جھاڑو جھاڑ کھنڈوی(افسانہ) :::: غلام ابن سلطان

جھاڑو جھاڑ کھنڈوی(افسانہ)
غلام ابن سلطان

آنجہانی سوامی جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کو بھی سُوکھی گنگا میں بے ڈھنگی دھمال ڈالنے والے ابن الوقت لوگوں نے بُھلا دیا ۔بُزدلی میں یکتا اس بُز اخفش کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ چُوہے اور چمگادڑ کو دیکھ کر خوف کے مارے اِس کی گھگھی بندھ جاتی تھی ۔ زندگی بھر مہا کالی دیوی کے چرنوں میں بیٹھ کر سازِ ہستی پر سر دُھننے والا،اپنا من اور تر دامن کالا کرنے کے بعد اجل کے ہاتھوں وہاں جا پہنا جہاں کوئی اس کی فغاں سننے والا نہیں۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی جنم بھومی بھارت کی مشرقی ریاست جھاڑ کھنڈ تھی ۔رانچی کے نواحی علاقے میں واقع بے آب و گیاہ صحرائی علاقے میں میلوں تک خود رو سر کنڈے اُگتے ہیں۔ یہ علاقہ کریروں ، جنڈ ،جال ،جوانہہ ،لیہہ ،پوہلی، پُٹھ کنڈا،کانگیہاری،لیدھا،حنظل ،زقوم ،پیلی بُوٹی اور تھوہر کے لیے مشہور ہے ۔کریروں پر لگنے والے ڈیہلے اور جال پر لگنے والی پِیلوں کو تو اس علاقے کی سوغات سمجھا جاتا ہے ۔اسی علاقے میں جھاڑو جھاڑ کھنڈوی پروان چڑھا اور فطرت نے اس زقوم کی اس انداز سے تھوہر بندی کی کہ اس ابلہ کی خِست کو جان کر سب احباب کی جان لبوں پر آ جاتی ۔سر کنڈے کی لمبی سر سے جھاڑو تیار کرکے بیچنا اس خاندان کا آبائی اور مادری پیشہ تھا۔بعض لوگوں کا غیر محتاط خیال ہے کہ جاروب کش پکھی واس خانہ بدوشوں کے اس فاقہ کش خاندان کا شجرہ نسب تسمہ کش ہلاکوخان سے ملتا ہے ۔ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی زندگی بھر ستم کشِ سفر رہا مگر کشمکشِ روزگار سے کبھی ہراساں و پشیماں نہ ہوا۔اپنا غم غلط کرنے کے لیے یہ جاروب کش منشیات سے بھری ہوئی سگریٹ کے لمبے کش لگا کر کشا کشِ زیست سے چند لمحوں کے لیے کنارہ کش ہو جاتا اور خیابان ہستی میں آوارہ خرامی کے دوران میں اپنے پیرہن سے رہ گزر کی دُھول کی جھاڑ پھونک کے دل کش مناظر میں کھو جاتا۔رانچی اور ناگ پور کے درمیانی علاقے میں واقع صحرا میں جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے خاندان نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یہ ریا کار قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کہ پروردہ تھے اور ان کا شمار کوریا کٹنگ اور چائنا کٹنگ کے بنیاد گزاروں اور صید شماروں میں ہوتا تھا ۔ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے خاندان کے لوگ جس گوٹھ و گراں کا رخ کرتے وہاں ان کی لُوٹ مار کے باعث لکشمی دیوی کی جھاڑ و پِھر جاتی۔ سو پشت سے ذلت،تخریب،نحوست،بے برکتی،بے توفیقی ،بے غیرتی اور بے حیائی اس خاندان کی آبائی میراث رہی۔دنیا بھر کے ٹھگوں اور منشیات فروشوں سے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے اچھوت خاندان کے اچھے اور قریبی مراسم رہے۔جھاڑ و جھاڑ کھنڈوی کی ظاہری شکل و صورت اور چال ڈھال بھی اس کے لیے ایک وبال بن گئی۔پستہ قد،بڑی سی توند،گنجی کھوپڑی،فربہ جسم ، گدھے کی طرح لمبے مگر کچے کان،گز بھر کی زبان،طوطے کی چونچ جیسی ناک جسے دیکھ کر سب اس کے خطر ناک ہونے کا یقین کر لیتے ۔اس کی طوطا چشمی نے ہزاروں لوگوں کو چرکے لگائے مگر اس نے سدا مرغن غذاؤں کے تڑکے لگائے اور جی بھی کے مے گل فام کے جام لنڈھائے۔گنجی کھوپڑی پر جامن کے رنگ کے بڑے بڑے داغ اس زاغ کے سر کو انتہائی بد وضع بنا دیتے تھے۔اس کی بد لباسی دیکھ کر یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نفاست،جمالیات او ذوق سلیم سے اس کا کبھی دُور کا تعلق بھی نہیں رہا۔میل کچیل سے اس کا جسم و پیرہن چیکٹ رہتا تھا جس پر ہر وقت بے شمار مکھیاں بھنبھناتی رہتی تھیں ۔اسی وجہ سے اس مہا مسخرے کے لباس اور جسم کی رنگت یکساں ہو گئی اور لوگ اسے مگسی رنگ کا نام دیتے تھے ۔جب یہ سٹھیا گیا تو بُڑھاپے کی کہولت کے باعث اُسے اپنے شکار پر جُھک کر جھپٹنے میں سہولت رہتی تھی۔اکثر مُردوں سے شرط باندھ کر گھوڑے بیچ کر لمبی تان کر سوتا اور اس طرح خراٹے لیتا جیسے پرانا ٹریکٹر چل رہا ہو ۔ جب یہ متفنی محوخرام ہوتا تو لوگوں کا جینا حرام ہوتا ۔وہ جس طر ف قدم اُٹھاتا گرد و نواح کے لوگوں کی لعنت ،ملامت اور طعن وتشنیع کو اپنا ہم رکاب پاتا۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی سدا کفن پھاڑ کر یہ صدا لگا تا کہ ہر قریہ اورگوٹھ و گراں میں موجود ٹھگ،چور ،اُچکے،رجلے ،خجلے،تلنگے،بھگتے،بڑوے،مسخرے،شہدے اور لُچے اُن کے خاندان کے نمک خوردہ اور تربیت یافتہ ہیں۔ اس مہا مسخرے کوسُر تال اور رقص و سرود سے سطحی دلچسپی تھی ۔اپنی عیاشی اور بد معاشی کے وبال سے اس ننگِ انسانیت درندے نے شرم و حیا اور اخلاق سے وابستہ اقدار کو پاتال میں پہنچا دیا۔ اس کی ڈھٹائی ،بے حیائی ،بے شرمی ،بے ضمیری اور بے غیرتی حد سے اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ اکثر یہ بات بڑے فخر سے بتاتا کہ اپنی نوے سالہ حیات رائیگاں میں اس نے جنس و جنوں ،حسن و رومان اور وصل کے پیمان کی چھے سنچریاں مکمل کی ہیں۔وہ اس بات پر بھی اصرار کرتا تھا کہ کے اس کے قحبہ خانے ،چنڈو خانے ،عقوبت خانے اور بُوم گھر سے ایک لاکھ سے زائد افراد نے حظ اُٹھایا۔وہ راز دارانہ انداز میں بتاتا کہ پورے ہند سندھ میں اس کی دس ہزار سے زائد جیتی جاگتی نشانیاں موجود ہیں جو اس کے بے کراں جنسی جنون کی جو لانیاں اور بیتے شباب کی کہانیاں سمجھی جاتی ہیں ۔ 
تھالی کے بینگن اور دیدے ہوائی رکھنے والاہر عطائی اورقصائی جب اِس کی ہئیت کذائی دیکھتا اور اِس کی ہرزہ سرائی سنتا تو اش اش کر اُٹھتا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کسی صورت میں اسے منھ نہ لگاتے اور اس کی خرافات سُن کر اسے لگام ڈالنے کی کوشش کرتے مگر یہ چکنا گھڑا نہایت ڈھٹائی سے بغلیں جھانکنے لگتا اورگالیاں سُن کر بھی ہنہنانے لگتا۔جھاڑ وجھاڑ کھنڈوی کے خاندان کی خوشامد،چاپلوسی اور موقع پرستی پر مبنی اطاعت سے متاثر ہو کربہلول لودھی نے سال1451میں اس خاندان کے سر براہ کو شاہی اصطبل ،فِیل خانے ،مویشی خانے اور بُوم گھر کا کلید اور لِید بردار مقرر کیا۔پانی پت کی پہلی لڑائی میں 21۔اپریل 1526کو جب مغل مہم جُو ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی کی بُزدل فوج کوشکست فاش دی تو جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے ابن الوقت اور سداچڑھتے سورج کی پر ستش کرنے والے خاندان نے گرگٹ کے مانند رنگ بدلااور نئے فاتح کا ہم نوا بن کر کاسۂ گدائی تھام کر قصر شاہی کے دروازے پر صدا لگائی ۔ پانی پت کے میدان میں مغل سپاہیوں کے تیروں اورتلواروں سے چھلنی ہونے والے نا اہل حاکم ابراہیم لودھی کی شکست خوردہ ایک لاکھ ٹدی دل فوج بیس ہزار لاشیں چھوڑ کر تتر بتر ہوگئی تو اس کے بعدجھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے اسلاف کے سیکڑوں افراد جن میں عورتیں اور مرد شامل تھے ہاتھوں میں جھاڑو تھامے میدان جنگ میں پہنچے اور جھاڑو جھکا کر فاتح حملہ آوروں کو سلامی دی اور میدان جنگ میں جھاڑو پھیرنے کے لیے اپنی بے لوث خدمات پیش کیں ۔ پانی پت کا میدانِ جنگ نااہل اور بے بصر حاکم ابراہیم لودھی کی اجل گرفتہ سپاہ کے بے گور و کفن لاشوں سے پٹ گیا ۔ان لرزہ خیز اور اعصاب شکن حالات میں ہزاروں کرگس ،زاغ و زغن اور سگانِ راہ نے میدان جنگ کا رخ کیا جہاں سے عفونت و سڑاند کے بھبھوکے اُٹھ رہے تھے۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے اسلاف نے ہتھیلی پر سرسوں جما دی اور ایک پہر کے اندر سب خون اور لاشیں ٹھکانے لگانے کے بعد میدان میں جھاڑو پھیر کر صفائی کر دی۔اس سے کٹھن کام سے فارغ ہونے کے بعد پانی کی مشکیں بھر بھر کرہر طرف چھڑکاؤ بھی کر دیا اور لوبان ، کافور اور ہرمل کی دُھونی دی جس سے بد بُو کا خاتمہ ہو گیا ۔حرص و ہوس اور جنس و جنوں کے اسیربے تاب اطاعت سے سر شار جاروب کش ٹولے کی صبر آزمامشقت سے اذیت ناک کثافت اورجان لیواعفونت کے یو ں عنقا ہونے پر فاتح مہم جُو ظہیر الدین بابر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔اس نے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے خاندان کے سر براہ کو ’’جاذب سڑاند و عفونت ‘‘کا خطاب دیا اور شاہی محل میں جاروب کشی اور بادہ کشی کا نگران مقرر کیا ۔ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ آئندہ شاہی خاندان کے علاوہ جو بھی ماحول کو آلودہ کرے اس کی مُشکیں کس کے دربار میں پیش کیا جائے تا کہ اسے زندہ دیوارِ اجل میں چنوا کر اُس کے حال اور مستقبل کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے۔ 
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی مکمل خاندانی حالات خرِ اوہام کی دولتیوں کی گرد اورنحوست و نجاست میں لتھڑی چمگادڑوں کے ضماد میں کچھ اس طرح اوجھل ہو گئے ہیں کہ تمام سراب خیال و خواب ہو گئے ہیں۔گُرگ آشتی کے رمز آشنا اِن اُچکوں کے بارے میں قدیم داستان گو ،افسانہ طراز اور قصہ گو یہ کہتے ہیں کہ جب مغل بادشاہ ہمایوں کے دور میں مخبوط الحواس اور فاتر العقل نظام سقہ نے دہلی میں مجنونانہ انداز میں حکومت کی باگ ڈور اور طوق و رسن سنبھال کر انتہائی دیدہ دلیری سے شقاوت آمیز ناانصا فیوں سے کام لیتے ہوئے بے بس و لاچا ر رعایا کے چام کے دام چلانے کا سلسلہ شروع کیا توجھاڑو جھاڑ کھنڈوی کا جد امجد ماڑو مارواڑی جسے اس زمانے میں راجستھان کے رسوائے زمانہ ٹھگ کہنہ مشق جاروب کش اور منحوس بھڑوے کی حیثیت سے نفرتوں اور حقارتوں کی کفش اندازی کا سامنا تھا ،وہ بھی جھاڑو تھامے قصرِ سقہ کے دروازے پر جا پہنچا۔اُس نے اپنی چرب زبانی سے نظام سقہ کو یقین دلایا کہ وہ رعایا کی املاک و میراث کا صفایا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے گا۔ اس کی یاوہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ بات بر ملا کہتا تھا کہ کسی خانوادے کو آڑو سے شناسائی ہو یا نہ ہو مگر وہاں ماڑو جیسے جھاڑو بردار تاڑو کی موجودگی نا گزیر ہے ۔ ماڑو مارواڑی کو نظام سقہ نے جاروبِ مملکت کے عتاب سے پاؤں دراز کیا ۔نظام سقہ کا معمول تھا کہ جب وہ کسی سے خوش ہوتا تو اسے کسی مروجہ خطاب سے سرفراز کرنے کے بجائے سقہ شاہی کے عتاب سے پاؤں دراز کرتا تھا ۔عتاب سے پاؤں دراز کرنے کی تقریب قصرِ سقہ میں منعقد ہوتی جہاں نظام سقہ ٹُھڈے مار مار کر زیر عتا ب آنے والے مُرغانِ بادنما کا بُھر کس نکال دیتا۔انعام کی ہوس میں مبتلا ابن الوقت حریص اس جُوتم پیزار اور ٹُھڈوں کی مار کھا کر بھی دِل بُرا نہ کرتے اور وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے اور نشے دھت آمر کے سب کس بل نکال دیتے ۔ان سفلہ حریصوں اور خسیسوں کی محسن کُشی، بے حسی ،بے ضمیری اور بے غیرتی کا اعتراف کرتے ہوئے نظام سقہ کے اشارے پر لٹھ بردار ،چوب دار اورخدمت گار انھیں کچھ رقم زادِ راہ دے کر انھیں چلتا کرتے ۔اس قدر ذلت و تخریب کے باوجود سیکڑوں گردن گدازانِ جہاں نظام سقہ کے درِ عسرت پر پہنچتے اور وہ خبطی جنسی جنونی پیہم عتاب سے پاؤں دراز کرنے کا سلسلہ جاری رکھتا۔قصر سقہ میں اِ س عادی فریب کار جاروب کش خاندان کی پانچوں گھی میں تھیں ۔ اس عرصے میں خلیل خان کو تو فاختہ اُڑانے سے فرصت نہ تھی مگر جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے خاندان کے لوگوں نے خوب گُل چھرے اُڑائے۔ ان جاروب کشوں کی نو جوان اور حسین و جمیل عورتیں تو قصرِ سقہ میں شہزادوں اور سلاطین سے مل کر داد عیش دیتیں اور یوں نسل کَشی کا سلسلہ جاری رہتا جب کہ اِن کے مر د اپنے سو پشت کے آبائی پیشے جاروب کشی میں مصروف رہتے اور شہر بھر کے کُتے گھسیٹتے تھے۔ معاشرے کے حساس اور دردمند لوگ اس جاروب کش خاندان کی بد اعمالیوں اور گھناونے جرائم کے الزامات پر ان بھڑووں ،مسخروں اور طوائفوں کو مطعون کرتے مگر یہ ملعون و مردود چکنے گھڑے ان سب الزامات کو مبہم قرار دے کر ان کو لائق استرداد قرار دیتے اور حقائق سے فرار کی کوئی راہ تلاش کر لیتے ۔ 
جھاڑو کوجھاڑ کھنڈوی کی نام نہاد بہادری اور مہم جوئی کے متعدد واقعات زبان زدِعام ہیں ۔ کئی ستم ظریف اسے ہٹلر کا ہم پلہ قرار دیتے مگر اُس نے اُجڈ لوگو ں کی ہٹ دھرمی کے سامنے سپرانداز ہونے سے انکار کر دیااور کہا : 
’’ یہ ہٹلر کیا ہوتا ہے؟ اصل لفظ ہے ’’ہٹ ۔۔لڑ ‘‘ ۔اصل معاملہ یوں ہے کہ جب میراعہدِ جوانی تھا تو میں نے ایک جرمن پہلوان سے مبارزت طلبی پہ کہا،’’چل! ہٹ ۔۔۔ لڑ۔‘‘ یعنی پہلی بار جب میں نے اس لاغرو ناتواں جرمن پہلوان کو پچھاڑ دیا تو اسے تنگ دِلی سے بادلِ نا خواستہ رعایت دی اور کہا اب پھر سے ہٹ کر مجھ سے لڑ ‘‘ وہ جانہارجرمن پہلوان اس قد ر کھسیانا اور مرعوب ہوا کہ میرے راستے سے ہٹ گیااورمیرے ساتھ لڑنے کا ارادہ تر ک کر کے دم دبا کر بھاگ نکلا ۔ ’’ یہ ہے ’’ ہٹ۔ لڑ ‘‘کی داستان جسے کم فہم لوگوں کی کو ر مغزی اور بے بصری نے ہٹلر بنا رکھا ہے ۔‘‘
اپنے مشکوک نسب اور قبیح خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے ایک مرتبہ کہا:’’یہ قریب قریب پانچ سو سال پہلے کا واقعہ ہے جب موزنبیق (افریقہ) سے تعلق رکھنے والے میرے خاندان کے متعدد نو نہالوں نے سبز باغ دکھانے پر واسکوڈے گاما کے شانہ بہ شانہ بر صغیر میں اپنے سبز قدم رکھے۔ ہمارے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ کالی زبان والے حریفوں نے ان طالع آزما اور مہم جُو نو نہالوں کو کالی کٹ میں دھر لیا اور حبسِ بے جا کا الزام ناحق ا پنے سر لیا ۔ہمارے کچھ ساتھی کالام، کالا گجراں، کالا پانی اور باقی کالا باغ جا پہنچے ۔اپنی افریقی جنم بھومی (موزنبیق) کے حوالے سے ہمارے خاندان کے افراد مُوذی کہلاتے ہیں۔ہم نے سدا سادہ زندگی بسر کی مگر جنس و جنوں میں سادیت پسندی ہی ہماری پہچان بن گئی ۔ اپنے نام کا کتبہ اپنی کتابوں کے مخطوطوں کی صورت میں لکھ چکا ہوں ۔توقع ہے کہ میرے بعد لوگ مجھے پہچان سکیں گے۔میں نے میکاولی اور مارکیوس ڈی ساد کے بارے میں سُن رکھا ہے ۔میری کتابوں کے مخطوطوں میں جنس و جنوں کے یہ دونوں آ بلہ پا پُوری شدت اور حدت سے شعلہ بار ہیں۔ میکارتھی ،میکاولی اور ما رکیوس ڈی ساد کے خیالات سے استفادہ کرنے کی وجہ سے میری طبیعت میں با غیانہ عنصر کا غلبہ ہو گیا یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ مجھے مکار کہہ کر پکارتے ہیں جب کہ میری آبائی جنم بھومی کے حوالے سے مُوذی بھی میری پہچان رہی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ذلت و تحریب کے یہ دونوں نو شتے اب میری شناخت بن چُکے ہیں ۔ اب تو ہر شخص کی زبان پر یہی نعرہ ہے کہ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی ایسا مُوذی و مکار ہے جو سب رِندوں کا یارِ طرح دار ہے اور خرِ تخریب کا شہ سوار ہے ۔ دو من کے قریب کا غذات پر محفوظ میری کتابوں کے جو مخطوطے کرمک،مُور اور دیمک کے جبڑوں میں ہیں اُن میں میری خود نوشت آ پ بیتی ’’جھاڑو ،جھاڑن اور جھاڑ جھنکار ‘‘کے علاوہ غافل لوگوں کے خاکوں کی کتاب ’’مُردوں سے شرط باندھ کر سونے والے‘‘، عیاش امرا کے اللے تللے اور جنس و جنوں کے افسانے’’ خواب گاہ اور خوابِ خرگوش کا نشہ‘‘، ہوائے جورو ستم میں جفا کی آتش دہکانے والوں کی کہانیاں ’’عقوبت و ایذا کی جفااور کوہِ ندا‘‘ مافوق الفطرت داستانوں کا مجموعہ ’’یا جوج ماجوج کی دیوار کے سائے ‘‘ اور ’’ کُھل رہا ہے ساتواں در ‘‘شامل ہیں۔
اپنی حماقت کے باوجودنشے میں دھت جھلا جھکیار یہ باتیں پوری توجہ اور انہماک سے سن رہا تھا ۔اس نے تلملا کر کہا ’’کیا تمھاری زندگی میں کوئی کتاب چَھپ سکی یا یہ سب مخطوطے گم نامی کی گرد میں چُھپ گئے؟ ان دنوں ردی کے بھاؤ میں تیزی کا رجحان ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بھاری بھرکم مخطوطے نتھو کباڑئیے کو بیچ دئیے جاتے ۔اس طر ح ہونے والی رقم سیرقصِ مے کی روانی جاری رہتی۔‘‘ 
یہ سنتے ہی جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے اپنی آ ستین سے اپنی بہتی ہوئی ناک صاف کی اور غرایا’’ میں ریگِ صحرا پر نوشتہ بد اندیشی کی ایسی تحریر ہوں جسے رخشِ زیست کی ٹاپوں کی گرد نے مٹا ڈالا ہے ۔میرے سامنے نتھو کباڑئیے کا نام بھی نہ لو۔وہ تو مُردوں کی اشیا کی منڈی کا بیوپاری ہے اور یہ سُود خور مہاجن مرنے والے لوگوں کے زیر استعمال اشیا کو اونے پونے دام ہتھیا لیتا ہے ۔میری کتابوں کے یہ مسودے میرے نام اور کام کے کتبے سمجھو۔جن لوگوں نے مجھے سے ملاقات نہیں کی اورمیری کتابوں کے مسودے اور مخطوطے نہیں دیکھے وہ ان کتبوں کو دیکھ عبرت حاصل کریں گے۔‘‘
شکار سے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کو بہت دلچسپی تھی مگر جدید اسلحہ سے وہ زندگی بھربے نیاز رہا۔ ایک مرتبہ اس نے بہت سے غلے اپنی جیب میں ڈالے اور گلے میں غلیل ڈال کر تنہا صحراکی جانب چل دیا۔ اس کے شریکِ حماقت مہا مسخروں زاہدو لُدھڑ اور آسو بقال نے اس نا ہنجار کی ہئیتِ کذائی دیکھ کر عزمِ سفر کے بارے میں پوچھا تو جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کہنے لگا۔ ’’ دریا کے کنارے واقع جنگل بیاباں میں ایک آدم خور شیر نے علاقے کے مکینوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ سادہ لوح لوگ اس درندے کو مُوذی و مکار کہتے ہیں ۔حال آ ں کہ دنیا جانتی ہے کہ ا س وقت صر ف میں ہی ’’مُوذی و مکار‘‘ ہوں ۔ میں اپنی اقلیمِ خر مستی میں درندے کی سر مستی اور چیرہ دستی کو کیسے گوارا کر سکتا ہوں ؟میں نے سوچا آج اس آدم خور شیر کو ہر حال میں اپنی اِس غلیل کانشانہ بنا کے دم لوں گا۔‘‘
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی چاروں بیویاں ظلو،صبوحی،روبی اور شعاع جو گلی کوچوں میں جاروب کشی کے کام کے ساتھ ساتھ قحبہ خانے کی زینت بھی تھیں وہ بھی اس بھڑوے کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا تھیں ۔نائکہ پُونم ،خانگی فوذی اور زناخی تمنا نے معاملے کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی بے لگام خر مستی تھی کہ کسی طرح بھی تھمنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔
اس کا معتمد ساتھی اور ہم نوالہ و ہم پیالہ شریک جرم عادی دروغ گوجھلا جھکیار بولا ’’ اس وقت اپنی چاروں بیویاں کا کچھ خیال کرو جو کاغذی پیرہن میں ملبوس نقشِ فریادی بنی ہوئی ہیں۔اس کڑے وقت میں میرے ساتھ آسو بلا ،زادو لُدھیک،گھونسہ بیابانی، رنگو رذیل اور کرموں بھٹیارا تمھاری بیویوں کی طرف سے یہ التجا لے کر آ ئے ہیں کہ اپنی جان پر ترس کھاؤ اور شیر افگنی کے احمقانہ خیا ل سے باز آ جاؤ۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اس وقت نحوست و نجاست، ذلت و تخریب اور خست و خجالت کی اقلیم کے تم ہی بِلا شِرکتِ غیرے کفش بردار ہو مگر شیر جنگل کا بادشاہ ہے اور انتہائی طاقت ور درندہ ہے۔تمھاری طرح شیر کی کھال بھی بے حد موٹی ہوتی ہے غلیل کا بڑا غُلہ بھی اس کی موٹی کھال کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ ‘‘ 
’’ ثابت ہوا کہ میری طوائف بیویوں کی ہم نوائی کرنے والے سب کے سب واقعی ذہنی قلاش اور فہم و ادراک سے تہی ہیں۔ ان طوائفوں نے زندگی بھر تم سب کو جی بھر کر لُوٹا اور کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیااب تمھاری سوچ پر بھی جھاڑو پھیر دی ہے ‘‘جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے اپنی باچھوں سے بہنے والے متعفن لعاب کو اپنے دامن سے صاف کرتے ہوئے کہا’’میری سب بیویاں جسم فروش رذیل طوائفیں ہیں جو یہ نہیں جانتیں کہ جب کبھی بُھولے سے مجھ جیسے بھڑوے کی کر گس اور شِپر جیسی آ نکھ کھلتی ہے تو بُزدلی اور ہوش کے در فوراً بند ہو جاتے ہیں اور ساتواں درخود بہ خود کُھل جاتا ہے۔میرا منصوبہ یہ ہے کہ جنگل میں پہنچ کرمیں فوراًکسی اونچے درخت پر چڑھ جاؤں گا اور اس درخت کی بلند چوٹی پر مچان بنا کر بیٹھ جاؤں گا۔ میرے جسم سے نکلنے والی عفونت و سڑاند کے بھبھوکوں کو سُونگھ کرجوں ہی اجل گرفتہ آدم خورشیر اس درخت کی سمت بڑھے گا میں خون آشام درندے کی شعلہ بارآنکھوں کا نشانہ لوں گااوراپنی غلیل کے غلوں کے پے در پے نشانوں سے اس کی آ نکھوں کے ڈیلے کِرچی کِرچی ،سر کو زخم زخم اور جسم کو داغ داغ کر دوں گا۔اس کے بعد میں درخت سے جست لگا کر اندھے شیر کی پِیٹھ پرسوار ہو کر اُسے لاٹھی سے ہانکتا ہوا پتھر کے زمانے کے حالات کی عکاسی مرنے والے اپنے آبائی گاؤں میں لاؤں گا۔اس اندھے شیر کو اپنے ہل کی پنجالی میں جوت کر کھیتوں میں شیر کے ہل چلا کر سب کو حیران کر دوں گا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے اس علاقے میں گدھوں کے ہل پھرتے چلے آ ئے ہیں جب یہاں شیر کے ہل پھریں گے تو سب کو دِن کے اُجالے میں تارے دکھائی دیں گے اور سب کو جان کے لالے پڑ جائیں گے ۔یہ دِن دیکھنے والوں کو نہ صرف چھٹی کا دودھ یا دآ جائے گابل کہ اس عالمِ جبر میں انھیں نانی کی یاد بھی بُری طرح ستانے لگے گی۔‘‘
اپنی فرضی قوت اور جعلی ہیبت کی موہوم دھاک بٹھانے کے خبط میں مبتلا یہ شخص ہر انتہا تک پہنچنے کی سعئ مذموم کرتا تھا۔واقفِ حال لوگوں کا کہنا ہے کہ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کا شکم مرغ کے سنگ دان کے مانند تھا جو چیز بھی اس کے طعام کی صورت میں اس کے شکم میں پہنچتی وہ آناً فاناًہضم اور بھسم ہو جاتی۔یہاں تک کہ گالیاں کھانے پر بھی اس کا پیٹ نہ بھرتا تھا ۔زبان و بیان پر منھ مارنا جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کا وتیرہ تھا ۔خاص طور پر لسانیات میں روزمرہ ،محاورات اور تراکیب پر مشقِ ستم اس متفنی متشاعر کا معمول تھا ۔ایک بار جھلا جھکیار نے اپنے اس دیرینہ ساتھی سے بڑی رازداری سے کہا :
’’ نا اہلِ زبان لوگوں کی زبانی یہ جملہ اکثر سننے میں آیا ہے کہ ’’خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘‘ طوفانِ باد و باراں میںآسمان کے رنگ بدلنے کی بات تو سمجھ میں آ تی ہے مگر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ موسمی فواقہ، اثمار اور سبزیاں جو حواسِ خمسہ سے محروم ہیں کس طرح دیکھ کر رنگ بدل سکتے ہیں۔‘‘
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے اپنی مغز سے تہی گنجی کھوپڑی کو کُھجاتے ہوئے کہا ’’میں ہر زبان کی راہ کا روڑا ہوں مجھ سے زیادہ کون اس بارے میں جانتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اصل محاورہ یوں ہے ’’خر بُوزنے کو دیکھ کر خر بُوزنہ رنگ پکڑتا ہے ۔‘‘ہر شخص جانتا ہے کہ گدھے کو خر کہتے ہیں جب کہ لنگور کو بُوزنہ کہا جاتا ہے ۔گدھے کی حماقت اور لنگو ر کی شرارت سے ہر شخص آ گاہ ہے ۔ ماہرین حیوانات کا خیال ہے کہ ہرگدھا اپنی بار برداری ،ناز برداری اور حماقت کی سرشت کے باوجود آموزش کا عمل جاری رکھتا ہے اور لنگور سے شرارتیں سیکھنے کی کوشش میں ہلکان ہوتا ہے ۔ہرایک خر کے دِل میں یہ خناس سماجاتا ہے کہ وہ جلد از جلد لنگور کے رنگ سیکھ کر اپنی اُچھل کُود سے سب دیکھنے والوں کو مسحور کر دے ۔یہ تو ایک طے شدہ اور مسلمہ بات ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ خر کی نظر بُوزنے پر رہتی اور خر جب بُوزنے کے ہر آن بدلتے رنگ ڈھنگ او ر آ ہنگ دیکھتا ہے توخر کے دِلِ ناکردہ کار میں بھی اپنے تئیں انھی رنگوں میں رنگنے کی تمنا سر اُٹھانے لگتی ہے ۔ اس مشغلے کے دوران میں اس کی حرص و ہوس اور حسد سے لبریز مشقت تب ٹھکانے لگتی ہے جب وہ مثلِ گرگٹ رنگ بدلنے میں مہارت حاصل کر کے اپنے بدلے ہوئے رنگ کے ساتھ بُوزنہ کو دولتی مار کر آنکھیں دِکھاتا ہے اور دجال کے خر کے مانند ہنہناتا ہے ۔‘‘
ظالم و سفاک ،موذی و مکار جھاڑو جھاڑ کھنڈوی اپنے قبیح کردار کے اعتبار سے ایک ما فیا تھا ۔ اپنے ساتا روہن کی بد اعمالیوں کے باعث وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگین نو عیت کے گھناونے جرائم کی ایسی دلدل میں دھنستا چلا گیاجس سے بچ نکلنا ممکن ہی نہ تھا ۔ فطرت کی انتہائی سخت تعزیریں اس کے تعاقب میں تھیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جھاڑو جھاڑ کھنڈوی سٹھیا گیا تھا اورہوش و حواس سے مکمل طور پر محروم ہو گیا تھا ۔اس اثنا میں اس نے یوگی سوامی ،جوگی ،جنم پتری کے ماہرعامل ،نجومی اور گرو کاسوانگ رچایا۔اس کی بیویاں جنھیں اب شہر میں مانگنے پر بھیک بھی نہ ملتی تھی وہ بھی اس خود ساختہ گُرو کے گورکھ دھندے اور سادہ لوح لوگوں سے دولت بٹونے کے مکروہ کام میں اس کی شریکِ جرم بن گئیں۔علاقے میں جہالت اور توہم پرستی حد سے بڑ ھ چُکی تھی ۔ناخواندہ لوگوں کی اندھی عقیدت کے باعث ان عیاروں کے عشرت کدے میں ہُن برسنے لگااور ہر طرف زرومال کے انبار لگ گئے ۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے ساتا روہن آسو،رنگو،کرموں ،زاہدو لُدھیک ،تارُو اور ماڑو نے جنگل کے قانون کے تحت دھرتی میں جو اندھیر مچا رکھا تھا ،اُس کی بنا پر وہ سب فطرت کی تعزیروں کے تحت عقوبتی شکنجوں میں پھنس گئے ۔ ایک رات چنڈو خانے اور قحبہ خانے میں بے تحاشا دیسی شراب پینے سے یہ سب ہلاک ہو گئے ۔ واقفِ حال لوگوں کا کہناتھا کہ یہ سب کچھ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی سازش تھی جس میں اس کی چاروں بیویاں بھی شامل تھیں۔یہ چھے خون آشام گدھ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی بیویوں کے جسم و جان اور زرومال کو نوچ کھانے میں ہمہ وقت لگے رہتے تھے ۔چھے بد معاشوں کے اس رسوائے زمانہ ٹولے کے زیر زمین چلے جانے سے اس طرح زمین کو بوجھ کچھ ہلکا ہو گیا۔ ان خطرناک لُٹیروں کی ہلاکت کے بعد جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی بیویوں کو کُھل کھیلنے کا موقع مِل گیا۔اب ناصف بقال اور زد خورو لُدھڑ کے راستے کے سب کانٹے ہٹ چُکے تھے ۔ تیسری دنیا کے غریب اور پس ماندہ ممالک میں جہاں زندگی آج بھی پتھر کے زمانے کا ماحول پیش کرتی ہے وہاں سانس گِن گِن کراپنی پُردرد زندگی کے دن پورے کرنے والے مفلس و قلاش سادہ لوح اور جاہل لوگ گردشِ ایام کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ معاشرے میں متعدد ٹھگ ،عامل،رمال، نجومی، شعبدہ باز، عطائی اور پینترے باز میں موجود ہوتے ہیں ۔قسمت سے محروم لوگ جب ان عیاروں کے ہتھے چڑھتے ہیں تو نہ صرف مال و منال بل کہ متاعِ حیات سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے باقی ماندہ شریک جرم ساتھیوں میں ناصف بقال اورزد خورو لُدھڑ کا شمار رسوائے زمانہ منشیات فروشوں ، جنسی جنونیوں ،بھتہ خوروں ، اُجرتی بد معاشوں،دہشت گردوں اور کرائے کے قاتلوں میں ہوتا تھا۔ان درندوں نے سیکڑوں گھر بے چراغ کر دئیے ۔ان کے بارے میں یہ رائے عام تھی کہ یہ سب ایسے پھٹے ہوئے ڈھول ہیں جن کی صدا دُور سے توسہانی معلوم ہوتی ہے مگر قریب سے جب یہی صد اسُنی جائے تو اِس سے کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ تینوں سفلہ ساتھی کلی من جارو (Kilimanjaro) کے افریقی سلسلۂ کوہ میں واقع تین خوابیدہ آتش فشاں دہانوں کے ما نندہیں جن سے ہر وقت آگ سُلگتی رہتی ہے اور اندر ہی اندر لاوا اُبلتا رہتا ہے ۔بہ ظاہر تو یہ تینوں خسیس بے ضرر دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی مثال اسی افریقی سلسلۂ کوہ کے نواحی علاقے کے ایک پُر اسرار خوش رنگ پھول کی سی ہے جو دُور سے تو انتہائی جاذ ب نظر دکھائی دیتا ہے مگر کسی جان دار کی آہٹ اور سانس کو محسوس کر کے فوراً خشک اور عفونت زدہ پتے میں بدل جاتا ہے ۔ سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا یہ ننگ انسانیت درندے لذتِ ایذا حاصل کرنے کے لیے درندگی کی ہر حد عبور کر جاتے تھے۔
عملیات اور جادو ٹونے کے ماہر کا سوانگ رچا کر جھاڑو جھاڑ کھنڈوی ،ناصف بقال اور زد خورو لُدھڑ نے بہت بڑی مقدار میں کالادھن کمایا ۔کئی بار زرو مال کی تقسیم کے سلسلے میں تنازعات نے سر اُٹھایا مگر جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے بے رحمانہ انتقام ،جبر ،کینہ پروری اور عقوبتی حربوں کے خوف سے معاملہ دب گیا ۔وقت کے بدلنے سے خیالات ،ترجیحات اور زندگی کے معمولات بھی بدل جاتے ہیں ۔جب جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے اعضا مضمحل ہو گئے اور عناصر کا اعتدال بھی عنقا ہو گیا تو اُس کی چاروں بیویوں نے اس پر تین حرف بھیجے اورجنسی تشنگی کی تسکین کی خاطر نئے تنو مند آ شنا بنا لیے ۔اس مقصد کے لیے ظلو اور صبو حی نے تو زد خورو لُدھڑکا ہاتھ تھا م لیا جب کہ رُوبی اور شعاع نے ناصف بقال سے پیمان وفا باندھا۔ساٹھ سال کی ایک سیاہ فام بیوہ خاکروب عورت جس کی جھاڑ جھاڑ کھنڈوی کی دولت پر حریصانہ نظر تھی حریفانہ میدان میں کُود پڑی۔اس رذیل جسم فروش اور آزمودہ کار کُٹنی حبشن طوائف نے اپنے انتہائی گھٹیا ذاتی مقاصد اور جنس و جنون کی ہوس کی تکمیل اور گنجِ قارون پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی خاطر عالمِ یاس و ہراس میں فالج اور رعشہ کے مرض میں مبتلانوے سالہ گنجے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کو اپنی سفید زلفوں کی چھاؤں میں پناہ دی۔ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی سر پرستی میں اس رسوائے زمانہ حبشن طوائف شباہت شمر کے ساتھ شریک جرم ہر نائکہ،خانگی،زناخی اور حرافہ نے زر ومال بٹورنا اپنا وتیرہ بنا رکھا تھا۔ان درندوں کی ایذا رسانیوں ،شقاوت آمیز نا انصافیوں ،جور و ستم اور دہشت گردی کے نتیجے میں بے بس و لاچار لوگوں کی عزت ،عصمت و عفت تاراج ہو گئی۔ ان کے جرائم سے انسانیت پر جو کوہِ ستم ٹُوٹا اس کے باعث بے شمار گھر بے چراغ ہو گئے اور مظلوم انسانوں کی زندگی کی سب رُتیں بے ثمر ہو گئیں۔
خالق کائنات کے ہاں دیر تو ہو سکتی ہے مگر نظام کائنات میں اندھیر کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔جھاڑ و جھاڑ کھنڈوی نے اب ایک ایسے عامل اور سادھو کا روپ دھار لیا تھا جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اس نے ہنو مان،کالی دیوی اور لکشمی دیوی کے چرنوں میں بیٹھ کر تپسیا کرنے سے گیان حاصل کیا تھا۔یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ لکشمی دیوی بھی اس پربہت مہر بان ہے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے بہت سے بُوم اور چُغد بھی پال رکھے تھے۔اس کے بُوم گھر میں سیاہ و سفید ہر قسم کے اُلّو بڑی تعداد میں بند تھے ۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے سیکڑوں چیلے، خون آشام گدھ اور زاغ و زغن کے مانند ہر وقت اس کے گرد منڈلاتے رہتے اور اس کے زر و مال ،خزینوں اور دفینوں کو حریصانہ نظر سے دیکھتے تھے۔ ان میں جو فروش گندم نما زد خورو لُدھڑ خطر ناک حد تک عیار تھا۔ جن دنوں جھاڑو جھاڑ کھنڈوی علیل تھا توزد خورو لُدھڑ کی بیوی،بہن اور بیٹی نے مستقل طور پر جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے عشرت کدے میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ایک شام زد خورو لُدھڑ نے اپنی طوائف اہلیہ سے کہا :
’’اب وقت آگیا ہے کہ سادھو جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کو زینۂ ہستی سے دھکا مار کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف دھکیل دیا جائے۔‘‘
’’تم سچ کہتے ہو ،اب اس کے عرصۂ حیات میں مزید اضافہ ناقابلِ برداشت ہے اوراب ہم اس کی ہلاکت کا مزید انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘زد خور و لُدھڑ کی اہلیہ، رذیل جسم فروش طوائف ظلو بِلو نے بُڑ بُڑاتے ہوئے کہا ’’جھلا جھاڑ کھنڈوی نے جب سے حبشن طوائف شباہت شمر سے شادی کی ہے ان کا سارا زرومال ہتھیانے کے ہمارے سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔اب تو عملیات،بُوم گھر ، قحبہ خانے اور چنڈو خانے کی آمدنی میں نہ صر ف شباہت شمر کا پلہ بھاری ہے بل کہ اس کا پاؤں بھی بھاری ہے ۔‘‘
’’ تف ہے تم پر کہ تم نے اس کی راہ کیوں نہ روکی ؟‘‘زد خورو لُدھڑ نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہا ’’ میری کوشش ہو گی کہ اس بُڈھے کھوسٹ کے گھر میں کسی خوشی کے ظہور سے پہلے ہی میں اس گھر میں غم و آلام کے بادل اُمڈ آ ئیں۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کا میں سب سے با اثر چیلہ ہوں ۔اُس کے بعد ہند سندھ میں سب لوگ مجھے اس کی نشانی اور جا نشین گیانی مان لیں گے ۔‘‘
تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر زد خور و لُدھڑ اپنی دونوں بیویوں ظلو اور صبوحی کو ساتھ لے کر نا معلوم منزل کی طر ف سدھار گیا ۔کسی کو بھی ان خطر ناک درندوں کا اتا پتا معلوم نہ تھا ۔ محسن کش زد خور و لُدھڑ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ یہ جس تھالی میں کھاتا ہے اُسی میں چھید کرتا ہے اور اسی درخت کی جڑیں کا ٹتا ہے جو اسے آلام روزگار کی تمازت سے محفوظ رکھتا ہے۔زد خوور لُدھڑ کا یوں اچانک غائب ہو جانا سب کے لیے اچنبھے کی بات تھی مگر اس کے بارے میں ہر شخص نے کسی مصلحت کے تحت لبِ اظہار پر تالے لگا رکھے تھے۔
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے عقوبت خانے، قحبہ خانے اور چنڈو خانے سے کچھ فاصلے پر ایک تارک الدنیادوشیزہ پدمنی رہتی تھی ۔نیلی آ نکھوں والی اس کم گو نوجوان حسینہ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اس نے تپسیا کرنے کے بعد مکمل خاموشی اور تنہائی اختیار کر رکھی ہے ۔حسین و جمیل پدمنی صرف اُسی وقت لب کھو لتی تھی جب کسی نا گہانی آفت کے باعث زمین دِل کے مانند دھڑکنے لگتی۔وہ ہفتہ عشرہ قبل ہی آفاتِ نا گہانی کے بارے میں اپنا خدشہ ظاہر کر دیتی جو بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوتا۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی ،اس کے ساتا روہن ، اس کی پروردہ طوائفوں اور داشتاؤں کے بارے میں اس نے کہہ دیا تھا کہ اگلے سات روز میں ان سب ننگ انسانیت بے ضمیروں کاجانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ خبر جنگل کی آ گ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی جانتا تھا کہ پدمنی کی نیلی آ نکھوں سے کچھ اوجھل نہیں رہتا اور سانحات کے بارے میں پدمنی کی کالی زبان سے نکلے ہوئے لفظ ہمیشہ صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے غیظ وغضب ،یاس و ہراس اور بو کھلاہٹ کے عالم میں پدمنی کو اپنے پاس بلایا اور اس سے طویل ملاقات کی ۔اس ملاقات میں مستقبل قریب میں پیش آنے والے واقعات اور سانحات کے بارے میں سب حقائق معلوم کیے تو پدمنی نے آہ بھر کر کہا :
’’آج سے ٹھیک سات دن کے اندر یہاں کے سب ٹھاٹ ختم ہو جائیں گے اور ہر بنجارہ یہاں سے بے نیلِ مرام عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب کُوچ کر جائے گا۔سب کچھ تہس نہس ہو جائے گااور ایک کے سوا تم میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکے گا ۔خرچی کی کمائی لُٹ جائے گی اور ہر طرف کالی دیوی کی جھاڑو پِھر جائے گی۔‘‘ 
’’تم کب سے زرقا الیمامہ بن گئی ہو؟‘‘جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے پدمنی کو ٹوکتے ہوئے کہا’’ میری طرح تمھارا بھی موزنبیق سے تعلق ہے ۔ تمھارا صرف رنگ ہی کالا نہیں بل کہ زبان بھی کالی ہے تم بھی تو میر ی طرح موذی و مکار ہو ۔ ا پنی زبان بند رکھو اور ہمارے بارے میں اس قسم کی مایوس کرنے والی اور دِل دہلا دینے والی منحوس پیشین گوئیاں نہ کیا کرو۔‘‘
نجوم اور فلکیات پر دسترس رکھنے والی پدمنی نے منھ پھیر کر کہا ’’تمھاری بات غلط نہیں اس علاقے کے سادہ لوح اور غریب لوگ مجھے بھی تمھاری طرح موذی و مکار سمجھتے ہیں۔میں بھی افلاک کی گردشِ مدام سے سخت نا خوش و بے زارہوں ۔ میری آ نکھیں ایک ہفتہ بعد آنے والے رنگِ فلک کو دیکھ لیتی ہیں۔تمھاری شامت اعمال کے باعث ایک مارِ آ ستین اپنے اُجرتی بد معاشوں اور کرائے کے قاتلوں کے ساتھ تم پر یلغار کرنے والا ہے ۔وہ نمک حرام مارِ آ ستین اِس عشرت کدے میں موجودتمھارے سب ساتھیوں کو چُن چُن کر تہ تیغ کر دے گا اور سب زر و مال لے اُڑے گا ۔اس قتل و غارت میں صرف تمھاری ایک اہلیہ بچ پائے گی جو تمھارے رویے سے تو مایوس ہے مگر پاؤں بھاری ہونے کی وجہ سے اپنے اور اس قتل عام کے صر ف ایک روز بعدپیدا ہونے والے بچے کے مستقبل کے بارے میں پُر اُمید ہے ۔تمھارے بعد تمھار ایک رازدار اور شریک جرم چیلہ تمھاری جگہ لے گا اور تمھاری طرح سادہ لوح لوگوں کو لُو ٹتا رہے گا۔جرید�ۂ عالم پر تمھاری ذلت اور ہلاکت اب ثبت ہو چکی ہے ۔‘‘
’’بس کرو ! بہت ہو چکی یہ بے سر و پا گفتگو ۔اب یہ بے ہودہ پیشین گوئیوں کا سلسلہ بند کر دو ۔‘‘جھاڑ و جھاڑ کھنڈوی نے اپنے منھ سے بہنے والے جھاگ کو اپنی آ ستین سے صاف کرتے ہوئے کہا’’ ۔ سب چڑیلیں ،بُھوت،آدم خور اور بد روحیں مجھ سے خوف زدہ ہیں مگر تو ہے کہ مسلسل مجھے ہراساں کر نے کی کوشش کر رہی ہے ۔کان کھول کر سن لے میں ہنومان سے بھی نہیں ڈرتا ہا ہا ہا ۔ مجھے کسی نمک حرام ،محسن کُش آستین کے سانپ سے کوئی خوف نہیں ۔میں تمھاری آ نکھوں میں سلائیاں پھیر دوں گا اور تمھارے گلے میں پھندا ڈال کر تمھیں کسی بلند درخت پر لٹکا دوں گا۔تمھارا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر لوگ سہم جائیں گے اور کوئی بھی مجھ جیسے سوامی گیانی سے ٹکرانے کی حماقت نہیں کرے گا ۔ ‘‘ 
’’مجھے تم جیسے بزدل بھڑوے،خودساختہ سوامی گیانی اور جعلی عامل سے اسی شقاوت آمیز نا انصافی اور ظالمانہ سلوک کی توقع ہے ۔‘‘پدمنی نے پُورے اعتماد سے کہا ’’تمھیں عبر ناک انجام سے دوچار کرنے والا مارِ آستین اور اس کے جرائم پیشہ ساتھی خطر ناک دہشت گرد ہیں۔اسی ہفتے کے دوران میںیہاں جو قتل و غارت ہونے والی ہے وہ نوشتۂ دیوار ہے ۔اگر کوئی گُربہ کھسیانی ہونے کے بعد کھمبا نوچنے پر تُل جائے تو میری بلا سے ۔میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا اب میں کسی جبر سے ڈر نہیں سکتی۔ مجھے قتل کرنے کے بعد بھی تم کسی صورت میں بھی فطرت کی سخت تعزیروں سے بچ نہیں سکو گے ۔تمھارے مارِآستین کی شہ پر یہاں دھاوا بولنے والے ڈاکو ،قاتل اور لُٹیرے یہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔وہ دیکھو فضا میں اُڑنے والے بے شمار کرگس اور زاغ و زغن تمھاری بو ٹیا ں نوچ نوچ کر کھا جائیں گے ۔ سیکڑوں سگانِ راہ تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی ہڈیاں تک چھید ڈالیں گے ۔اُس وقت سے ڈر و جو سات دن کے بعد آنے والا ہے ۔‘‘
یہ سنتے ہی جھاڑو جھاڑ کھنڈوی نے غراتے ہوئے کہا’’لے جاؤ اس جھوٹی راہبہ کو اور اس کی نیلی آ نکھوں میں کالے جادو والی بڑی بڑی سوئیاں چبھو کر اِس نجومی حسینہ کو بصارت سے محروم کر دو ۔ جو طالع آزما مہم جُو اس حسینہ کی آ نکھو ں سے سلائیاں نکالنے کی حماقت کرے گا وہ اپنی بصارت سے محروم ہو کر زندگی بھر اندھیروں میں ٹامک ٹوئیے مرتا پھرے گا۔ ہمیشہ بد شگونی کی عادی اس منحوس دوشیزہ کی نیلی آ نکھوں میں جادو کی سلائیاں چبھونے کے بعد اِس کی چاندی کی گردن میں تپتے لوہے کا طوق اور مونج کی رسی ڈا ل کراسے سامنے کھڑے کیکر کے بلند درخت سے لٹکا دو۔‘‘ 
اگلے ہی لمحے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے ساتا روہن نے اپنے گرو کے حکم کی تعمیل میں بے گناہ پدمنی کو بے رحمانہ انتقام کا نشانہ بنا دیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ دُور افق پر سر خ آندھی اُٹھی اور کئی درخت جڑوں سے اُکھڑ کر دُور جا گرے ۔آندھی کا زور ختم ہوا تو ہر طرف جان لیوا سناٹا چھا گیا۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔وہ مسلسل پہلو بدل رہا تھا اور ایک ان جانے خوف نے اسے شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔
’’اس جھوٹی نجومی لڑکی نے میری طاقت کا غلط اندازہ لگایا اور اب اپنے انجام کو پہنچ گئی۔‘‘جھا ڑ و جھاڑ کھنڈوی نے کہا ’’ میںآستین کے سب سانپوں سے نپٹ لوں گا ۔میرے بُوم گھرمیں جتنے اُلّو اور اُلّو کے پٹھے میرے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں ہر ایک کے تن میں کسی بد روح یا چڑیل کی صورت سماگئی ہے ۔یہ صرف طیور نہیں بل کہ سب کے سب میرے وہ مخالف ہیں جنھیں میں نے جادو کی سوئیاں چبھو کر منحوس پرندوں میں بدل دیا تھا ۔ ان سب پرندوں کے پروں میں باریک آ ئینے پنہاں ہیں اور ان کی چونچیں ایسے مہلک سنگ ریزوں سے بھری ہیں جن کے اُگلنے سے ہر طرف آگ لگ جاتی ہے ۔ جادو کی اس آگ کوبجھانا کسی صورت میں ممکن نہیں ۔ان مر غانِ بد نوا کے سنگ دانوں میں ہیرے ،جواہرات اور سیم و زر کے خزانے موجود ہیں۔ میرے عتاب کا شکار ہونے والے حاسدوں کی یہ سب بد لی ہوئی شکلیں پلک جھپکتے میں حملہ آوروں کی ہڈی پسلی ایک کر دیں گی اور یہاں حملہ آور ہونے والے سب قاتلوں، قزاقوں اورلُٹیروں کوآناً فاناً کو نیست و نابود کر دیا جائے گا ۔مجھ جیسے ناگ پنچمی کو آستین کے سانپ ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔اونہہ! میرا کاٹا تو پانی بھی نہیں مانگتا یہ احمق لڑکی مجھے آستین کے اُن بے مایہ،بے بس و لاچاراور حقیر سانپوں سے ڈراتی تھی جنھیں میں پلک جھپکتے میں کچل سکتا ہوں۔میرے وفادار آدمی شکاری کتوں کی طرح زد خورو لدھڑ کی تلاش میں نکل گئے ہیں جوں ہی وہ پکڑا جاتا ہے میں اسے کالے جادو کی سوئی چبھو کر گدھ بنا دوں گا ۔حیف صد حیف اُس مارِآ ستین کی اصلیت جا ننے میں مجھے بہت دیر ہو گئی ۔ زدخورو لُدھڑ کی جان میں نے ایک خارش زدہ سگِ راہ میں بند کی تھی جب کہ اس کی اہلیہ ظلو بِلو کی جان ایک لنگڑی لو مڑی میں محفوظ کی تھی۔یہاں سے فرار ہوتے وقت وہ عیار اُس خارش زدہ کتے اور لنگڑی لومڑی کو بھی ساتھ لے گئے ۔اب تو ان کو پکڑے بغیر ان سے انتقام لینا ممکن ہی نہیں ۔ہائے ! اب کیا ہو گا وقت ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے مگر میں اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوں میں تو ہر کام کرنے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ۔‘‘
پدمنی کی کرب ناک موت کے سانحہ پر گرد و نواح کے علاقے میں غم و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ۔ہر شخص کے لبوں پر یہی صدا تھی کہ اب اپنے وقت کے یہ فراعنہ اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچنے والے ہیں۔سب لوگوں کی متفقہ رائے تھی کہ کوہِ ندا سے جھاڑ و جھاڑ کھنڈوی کا نام پُکار ا جا نے کا وقت آ پہنچا ہے ۔اپنا نام سنتے ہی یہ نا ہنجار بزمِ جہاں سے رخصت ہو جائے گا اور اس کا نام اور قبیح دھندہ تاریخ کے طوماروں میں دب جائے گا۔ایک ان ہونی یہ دیکھنے میں آئی کہ ابابیل اورچمگادڑ غول در غول ان عیاشوں کے چنڈو خانے اور قحبہ خانے پر منڈلانے لگے۔ بہت بڑی تعداد میں فضا میں اُڑنے والے ابابیل اورچمگادڑوں کے ضماد سے ان کے عشرت کدے کی فضا عفونت و سڑاند سے بھرگئی اور راہ چلنا دشوار ہو گیا۔ پدمنی کی الم ناک موت سے اگلی رات اس بستی پر بہت بھاری تھی ۔ اس رات کے پچھلے پہر نا معلوم دہشت گردوں نے جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے عشرت کدے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ۔دیر تک چیخ پکار کی آواز یں آ تی رہیں مگر نواحی بستیوں سے کوئی شخص بھی ڈر کے مارے اپنے گھر سے باہر نہ نکلا ۔ جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے قحبہ خانے ،چنڈو خانے ،عقوبت خانے اور بُوم گھر میں مقیم رسوائے زمانہ بد معاشوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعدحملہ آور قاتل اور لٹیرے صبح کاذب کے اختتام سے بہت پہلے جھاڑ و جھاڑ کھنڈوی کے عشرت کدے میں چھپائے گئے دفینے، سیم و زر،ہیرے ،جواہرات اور نقدمال و دولت لُوٹ کر فرار ہو گئے ۔اگلی صبح لوگ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ سب عشر ت کدے ،قحبہ خانے اور چنڈو خانے ویرانی اور بربادی کی حسرتناک تصویر پیش کر رہے تھے ۔ زاغ و زغن اور کرگسوں کی بہت بڑی تعداد منحوس عشرت کدوں کے مکین اجل گرفتہ بھڑووں اور ہلاک ہونے والی رذیل جسم فروش طوائفوں کی بو ٹیاں نوچ کر لمبی اُڑان بھر گئی ۔بے شمارسگانِ راہ رات کی واردات میں لقمۂ اجل بننے والے مُوذیوں کی ہڈیوں کو اُٹھائے صحرا کی وسعتوں میں اُگی گھنی خار دار جھاڑیوں میں گم ہو گئے ۔
جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی اپنی جنم بھومی سے قلبی وابستگی اور والہانہ محبت کا یہ حال تھا کہ اس نے اپنی ساری زندگی جھاڑ کھنڈ کے دھن آبادضلع کے شہر جھاڑیا میں گزار دی اور یہیں سے اُسے زینۂ ہستی سے اُتار کر عدم کی وادیوں کی جانب دھکیل دیا گیا ۔ اگلی صبح جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کی حبشن بیوی شباہت شمر کی گود میں نو مولود بچہ تھا ۔زچہ اور بچہ دونوں اس ہونی کو پُر نم آ نکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اُن کے پاس ہی جھاڑو تیار کرنے کے لیے سر کنڈوں کا ایک بڑا گٹھڑ پڑا تھا ۔ایک دن بعد زد خورو لدھڑ اور اس کی بیویوں ظلو اور صبوحی نے اسی اُجڑے ہوئے چنڈو خانے اور قحبہ خانے میں جنس و جنوں ،رقص و سرود ،مے نوشی اور عملیات کا دھندہ پھر سے شروع کر دیا ۔ طیورِ آوارہ پِھر سے لَوٹ کر اسی جگہ آنے لگے ۔زد خورو لُدھڑ اپنے گُروجھاڑ جھاڑ کھنڈوی کا چیلہ اور جانشین بن بیٹھا ۔ اس کی دونوں بیویوں ظلو بِلو اور صبوحی کلموہی نے دیو داسی کا سوانگ رچا لیا۔جھاڑ جھاڑ کھنڈوی کے عقیدت مند مرد اور عورتیں جوق در جوق نئے چیلے اور دیوداسیوں کے پاس حاضر ی دینے لگے۔جھاڑو جھاڑ کھنڈوی کے شیدائی یہ توقع رکھتے ہیں کہ زد خورو لدھڑ اپنے گرو کے قدموں کے نشان سداسامنے رکھے گا اور حسب معمول شراب و شباب اور جنس و جنوں کی فراوانی سے بے خودی اور تسکین قلب کے متلاشیوں کی تشنگی دُور کرنے کا عمل جاری رہے گا۔ جھاڑ کھنڈ کے قصبے جھاڑیا کے نواح میں میلوں تک گھنی خاردارجھاڑیاں اُگی ہیں ان میں جھاڑو جھاڑ کھنڈوی اور اس کے ننگِ وجود ساتا روہن کی راکھ کو ٹھکانے لگایا گیا ۔اس دشوار گزار علاقے سے گزرنے والے گڈریوں اور چرواہوں کا کہنا ہے کہ سمادھی کے مقام پر بڑے بڑے اژدہا ہر وقت پھنکارتے اور شعلے اُگلتے رہتے ہیں جب کہ گرد نواح کے علاقے پر حشرات الارض اور درندوں کا راج ہے ۔
——————————————————————————————————————————————————–
Ghulam Ibn-e-Sultan (Mustafa Abad Jhang City) 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com