل شکست اضافہ کر کے39ویں اوور میں ٹیم کو کامیابی دلا دی شعیب ملک اور بابر اعظم نے 69۔69سکور کئے ،اس میچ میں قومی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں رومان رئیس کی جگہ عثمان شنواری کو ڈیبیو کرایا گیا جبکہ فہیم اشرف کی جگہ عماد وسیم ٹیم کا حصہ بنے دوسری جانب سری لنکا نے اس میچ میں سدیرا سمارا وکراما کو ڈیبیو کرایا بابر اعظم مین آف دی میچ ٹھہرے، ون ڈے میچوں میں عرب سرزمین پاکستانی ٹیم کا ریکارڈ مایوس کن ہے،2009سے اب تک کھیلی گئی 12سیریز میں پاکستان سری لنکا کے خلاف دو سیریز سمیت صرف 3سیریز ہی جیتنے میں کامیاب ہوا 9میں اسے شکست سے دوچار ہونا پڑا،سری لنکاکوبھی آخری کھیلے گئے 21میچوں میں سے 16میچوں میں شکست سامنا کرنا پڑا، بھارت کے خلاف سیریز میں سری لنکن ٹیم ایک مرتبہ بھی 250کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی اور اس کے ساتھ اس سیریز میں بھی ایسا ہی ہوا چار وہ مکمل طور پر آؤٹ ہو کر میدان سے باہر ہوئی،اب تک پاکستان اور سری لنکا153میچوں میں مد مقابل ہوئے جن میں سے90پاکستان نے،85سری لنکا نے جبکہ ایک ٹائی اور4بے نتیجہ ختم ہوئے،پاکستان کی نئے اوپنر بیٹسمین22سالہ امام الحق نے پہلے ہی میچ میں 100بنا کر دوسرے پاکستانی کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے1995میں سلیم الہٰی نے گوجرانوالا میں پہلے میچ میں سینچری سکور کیا تھا،دنیا بھر میں امام الحق 13ویں کھلاڑی ہیں جنہوں نے ڈیبیو پر سینچری سکور کیا،امام الحق جونئیر ورلڈ کپ2014میں پاکستان کی نمائندگی کے اعزاز کے علاوہ وہ انڈر19،انڈر23اور فرسٹ کلاس میچوں میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں،وہ عینک لگا کر بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہیں انہیں دیکھ کر پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی ظہیر عباس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، بابر اعظم نے ایک ہی اننگز میں جنوبی افریقی کھلاڑیوں ہاشم آملہ اور کپتان اے بی ڈویلئیر کے ریکارڈ توڑ کر نئے عالمی ریکارڈ قائم کر دیئے،بابر اعظم نے اس سینچری کے ساتھ ہی ہاشم آملہ کو سب سے کم اننگز 33میں 7ویں سینچری بنا کر عالمی ریکارڈ سے محروم کر ڈالا،ہاشم آملہ نے یہ معرکہ45اننگز میں سر کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا،اسی 100پربابر اعظم دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے کسی بھی ملک(یو ای اے)میں لگا تار5بارسینچریاں بنائیں یہ ریکارڈ اے بی ڈویلئیر کے پاس تھا جنہوں نے بھارت میں لگاتار4سینکڑے بنائے تھے،سری لنکن کپتان اوپننگ بیٹسمین اپل تھارنگا نے بھی اس سیریز میں انٹرنیشنل کی تاریخ رقم کر دی وہ میچ میں آغاز سے لے کر آخر تک 112رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے یوں وہ بیٹ کرنے والے پہلے بلے باز کا اعزاز کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کارنامہ سر انجام دینے والے دنیا کے پہلے کپتان بن گئے،اس سال بہترین صلاحیتوں سے مالا مال 6نئے کھلاڑیوں ،شاداب خان،فہیم اشرف ،عماد وسیم،فخر زمان ، امام الحق اورعثمان خان نے قومی ٹیم میں ڈیبیو کیا،تیسرے دن ڈے سے قبل یو ای اے میں بکی عرفان انصاری نے کپتان سرفراز احمد سے رابطہ کیا تواس نے پی سی بی کے انٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل (ر)اعظم کو سب بتا دیا ،آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ نے 21اکتوبر کی شام سرفراز احمد سے تحقیقات کے لئے 30منٹ کاانٹرویو کیا،اس سیریز میں شاندار کاکردگی پرساتویں پوزیشن سے حسن علی ورلڈ رینکنگ میں پہلے نمبر پہنچ گئے،محمد حفیظ بھی آل راؤنڈر ز کی صف میں آئی سی سی کی موجودہ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے محمد حفیظ کو پہلی بارجنوری2013میں یہ اعزاز حاصل ہوا اور وہ مجموعی طور پر انہیں 9بارنمبر ون آل راؤنڈر قرار دیا جا چکا ہے ،ٹاپ ٹین کی فہرست میں بابر اعظم واحد پاکستانی بیٹسمین ہیں جو5ویں پوزیشن پر ہیں،سیریز میں حسن علی اور عثمان خان شنواری نے5۔5وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا کوئی بھی سری لنکن باؤلر ایسا کارنامہ انجام نہ دے سکا ، حسن علی13وکٹیں لے کر سر فہرست رہے،بابر اعظم نے2،امام الحق اور اپل تھرنگا نے 1۔1بار سینچری بنائی،شعیب ملک اور لہیرو تھرماسے نے2۔2اورشاداب خان اور بابر اعظم ایک ایک ففٹی بنائی،پاکستان نے ٹی ٹونٹی سیریز کے اسکواڈ میں صرف سہیل خان کو ہی ڈراپ کیا ہے باقی کھلاڑیوں میں سرفراز احمد (کپتان)،فخر زمان،احمد شہزاد ،بابر اعظم،شعیب ملک،محمد حفیظ،عماد وسیم،شاداب خان،محمد نواز،فہیم اشرف،حسن علی،عثمان خان شنواری،عامر یامین اور محمد عامر شامل ہیں رومان رئیس اسکواڈ میں شامل تھے تاہم کہنی ہر چوٹ آنے پر وہ باہر ہو گئے، محمد عامر کی کسی بھی میچ میں شمولیت کا انحصار ان کی فٹنس پر ہوگا،محمد عامرکو انڈین کپتان ورات کوہلی نے دنیا کا خطرناک ترین باؤلر قرار دیا ایک شو میں کوہلی سے سوال کیا گیا کہ ان کی نظر میں دنیا کا خطرناک ترین باؤلر کون ہے؟تو کوہلی نے کہامیں نے اپنے کیرئیر میں نے کبھی ان سے مشکل باؤلر کا سامنا نہیں کیا،T20سیریز کے لئے سری لنکا اسکواڈکپتان تھسار پریرا،تھیس دلشان مونانوریوا،دنشکاگونا تھیلا،سدیراسمارا وکرمہ،آشان پرینجن،مہیلا اداوتے،دسون شناکا،سچتھ پیتھرانا،وکرم سنجانا،لہیرو گماگے،سیکو جے پرسانا،وشوا فرنینڈو،اسوروادانا،جیفرے وندرسے اور چتور نگا ڈی سلوا پر مشتمل ہے جبکہ لاستھ ملنگا،دنیش چندی مل،اپل تھرنگا اور مکمل نے تیسرے ٹی ٹونٹی میچ جو29اکتوبر کو لاہور میں ہونا ہے کے لئے پاکستان جانے سے انکار کیا تو سری لنکن بورڈز نے ان کھلاڑیوں کو سیریز سے ہی آؤٹ کر دیا اور زیادہ تر نئے کھلاڑی شامل کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com