پہلی نوکری۔‎

قادر کواس وسیع و عریض شہر کی خاک چھانتے ہوئے ہفتے بھر سے زاید ہو چکا تھا۔ کسقدر امیدوں سے یہا ں أیا تھا۔ بڑی کوٹھی والے صاحب کا خط بھی کوئی مدد نہ کر سکا ایک ہی جواب تھا ابھی ہمارے پاس گنجائش نہیں ساری ویکنسی بھر چکی ہیں ۔أپ اپنے کاغذات کی کاپی رکھوالیں ضرورت ہوگی تو جواب دینگے۔ بس اتنا ہوا کہ بڑی کوٹھی کے چودہری صاحب کی بیٹی کے کوارٹر میں ایک چارپائی اور ایک وقت کا کھانا مل جاتا۔
اسے اماں کی محنت مشقت بری طرح یاد أرہی تھی دوسرے محنت کشوں کے بچوں کی طرح اماں نے ہمیشہ اسے محنت مزدوری سے باز رکھا ۔" بیٹا تو پڑھ ، پڑھ لکھ جائے گا بڑا أدمی بنے گا میرا بیٹا اور یہی میرا صلہ ہے اسی طرح اپنی غریبی میں اسے پڑھاتے ہوئے اچھی یونیورسٹی سے اسے ایم بی اے کروایا۔ وہ قابل اور محنتی تھا وظائف بھی ملے اور یوں ڈگریاں تو حاصل ہوگئی لیکن ملازمت کی کوئی امید نہیں بن پا رہی تھی۔
لائی ہوئی رقم بھی ساتھ چھوڑے جا رہی تھی ۔ اسنے جائزہ لیا بمشکل ڈیڑھ سو روپے
باقی تھے ۔ سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے مزدوروں کو أتے جاتے دیکھتا تھا ۔
اب اسنےأخرایک فیصلہ کر ہی لیا ۔ " بھائی یہ کدال کتنے میں بیچوگے؟" اسی روپے میں سودا طے ہوا ۔ اسی دوران ایک گاڑی رکی ،بیگم صاحبہ کو کھدائی کے لئے مزدور چاہئے تھے ۔ پانچ سو روپے کی دیاڑھی طے ہوئی اور قادراپنی پہلی نوکری پر روانہ ہوا ۔۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com