شاہ فیصل عالمی ایوارڑ یافتہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی کی وفات پر ریاض شہر میں تعزیتی جلسہ

شاہ فیصل عالمی ایوارڑ یافتہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی کی وفات پر ریاض شہر میں تعزیتی جلسہ

 ہند نزاد سعودی مشہور محدث مولانا ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کے انتقال پر ریاض شہر میں فضلاء دارالعلوم دیوبند کی ’’لجنہ علمیہ‘‘ کی جانب سے ایک تعزیتی پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں ریاض شہر کی سرکردہ شخصیات، متعدد تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ فضلاء دارالعلوم دیوبند کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تعزیتی پروگرام کا آغاز مولانا عتیق قاسمی میرٹھی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد نجیب قاسمی نے انجام دئے ۔ ڈاکٹر اعظمی کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں پر مقالے پیش کیے گئے۔ مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے مرحوم کی سوانح حیات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اعظمی نے دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ازہر جیسی عظیم دینی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ کیمبرج جیسی بڑی عصری یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مولانامحفوظ احمد قاسمی نے ڈاکٹر اعظمی کی قرآن کریم سے متعلق خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مرحوم کی حال میں شائع ہونے والی اہم کتاب Ageless Qur'an Timeless Text کا تعارف پیش فرمایا۔ نیز انہوں نے بتایا کہ قرآن کریم کے نسخوں پر مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات کے لیے ۲۵۰ صفحات پر مشتمل ڈاکٹر صاحب کی یہ آخری کتاب ہے، جو انہوں نے تقریباً ۱۵ سال میں مکمل فرمائی ہے۔ مرحوم نے اس کتاب میں قرآن کریم کے دنیا میں موجود مشہور ومعروف ۱۹ مخطوطوں میں نقطے اور اعراب ہٹاکر یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں ۱۴۰۰ سال سے آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس کتاب میں ۵۰ صفحات پر انگریزی میں اور ۵۰ صفحات پر عربی میں ڈاکٹر صاحب کا تحقیقی مقدمہ، جبکہ۱۵۰ صفحات پر مشتمل قرآن کریم کے مخطوطوں کا مقارنہ ہے۔
مولانا نہال انور قاسمی نے مرحوم کی حدیث کے متعلق علمی خدمات کا تعارف کرایا خاص طور پر ان کی مشہور ومعروف کتاب Studies in Early Hadith Literature جو دراصل انگریزی زبان میں ان کی ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ تھا۔ جس کے اردو کے علاوہ مختلف زبانوں میں ترجمہ شائع ہوچکے ہیں۔ متعدد یونیورسٹیوں میں یہ کتاب نصاب میں داخل ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ بہت مقبول ہوا ہے۔ اس کتاب میں مستند دلائل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں ہی ہوگیا تھا ،نیز اس دعوہ کو غلط ثابت کیا گیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ہوا تھا۔
ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی نے لجنہ علمیہ ریاض کا مختصر تعارف کرانے کے ساتھ ڈاکٹر اعظمی کی زندگی کے مختلف پہلؤوں پر اپنی نظامت کے دوران روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی ہی دنیا میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے احادیث کی عربی عبارتوں کو کمپیوٹر ائز کیا۔ مولانا شانِ الٰہی قاسمی نے ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی کی اپنے علاقہ سے متعلق سماجی ورفاہی خدمات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر مرحوم نے اعظم گڑھ اور مؤ میں اپنے ذاتی مصارف سے متعدد مساجد کی تعمیر کراکر پوری زندگی اُن کے بیشتر اخراجات کو برداشت کیا، ڈاکٹر مرحوم بے شمار بیواؤں اور یتیموں کے مکمل خرچے خود برداشت کرتے تھے۔ نیز انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے لوگ انہیں مصطفی مصری کے نام سے جانتے ہیں۔ 
ہندوستانی سفارت خانہ میں پہلے سکریٹری ڈاکٹر حفظ الرحمن اعظمی نے مرحوم کے متعلق اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مرحوم کو قرآن وحدیث کے مخطوطوں کی بہت زیادہ فکر رہا کرتی تھی کہ ان مخطوطوں کی حفاظت کے انتظامات کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں، علماء کرام کو آسانی سے اُن تک رسائی نہیں ہوتی ہے جبکہ مستشرقین کے لیے اُن مخطوطوں پر کام کرنے کی بھی سہولت کے ساتھ اجازت مل جاتی ہے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن نے ڈاکٹر صاحب کی اہم کتابوں کا اردو ترجمہ کرنے کی تجویز لجنہ علمیہ کے ذمہ داروں کو پیش کرکے کہا کہ کتاب کی اشاعت کے مکمل اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔ 
اویس احمد علیگ نے کہا کہ ڈاکٹر مرحوم کی اس دوران کئی مرتبہ طبعیت بہت زیادہ خراب ہوئی اور زندگی کی بظاہر کوئی توقع نہیں رہی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر مرتبہ شفا دی حتی کہ قرآن کریم کے مخطوطوں سے متعلق اُن کی آخری تحقیقی کتاب شائع ہوگئی۔ مشہور اسکالر سالم زبیدی نے کہا کہ مرحوم احادیث نبویہ کو کمپیوٹرائز کرتے وقت گرمی کے مہینہ میں بھی سردی کے کپڑے حتی کہ کمبل اوڑھ کر کام کرتے تھے کیونکہ اُس زمانہ میں الماری کی طرح کمپیوٹر کو گرمی سے بچانے کے لیے سخت ٹھنڈ میں رکھنا پڑتا تھا۔ لجنہ علمیہ ریاض کی جانب سے ڈاکٹر اعظمی کی وفات کے بعد مرحوم کی قرآن وحدیث کی عظیم خدمات پر ایک میمینٹو بھی پیش کیا گیا ۔
ڈاکٹر شفاعت اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کرنے والے حضرات میں انڈین اسکول ریاض کے چیرمین ڈاکٹر دلشاد احمد، انڈین اسکول ریاض کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت پرویز،مولانا محمد ہارون قاسمی، تنظیم ہم ہندوستانی کے صدر محمد قیصر کے نام قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد انعام الحق قاسمی کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com