ظلم کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت‘سماجی جہد کاروں اورپروفیسرس کا خطاب

سیکولرملک کی تاریخ اورگنگا جمنی تہذیب کوختم کرنے بھگوا طاقتیں سرگرم 
ظلم کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت‘سماجی جہد کاروں اورپروفیسرس کا خطاب
رپورٹ:محسن خان (ریسرچ اسکالر‘شعبہ ترجمہ مانو)
حیدرآباد۔(پریس نوٹ)بی جے پی اور آر ایس ایس اس خوش خیالی میں مبتلا ہے کہ انہیں اب مسلمانوں اور بچھڑے طبقات کے ووٹ کی ضرورت نہیں اوریوپی انتخابات میں مسلم امیدواروں کوٹکٹ نہ دے کر صرف اور صرف ہندو ووٹرس حاصل کرکے بڑی کامیابی حاصل ہونے کے بعد وہ اپنے اقتدار کے نشے میں مغرور ہوگئی ہے۔حالیہ گاؤرکشھا کے نام پر اخلاق‘پہلول خان اوردوسرے لوگوں کی ہلاکت افسوسناک ہے۔ جس سے سیکولرملک کی امیج کو بین الاقوامی سطح پرنقصان ہورہا ہے۔ بی جے پی شرپسندوں کوکھلی چھوٹ دے کر اپنے ووٹ مضبوط کرنا چاہتی ہے تاکہ ہندواکثریتی ملک کے لوگوں کویہ محسوس ہو کہ بی جے پی ان کے ساتھ ہے جبکہ یہ بات سب کومعلوم ہے کہ اس ملک کی طاقت یہاں کے سیکولرلوگ ہے اور ظلم کا ایک نہ ایک دن خاتمہ ہوجائے گا۔مودی حکومت چاہے توفوری ان واقعات کے لئے سخت اقدامات اٹھاسکتی ہے لیکن جان بوجھ کر وہ آنکھ بند کئے ہوئے ہے اور تماشہ دیکھ رہی ہے۔ اورمسلمانوں کواپنی باتوں کے ذریعہ بیوقوف بنارہی ہے۔ ان خیالات کااظہار نوبل ہال لکڑی کا پل میں منعقدہ عیدمیلاپ تقریب سے سماجی جہد کاروں‘صحافیوں ‘دانشوروں اور پروفیسرس نے کیا۔ سید سجادالحسنین نے کہاکہ سقوط حیدرآباد کے بعدبھی مسلمانوں کو ان حالات کا سامنا تھا لیکن دانشوروں اور دوراندیش مفکروں نے مسلمانوں کومنظم کیااوران میں حوصلہ پیدا کرتے ہوئے ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا۔جس کی وجہ سے آج حیدرآباد میں مسلمانوں کا ایک مقام ہے۔ آج ہمیں بھی منظم ہوکر آگے بڑھتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں اور شرپسند عناصر کے خلاف مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔سماجی جہد کار لبنی ثروت نے کہاکہ مسلمانوں کوسیکولرلوگوں کوبھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جتنے بھی بے قصورمسلمان گرفتارہوئے ہیں ان سب کورہا کرانے میں غیرمسلم وکلا نے اہم رول ادا کیاہے ۔ ہمارے پاس مسلم وکلا اوردیگرشعبوں میں ماہر لوگوں کی کمی ہے اس لئے ہم حالات کوصحیح سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ الیاس شمسی نے کہا کہ بی جے پی حکومت ان واقعات کو روک سکتی ہے لیکن وہ جان بوجھ کر سیاسی فائدہ کے لئے خاموشی اختیاری کئے ہوئے ہے جس سے عوام واقف ہورہے ہیں۔ایڈوکیٹ محمدافسر نے کہاکہ عرب ممالک بھی آپس میں ٹکرارہے ہیں ۔ہرطرف مسلمانوں کولڑایاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ رمضان کے مہینہ میں مسلمانوں کا بجٹ بڑھ جاتا ہے اور ہرطرف کھانے پینے کی ہوٹلیں رات بھر کھلی رہتی ہیں ۔جس سے غلط پیغام جارہاہے ۔رمضان عبادت کا مہینہ ہوتا نہ کہ کھانے پینے کا۔ پروفیسر مصطفی علی سروری نے کہاکہ ہمیں اپنے محاسبہ بھی کرنا چاہئے۔ عید کے موقع پرجھاڑو مارنے والی جو رمضان تمام آپ کے گھرکے سامنے کچرا صاف کرتی ہے ہم اسے غصہ کرکے واپس کردیتے ہیں ۔اس سے وہ غلط لیکرجائے گی۔ اور ہم تعلیم اور دوسروں شعبوں میں بہت پیچھے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارو ں‘آئی اے ایس اورآئی اے ایف ایس اور دوسرے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا فیصد نہ کے برابر ہے۔ علیم خان فلکی نے کہاکہ جتنے گاؤ کے نام پریا فرقہ پرتی کے نام پر مسلمانوں کا قتل ہوگا اورسوشل میڈیا یا دوسرے ذرائع سے خبریں پھلیں گی اتنا ہی بی جے پی کوفائدہ ہوگا ۔ وہ صرف ہندو ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں مسلم اقلیت کوڈرادھمکاکراپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔محسن خان نے کہاکہ لوگ پہلول خان‘اخلاق اور دوسرے لوگوں کی موت پر ہم افسوس توکررہے ہیں لیکن کوئی بھی ان غریب خاندانوں کی مددنہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے حقیقی پھوپھوزاد بھائی عظمت خان جوپہلول خان کے ساتھ موجود تھے ان کوظالموں نے مارمار کرکمرتوڑدی جس کی وجہ سے وہ دو ماہ سے بیڈ پرہیں اور الٹا پولیس نے ان پرہی مقدمہ دائرکردیا ہے۔پہلول خان اورعظمت خان کی معصوم چھوٹی بچیاں ہیں جوآپ سب کی مدد کی منتظرہیں۔ جناب اسحاق منصور نے کہاکہ مسلمانوں کواسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہونا چاہئے۔ ایسے علاقے اورریاستیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کی مدد ہمیں کرنا چاہئے ہوسکے توان کی نقل مکانی کے لئے کوشش کرتے ہوئے انہیں اپنے علاقوں میں لاکر ان کی مدد کرنا چاہئے تاکہ ان کی جانوں کونقصان نہ ہو ۔جلسہ سے دیگرمقررین نے بھی خطاب کیا ۔ اجلاس میں اورینٹل کالج کے پرنسپل فضل اللہ مکرم‘معظم راز‘احتشام الحسن ‘ممتاز فاطمہ‘اطہر معین ‘ سماجی جہد کار‘وکلا‘ ریسرچ اسکالرس اور دوسرے موجودتھے۔ داعی محفل وسماجی جہد کاراحمدارشدحسین کے شکریہ پرتقریب کااختتام عمل میں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com