المنصور ویلفئر اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمامحنیف ترین کے اعزاز میں شعری نشست

المنصور ویلفئر اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمامحنیف ترین کے اعزاز میں شعری نشست
حنیف ترین کو نظم وغزل دونوں پر یکساں عبور حاصل ہے :طرزیؔ /منصور خوشتر
دربھنگہ(عرفان احمد پیدل )المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے دفتر میں مورخہ10فروری 2018بروز سنیچر عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر حنیف ترین صاحب کے اعزاز میں شعری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت بزرگ عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر حافظ عبدالمنان طرزی صاحب نے فرمائی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر منور عالم راہیؔ نے بحسن وخوبی انجام دئے۔ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصو رخوشتر نے مہمان شاعر کا تعارف کرایا ۔ مقامی شعرائے نے ڈاکٹر حنیف ترین صاحب کی دربھنگہ آمد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس کے لئے منصور خوشتر کو مبارکباد پیش کی ۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمنان طرزی صاحب نے اپنا تاثر بیان فرمایا ۔ ڈاکٹر حنیف ترین دنیائے شعر وادب کا ایک بڑا نام ہے ۔ تقریباً پچیس تیس برسوں سے ان کی تخلیقات اردو کے مشاہیر رسائل وجرائد میں آتی رہی ہیں۔تقریباً 19کتابیں ان کی آچکی ہیں ۔ آپ کا شعری سرمایہ بہت ہی وقیع ہے ۔ نظم وغزل دونوں پر یکساں قدرت حاصل ہے ۔ ٹرسٹ کے سکریٹریڈاکٹر منصور خوشتر نے ڈاکٹر حنیف ترین سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف شاعر کے ساتھ نہایت نفیس انسان بھی ہیں ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ1992میں منظرِ عام پر آیا۔حنیف ترین کی شاعری اور اس کا شعر فقط صحرا نورد اور بیاباں خرام نہیں ہے اس کا شعر زندہ لوگوں میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے ۔حنیت ترین کی شاعری کا زندگی سے رشتہ بہت بھرپور ہے ۔جو ان کے ملتا ہے وہ ان کا ہو جاتاہے ۔پروفیسر حافظ عبدالمنان طرزی نے اس موقع پر ڈاکٹر حنیف ترین کو منظوم سپاس نامہ پیش کیا۔اس موقع پر صحافی فردوس علی نے حنیف ترین کی اردو دوستی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ دربھنگہ ان کا استقبال کرتا ہے ۔
اس شعری نشست میں جن شعراء نے اپنے کلام پیش کئے وہ اس طرح ہیں ۔
منظر صدیقی
خود کو جو کہہ رہے تھے وفاد ار دیکھئے
کھینچے ہوئے ہیں مجھ پہ وہ تلوار دیکھئے
مظلوم کو سزا ہوئی قاتل رِہا ہوا
تازہ خبر ہے آج کا اخبار دیکھئے
احسان عالم
مناظر دیکھنے کو ان دنوں ایسے ہی ملتے ہیں
کہ بدتر دشمنی سے دوستی معلوم ہوتی ہے 
منصور خوشتر
مجھ سا ہجومِ یاس کا مارا کوئی تو ہو
دریا ہو جس کی آنکھوں سے بہتا، کوئی تو ہو
رنج و الم سے جس کی رفاقت ہو دائمی
میری طرح سے درد کا مارا کوئی تو ہو
منور عالم راہی
نادانیوں پہ تیری جو اٹھنے لگے سوال
اپنی خطا کو میری خطا کہہ لیا کرو
علاء الدین حیدر وارثی
پتھر کو گیت گائے زمانے گذر گئے
ہوش وخرد لٹائے زمانے گذر گئے 
اشرف یعقوبی
آنچ ہلکی بھی لگے گی تو پگھل جائے گا
کچا سونا ہے وہ ہر شکل میں ڈھل جائے گا
ارشاد آرزو
یہ کہانی ہے نہ قصہ ہے اسے رہنے دو
میرے اجداد کا شجرہ ہے اسے رہنے دو
ڈاکٹر حنیف ترین
کیسے کھلے یہ ماجرا، چہروں کی اصلیت ہے کیا
شہرِ ہوس کی بھیڑ میں ہر کوئی نقاب پوش ہے
ڈاکٹر عبدالمنان طرزی
اے مری جانِ غزل شہرِوفا و شوق میں
میری عذرا اور سلمیٰ میری نورا آپ ہیں
آپ ہیں اے جانِ جاں میرے سخن کی آبرو
سچ تو یہ ہے کہ غزل کا مصرع مصرع آپ ہیں
محمد احمد کریمی صاحب نے اپنی تمہیدی گفتگو میں کہا کہ جناب ڈاکٹر حنیف ترین صاحب محتاجِ تعارف نہیں ۔ وہ ملک کے ایک مشہور ترین شاعر ، ادیب ، محقق اور بہترین ناقد ہیں ۔ آپ کا میدانِ غزل میں ایک منفرد مقام ہے ۔ آپ کے کلام میں ندرت اور شیرینی ہے اس میں عصری حسیت بھی ہے۔آخر میں ناظمِ مشاعرہ منور راہی نے نشست کے خاتمہ کا اعلان کیا ۔اس موقع پر موجود لوگوں میں افضل۔، حامد انصاری، وسیم اختر، محمد شمشاد، رفیع نشترکے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ شامل تھے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com