ڈاکٹر تقی عابدی کے لیے ’’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ‘‘کا اعلان

عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم’’مجلسِ فروغِ اُردو ،ادب،دوحہ ۔ قطر‘‘ گذشتہ۲۵ سالوں سے فروغِ اُردوادب کے لیے مصروفِ عمل ہے۔مجلس نے دوحہ قطر میں۱۹۹۴ء میں جشنیہ عالمی مشاعروں کا اجرأ کیا اور ۲۰۰۱ء تک جشنیہ مشاعروں کے بعد تاحال تواتروتسلسل کے ساتھ عالمی مشاعرے منعقد کررہی ہے۔مجلس نے ۱۹۹۶ء میں ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘کا اجرأ کیا اور ۱۹۹۶ء سے تواتروتسلسل کے ساتھ پاک و ہند کے بیالیس فکشن نگاروں کی خدمت میں اُن کی اعلی ترین نثری و ادبی خدمات کے اعتراف میں’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘پیش کرچکی ہے۔اسی طرح ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۴ء ،برِصغیر سے باہر دنیاکے دیگر ممالک میں سات شعرأ وادبأکی خدمت میں ’’سلیم جعفری انٹر نیشنل ایوارڈ‘‘پیش کیے۔ مجلس نے ۲۰۱۲ء میں نصیرالدین شاہ کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر ،اُن کی خدمت میں ’’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ‘‘پیش کیا۔امسال بھی چیئرمین مجلس محمد عتیق کی سربراہی میں مجلسِ انتظامیہ کے عہدیداران فرتاش سید(صدر)،جاوید ہمایوں ، روئیس ممتاز(نائب صدور)،فرقان احمدپراچہ (جنرل سیکرٹری)،امین موتی والا،قمرالزمان بھٹی (جوائنٹ سیکرٹریز)،رضاحسین رضا (فنانس سیکرٹری )، فرزانہ صفدر ا،عرفان حیدر(میڈیا سیکرٹریز) اوراراکینِ مجلس کے ایک اجلاس میں معروف شاعر،نقاد ،محقق اور دانشورڈاکٹر تقی عابدی کی تحقیقی و تنقیدی اور ادبی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ،اُن کا نامِ نامی ’’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ‘‘کے لیے متفقہ طور پر منتخب کیا۔’’ خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ‘‘ نومبر کے پہلے ہفتہ میں دوحہ قطر میں ’’اکیسویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ۲۰۱۷ء بہ اعزاز پروفیسر فتح محمد ملک و پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد اور ’’تیئسویں عالمی مشاعرہ ۲۰۱۷ء ‘‘ جس کی صدارت عہدِ حاضر کے صاحبِ اسلوب شاعر جناب افتخار عارف کریں گے،کے موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
چھیاسٹھ سالہ ڈاکٹر تقی عابدی( حیدرآباد،بھارت ) طویل عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں ۔اپنے فرائضِ منصبی کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی مادری زبان اُردو کے فروغ کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔اُنھوں نے مرزا دبیر ایسے بڑے تخلیق کا رسمیت کچھ ایسے تحقیقی کام کیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی ساٹھ تحقیقی و تنقیدی کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں مزید برآں اُنھوں نے دنیا کی کئی ایک یونیورسٹیزمیں انعقاد پذیر سیمینارزاور کانفرنسزمیں دسیوں تحقیقی و تنقیدی مقالہ جات پیش کیے۔اُن کی چند اہم تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔کلیاتِ غالبؔ (فارسی)
۲۔کلیاتِ میر انیسؔ 
۳۔کلیاتِ مرزادبیر
۴۔فیضؔ فہمی
۵۔چوں مرگ آیداوراقبال کے عرفانی زاویے(۴۰ مضامین)
ادبی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر تقی عابدی کو کئی اعزازات وانعامات سے بھی نوازا گیا جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱۔نشانِ امتیازِ انیسؔ و دبیر ایوارڈ،ؔ تمغہ آف انڈیا(۲۰۰۷ء)
۲۔علامہ اقبال آف ایکسیلینس ،کینیڈا
۳۔اُردو ادب ایوارڈ، یو پی ساہتیہ کمیٹی(۲۰۱۰ء)
۴۔ادیب انٹرنیشنل ایوارڈ،ساحر کلچرل اکیڈمی،بھارت(۲۰۱۱ء)
۵۔میرتقی میرؔ ایوارڈ(۲۰۱۳ء)
۶۔فخرِ اُردو انٹرنیشنل ایوارڈ،اُردو مرکز انٹرنیشنل،لاس اینجلس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com