**محبت کی جیت ** تحریر۔انعمتہ گل

**محبت کی جیت ** تحریر۔انعمتہ گل،جہلم
کیا؟پھر بول ذرا؟؟؟صاحبہ نے دانت کچکچاتے تصدیق چاہی۔کیوں تو بہری ہے کیا جو بار بار بولوں؟؟دیکھ بس یہی ایک آپشن ہے میرے پاس اور میں کچھ نہیں کر سکتا۔مرزا جٹ نے حتمی لہجے میں بات مکمل کی.تیرا کہنے کا مطلب ہے کہ میں تیرے ساتھ بھاگ جاؤں؟؟؟صاحبہ نے حیرت سے منہ کھولے پھر پوچھا۔ دوسری طرف فون پہ موجود مرزا جٹ سخت جھنجھلایا۔تو اور کوئی فارسی تو نہیں بولی میں نے۔بس کل جہاں بولا ہے آجانا۔آؤگی یا نہیں؟؟؟مغروریت سے سوال کیا گیا۔صاحبہ نے ایک نظر صحن پہ ڈالی ساتوں بھائی گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔مرزا جٹ کی بات نیزے کی انی کی طرح دل میں کھبی۔مگر پھر سنبھلتے ہوے گلا کھنکارہ۔نہیں مرزا تو خود آئے گا لینے مجھے عزت کے ساتھ، مان کے ساتھ ، اگر ہمت ہے تو آ جانا ورنہ ہمیشہ کہ لیے الوداع۔ تیرا اپنا راستہ ،میرا اپنا ۔ صاحبہ نے بھی ناک پر سے مکھی اڑائی ۔ نہیں تو ایسا نہیں کر سکتی میرے ساتھ۔ یہ جانتے ہو ئے بھی کہ میں نہیں رہ سکتا تیرے بغیر ۔ سا نس رکنے لگتا ہے میرا۔سمجھتی کیوں نہیں تو۔ مرزا واقعی روہانسا ہو گیا تھا۔ صاحبہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔دیکھ مرزا میری بات سن۔نہیں کوئی بات نہی سننی۔ میں تجھے بتا دوں کہ میں اس محبت کو برسوں کی خاندانی دشمنی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا۔ سارے حربے آزمائے ۔چار دفعہ تیرے بھائیوں کے پاس آیا۔چاروں دفعہ ہی ہڈی اور پسلی ٹوٹنے کی کسر رہ گئی تھی بس۔ اب واقعی میں تڑوانے کا کوئی ارادہ نہیں میرا۔ہونہہ! جب پتا بھی ہے کہ تیرے ابا اور میرے ساتوں بھائی نہیں راضی اس رشتے پہ تو رک جاؤ۔صبر کرلو۔ باؤلا کیوں ہو رہا ہے؟؟بھاگوں گی تو میں کبھی بھی نہیں ترے ساتھ۔ چاچے اور چاچی کو بول کہ معافی مانگ لیں۔ اور جس زمین پے قبضہ کیا ہے وہ میرے بھائیوں کو واپس کر دیں۔ تو پھر کوئی صورت نکل سکتی ہے ورنہ بھول جا صاحبہ کو۔بے مروتی کی اگر کوئی انتہا ہوتی ہے تو صاحبہ اس انتہا پہ تھی۔صاحبہ ہوش میں تو ہے تو؟۔آسانی سے بھلا دے گی مجھے؟مرزا جٹ دکھ سے بولا۔پہلے تو کبھی نہیں بولی ایسے آج کیوں بدلی بدلی سی لگ رہی ہے؟؟دکھ عیاں تھا۔اس لیے کیوں کہ آج تیری نیت بھی بدلی بدلی سی لگ رہی ہے۔ تجھے بولا تھاناں کہ میرے بھائی میری کل کائنات ہیں تو پھر سب کہ ساتھ آ۔ رشتہ مانگ۔ اگر راضی با رضا سب ہو گیا تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔افففف !! پھر وہی بات ، مرزا نے سچ میں اپنے بال نوچ ڈالے۔ میرا ابا بھی نہیں جھک رہا اور نہ تیرے بھائی۔ میں خود آیا مار کھائی اور کیا کروں؟؟؟؟اوراماں کو منا منا کہ میں تھک گیا وہ بھی نہیں مانتی۔ تم ہی بولو کچھ؟ہیلو صاحبہ سن رہی ہو؟؟؟ ہوں!!تو پھر؟؟بتاؤ کہ بھاگو گی میرے ساتھ؟؟؟سوچ سمجھ کہ جواب دینا ورنہ جانتی ہے کہ میں نہ خود رہوں گا زندہ نہ۔۔۔اللہ نہ کرے ۔مرزا نہ بول ایسے۔صاحبہ نے دہل کر سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ٹوکا اور پھرکچھ دیر سوچا ۔ہمم۔ چل ٹھیک ہے۔ آ جانا بھاگ لوں گی تیرے ساتھ ۔دن کو یا رات کو؟؟؟؟احسان جتلانے والے انداز میں پوچھا گیا…اووہ۔ تو سچ کہہ رہی ہے؟؟؟؟مجھے یقین نہیں آ رہا۔ہاں سچ کہہ رہی ہوں بالکل۔۔۔افف صاحبہ دل خوش کر دیا میرا قسم سے۔ دیکھنا چار پانچ ماہ بعد گاؤں آکر سب سے معافی مانگ لیں گے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہمیشہ ہمیشہ خوش رکھوں گا۔تجھے معلوم ہے زندگی کی نوید سنا دی ہے تم نے۔ مجھے لگ رہا کہ میں پھر سے جی اٹھا ہوں۔ میری راتوں کی نیند۔۔۔صاحبہ سن رہی ہو نا؟؟؟آ ہاں۔ہاں سن رہی۔۔صاحبہ نے گہری سوچ سے چونکتے اثبات میں سر ہلایا۔۔ چل بس یہ دعا کرنا جو میں سوچ رہی اس کا انجام اچھا ہو۔فکر نہ کر صاحبہ میں تیرے ساتھ ہوں۔اچھا چل بائے۔ لالہ اٹھ گیا شاید۔کل رات بارہ بجے اوکے؟؟ بائے۔۔.ارے سن تو میں۔۔۔۔صاحبہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کال کاٹ کر فون تکیے کے نیچے چھپا دیا۔۔رات کی چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ٹھیک بارہ بجے کا وقت تھا۔ دور پہاڑوں کہ پیچھے گیدڑ چلا رہے تھے۔ ایک لمحے کہ لیے صاحبہ کا دل خوف سے لرزا۔ مگر تھی تو بہادر بھائیوں کی بہن ۔ مضبوطی سے پاؤں جماتی چلتی گئی۔اور چوکھٹ عبور کر گئی۔ مرزا وقت سے پہلے ہی گلی میں پہنچا ہوا تھا۔ صاحبہ جلدی سے بے خوف اس کے قریب گئی۔ مرزا نے فرط جذبات سے مغلوب ہوکر ہاتھ تھام لیا۔مجھے یقین نہیں آرہا تو واقعی آ گئی ہے۔ہاں ہاں آ گئی ہوں۔ یقین کیوں نہیں آرہا۔ چل اب جلدی سے بھاگیں۔ کوئی آ نہ جائے۔ہاں ٹھیک بولا۔ جلدی سے بیٹھو گاڑی میں۔کیا مطلب؟؟؟تو نے بولا تھا کہ بھاگے گا۔۔ہاں ہاں۔تو کر تو دیا ہے وعدہ پورا ٹائم سے پہلے آیا ہوں۔مرزا حیران و پریشان ہو کر بولا۔دیکھ مرزا! میں تیرے ساتھ بھاگنے کے وعدے سے آئی ہوں تو اس لیے تو بس بھگائے گا ہی۔دیکھو، ہمیں شہر جانا ہے پلیز میرے ساتھ چل کے گاڑی میں بیٹھو۔مرزا نے ضبط کی حد کو چھوتے ہوئے کہا۔کیوں؟ کیوں بیٹھوں تیرے ساتھ میں گاڑی میں؟؟سچی سچی بتا تیری دوڑ نہیں ہے نا اسی لیے نہیں بھاگ رہا میرے ساتھ۔ہاہا۔۔۔۔منہ پہ ہاتھ رکھے وہ زور سے ہنسہ اففف! تو پاگل تو نہیں ہو گئی کہیں؟؟میں بھی کہوں کہ اتنی آسانی سے مانی کیسے ۔ دیکھ اگر بھاگے تو سب جاگ کہ ہمارے پیچھے آ جائیں گے۔ تیرے بھائی تجھے بھی مار ڈالیں گے اور مجھے بھی۔ او ہو۔ چل میں تجھے بتاتی ہوں۔غور سے سن۔۔۔میں تیرے ساتھ بھاگنے نہیں آئی بلکہ یہ کہنے آئی ہوں کہ اگر تاریخ بھول گیا ہے تو ایک دفعہ پھر کھول کہ پڑھ لے۔ صاحبہ نے کل بھی بھائیوں پہ محبت قربان کی۔ صاحبہ آج بھی بھائیوں پہ محبت قربان کرتی ہے۔تو نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تیرے ساتھ بھاگنے آئی ہوں۔یہ پکڑ اپنی ساری امانتیں۔ماں باپ تو سر پہ ہیں نہیں مگر بھائیوں کی پگ تو ہے نہ۔مجھے اس کی لاج رکھنی ہے۔ آج سے تیرا اور میرا راستہ جدا۔اور میرے راستے میں آئندہ مت آنا۔ میری زندگی کا فیصلہ میرے بھائی کریں گے۔ میں آج تیری محبت سے دستبردار ہوتی ہوں۔صاحبہ کے الفاظ تھے کہ پگلا ہوا سیسہ۔ مرزا منجمد کھڑا رہ گیا۔سانس روکے منہ کھولے۔ وہ یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ بولنے کی خواہش میں لب پھرپھڑا کر رہ گئے۔صاحبہ جھٹکے سے مڑی مگردل اچھل کے حلق میں آ گیا۔پیچھے سارے بھائی بندوق تانے کھڑے تھے۔.خان شمیر کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔تیری ہمت کیسے ہو ئی ہماری بہن کو ورغلانے کی۔ تیری تو۔۔۔خان شمیر رک جا۔بڑے لالے کی چنگارتی آواز نے خان شمیر کہ پاؤں روک دیئیوہ آہستگی سے چلتے ہوئے صاحبہ کہ قریب پہنچے۔ ۔۔خان میر کا بھی خون کھولا تھا جب صاحبہ نے دہلیز پار کی۔وہ تب سے تاک میں تھے۔جب وہ گلی میں پہنچ چکے تو سب کو جگا کر آہستگی سے پیچھے چلے آئے کہ ان کا خون کس حد تک جا سکتا ہے۔مگر پھر صاحبہ کی باتوں نے فخر سے گردن بلند کر دی۔ صاحبہ کے حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔ فکر تھی تو مرزا کی کہ کہیں اسے کچھ ہو گیا تو۔۔۔نہیں اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔صاحبزادی(صاحبہ)! خان میر(بڑے بھائی)کی آواز نے سب کو چوکنا کر دیا۔لالہ۔مم۔ مم۔میں۔۔۔ نہیں تو اب کچھ بھی نہ بول صاحبزادی۔ میں تیرا بڑا بھائی ہوں، ماں بھی، باپ بھی۔تو نے کبھی دل کی بات کیوں نہیں کی میرے ساتھ۔اور یہ قدم اگر تو اٹھا لیتی تو سوچ تیرے بھائی کیسے سر اٹھا کر جیتے۔۔ نہیں لالہ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔مم۔مجھے معاف کر دیں۔میں بھاگنے نہیں آئی تھی بلکہ۔۔۔۔۔ اچھا۔ چل رو مت جھلیے۔۔ تو نے بھائیوں کو اتنا پتھر دل کیسے سمجھ لیا۔تیری خوشی ہماری خوشی ہے اور تو۔۔۔۔انھوں نے گردن اٹھا کر مرزا کی طرف دیکھابڑا مرزا جٹ کہلواتا پھرتا ہے خود کو۔ یہ چڑیا جتنا تو دل ہے تیرا۔ مرزا جٹ عرف سمیر نے گڑبڑا کہ سر اٹھایا اور پھر جھکا لیا۔ بولا پھر بھی نہ گیاسر اٹھا اور جلدی سے گھر جا شاباش۔تیری ایک عادت ہمارے دل کو لگی تو فرمانبردار ہے۔اور تجھ سے اچھا خیال ہماری بہن کا کوئی نہیں رکھے گا۔باپ کو کہنا کہ ہم نہر والی زمین کے مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کر لیں گے۔بول منظور ہے۔جج۔۔ جج۔جی۔ جی۔۔۔اور اس دفعہ اکیلا آیا تو۔۔نن۔۔نن۔۔.نہیں۔ ابے ۔مم۔میرا مطلب ابو کو ساتھ لے کر آؤں گا۔۔۔صاحبہ نے بمشکل ہنسی ضبط کی۔خان شمیر اور باقی سب اس فیصلے سے نیم رضامند سے جمائیاں لیتے اندر چلے گئے۔۔خان میر بھی بہن کو اپنے پیچھے اندر آنے کا کہہ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔صاحبہ سر جھکاتے اندر کی طرف چل پڑی۔مگر پیچھے مڑ کر وکٹری کا نشان دکھانا نہ بھولی۔ لبوں پہ شریر سی مسکراہٹ تھی۔ سمیر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ ایسا کیوں کیا صاحبزادی نے۔ مگر پھر یک دم گھوما۔یہ۔یہ۔ یہ تیرا پلان تھا صاحبہ۔ اففف۔تم نے اتنا بڑا رسک کیسے لیا۔ او میرے خدا۔سمیر کا دل عش عش کر اٹھا۔ ایسے ہی تو یہ دل نہیں پاگل تیرے پیچھے صاحبہ۔ خوبصورت مسکراہٹ لیے وہ گھر کی طرف چلا گیا۔صاحبہ نے اپنے بھائیوں کے مزاج کے مطابق انھیں استعمال کیا اور سب کچھ اپنے پلان کہ مطابق کیا۔اسے پتا تھا کہ لالہ ساری باتیں سن رہے ہیں اور مایوس کبھی نہیں کریں گے۔ صاحبہ نے محبت پانے کے ساتھ ساتھ سارے رشتوں کو بھی ملا دیا۔ پچھلے پہر کا تارہ یہ سارا منظر دیکھ کر تیز چمکا گویا کھلکھلایا ہو۔۔
ختم شد۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com