سید بلال قطب اور’’قائد اعظم کا نظریہ پاکستان ‘‘

سید بلال قطب اور’’قائد اعظم کا نظریہ پاکستان ‘‘
رپورٹ؛،مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
پاکستان آرٹس سوسائٹی قطر کے زیرِ انصرام پاک شمع کالج کے جناح ہال میں بعنوان’’قائد اعظم کا نظریہ پاکستان ‘‘ ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔اس خوبصورت موضوع پر لیکچر دینے کے لئے پاکستان سے ایک خوبصورت شخصیت کو خصوصی طور پہ مدعو کیا گیا جسے دنیا بھر میں لوگ سید بلال قطب کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔عصر حاضر میں بلال قطب کا شمار کثیر پہلو شخصیات میں ہوتا ہے یعنی وہ ایک معلم بھی ہیں،ٹی وی پروگرام قطب آن لائن کے روح رواں،ماہر تربیتی ورکشاپ ،آرکیٹکچراور دو خوبصورت کتابوں(بنامِ خدا ،بنامِ رسول)کے مصنف بھی ہیں۔پروگرام کے مہمانِ خصوصی سوسائٹی کے چیئرمین ایم اے شاہد تھے جبکہ مہمان اعزازی کے فرائض سیکرٹری سفارتخانہ پاکستان نے ادا کئے۔پروگرام کا باقاعدہ اور روائتی انداز میں آغاز تلاوت قرآن اور پاکستان کے قومی ترانہ سے کیا گیا۔جس کے بعد پرنسپل پاک شمع کالج مادام نبیلہ کوکب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ سید بلال قطب ہماری فرمائش پر دوسری بار آج ہم میں موجود ہیں۔گویا جو علم کی پیاس اور تشنگی ان کے پچھلے لیکچر سے ہم محسوس کر رہے ہیں امید ہے آج مکمل علمی پیاس بجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مظفر حسین صدر شعبہ انگریزی نے بلال قطب کا مکمل تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسے استاد ہیں جو عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کردار کی بھی تعمیر بڑے احسن طریقے سے کرنے میں ماہر خیال کئے جاتے ہیں۔باقاعدہ لیکچر سے قبل بلال قطب سے ایک سوال جواب کا سیشن بھی رکھا گیا جس میں میزبانی کے فرائض صدر سوسائٹی محمد ابرار نے ادا کئے۔بعد ازاں سید بلال نے اپنے لیکچر ’’قائد اعظم کا نظریہ پاکستان پر روشنی ڈالتے ہوئے قائد کی شخصیت،کردار،عزم اور ہمت کی داستان کے وہ پہلو حاضرین کے گوش گزار کئے جن سے شائد بہت سے حاضرین نا بلد تھے۔مختلف واقعات میں سے ایک واقعہ جس پر سامعین نے خوب داد دی کچھ اس طرح سے تھا کہ قائد چاہتے ہیں کہ جب روز قیامت وہ اللہ کے حضور پیش ہوں تو میرا رب مجھ سے بس اس طرح ہمکلام ہو کہ well done Mr jinnah you havr done a great job.۔علاوہ ازیں ایک نہائت ہی شاندار ڈاکومینٹری بھی پیش کی گئی جس میں ماضی کے ہیرو سے عہد حاضر کی بڑی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا یہ ڈاکومینٹری تقریبا کچھ سات منٹ کی تھی اور پورا وقت حال تالیوں کی آواز سے گونجتا رہا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ہم سب اپنے ہیروز کو کتنا پیار کرتے ہیں۔تقریب کے آخر میں جناب ایم اے شاہد نے خطاب کرتے ہوئے اپنے معزز مہمان اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے بہت کم وقت میں اس قدر شاندار اور پر وقار پروگرام تشکیل دیا،یقیناًایسا ممکن نہ ہوتا اگر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری عدیل اکبر اس پروگرام کے انتظام و انصرام میں شب و روز محنت شاقہ نہ کرتے۔ایک شاندار طعام کے ساتھ یہ تقریب اختتام پزیر ہوئی۔
\

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com