پچیس سال  ………… افسانہ نگار : شہزاد حسین بھٹی

پچیس سال 
افسانہ نگار : شہزاد حسین بھٹی

میں اپنے آفس ابھی پہنچا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ اس وقت والد کا فو ن ؟ میرے ذہین میں بیک وقت کئی ابہام در آئے ۔
بیٹا واپس آنا ہوگا کیونکہ تمہاری خالہ کا انتقال ہو گیا ہے۔میرے سلام کا جواب دئیے بغیر انھوں نے کہا ۔
میں نے فوراً اپنی بیوی کو جو کہ خود ابھی ہی اپنی ڈیوٹی پر پہنچی تھی کال کی کہ میں تمہیں لینے آ رہا ہوں ساتھ ہی آنے کے سبب سے بھی آگاہ کیا۔ تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہو ادفتر سے اپنی بیوی کے دفتر کی جانب روانہ ہو گیا۔ بیوی کو لینے کے بعد میں نے بچوں کو اْنکے سکول سے پک کیا تاکہ اگر ہمیں واپسی پر دیر ہو جائے تو یہ پریشان نہ ہوں۔ والدین کولینے کے بعد ہم فوتگی والے گھر پہنچے 
میری خالہ کے گھر کے باہر قناتیں لگ چکیں تھیں اور کوٹھی کے صحن میں ہمارے انکل اور دیگر قریبی رشتے دار بْرجمان تھے۔ روائیتی افسوس کے بعد میں ماموں کے ہمراہ بیٹھ گیا اورخالہ کی بیماری کے حوالے سے بات چیت کرتے کرتے ہماری گفتگو کا مرکز موجودہ سیاسی صورت الحال بن گئی۔
ابھی ہم محو گفتگو ہی تھے کہ عنبر جو میری آنٹی کی بیٹی تھی وہ اندر سے باہر کی جانب جھانکی۔میں نے کَن اکھیوں سے اُسے دیکھ کر اپنی توجہ دوبارہ ماموں کی گفتگو کی طرف کر دی اور ایسا تاثر دیا جیسے میں نے اْسے دیکھا ہی نہیں وہ ماموں سے ایک آدھ بات کر کے اندر چلی گئی۔ روائیتی افسوس، گھسے پٹے جملے ، نمازہ جنازہ اور تدفین کے بعد ہم لوگ دیگر رشتے داروں کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
تیسرے دن قل تھے اور میں مصروفیت کی وجہ سے شام کو اپنی بیوی کے ہمراہ وہاں پہنچا تھا جبکہ میرے والدین صبح ہی بذریعہ ٹیکسی وہاں پہنچ گئے تھے ۔اْسی دن میرا کزن احمد بھی پہنچ چکا تھا۔ احمد کینیڈا میں عرصہ دراز سے مقیم تھا اور پاکستان بہت کم آتا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے آیا تھا۔ احمد سے افسوس کے بعد میں باہر ہی بیٹھ گیا تھا جبکہ دیگر رشتے دار جن میں میرے چچا چچی ، پھوپھا پھوپھی اورمیرے والدین ڈرائنگ روم میں میرے ماموں ، انکے بیٹے احمد اور عنبر سے اظہار تعزیت کر رہے تھے ۔ 
بابا آپکو ابو بلا رہے ہیں۔ میرا بیٹا بابر دوڑتا ہو ا آیا اور کہا ۔ میں نے ٹالنے کی کوشش کی مگر حکم سخت تھا لہذا جانا پڑا۔ میں جونہی ڈرائنگ رْوم میں داخل ہوا تو ڈرائنگ روم عزیزوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا ۔ میں اپنے چچا اور چچی کے درمیاں بیٹھ گیا۔
چلو۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد میرے والد نے کہا ۔ میں اور والد دونوں نے احمد اور ماموں کو گلے سے لگایا اور تسلی دی ۔ 
آگے بڑھا تو عنبر کھڑی تھی۔ 
عنبر اللہ خالہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے اورآپکو صبر جمیل۔میں نے عنبر کی جانب دیکھ کر رسمی طور پر کہا 
آمین۔ آپ دْعا کریں کہ اللہ اْنکی مغفرت کرے۔ عنبر نے فوراً کہا 
عنبر پچیس برس بعد آج مجھ سے یو ں ہم کلام ہوئی تھی۔میں کبھی اْس کے چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو دیکھتا اور کبھی اسکے چہرے پر ماند پڑنے والی مسکراہٹ کو جو کبھی جوانی میں اْس کی کشش کا ساماں تھی۔ اْسکے بال بے ترتیب ہو چکے تھے۔ اور یقیناً وہ اس وقت اپنی والدہ کی المناک وفات کی وجہ سے شدت غم سے چْور تھی۔ بقول شاعر
مدت کے بعد ایک شخص کو دیکھا تو محسوس ہوا ہمیں
قدموں کی کیا مجال تھی سانسیں بھی رْک گئیں
پچیس برس قبل میں اکثر اپنی خالہ کے گھر چھٹیاں گزارنے جایا کرتا تھا ۔میں اور عنبر ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے۔ اکٹھے پڑھنا، کرکٹ کھیلنا، اکٹھے ماموں کی گاڑی میں سیر کرنا، ناشتے سے رات کے کھانے تک اور ٹی وی دیکھنے تک ساتھ ساتھ رہتے۔ میں اس سے محبت کرتا تھا۔ یہ محبت یک طرفہ تھی اور شاید اْسے اس بابت معلوم بھی نہ تھا یا وہ محبت کے معنی ابھی نہیں جانتی تھی۔لیکن میں اْسے اپنے دل کی رانی بنا چکا تھا۔ وہ ہر وقت میرے اعصاب پر سواررہتی تھی۔ میں اس کی ہر سادگی اور ادا پر نظر رکھے ہوئے ہوتا تھا۔
یہ 1992 کی ایک صبح تھی میں اپنے کزن احمد کے ساتھ اسکے کمرے میں اسٹڈی ٹیبل پر پڑھنے میں مصروف تھا جبکہ احمد کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا تھا۔ اچانک ہوا کے زور سے کمرے کا دروازہ کھلا تو سامنے والے کمرے میں عنبر سلائی مشین پر کچھ سی رہی تھی جبکہ اسکی بڑی بہن رابعہ ایم بی بی ایس کے ا متحانات کی تیاری کر رہی تھی۔ میری نظریں عنبر پر ٹک گئیں اورمیں عنبر کو گھورنے لگا کہ اچانک عنبر کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ سنجیدہ ہو گئی۔ میں مسلسل اْسے گھور رہا تھا۔دوسری بار اس نے مجھے دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور اپنی بہن کو کچھ بتانے لگی۔اسی اثناء میں کمرے کا دروازہ بھی زور سے بند ہو گیا۔میرا دل ڈر کے مارے زور زور سے دھڑکنے لگا 
اب آنٹی کو پتا چلے گا تو میری خیر نہیں اور اب وہ مجھے گھر سے نکال دے گی اور بے عزتی الگ۔ یہ پہلا خیال تھا جو میرے دل میں آیاْ ْجب میرا کزن احمد آیا تو اْسے بھی معاملے کا علم ہوا تو وہ میرے کمرے میں آیا۔ وہ بہت غصے میں تھا۔ اس کا بس نہی چل رہا تھا کہ وہ مجھے مارتا۔ مجھے اشاروں کنایوں میں کہنے لگا کہ پڑھ رہے تھے یا چیزوں کو گھور رہے تھے؟ میں معاملہ بھانپ چکا تھا اس لیے سیدھی بات کی کہ اچانک دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا اور یہ معاملہ ہوا۔ وہ کہنے لگا تم نے اچھا نہیں کیا۔اب تمہیں نتاء4 ج بھگتنے ہوں گے۔ اْسی شام میری آنٹی میرے کمرے میں آء4 ی میں اسوقت آنکھیں موندے سونے کی تیاری میں تھا۔ وہ ہمراہ اپنی بیٹیوں کے بْرا بھلا کہتی ہوء4 ی نکل گء4 ی۔ اگلے دن میں نے اپنا انکل سے کہا کہ مجھے میرے گھر چکوال چھوڑ آء4 یں۔ وہ کہنیلگے کہ کیا بات ہے ابھی کچھ دن پہلے ہی تو تم آء4 ے ہو اور اکثر تم گرمیوں کی چھٹیاں یہاں ہی گزارتے ہو۔ میں نے بہانہ کردیا اور یوں میں اپنے گاوں واپس آ گیا۔
احمد کو جب واقعہ کا علم ہو ا تو وہ غصے سے لال پیلا ہو کر دندناتا ہوا میرے کمرے میں آ ن دھمکا ۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مجھے جان سے ہی مار ڈالتا۔ 
پڑھ رہے تھے یا چیزوں کو گھور رہے تھے؟ اس نے مجھے اشاروں کنایوں میں کہا 
میں معاملہ بھانپ چکا تھا اس لیے سیدھی بات کی کہ اچانک دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا اور یہ معاملہ ہوا۔ 
ًً تم نے اچھا نہیں کیا۔اب تمہیں نتائج بھگتنے ہوں گے۔ احمد نے کہا ا اور جس طرح آندھی طوفان کی طرح آیا تھا ویسے ہی نکل گیا ۔
اْسی شام خالہ میرے کمرے میں آئی ! میں اسوقت آنکھیں موندے سونے کی تیاری میں تھا۔انھوں نے بھی مجھے خوب برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی ۔بات اتنی بڑی نہ تھی جتنی بنا دی گئی تھی ۔ 
اگلے ہی دن میں نے اپنا رختِ سفر باندھا ۔ اور اپنے گاوں واپس آ گیا۔
؂ اسکے بعد عنبر کو میں نے اس کی بہن کی شادی میں دیکھا ۔ اتقاق سے اُس دن وہ اور میں آمنے سامنے مہمانوں کے لیے ہار پکڑے کھڑے تھے لیکن دونوں میں ہمت نہ تھی کہ ایک دوسرے سے کچھ بات کرتے۔پھر ایک دفعہ اسکی اپنی شادی پر اُسے دیکھا یا پھرایک رشتہ داری وفات پر اْس نے دور سے اشارتاًسلام کیاتھا۔
یا پھر آج دُوبدو دو شبدادا ہوئے تھے۔ 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com