سلور سکرین کی قیدی: *تحریر۔ناہید کپور

سلور سکرین کی قیدی
مجھے جانے دو،پلیز مجھے جانے دو،اسکی آنسو ؤں سے بھیگی آواز دھیرے دھیرے دم توڑتی جا رہی تھی،پھر ایک دم خاموشی،سب کو لگا کہ اب اسے کچھ سکون آگیا ہے،سوائے اس ایک شخص کے جو اس کے درد کا محرم تھا،جو واقف تھا کہ یہ تڑپ،یہ بے بسی،یہ ڈار سے بچھڑی کونج سا کرلانا،بس وہ ایک ٹک،یخ بستہ شیشے پر اپنی ناک کی نوک ٹکائے،اسے بے چارگی سے دیکھے جا رہا تھا۔کچھ عرصے پہلے کی بات ہے جب مجھے یہ اینڈروئیڈ فون میرے بیٹے نے اپنی پہلی تنخواہ سے گفٹ کیا۔آپ تمام دن اکیلی ہوتی ہیں میری ماں!یہ چھوٹی سی سلو ر اسکرین سے پوری دنیا آپ کی ہتھیلی میں اور میں اپنے اس نئے دوست کے ساتھ خوش اور مصروف،واقعی یہ تو پوری دنیا میرے ھاتھ میں،ایک نیا جہان آبادرنگوں،خوشبوؤں،تتلیوں،جگنوؤں کا جہاں،محبتوں،مسکراہٹوں،قہقہوں اور آنسوؤں کی ایک انہونی دنیا آباد تھی،میں نے تو زندگی کے اتنے رنگ،دیکھے ہی کہاں تھے،میں تو اس جہاں میں ایسے کھو گئی کہ واپسی کا راستہ ہی بھول گئی۔اور ایک دن تم مل گئے اور میری اس فون کی دنیا میں ایک اور رنگ بھر گیا۔جس کے سامنے قوس وقزح کے سات رنگ،اور اس کرہ ء ارض کے تمام رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں،محبت کا رنگ،اور اس وقت جبکہ تنہائی کا سیاہ اور خزاں کا زرد رنگ ساتھ ساتھ ۔۔۔میں حیران تھی کہ یہ کیا ؟؟؟محبت؟؟؟ اور مجھے؟؟ مگر ہوچکی تھی ۔تمہارے ساتھ، ہنسنا،،تمہارے ساتھ رونا،تمہاری فکر،نہ جانے اس پوری فیس بک پر تمہارے پیچھے پیچھے اپنی اس کیفیت کی ذمہ ار بھی تم نہیں میں خود ہوں۔تم عادت نہیں،زندہ رہنے کی وجہ بن گئے ۔ تم اگر آف لائن ہوتے تو بھی میں گھنٹوں اس سلور اسکرین کو گھورتی رہتیْ ْ ْتمہارے نام کے حروف کو تکتے تکتے سوتی اور جاگتی،،جب تباکرتے ھو تو مییرا بس نہیں چلتا کہ کیا کروں،،،،دل چاہتا کاش میں سگنل کی طرح تاد کے ذریعے تم تک پہنچ جاو?ں اور تمہارے مسکراتے چہرے پر پھونک ماروں،،پھر جب تم گھبرا کے ادھر ادھر دیکھو تو دھیمی سی سر گو شی کروں،،،،میں ہوں میری جاں،،،،،،،پر میں اسکرین کے اس طرف اور تم اسکرین میں،،،،مشکل یہ ہوگئی کہ اب سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں اس محبت کا خراج مانگوں یا حق،پھر تم نے کہا کہ میں ہی تمہاری دلہن تلاش کروں۔تم کہیں کھو نہ جاؤ۔میں تمہاری دلہن ڈھونڈنے لگی ۔کہیں تم نے ہاتھ چھڑا لیا تو،اور ہاتھ بھی کہاں؟؟؟بس اسکرین کو چھو لینا ہی کافی،نہ تمہارے ہاتھ کا لمس،نہ ایک مضبوط سہارے کا احساس،،بس یہ اسکرین اور میں،تمہیں پانا میرے نصیب میں نہیں اور کھو دوں ؟اتنی باہمت نہیں۔پتہ نہیں عالم برزخ میں بھٹکتی روح ،میرے گھر کے لوگ حیران کہ مجھے کیا ہو رہے تھے،بن جل مچھلی،
ربا میرے حال دا محرم توں،
تم آن لائن پر کہیں اور مصروف،
میں کسی بنجارن کی طرح تمہارے پیچھے،بس جہاں تمہارا نام دیکھتی،رک جاتی میں تمام دن،گرین لاءئٹ دیکھتی ہوں اور شکر کرتی رہتی ہوں کہ تم میرے ساتھ نہیں ہومگر خیریت سے ہومحبت کرنے والونں کے لئے تو بس یہ ہی بہت کہ میری محبت میری نہیں مگر سلامت ہے اورپھر تم آف لائن ھی نظر آنے لگے،میرے پیغام اور میں انتظار بنتے جا رہے ہیں۔ تم شادی کرنے آرہے تھے اور میں خوش کہ میں تمہارے کسی کام آگئی ۔اب شاید تم مجھے تنہا نہیں ہونے دو گے ۔میری محبت کس،ریاضت کا صلہ تو نہیں مگر ۔۔۔۔۔اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔۔۔میں شاید تینڈے فارغ وقت دا شغل ہوں میں،،جیویں دل کردا،ایویں رولی رکھ249249249249249249(تیرے فارغ وقت کا شغل ہوں میں، جیسے جی چاہے مٹی میں ملا) 
اور پھر تم آف لائن،مجھے کہیں نہیں نظر آتے تم، میں اکیلی اس اسکرین پر بھٹک بھٹک کر،249249 آنسو بہاتے بہاتے،تھک گئی میرے محرماں ،،،تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے گم ہوتی جا رہی ہوں249اس سلور اسکرین کی قیدی،جی،ہاں249،اماں آپ کی بات کرتی تھیں،بس معلوم نہیں،ایک دن فون لے کر میرے پاس آگئیں کہ میں کھو گئی ہوں،،،،پلیز بیٹا مجھے ڈھونڈ دو،
اور یہ ڈائری،ان کے کمرے سے ملی،میں نے محبت سے اس پر ھاتھ پھیرا اور شیشے کے پار اسے دیکھا،کیا بتاتا اپنی محرم کو کہ میں قید کاٹ کر آیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com