طالب علموں کی اخلاقی تربیت وقت کا اہم تقا ضا : پروفیسر این کے تنیجا

طالب علموں کی اخلاقی تربیت وقت کا اہم تقا ضا : پروفیسر این کے تنیجا
شعبۂ اردو کے پندرہویں یوم تاسیس پر نور الحسنین اور ڈا کٹر نعیم انیس کو ڈا کٹر منظر کاظمی ایوارڈ
(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ نے بڑے تزک و احتشام سے اپناپندرھواں یوم تاسیس منایا۔ اس مو قع پر شعبۂ اردو نے تیسرا ڈاکٹر منظر کاظمی قومی ایوارڈ معروف فکشن نگار محترم نو رالحسنین،کولکاتا کو(برائے فکشن)اور محترم ڈا کٹر نعیم انیس کو(فکشن تنقید )کو دیے گئے۔ ساتھ ہی بعنوان’’ایک شام کہانی کے نام‘‘سے جہاں ہندوستان کے مختلف افسانہ نگاروں کی محفل آراستہ کی وہیں شعبے اردوکا ریسرچ جرنل ہماری آواز اور کولکاتا کااہم رسالہ’’مژگاں‘‘میں شامل گوشۂ اسلم جمشید پوری کا اجراء کا بھی عمل میں آیا۔
پروگرام کی صدارت پروفیسر انور پاشا(چےئر مین ایس آئی ایل۔ جے این یو)نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے طور پر یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پرو فیسراین کے تنیجانے شرکت کی ،مہمانان ذی وقار کے بطورڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر ، حکومت اتر پردیش)، ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی (ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ انفارمیشن ، میرٹھ )، حاجی عمران صدیقی اور محترم جمال الدین خان(کمانڈنٹ،ہوم گارڈذ، شاملی)شریک ہوئے۔ نظا مت کے فرائض ڈا کٹر آصف علی اور مہمانوں کا استقبال ڈاکٹر شاداب علیم نے اداکیا۔بعد ازاں صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے پروجیکٹر پر شعبے کا پندرہ سالہ سفر پیش کیا۔ جسے نا ظرین نے خوب سرا ہا۔
پروگرام کا آ غازحافظ نوید نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔حمد پاک ایم اے سال اول کی طالبہ رخسار ظہیر نے اپنی خوبصورت آواز میں پیش کی اورمہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی ۔بعد ازاں اس سال کے ڈاکٹر منظر کاظمی قومی ایوارڈ پیش کیے گئے۔ نور الحسنین کا تعارف محترم خورشید حیات اور ڈا کٹر نعیم انیس کا تعارف ڈا کٹر محمد کاظم ،دہلی یو نیورسٹی پیش کیا۔ اس مو قع پر2016ء میں شا ئع ہو ئی شعبۂ اردو کے استاد اور طلبا کی کتابوں’’خواجہ حسن نظامی بحیثیت صحا فی‘‘ ڈا کٹر آصف علی،’’ناصر کاظمی کی غزلیہ شاعری’’ دیوان‘‘ کے تناظر میں، تابش فرید اور ڈا کٹر شاہد صدیقی کی کتاب’’ جدید شاعری کی مستحکم آ واز: شہر یار‘‘ کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ساتھ ہی ایم فل اردو2016 ٹاپڑ حنا اور ایم اے اردو2016ء ٹاپر وصی حیدر اور اسٹیج ڈرامے پر شعبہ کا نام روشن کرنے وا لے شاداب علیم کو بھی ایوارڈ دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔
پرو گرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور شعبۂ اردو کو مبارک باد دیتے ہوئے پرو فیسر این کے تنیجا نے کہا کہ سبھی تعلیمی اداروں کی یہ کوشش ہو نی چا ہئے کہ وہ پڑھا ئی کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹوڈینٹس کی اخلا قی تربیت بھی کریں تا کہ یہ نئی نسل ملک و قوم کے لیے بہتر خدمات انجام دے سکے۔
پرو فیسر انور پاشا نے کہا کہ آج زبان و ادب اہمیت کے اعتبار سے نیچے سطح پر جا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ سب بنا سوچے سمجھے سائنس و ٹیکنالوجی کے پیچھے دوڑرہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سو چنا ہو گا کہ کہیں وہ اس دوڑ میں اپنی اخلا قیات کو نہ بھول جائیں ۔ادب انسان دوستی، رحمدلی، غمگساری سکھاتا ہے جو سائنس اور ٹیکنا لوجی کے پاس نہیں ہے۔
ڈا کٹر وضاحت حسین رضوی نے کہا کہ یہ اردو کا ایسا پہلا شعبہ دیکھنے کو ملا ہے جسے دیکھ کر واقعی بے حد خوشی ہوئی ہے۔ خاص طور پر صدر شعبۂ اردو کی، اردو کی ترقی و ترویج کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرٹھ اور میرٹھ کے اطراف کے شعرا ء و ادابا جنہوں نے ادب کے لیے بہت کچھ کیا لیکن اردو ناقدین کی نظریں ان تک نہیں پڑیں ان کی حیات اور کارناموں پر ایم فل کرا نا بڑا کام ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اردو کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اردو پڑھیں اور زیا دہ سے زیادہ گفتگو میں اس کا استعمال کریں۔ اپنے گھروں میں اردو رسائل اور اخبارات ضرور منگوائیں اور اپنے بچوں کو بھی اردو کی تعلیم دلائیں۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوم تاسیس در اصل اپنا احتساب کرنے کا دن ہو تا ہے کہ ہم نے اب تک کیا کام کیے اور کون سے کام اب تک نہیں کر پائے۔انہوں نے سبھی ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد پیش کی۔
پرو گرام میں ڈاکٹر فوزیہ بانو، ڈاکٹر الف ناظم، اظہار ندیم،اکرام بالیان ،ڈا کٹر ہما نسیم،، ڈا کٹر فرحت خا تون،بھارت بھوشن شرما، انل شرما،ارشاد سیانوی ،اسرار احمد اسرار، محمد منتظر، ازنما،مدیحہ اسلم،شناور اسلم، محمد سہیل ،ظہیر انور، سید شجاع، مولانا محمد جبرئیل ، عبد اللہ،زیبا علی ، گلشن جہاں، حنا،ڈاکٹر تعظیم جہاں، تسلیم جہاں،تابش فرید، انجینئر رفعت جمالی، اکرام بالیان،محمد آصف ، حشمت علی فیروز خان، چاندنی عباسی اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com