آئی سی سی چیمپئن ٹرافی ۔آج دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا

آئی سی سی چیمپئن ٹرافی ۔آج دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا ٹاکرا ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل )
ناقابل یقین طور پر دنیا کو حیرت کدہ میں پہنچاکر مجموعی طور پر نوجوان شاہینوں پر مشتمل پاکستانی کرکٹ ٹیم آخری نمبر سے کئی ٹیموں کو روندتی ہوئی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017کے میگا ایونٹ کے فائنل میں جگہ بنائی اور آج فائنل میں پہلی بار روایتی حریف انڈیا کے ساتھ پنچہ آزمائی کرے گی،اس ایونٹ میں پاکستانی ٹیم نے ایسی کارکردگی دکھائی جو کرکٹ کے حوالے سے ملکی تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملی ،وسوسے، اندیشے اور شکست کا خوف اپنی جگہ مگر قوم کیا غیروں کو بھی یقین ہے کہ یہ ٹیم فائنل میں سرپرائز دے سکتی ہے،یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تمام ٹیموں میں صرف پاکستانی باؤلرز ہی گیند کو ریورس سوئنگ کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں آج یہ نوجوان باؤلر مضبوط انڈین بیٹنگ کو ضرور لگام ڈالے گی ،پاکستانی ٹیم کے بارے کوئی بھی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ،حالیہ ٹورنا منٹ کے پہلے میچ میں بدترین شکست کے بعد اس کی کارکردگی میں یکسر اور بہترین تبدیلی پر انڈین کپتان ویرات کوہلی بھی متعجب اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، جیسے جیسے وقت آن پہنچا دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو چکی ہیں الیکٹرانک میڈیا پر تو صرف یہی Topic رہ گیا ہے جو قوم کے جذبات کو بری طرح بڑھکا رہے ہیں، 9سال بعد دونوں ٹیمیں کسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں آمنے سامنے آئی ہیں البتہ کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ یا ٹرافی میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے ماضی میں ہونے والے 8فائنلز میں سے 8پاکستان اور صرف 2انڈیا نے جیتے ،دنیا بھر میں کرکٹ سے لگاؤ رکھنے والے اربوں افراد کو اس فائنل میچ کا شدت سے انتظار ہے،لندن کے تاریخی گراؤنڈ ۔اوول ۔میں جو پاکستانی ٹیم کے لئے بہتر ثابت نہ ہوا یہاں ہونے والے 19میں سے صرف 4 میچ پاکستان نے جیتے ایک ٹائی ہوا،سب سے زیادہ آسٹریلیا نے 7 میچز میں پاکستان کو شکست تھمائی روایتی حریف انڈیا سے دو مرتبہ سامنا ہوا دونوں بار ہی کامیابی انڈیا اچک لے گیا،عمر اور تجربہ کے لحاظ سے انْڈین ٹیم بہت آگے ہے آخری برسوں میں انڈیا ٹیم کی کارکردگی ہر شعبہ میں انتہائی بہتر رہی ویر ات کوہلی اس ٹورنامنٹ میں اعزازکا دفاع اور سرفراز احمد نہ صرف خود پہلی بار کسی بڑے ٹورنامنٹ میں شامل بلکہ فائنل میں کپتانی کر رہا ہے،ورلڈ کپ1983میں انڈیا نے میزبان ٹیم انگلینڈ کو ہرانے کے بعد فائنل میں موسٹ فیورٹ ویسٹ انڈیز کو شکست دے سب کو حیران کر دیا تھااس سے قبل ہونے والے دونوں ورلڈ کپ ٹورنا منٹ ویسٹ انڈیز نے ہی جیتے تھے، پاکستان نے 1992میں عمران خان کی قیادت میں پہلی بار اور آخری بار ورلڈ کپ کو حاصل کیا،دسویں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انڈیا نے پاکستان کو ہرایااور فائنل میں سری لنکا کو گھر بھیج کر دوسری مرتبہ عالمی کپ جیتا انڈیا دو مرتبہ پہلی پوزیشن پر جبکہ تین مرتبہ اسے فائنل تک رسائی ملی،پاکستان 4مرتبہ سیمی فائنل اوردو دفعہ فائنل تک پہنچا ،انڈیا کی موجودہ ٹیم میں شامل یوراج سنگھ 2011کے ورلڈ کپ میں 362رنز اور 15وکٹیں حاصل کر کے مین آف دی ٹورنامنٹ بنے،پاکستانی ٹیم نے پہلی مرتبہ1951میں انڈیا کا دورہ کیا جبکہ انڈین ٹیم پہلی دفعہ 1954میں پاکستان آئی،ماضی میں پاکستان اور انڈیا کرکٹ کا موازنہ کیا جائے تو پاکستانی ٹیم مجموعی طور پر بہتر پوزیشن میں رہی ،اب تک ان دونوں راویتی حریفوں کے درمیان 59ٹیسٹ میچ جن میں سے12پاکستان اور9انڈیا نے جیتے38میچ ڈرا ہوئے،اب تک کھیلے گئے کل128ون ڈے میں سے72میں پاکستان اور 52میں انڈیا کو کامیابی ملی4میں بغیر نتیجہ ختم ہوئے،T20میں البتہ انڈیا کی پوزیشن بہتر رہی اس نے8میں سے6میچ جیتے پاکستان اس سے صرف ایک میچ جیت سکا ایک ڈرا ہوا،آئی سی سی میگا ایونٹس میں بھی انڈیا کا پلہ ہمیشہ بھاری رہاورلڈ کپ میچوں میں دونوں ٹیمیں 6مرتبہ میدان میں اتریں اوران سب میچوں میں انڈیا نے پاکستان کو شکست کا داغ تھمایا،اسی طرح اب تک چیمپئن ٹرافی کی تاریخ میں یہ حریف چار مرتبہ ٹکرائے اور چاروں بار ہی انڈیا فاتح رہا،ایشیا کپ میں11میچز ان کے درمیان ہوئے دونوں ٹیموں نے 5۔5میچ جیتے ایک ڈرا رہا،پاکستان آئی سی سی ورلڈ کپ اور T20ورلڈ کپ ایک ایک مرتبہ جیت چکا ہے جبکہ بھارت ان دونوں میگا ایونٹس میں2 ۔ 2دفعہ کامیابی کا سہرا سجا چکا ہے،ون ڈے میچوں میں انڈیا کا سب سے بڑاٹوٹل 356ہے وشا مکھیا پٹم (ریاست آندھرا پردیش )میں کئے جبکہ پاکستان کا اس کے خلاف بڑا ٹوٹل 344کا ہے یہ میچ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیاتھا،بڑی جیت میں پاکستان نے159اورانڈیا نے140رنز کی سبقت حاصل کی،کم ترین سکور پر جیت دونوں ممالک کی چار چار سکور پر ہے،اب تک پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ وکٹیں وسیم اکرم نے48میچوں میں60اور بھارت کی طرف سے انیل کمبلے کی 35میچوں میں57سب سے زیادہ وکٹیں ہیں ،بہترین باؤلنگ پاکستان کی طرف عاقب جاوید 7/37،عمران خان6/14ہے اور بھارت کے سارو گنگولی 16رنز کے عوض 5وکٹ کے ساتھ نمایاں ہیں،پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ انفرادی سکور سعید انورکا194اور بھارت کی طرف سے روہت شرما کا264ہے،پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سکور اب تک انضمام الحق کا 11739اور بھارت کی طرف سے ٹنڈولکر18426سکور بنا کر عالمی ریکارڈ بنا ڈالا جسے نہ جانے کب توڑا جائے گا،شاہد آفریدی 333چھکوں کے ساتھ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہیں،مجموعی طور پر پاکستان کی طرف سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ 502وکٹ،وسیم اکرم کے پاس ہے ان کا یہ ریکارڈ عالمی سطع پر دوسرے نمبر پر ہے،ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستانی ایشیائی ٹیموںں میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والی ٹیم ہے،پاکستانی بیٹسمین بابر اعظم دنیا کے دوسرے کھلاڑی ہیں جنہون نے اپنے پہلے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 100۔100سکور کئے،آج ہونے والے اس اہم ترین میچ میں28سالہ انڈیا کپتان ویرات کوہلی انتہائی تجربہ کار اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 18اگست2008میں سری لنکا کے خلاف میچ کھیل کر اپنے کیرئیر کا آغاز کیاان کے 8000سے زائد رنز میں27سینچریاں ،42ففٹیاں،85چھکے اور747چوکے بھی شامل ہیں ان کے ٹاپ سکور کا183ہے،4وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ اب تک 24کیچ بھی ان کے کھاتہ میں ہیں,ویرات کوہلی 2011سے2016تک2015کے علاوہ ہر سال سب سے زیادہ سکور کرنے والے پہلے بھارتی بیٹسمین ہیں ان کی کپتانی میں انڈیا 23ٹیسٹ میں سے10جیتے2ہارے،T20کے تین میں سے دو جیتے،20ون ڈے میچز میں سے 16جیتے اور 4ہارے،آئی سی سی کی جانب سے انہیں2012میں پلئیر آف دی ائیر کا ایوارڈ دیاگیا،32مرتبہ مین آف دی میچ اور3بار مین آف دی سیریز یا ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا،ان کے مقابل پاکستانی کپتان جو تجربہ کے لحاظ سے اس میگا ایونٹ میں سب سے پیچھے ہیں انہوں نے اب تک صرف74ون ڈے کھیلے ہیں ،ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور105ہے ان کی اننگز میں 7چھکے اور128چوکے ،95کیچزاور17سٹیمپس شامل ہیں،کسی بھی میگا ایونٹ میں بطور کپتان ان کی پہلی انٹری ہے،بھارت کے دیگر تجربہ کار کھلاڑیوں میں ورلڈ کپ کے فاتح کپتان ایم ایس دھونی جیسے کھلاڑی بھی شامل ہیں ،دھونی 290میچوں میں اب تک9336سکور جوڑ چکے ہیں جن میں 10بار سینچری،62مرتبہ ففٹی کے علاوہ 206چھکے724چوکے273کیچ اور94سٹیمپ کرنا شامل ہیں،یوراج سنگھ اب تک300میچوں میں حصہ لے چکے ہیں ان کے اعزاز میں14سینچریاں52ففٹیاں 155چھکے اور895چوکے شامل ہیں اس کے علاوہ 111وکٹیں بھی ان کے پاس ہیں،انڈیا کی جانب سے روہت شرما اور شیکھر دھون جیسے عظیم کھلاڑی بھی میدان میں ہیں،پاکستان کی جانب سے سب سے تجربہ کار کھلاڑی251میچوں کے ساتھ شعیب ملک ہیں کسی ایک اننگز میں143ان کا بہترین سکور ہے وہ 9بار سینچری ،39ففٹی سکور جن میں98چھکے اور 558چوکے بھی شامل ہیں اس آل راؤنڈر نے4/19کی بہترین باؤلنگ کے ساتھ153کھلاڑی شکار بھی کئے ہیں،36محمد حفیظ نے اب تک189میچوں میں حصہ لے کر 5819سکور کئے ہیں ایک اننگز میں ان کا زیادہ سکور140 ہے 11سینچری اور31بار ففٹی کی جبکہ 4/41کی بہترین باؤلنگ سے 133وکٹیں بھی حاصل کیں محمد حفیظ کے91چھکے اور594چوکے بھی ہیں،سابق کپتان اظہر علی نے صرف49میچ کھیلے ہیں 3بار سینچری اور11ففٹی سکور کے ساتھ وہ پاکستانی ٹیم کے اہم رکن ہیں ان کی اننگز میں 15اور459چوکے بھی شامل ہیں پاکستانی ٹیم میں مایہ ناز فاسٹ باؤلر محمد عامر بھی فائنل میچ کے لئے فٹ ہو چکے ہیں حسن علی حالیہ شاندار پرفارمنس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے فخر زمان کی اوپننگ کو ہر کوئی دیکھنے کا خواہش مند ہو چکا ہے،اسپین باؤلنگ میں عماد وسیم اور شاداب خان اپنی مثال آپ ہیں، پاکستان کے بھیجے گئے اسکواڈ میں بابر اعظم،فہیم اشرف ،حارث سہیل،رومان رئیس احمد شہزاد کسی لحاظ سے بھی انڈین سورماؤں کا مقابلہ کرنے کی پوری ہمت رکھتے ہیں ان نوجوان کھلاڑیوں سے حیرست انگیز کارکردگی کی توقع کرنا غلط نہیں ہے،انڈیاکو تو آج تک 1986میں شارجہ میں چیتن شرما کو آخری گیند پر جاوید میاندادکا چھکا ہی نہیں بھولا جس سے ان کی جیت کے ارمان پر پانی پھرگیا تھا ۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ شاہین کچھ بھی کرگذر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے پنڈت بھی انڈیا کی تجربہ کار اور مضبوط بیٹنگ لائن کے باوجود ان دو روایتی حریفوں میں سے کسی ایک کو فائنل میچ میں فیورٹ قرار دینے سے قاصر نظر آئے،پاکستان نے 1992کا ورلڈ کپ بھی جون میں جیتا تھا اب بھی جون ہے اور ماہ رمضان کا آخری عشرہ بھی ،قوم کی دعائیں شاہینوں کے ساتھ ہیں اوول کے میدان میں آج اعصابی اور نفسیاتی جنگ ہے جس میں خود اعتمادی قائم رکھنا ہی کامیابی کا زینہ ہے ،حافظ سرفراز احمد جن کا پہلا میچ ہی انڈیا کے خلاف تھا (جو پاکستان نے 31سکور سے جیتا)ایک اعصاب شکن کھلاڑ ی اور کپتان ثابت ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ محدود تجربہ کے باجود آج وہ پاکستانی ٹیم کے پہلی مرتبہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے پر اس کی کپتانی کر رہے ہیں۔قوم کا خواب آج پورا ہوتا نظر آرہا ہے اور فتح ہماری ہے انشاء اللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com