کچے دھاگے

تحریر: چوہدری محمد بشیر شاد
عنوان: کچے دھاگے
لبادہ عروسی میں ملبوس والدین بہن بھائی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے جھرمٹ سے الوداع ہونے والی زبیدہ ایک خوابیدہ ماحول میں قدم رکھتے ہی ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے آصف کی ایک ایک بات کو دل میں بسائے خود کو ان حقیقت سے لبریزلمحات میں شہزادی تصور کرتے ہوئے مسہری کی آرائش اور کمرے کی زیبائش پر عش عش کر اٹھی۔ پھولوں کی ملائم پتیوں کی دلفریب مہک اور نرم و گداز سیج اس کے بدن کی چمک دھمک کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔اٹھائیس انچ کمر کا لچکدار شریرہ بدن ہاتھوں پہ رنگِ حنا کا ایک الگ تاثر پیش کر رہا تھا۔ پائل پا، ستواں ناک میں نتھنی، کانوں میں جھمکے، کلای?ں میں کنگن، رنگ برنگی چوڑیاں،مستقیم مانگ سے لیکر ماتھے پہ سجاچاند لگا جھومر، صراحی دار گردن میں گلوبند اور مخروطی انگلیوں میں منجھلی انگشت میں ہیرے کی انگوٹھی، اس کے خوبصورت جسم کے انگ انگ کی عکاسی، دلہن نو خیز کے روپ کا مژدا سنا رہی تھی۔ رسم و رواج کی بیخ کنی کرتے ہوئے اس نے شادی کے سرخ جوڑے کی بجائے سنہری روپہلی لباس کو ترجیح دی تو آصف نے مسکراتے ہوئے کہا تھا،، اوہ تبدیلیاں،، مگر خود تبدیل نہ ہونا اور دلہن سج دھج کے اپنے گھر آ گئی۔گھونگٹ نکالے زبیدہ اگرچہ ان رسومات کی بندشوں سے آزاد رہنا چاہتی تھی پھر بھی لامحالہ ان یاد گار لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں سموتادیکھ کر دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ 
دلہن کی ایک جھلک پہ ہر جوان لڑکی کی امنگ جاگ اٹھی اور مبارکباد جیسے الفاظ کانوں کی سماعت تک رسائی کر گئے۔ یہ سلسلہ دیر تک چلتا رہا۔ ادھر آصف اپنے دوستوں میں گھرا وقت کے تقاضوں کی گھڑیاں گن رہا تھا۔ بچوں سے لے کر بوڑھی عورتوں تک نے خوشی کا اظہار کیا۔ گھونگھٹ میں شرماتی زبیدہ کو آج پہلی بار احساس ہوا کہ والدین سے بچھڑ کر اپنے گھر تک آنے میں کس قدر ان دیکھے ادوار سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ سوچوں میں مستغرق اپنے اور آصف کے روابط کی تہہوں کو ایک ایک کرکے کھولتی گئی تو اس میں سب کہی باتیں اب تک اپنا وقار بحال کئے ہوئے تھیں۔ زبیدہ کو خبر تک نہ رہی کہ کب سب لوگ کمرہ عروسی سے چلے گئے تھے اور کمرہ کے باہر آصف کے دوستوں کی چھیڑ چھاڑ سے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز تر ہو گئیں۔ آصف کے اندر آتے ہی وہ چھو ئی موئی اپنی سانسوں کی آواز تک کو اپنی گرفت میں نہ رکھ سکی۔ اندر سے دروازہ مقفل ہوتے ہی اس کی تنہائیوں کا جمود ٹوٹا۔ وہ شرمائے لجائے آصف کے وقار اور مردانہ وجاہت میں کھو گئی۔طویل قامت دولہا کا لباس اس پہ بہت جچ رہا تھا۔ اسے کن انکھیوں سے اس روپ میں دیکھے دل کی کلی مچل اٹھی۔ اتنی ملاقاتوں میں اس خوبصورتی کا کبھی اندازہ نہ ہوا تھا۔ وہ ان انمول لمحات کے حصار میں مقید ہو گئی اور زندگی بھرکے لئے اس جادوائی ماحول کی قربتیں دل میں اجاگر کئے آصف کے سراپا کی تصویر دل کے نہاں خانوں میں بسائے تصوارتی دنیا کا حصہ بن گئی۔آصف نے دلہن کے گھونگھٹ کو وا کرنے سے پہلے آج کے دن کی مناسبت سے مبارکباد دیتے ہوئے زبیدہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ اس نے اسے قبولیت بخشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیدہ کے انتظار کی گھڑیاں تحلیل ہو رہی تھیں اور اس نے ان فرط جذبات سے لبریز مردانہ ہاتھوں کی ملائمیت پہ غور کیا جو اس کے گھونگھٹ کو اٹھائے مسکراہٹوں کی منہ دکھلائی کا مکمل اہتتمام کر رہی تھیں۔ پردہ اٹھتے ہی حسن کے جلوے مرتعش ہوئے اور آنکھ سے آنکھ ملتے ہی زندگی کا اصل مقصد سامنے آ گیا۔ نو بیاہتہ جوڑے کی رنگتیں ہر سو بکھرنے لگیں۔ وہ عہد و پیماں عروسی پیراہن میں اور بھی دلکش اور دلفریب مناظر پیش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ آصف نے بڑی دھیمی آواز میں زبیدہ کہا تو کانوں میں رس گھولتی مترنم آواز آئی،، جی،،
کیسا لگا شادی کا مبارک دن۔۔۔ ابھی تک خواب میں ہوں۔۔ آصف نے زبیدہ کی کلائی پہ چٹکی لیتے ہوئے مسکرا کے فقرہ چست کیا،، یہ خواب نہیں حقیقت ہے۔،، والدین کے گھر میں شہزادی اب اس گھر کی رانی ہے کہتے کہتے اپنے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناتے ہوئے زبیدہ کے گالوں کی رنگتوں کو سرخی مائل بنا دیا۔ قربتوں کا لمس اور ایک بندھن میں مدغم یک جان دو قالب دنیا بھر کی راحتوں، مسرتوں اور شادمانیوں کے پرستار ایک دوجے کو مخمور نگاہوں سے دیکھے جا رہے تھے۔ ان آنکھوں میں مستقبل کی امنگیں عود کر آئیں۔ آصف حسن یکتا کو مزید سنوارنے کے لئے زبیدہ کے بالوں کو سہلاتا رہا اور زبیدہ اپنے محب کی کشادہ چھاتی پہ اپنا حق سمجھتے ہوئے آنکھوں کے جھروکوں کو بند کئے سنہرے سپنوں میں کھو گئی۔ آصف اسے اک ٹک دیکھے جا رہا تھا جیسے وقت ایک جگہ رک گیا ہو۔وہ اس کی مڑگاں پہ اپنی شہادت کی انگلی سے نقش و نگار بنا رہا تھا اور زبیدہ کی جھرجھری سے محظوظ ہوتے ہوئے دونوں فرط محبت میں ایک دوجے کو گلے لگا کر خوشیاں بانٹ رہے تھے۔ زیبو۔۔۔ جی۔۔ہماری محبت پروان چڑھ گئی خوش ہو ناں۔ہاں جی بہت خوش ہوں۔ 
تھکاوٹ تو ہوئی ہو گی۔آپ کو دولہا کے روپ میں دیکھ کر سب تھکاوٹ رفو چکر ہو گئی۔اور جو ہم نے آپ کا روپ دیکھا ہے ہر روز دلہن ہی بنی رہنا۔ نخرہ بھی دکھانا۔ ہم آپ کے ناز اٹھائیں گے۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو،۔نظر اتارنی پڑے گی۔ کچھ کھاو گی۔اونہوں،،، مجھے نیند ا رہی ہے۔
ارے کپڑے نہیں بدلو گی۔
نہیں مجھے دلہن کے لبادے میں سونا ہے۔
ضدی کہیں کی چلو جیسے تمہاری مرضی اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ بھی دولہا کے روپ میں سو جائیں،مجھے اچھا لگتا ہے۔ 
کچھ باتیں اور نہ کر لیں۔
کون سی باتیں؟ کہہ کے زبیدہ نے آصف کو غور سے دیکھا اور جھروکے بند کر لئے۔
زیبو آج سے ہم ایک نئی زندگی میں قدم رکھنے لگے ہیں۔ معاشرتی رسم و رواج، مذہبی اجازت نامے، وکلا اور اپنے بڑوں کی رہنمائی میں اس دہلیز تک پہنچے ہیں جہاں بحیثیت خاوند بیوی ہمیں تسلیم کر لیا گیا ہے۔ عورت کا مقام بہت اونچا ہے تو دوسری طرف مجازی خدا سے متعلق احکامات ہیں۔ مرد کی ضرورت بیشک صنف نازک ہے جسے عورت بنانے میں مرد کا اہم کردار ہے۔ میاں بیوی میں ہوس پرستی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تسکین کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس مرحلے میں پیدائش نو کا خوبصورت سلسلہ ازل سے ابد تک جاری رہے گا۔ ہر صنف نازک ماں کا تقدس برقرار رکھنے کے لئے بخوشی اپنے وجود سے نئی کونپلیں پیدا کرتی ہے۔۔۔۔
آصف اب سو جاو ناں کے ساتھ ہی زبیدہ نے اپنے بازو اپنے مجازی خدا کی گردن میں حمائل کر دئے اور مدتونں کی پیاس بجھتی چلی گئی۔ کلی نے پھول بننے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ صبح کاذب کے پرتوں میں شبنمی معطر موتیوں جیسے قطروں نے اپنی موجودگی کا نقش نرم و ملائم نو خیز پتیوں پہ چھوڑا جسے سورج کی پہلی کرن نے خوشنمائی سے ٹمٹمانے کی قوت بخشی۔ عورت بنتے ہی ایک نئی لگن میں مگن وجود صنف نازک ماں کی نوید سننے میں ڈھل جاتا ہے۔
آصف حسب معمول بیدار ہوا۔زبیدہ کا سر اس کی ہتھیلی پہ تھا جسے دھیرے دھیرے اس نے سرکانا چاہا تو زبیدہ نے ایک آنکھ کھول اسے پھر سے چمٹا لیا۔ وہ زبیدہ کے پیار میں خود کو دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کر رہا تھا۔ اسے وہ لمحے یاد آگئے جب ریڈیو اسٹیشن میں آئی زبیدہ سے اس کے لکھے اسکرپٹ پہ بات چیت ہوئی۔ وہ بحیثیت پروگرام پروڈیوسر ریڈیو پر نشر ہونے والے ڈراموں پہ اپنی محنت کے بل بوتے دوسروں میں ممتاز حیثیت کا حامل تھا، زبیدہ کی تحریر کو ڈرامائی انداز میں ڈھال کر سامعین سے کافی داد وصول ہوئی اور یہ سلسلہ چلتے چلتے محبت میں تحلیل ہو کر اس مقام پہ آپہنچا جہاں وہ،، یک جان،، ہو گئے۔
زبیدہ نے کروٹ بدلی تو آصف کا ہاتھ آزاد ہو گیا۔وہ چپکے سے کپڑے بدل کر ہاتھ منہ دھو باورچی خانے میں مصروف ہو گیا۔ ابھی ناشتہ تیار کرکے زبیدہ کی جانب جانے کا قصد کر ہی رہا تھا کہ کمرہ عروسی سے آنکھیں ملتے ملتے دلہن کے لباس میں زبیدہ آن پہنچی۔ آصف کو دیکھ کر کولھوں پہ ہاتھ رکھے آنکھیں مٹکاتے،، یہ کیا کر رہے ہیں آپ،، میرے ہوتے ہوئے باورچی خانے میں آپ کیوں ناشتہ بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔؟
ارے زیبو اس میں کیا برائی ہے آپ دلہن ہیں دیکھو تو ابھی تک دلہن کا لباس پہن رکھا ہے، بہت پیاری لگ رہی ہو مہینہ بھر مہندی کا رنگ تو قائم رہنے دو۔
چلئے چلئے ہٹئے یہاں سے۔ جائیں وہاں لان میں۔سکون سے اخبار کا مطالعہ کیجئے میں لاتی ہوں وہاں ناشتہ کہتے کہتے وہ واش روم کی جانب بڑی سرعت سے قدم اٹھاتے ہوئے ایک دم اس نے قے کرنی شروع کر دی۔۔۔۔۔۔۔ آصف آن واحد وہاں پہنچا۔ اس کا سر پکڑے پریشانی کے عالم میں پوچھ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے زیبو۔۔۔؟
کیا ہو گیا ہے؟ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا۔ قلی کرکے اس نے تولئے سے خود کو صاف کیا اور کمرے میں چلی گئی۔ آصف بھی پیچھے پیچھے قدم بڑھاتا جونہی کمرے کے دروازے تک پہنچا تو زبیدہ نے ٹھک سے کمرہ بند کر لیا۔
وہ دروازے کے عین سامنے منہ بسورے کہتا جا رہا تھا کہ اب باہر بغیر شال کے نہ آنا پہلے ہی سردی لگ گئی ہے بلکہ اندر ہی رہو میں لاتا ہوں ناشتہ ادھر ہی کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں جی کہتے ہوئے زبیدہ تیزی سے باہر نکلی اور پیشانی کو چومتے بالوں کی تراش کو جھٹکتے ہوئے آصف کا ہاتھ پکڑ باورچی خانے لے گئی۔ ناشتے کے ساتھ گفت و شنید چلتی رہی۔آصف کے اس سوال پر کہ کل ہنی مون کے لئے چلیں تو زبیدہ کے پر جوش قہقہے پہ آصف بو کھلا کے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟ خوشی کا اظہار اس لئے کر رہی ہوں کہ اب ہنی مون گھر ہی منائیں گے۔جو چند دنوں کی چھٹیاں ہیں ناں مل کر اپنا گھر سنواریں گے۔والدین آپ کے حیات ہوتے تو ممکن تھا۔ہاں ایک ماہ بعد جب میں کہوں تو ایک آیا کا انتظام ضرور کر لینا پہ آصف نے زبیدہ کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے ڈن کر دیا۔
شب وروز خوشیوں کی نوید اور ان کی تکمیل میں بسر ہو گئے۔ آصف اپنے کام پہ ہر روز جاتا اور دیر سے گھر لوٹتا۔ زبیدہ اس کا انتظار کرتی اور اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پہ رونق آ جاتی۔ آج وہ دروازے کے پیچھے چھپ کر اسے،، ہا،، کہہ کے محظوط ہونا چاہتی تھی۔جونہی دروازہ کھلا اور زبیدہ کی آواز پہ آصف کے ہاتھ سے بریف کیس گر گیا تو اس نے زبیدہ کو دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لے کر چکر دینے شروع کئے۔ اس پرزبیدہ کہے جا رہی تھی،، چھوڑ دو مجھے چکر آ گئے تو بچہ،،۔۔۔۔۔۔۔۔!!
کیا کہا بچہ؟ واوو زیبو۔تو جانشین �آگیا، سنتے ہی زبیدہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے خود کو بستر پہ دراز کر لیا۔ آصف اس کے بال سہلاتا رہا۔ انتہائی محبت سے اس کی نئی زندگی کا یہ روپ دیکھ کر اسے لامتناہی خوشی میسر آئی،، زیبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں۔۔۔۔۔۔ تو آیا کا بندوبست کر لوں۔۔۔ ہاں مگر کوئی بوڑھی عورت لانا گھر میں جو مجھے اپنے تجربات سے بہرہ ور کرا سکے۔
زبیدہ نے ایک نئی تحریر کی تخلیق شروع کر دی۔اس بار وہ مختلف اردو ادبی فورمز پہ اپنے افسانہ کو شاہکار بنتے دیکھنا چاہتی تھی۔موضوع چن کے پلاٹ ترتیب دے کرماحول اور اس میں رہنے والے کرداروں کا خاکہ جب تیار ہو گیا تو اس نے ایک ہی نشست میں اسے مکمل کر کے نئے تجربے کے لئے ایک ادبی فورم پہ لگا دیا۔
آصف آج دفتر سے جلدی واپس آگیا اور اس کے ساتھ آیا بھی تھی جس نے گھر میں قدم رکھتے ہی زبیدہ کو سلام کیا اور ایک طائرانہ سی نظر ہر سو دوڑائی۔ 
زبیدہ یہ رقیہ ماں جی ہیں۔ یہ ہر ممکن آپ کا خیال رکھیں گی۔ باورچی خانے کے متصل بڑے کمرے میں یہ اپنی رہائش کا سامان سیٹ کر لیں کیا خیال ہے کے ساتھ ہی زبیدہ نے سر کی جنبش سے آسف کی بات تصدیق کرتے ہوئے رقیہ کو پورے گھر کا حدوداربعہ دکھا کے تمام کام سمجھا دئے۔رقیہ اپنے کام کاج مین مصروف ہو گئی۔آصف اور زبیدہ ایک دوجے کو دیکھتے ہوئے آنے والے مہمان کی لگن میں لگ گئے۔ وقت پر لگا کے گذرتا گیا اور آصف کی مصروفیات میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔زبیدہ خود کو مصروف رکھنے کے لئے نیٹ کا سہارا لے رہی تھی کہ ایک دن آیا سوال کر بیٹھی،، بی بی جی صاب ہر روز اتنی دیر سے آتے ہیں۔ یہ اتنی دیرریڈیو پہ کیا کرتے رہتے ہیں؟ بڑی لمی ڈیوٹی ہے صاب ہوراں دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیدہ کے کان میں اسی بھنک نے ایک نیا رخ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آیا ادھر آئیں ذرا یہ بات آج کیوں پوچھی۔؟بس ویسے ہی بی بی جی کہہ کے وہ اپنے دھندے میں لگ گئی اور زبیدہ کے ذہن میں رہ رہ کے اس کے اس سوال پہ عجیب عجیب سے شکوک اور وہمے سے ابھرنے لگے۔ اس نے پھر آیا کو آواز دی اور استفسار کیا کہ اس کے دل میں کیا ہے جو ایسا سوال کیا؟ بی بی جی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا ساب تو بوت اچھے ہیں، پھر بھی عورت کو اپنے مرد کا دھیان تو رکھنا پڑتا ہے ناں جی۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا جائیں اپنا کام کریں اور آئندہ ایسی باتوں سے پرہیز کریں۔۔۔ ٹھیک ہے بی بی جی کہہ کے آیا پھر اپنے کاموں میں مشغول ہو گئی لیکن شک کا ایک بیج بویا جا چکا تھا جو متواتر دماغ میں ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ بچے کی پیدائش کا مرحلہ بھی قریب تر تھا اور اس صورت میں گھر میںآتش فشاں کی سی صورت بن چکی تھی۔ زبیدہ نے فون کیا۔آصف دفتر میں نہیں تھا۔سیل فون بند اور چڑ چڑی ہوئی۔اسی غصے کے عالم میں آیا کو آواز دی۔ وہ گھبرائی مودبانہ حاضر ہوئی تو اسے تنبیہ کی گئی کہ اپنے کمرے میں آرام کرے۔ آصف کو کھانا وہ خود کھلائے گی۔آیا سر جھکائے اپنے کمرے میں چلی گئی۔اتنے میں آصف نے ہارن بجایا تو زبیدہ نے بیرونی گیٹ کھولا۔۔۔ بڑی حیرانگی سے آصف نے پوچھا آیا کہاں ہے؟ زبیدہ بنا جواب دئے کمرے میں چلی گئی آصف بھی کار پارک کرکے اس کے پیچھے ہو لیا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے بھانپ لیا کہ زبیدہ کے تیور بگڑے ہوئے ہیں نجانے کیا بات ہے ممکن ہے ایام زچگی قریب تر ہیں اس لئے۔۔۔۔ زیبو۔۔۔۔۔ زیبو۔۔۔
مت لیں میرا نام۔ اتنی دیر تک گھر سے باہر رہنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔
زیبو کام ہے ہی ایسا آخر اپنی ساکھ مضبوط رکھنے کے لئے محنت کرنی تو پڑتی ہے۔پروگرام پروڈیوسر ہوں اور وہ بھی ڈرامہ سیکشن ہے میرے پ
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com