افسانہ: سراب:::::: مصنفہ: شاہ رخ نذیر

افسانہ: سراب
مصنفہ: شاہ رخ نذیر

؂ محبت پر ناجانے کیوں کسی کا بس نہیں چلتا 
یہی وہ ایک جذبہ ہے جو نا فرمان ہوتا ہے

جھکا سر، لڑکھڑاتے قدم، پشیماں چہرا، ایسا لگ رہا تھا کہ کسی ہاری ہوئی فوج کا ناکام سپاہی چلا آرہا ہے، وہ کہاں جارہی تھی؟ کیوں جارہی تھی اسے کچھ معلوم نہیں تھا، بس قدم خود ہی کسی انجانی سمت بڑھتے جارہے تھے۔ وہ جس منزل کی تلاش میں نکلی تھی وہ منزل اب نہیں تھی، وہ جس راستے پر تھی اس راستے پر کوئی منزل تھی ہی نہیں، اس نے غلط راستہ چن لیاتھا، اور صحیح راستے پر آتے آتے دیر کر دی تھی، بے جان قدموں سے چلتے چلتے وہ گلی سے نکل کر سڑک پر آگئی، چہار سو گاڑیوں کے ہارن اور ٹائروں سے نکلنے والی آوازوں نے شور برپا کر رکھا تھا، وقت عصر اور مغرب کے درمیان کا تھا، تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ یک لخت ہی ماحول سے آوازیں غائب ہوگئیں۔ اور پھر اس کی سماعتوں میں کچھ آوازیں زندہ ہونے لگیں۔
"محبت کرتا ہوں تم سے"۔
"تمھارے بغیر رہ نہیں سکتا"۔
"تم نہ ملی تو پاگل ہوجاؤں گا"۔
"دیکھو اگر تم نے نہ کہا، تو ۔۔۔۔ تو میں یہ دنیا تیاگ دوں گا، اور جوگ لے کر مزاروں پر بیٹھ جاؤں گا" ۔ 
کسی کا قہقہہ بلند ہوا۔ قہقہہ تو اس کا تھا مگر۔۔۔ مگر آواز کس کی تھی؟ وہ الفاظ کس کے تھے؟
"بولا تم آؤ گی نا مجھ سے ملنے؟"
وہ ہونق بنی چاروں طرف دیکھنے لگی، پھر اسے اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی، کوئی تیز تیز چلتا ہوا اس کی طرف آرہا تھا، کون تھا جو اس کا پیچھا کر رہا تھا،اس نے اپنے قدموں کی رفتار کو تیز کیا مگر تاقب کرنے والا اب اس کے پیچھے بھاگ رہاتھا، اور پھر اچانک کوئی سامنے سے بھی اس کی طرف آنے لگا، اور پھر دائیں اور بائیں سے بھی۔۔۔۔۔ یہ کون تھا جس نے اسے گھیر لیاتھا۔
آج اتنی دیر کیوں ہوگئی کالج سے آنے میں؟" آبرو جو امی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی ، امی کی آواز پر ذرا سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
"وہ۔۔۔ امی آج میں طوبی سے نوٹس لینے چلی گئی تھی"۔ وہ جھوٹ کہہ رہی تھی ، وہ طوبیٰ کے گھر نہیں گئی تھی ۔ مگر ماں سے جھوٹ بولتے
ہوئے وہ رتّی بھر بھی نادم نہ تھی۔عصر کی اذان میں کچھ وقت تھا امی کی عادت تھی وہ نماز سے پہلے یا بعد میں قرآن کی تلاوت ضرور کرتیں، وہ اٹھیں اور وضو کرکے تلاوت کرنے بیٹھ گئیں، تلاوت اور نماز سے فارغ ہوئیں تو پاس آبرو کو بیٹھا پایا جو اپنے موبائل کی اسکرین پر تیزی سے 
ہاتھ چلا رہی تھی۔
"آبرو؟" جائے نماز سے اٹھتے ہوئے امی نے اسے پکارا تھا۔
"ہوں؟ "موبائل پر جھکا سر، اور اسکرین پر تیزی سے چلتا ہاتھ رکا نہیں۔
'نماز کیوں نہیں پڑھی تم نے؟"
"وہ امّی۔۔۔۔ کل سے پڑھ لوں گی"۔
"آج سے کیوں نہیں؟"
"بھئی آج میں بہت تھک گئی ہوں ، کل سے پڑھ لوں گی"۔
"پتہ نہیں تمھارا وہ کل کب آئے گا"۔ اب کی بار امّی کا لہجہ سخت تھا، مگر وہ نظر انداز کرتے ہوئے اپنے موبائل کے ساتھ ہی مصروف رہی۔امّی کچھ لمحے خاموش رہیں پھر ایک بار اس سے مخاطب ہوئیں۔
"آبرو ظالم کون ہوتا ہے؟" امّی کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ یہ کیسا سوال ہے۔
"ظالم وہ ہوتا ہے جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے"۔ آبرو نے جواب دیتے ہوئے شانے اچکائے۔
"بس؟؟؟ کیا صرف ظالم وہ ہوتا ہے جو دوسروں پر ظلم کرے؟ تو پھر اس کا کیا جو خود پر ظلم کرے؟"
"ظالم صرف وہ نہیں ہوتا جو دوسروں پر ظلم کرے، ظالم تو وہ بھی ہوتا ہے جو خود پر ظلم کرتا ہے، اور جانتی ہوانسان خود پر ظلم کیسے کرتا ہے؟؟؟ اللہ کی بات نہ مان کر ، اپنے رب کے احکامات نہ مان کر اور اس کی حدود پا رکر کے انسان خود پر ظلم کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ پاک نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اس کے احکامات نہیں مانتے ، جو نا فرمانی کرتے ہیں اور جو اس کی مقرر کردہ حدود پھلانگتے ہیں وہ ظالم ہیں ۔ اب تم بتاؤ اس سے بڑا اور ظلم کیا ہوگا کہ انسان اپنے رب کی بات نہ مانے"۔
"صحیح کہہ رہی ہیں آپ"۔ آبرو نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا تھا۔
"تو پھر تم بھی تو خود پر ظلم کررہی ہو، نماز نہ پڑھ کے، تم ہر روز کل کل کہہ کر نماز کو کل پر ٹال دیتی ہو، تم کبھی یہ کیوں نہیں سوچتی کے اگر کل موقع نہ ملاتو کیا کرو گی؟" امّی نرمی سے اسے سمجھا رہی تھیں۔
"میں روز سوچتی ہوں کہ اب پڑھوں گی نماز مگر پھر ناجانے کیوں مجھ سے نماز نہیں پڑھی جاتی"۔ وہ سر جھکائے کہہ رہی تھی۔
"تو پھر تو یہ اور بھی فکر کی بات ہے، جانتی ہو ارادہ کرنے کے بعد بھی اگر نماز پڑھنے کا موقع نہ ملے تو اللہ سے توبہ کرنی چاہئے، یہ ہمارے گناہ ہیں جو ہماری نماز کے بیچ میں رکاوٹ بنتے ہیں، تو توبہ کرو اللہ سے کہ وہ تمھارے گناہ معاف کرے، اور تم کو نماز کی توفیق دے۔ نماز پڑھا کرو میرے بچے ، اللہ کی عبادت کا حق ادا کیا کرو"۔امّی نے اس کا ماتھا چوما اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں، امّی کی باتوں کا اثر چند لمحے بھی نہ رہا، اس نے ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا اور ایک بار پھر موبائل کے ساتھ مصروف ہوگئی۔
رات کا آخری پہر تھا وہ بالکونی میں بیٹھی فون کان سے لگائے باتیں کرنے میں مگن تھی مگر ساتھ ہی ساتھ چور نظروں سے بیڈ پہ سوتی وفا کو بھی

دیکھ رہی تھی۔فون پر دوسری طرف وقار تھا، وہ روز اسی طرح چھپ کر وقار سے باتیں کیا کرتی تھی۔ دونوں گھنٹوں محبت میں ساتھ جینے مرنے کے وعدے کرتے، ایک دوسرے کو محبت کا یقین دلاتے اور عین فجر کے وقت فون بند کر دیتے۔ فجر کی اذان فضا میں گونجی تو فون بند کرکے وہ بیڈ پر سونے چلی آئی، امّی اور وفا کے اٹھنے کا وقت تھا تو یہ اس کے سونے کا وقت تھا۔ وفا نے اسے نماز کے لیے اٹھایا تو" بس پانچ منٹ" کہہ کر وہ پھر سوگئی۔ "ناجانے یہ کیسی محبت تھی جو دونوں کو رب سے دور کر رہی تھی، اور ایسی محبت جو بندے کو اس کے رب سے دور کرے وہ محبت نہیں شر ہے، وہ محبت نہیں شر ہے، وہ محبت نہیں شر ہے"۔
آبرو کی وقار سے دوستی سوشل ویب سائیٹ پر ہوئی تھی۔ شروعات میں وقار نے اسے میسج کیا تھا۔
"ہائے۔ کیسی ہیں آپ؟" وقار نے میسج کیا۔
"آپ کون؟ "آبرو نے پوچھا۔
"آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ مجھ سے دوستی کریں گی؟" سوال پوچھا گیا
"میں انجان لوگوں سے بات نہیں کرتی"۔ انکار کیا گیا
"آپ کی تصویر دیکھی، آپ بہت خوبصورت ہیں"۔ جال پھینکا
"شکریہ ۔ مگر میں آپ کو جانتی نہیں"۔ شکار پھنس گیا
"کوئی بات نہیں جان جائیں گی"۔ اور پھر یوں باتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ روز باتیں ہونے لگیں۔ دو اجنبی ایک ویب سائیٹ سے جڑ گئے۔
"تم کیا کرتی ہو؟" وقار نے پوچھا ، آبرو نے جواب نہیں دیا۔
"سوری"۔ اسکرین پر ابھرا۔
"کس لیے؟"
"میں نے آپ کو تم کہا، مجھے لگا اب ہم دوست ہیں"۔
"ارے کوئی بات نہیں"۔ 
"تو کیا ہم دوست ہیں"؟
" ہاں بالکل"۔۔۔ ساتھ میں مسکراتا ہوا چہرا بھی بنایا۔ وقار نے بھی مسکراتا ہوا چہرا بنادیا۔ یہ شروعات تھی، باتوں کا سلسلہ بڑھنے لگا، اب دونوں ایک دوسرے کے میسج کا انتظار کرنے لگے۔ اور پھر موبائل نمبر کا تبادلہ بھی ہوگیا۔ اب پورا دن میسج پر بات ہوتی اور پھر ایک دن آبرو امّی کے پاس بیٹھی تھی جب وقار کی پہلی بار کال آئی۔آبرو کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، اس نے تیزی سے کال کاٹی اور اٹھ کر لان میں آگئی۔ وقار نے پھر کال کی اس با رآبرو نے کال اٹینڈ کر لی اور غصّے سے بولی۔ 
"کال کیوں کی، میں نے منع کیا تھا نہ"۔
"اففف تمھاری آواز۔۔۔۔ کتنی پیاری ہے، غصّے میں اتنی پیاری ہے تو جب پیار سے بولتی ہوگی تو یقیناًغضب ڈھاتی ہوگی۔ تیر کمان سے چھوڑا گیا ۔آبرو کا غصّہ کافور ہوگیا، لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔جھٹ سے بولی۔
"اچھا یہ بتاؤ کال کیوں کی "۔

بس تمھاری آواز سننا چاہتا تھا"۔ اب حال یہ تھا کہ دن بھر میسج اور رات بھر کال پر بات ہونے لگی، اور پھر ایک دن ملنے کی خواہش کی گئی، آبرو نے ڈرتے ڈرتے ہاں کر دی اور پھر کالج کے بعد اس سے ملنے چلی گئی، ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، آئے دن وہ وقار کے بلانے پر ملنے چلی جاتی، محبت کا اظہار کیا گیا، اور پھر محبت کے نام پر دونوں پر حد سے گزر گئے، دونوں اخلاقی سطحوں سے ایسے گرے کہ پاتال کے اندھیروں میں کب کھو گئے پتہ ہی نہ چلا۔" انسان کی زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں اس کی نظر میں کچھ غلط نہیں رہتا، یہ مقام گرنے کا ہوتا ہے، اس مقام پر پاتال کا اندھیرا انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ پھر کیا صحیح ہے اور کیا غلط اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا"۔
؂ محبتوں کے اساس لہجے، حقیقتوں کے عکاس لہجے 
اے بنتِ حوّا سنبھل کے رہنا، فریب ہیں مٹھاس لہجے
آبرو کے ابّا کے انتقال کے بعد اماں نے بڑے پیار سے دونوں بیٹیوں کی پرورش کی تھی، دن رات محنت کر کے ان دونوں کو پالا، ان کی ہر 
ضرورت کو پورا کیا۔ وفا کی تعلیم مکمل ہوئی تو ایک اچھا رشتہ ڈھونڈ کر اس کی شادی کردی، اور اب وہ آبرو کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہیں تھی، آبرو کو جب اس بارے میں پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوئی وہ وقار سے شادی کرنا چاہتی تھی، وقار بھی کئی بار اس سے شادی کے وعدے کر چکا تھا اور اب جب آبرو کے لیے رشتے آنے لگے اور امّی کو ان میں سے کچھ رشتے بھی پسند آگئے تو اس نے وقار سے رشتہ بھجوانے کا کہا مگر وقار نے" ابھی کچھ وقت ٹھہرو "کہہ کر بات ٹال دی، آبرو اب بہت پریشان رہنے لگی ، وقار سے جب بھی اس بارے میں بات کرتی تو وہ بات ٹال دیتا، اب کچھ یوں ہوا کہ وقار نے آبرو کی کال اٹینڈ کرنا بھی بند کر دیااور نہ ہی خود اسے کال کرتا اور نہ ہی میسج کا جواب دیتا۔ کتنے ہی سارے دن گزر گئے آبرو جو وقار کی جدائی میں گھلی جارہی تھی ایک دن اس کے آفس جا پہنچی۔ آبرو کو دیکھتے ہی وقار کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔
"تم؟۔۔۔ تم یہاں کیوں آئی ہو؟" وقار کا لہجہ بہت روکھا تھا۔
"تم سے کچھ بات کرنی تھی"۔
"کیا بات کرنی ہے؟ جلدی کہو مجھے بہت کام ہے"۔
"تم شادی"۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ شادی کا نام سنتے ہی برہم ہوگیا۔
"شادی شادی شادی۔۔۔۔ اف تم نے تو رٹ ہی لگا رکھی ہے، تمھیں کیا لگتا ہے ، میں تم جیسی لڑکی سے شادی کروں گا۔۔۔ایک ایسی لڑکی سے جس کو نہ اپنے ماں باپ اور نہ ہی اپنی عزت کی پروا ہے، جو کسی کے ساتھ بھی چند دن کی دوستی میں کہیں بھی جا سکتی ہے، تم سے شادی کروں جو اپنی ماں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔۔۔۔ ارے جو اپنے گھر والوں کی نہ بن سکی وہ میری کیا بنے گی، جو مجھ سے چھپ چھپ کر مل سکتی ہے وہ کل کو کسی اور سے بھی تو چھپ کر مل سکتی ہے نا۔۔۔۔ تم جیسی لڑکی سے شادی کرکے مجھے اپنی نسل خراب نہیں کرنی۔۔۔۔ آج کان کھول کر بات سن لو مجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا اور آئندہ مجھ سے ملنے کی کوشش بھی مت کرنا، اب جاؤ یہاں سے"۔وہ اپنی بات مکمل کر کے جا چکا تھا ، آبرو کے کانوں میں سائیں سائیں کی آوازیں گونجنے لگیں، اسے لگا کسی نے سیسیہ پگھلا کر اس کے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ وہ وہاں سے چلی آئی ، وہ ہارے ہوئے سپاہی کی طرح چلی جارہی تھی، اس نے سب ہار دیا تھا، جھوٹی محبت، عزت ، ماں کا مان ، سب کچھ۔۔۔۔اسے یاد آیا جب وہ پہلی بار اس گناہ کی طرف بڑھی تھی تو اس کے ضمیر نے اسے کتنا منع کیا تھا، مگر اس نے اپنے ضمیر کی ایک نہ سنی۔۔۔ "اور پھر یہ ضمیر بھی بس کچھ وقت تک ہی ملامت کرتا ہے، روکتا ہے پر جب انسان اس کی نہیں سنتا تو یہ بھی سو جاتا ہے

اور تب دل پر پڑنے والی گناہوں کی کالک محسوس نہیں ہوتی"۔۔۔ پر آج ۔۔۔ آج اسے یہ کالک اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی۔ اسے یاد آیا کہ کیوں وہ نماز نہ پڑھ پاتی تھی، اسے یاد آیا امی نے کہا تھا کہ اس کے گناہ ہیں جو اسے نماز سے دور کر رہے ہیں ، ہاں ایسا ہی تھا، اس کے گناہ نے اسے نماز سے دور کیا اور پھر وہ اپنے رب سے بھی دور ہوتی چلی گئی۔ اس نے اپنے رب کے احکامات کو ایک شخص کے لیے بھلا یا تھا۔ اور اب اس کے وہ سب گناہ کسی دیو کی شکل لیے آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے اس کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے ، آج اس کے گناہوں نے اسے گھیرلیا تھا ۔ وہ تیزی سے بھاگ رہی تھی، سانس پھول رہی تھی، چہرا پسینے سے تر، آنکھوں میں وحشت، جسم میں کپکپاہٹ۔۔۔۔ وہ بھاگے جارہی تھی ، اپنے گناہوں سے، مگر یہ گناہ اس کا پیچھا چھوڑ ہی نہیں رہے تھے، بھاگتے بھاگتے وہ لڑکھڑا کر گر گئی۔ زمین پر گرتے ہی اسے اللہ یاد آیا تھا۔ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے، گرنے کی وجہ سے ہونٹ کے قریب خون نکلنے لگا، وہ ڈھاڑے مار کر رونے لگی پاس ہی چند لوگ بھی جمع ہوگئے، کسی نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھی، بس وحشت سے سب کو دھکیلنے لگی۔ 
"دور ہوجاؤ ۔۔۔ سب دور ہوجاؤ ۔۔۔ میں دلدل میں ۔۔۔ یہ بہت برا دلدل ہے ۔۔۔ ہٹ جاؤ سب "۔۔۔۔ چالاتے ہوئے وہ جھٹ
سے اٹھی اور ایک عورت کے قریب جا کر اس کے ہاتھوں کو زبردستی پکڑ کر اپنے چہرے پر زور دار تھپڑ مارنے لگی، عورت نے جھٹکے سے اپنے ہاتھ پیچھے کیے اوراس کو دھکا دیا تو وہ پھر سے زمین پر گر گئی۔
"مارو مجھے ۔۔۔۔ مجھے مارو۔۔۔ یہ کنکریاں بھی مارو"۔۔۔ لوگوں کو اس کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا، کچھ تو وہاں سے چلے بھی گئے۔
"میں ۔۔۔ بنتِ حوّا۔۔۔۔ میں ایک زندہ لاش ہوں، ایک ایسی لاش جو سڑ گئی ہے۔۔۔ میں تم سب کے لیے عبرت کا نشان ہوں۔۔۔ مجھے دیکھو۔۔۔۔ اور سیکھو کہ محبت کے چند لفظوں کے عوض کبھی اپنی عصمت کا سودا مت کرنا۔۔۔ ورنہ تم لوگ بھی سڑی ہوئی لاشیں بن جاؤگے۔۔۔۔ دیکھو مجھے۔۔۔ دیکھو"۔۔۔ وہ اپنا چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔ آج اسکا محبت نامی سراب ختم ہوا تھا۔۔۔ آج اس پر حقیقت کھلی تھی۔۔۔ سراب چاہے کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن وہ ضرور ختم ہوتا ہے۔
؂ میرا ذکر پڑھنے والے میرا راستہ نہ چن لیں
سر ورق یہ بھی لکھنا ، مجھے مات ہوگئی تھی

(ختم شد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com