کیفے درویش محبت کی علامت

تحریر: اسعد نقوی

کیفے کے ایک کونے میں تنہا بیٹھا ہوا سوچ کی وادی میں گم تھا ۔ سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین جگما رہی تھی اور اس سکرین پر ایک تصویر گویا اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ ساتھ موبائل چارجر پر لگا اسی میز کے کونے میں رکھا ہوا تھا ۔ کیفے میں زندگی دوڑ رہی تھی ۔ ایک طرف یونیورسٹی کے طلبا و طالبات اپنی اسائنمٹ بنا رہے تھے ایک لڑکا وائٹ بورڈ پر سمجھا رہا تھا ۔ گویا یہ سہولت کیفے نے ہی طلبا کو دے رکھی تھی ۔ تو دوسری طرف بزنس ڈیل بھی ہو رہی تھی ۔ ساتھ ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ ڈنر سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ مگر یہ شخص ان سب سے بے گانہ اپنی سوچ کے دائرے کو گھماتا اس دور میں داخل ہو چکا تھا ۔ جب نوجوانی کی آگ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔ یونیورسٹی دور نے اس میں توانائی بھر دی تھی یونیورسٹی کے ساتھیوں میں ایک لیڈر کی طرح تھا ۔ ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ زندگی اور یونیورسٹی دور کو یادگار بنا رہا تھا ۔ مگر معلوم نہیں کب وہ ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ عشق کی وادی میں اتر گیا ۔ اور اس کی محبوبہ دوسرے شعبہ میں تھی ۔ مگر یونیورسٹی کے پروگرامز ہوں یا کوئی اور نصابی سرگرمی یہ دونوں ہی سرگرم رہ کرتے تھے ۔ محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ عشق کا سمندر گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔ مگر یہ دونوں اس سمندر کو اپنے اپنے دل میں ہی چھپا کر بیٹھے تھے۔ وقت کا پہیہ گزرتا جا رہا تھا ۔ مگر اظہار کے لیے لب خاموش اور آنکھیں بول رہی تھیں ۔ اور دونوں آنکھوں میں چھپے ایک دوسرے کے پیار سے انجان تھے ۔ محبت کے اس طوفان کے آگے انا کی دیوار نے بھی اپنے ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔ یونیورسٹی کے مشاعرے میں دونوں نے ہی اشعار میں اظہار کر دیا تھا ۔ مگر انا نے قربت نہ آنے دی ۔ اسی میں یونیورسٹی کا دور ختم ہوگیا اور زندگی کی دور میں راہیں جدا ہوگیں ۔ مگر دلوں میں اب بھی محبت کا دیا قائم تھا ۔ آج بارش میں بھیگتی ایک لڑکی کیفے آئی اور دوسری طرف اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ تو اس لڑکی کو دیکھ کر آج برسوں بعد اس کی شکل دیکھی ۔ وہ آج بھی اسی طرح معصوم تھی ۔ایسا لگتا تھا کہ وقت اسے چھو کر بھی نہیں گزرا ۔ اور یہ شخص شاید کچھ بدل گیا تھا ۔ اب گاڑی اور عہدہ سب کچھ تو تھا ۔ مگر نہیں تھا تو اس کا ساتھ نہیں تھا ۔ اعلی لباس اور مردانہ وجاہت نے اس کی شخصیت بدل دی تھی ۔ کھلنڈرا پن اب اس میں موجود نہیں رہا تھا ۔ مگر دل اسی طرح محبت کا راگ الاپ رہا تھا ۔ اور وہ لڑکی اپنی سہیلوں سے باتیں کرتی اور ڈنر کر رہی تھی ۔ مگر یہ آج بھی اظہار کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا ۔ اور سوچوں میں گم ہو چکا تھا مگر اس کی سوچ کا دائرہ تب ٹوٹا جب کیفے میں چند پٹھان بھکاری بچے داخل ہوئے اور کیفے کے عملے سے فاسٹ فوڈ طلب کرنے لگے ۔ سب کی توجہ ان بھکاری بچوں پر تھی ۔ کیونکہ کہ سب ان کے لیے انوکھا اور منفرد تھا ۔ اور عملہ انہیں اسی طرح معزز کسٹمرز کی طرح مخاطب کر رہا تھا ۔ اور ان کی مطلوبہ اشیا دے رہا تھا ۔ بچے کھا کر چلے گے اور کسی نے بل بھی طلب نہ کیا تو سب حیران تھے ۔ اتنے میں اس شخص نے مینجر سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے بچے بل دیے بغیر چلے گئے ۔ مینجر نے مسکراہتے ہوئے کہا جناب یہ اللہ کے مہمان تھے وہ شخص حیران ہوا مگر کیفے میں باقی لوگ بھی چونک گے یہ کیا چکر ہے ۔ اس شخص نے کہا کیا مطلب میں سمجھا نہیں ۔ اس نے کہا جناب یہ کیفے درویش ہے یہاں محبتیں ہی بانٹی جاتی ہیں ۔ اور لوگ دیوار محبت کو بھی آباد رکھتے ہیں جس کا کھاتا اللہ کے ساتھ ہے ۔ ۔۔یہ اسی کھاتے میں سے اللہ کے مہمان تھے ۔ یہ کیفے اپنی درویشی اسی طرح دیکھاتا ہے ۔ یہاں دل ملتےہیں ۔ محبتیں آباد ہیں ۔ یہ سنتے اس شخص کی نظریں اپنی محبوبہ کی طرف اٹھ گئی اور وہ بھی اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ اور آنکھوں میں اب شناسائی نظر آ رہی تھی ۔ اگلے ہی لمحے دونوں ہاتھ میں ہاتھ تھامے اظہار محبت کر رہے تھے جنہیں دیکھ کر کیفے میں تالیوں کی گونج اور چہروں پہ مسکراہٹ جگمگا رہی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com