…..الوداع سال 2014ء،خوش آمدید سال 2015ء ….

Columnist sohail iqbal khanسال 2014ء ختم ہو رہا ہے،اور سال2015ء کی آمد ہے،اس موقع پر ہم سب جہاں ایک طرف 2014ء الوداع کہہ رہے ہیں،تو دوسری جانب2015ء کو خوش آمدید بھی کہہ رہے ہیں۔یہ سب کچھ ہر سال ہی ہوتا ہے،ہر کوئی گزرنے والے سال کی تلخ اور بہترین یادوں پر ایک نظرڈالتا ہے،اور دوسری جانب نئے پلان،نئی خواہشات،اور حکمت عملی،کے ساتھ نئے سال کا آغاز بھی کرتا ہے۔نئے سال کی خوشی میں دنیا بھر میں رنگا رنگ تقریبات سے منائی جاتی ہیں۔یوں ہر کسی کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر ضرور ہوتی ہے۔مجھے آج اس تحریر میں ایک طرف تو اس سال میں اپنے ملک میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرنا ہے،تو دوسری جانب نئے سال کے حوالے سے کچھ نئے ارادوں،نئی حکمت عملی،اور نئے جذبے کا بھی ذکر کر نا ہے۔اگر میں ایک اس پورے سال کو دیکھوں تو ،یہ سال پاکستان کے لئے کچھ بہتر ثابت نہیں ہوا۔اس سال کے آغاز سے لے کر اختتام تک پاکستانی عوام کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔پورے سال میں مختلف اوقات میں پاکستانی عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سال 2014ء کے آغاز ہی پاکستانیوں کے لئے دہشت گردی کے واقعے سے ہوا،پہلی جنوری کو ہی کوئٹہ میں بم حملے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اس سال کے شروع میں اگر دہشت گردی کی بات کروں ،تو اس سال کے دوسرے ہفتے میں ہی،یعنی 9جنوری کو سی آئی اے کے ایک بہادر ،آفیسر چوہدری اسلم کو ایک بم حملے میں شہید کیا گیا۔جو پاکستان اور پاکستانی عوام کا بے شک بہت بڑا نقصان تھا۔کیونکہ چوہدری اسلم جیسے آفیسر ز بہت کم ہوتے ہیں،جو بغیر کسی ڈر وخوف کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کرتے تھے،اور ہر ااپریشن میں خود سب سے آگے موجود ہوتے تھے۔ان کی خدمات کبھی بھی نہیں فراموش کی جا سکتی ہیں۔اگر دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے لئے 2014ء کے سال کو دیکھا جائے تو یہ بہت ہی برا بھی تھا،او ر درد ناک بھی۔اس سال میں ہی دہشت گردوں نے ہمارے کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کیا،جس میں ہمارے کچھ جوان بھی شہید ہوئے،لیکن ہمیشہ کی بار کراچی ائر پورٹ حملے پر بھی ہمارے بہادر ائیر پورٹ سکیورٹی کے جوانوں نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا،اور ان کا مقصد کسی صورت پورا نہ ہونے دیا۔اس کے علاوہ بھی دہشت گردی کے بہت سے واقعات ہیں،لیکن میں صرف یہاں چند ایک کا ہی ذکر کر پاوں گا۔اگر میں ایک اور بڑے دہشت گردی کے واقعے کی بات کروں تو2نومبر کو واہگہ بارڈرپر دہشت گردی کا بڑا واقعہ پیش آیا،جس میں 60زائد افراد شہید،اور110سے زائد زخمی ہوئے۔بے شک یہ حملہ پورے پاکستان کے دلوں پر ایک حملہ تھا۔کیونکہ یہ ایسے وقت،اور ایسی جہگہ پر کیا گیا،جہاں جوش وجذبہ عروج پر ہوتا ہے،جہاں صرف اور صرف پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔لیکن یہ قوم بہادر بہت زیادہ ہے،اس کا ثبوت اگلے روز ہی پاکستانی قوم کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کر کہ یہ ثابت کر دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں،اور ہمیں کسی سے کوئی ڈر نہیں،جوش وجذبہ دیکھا کہ پوری دنیا کو یہ پیغام پہنچا کہ اس قوم کو کسی کا ڈروخوف نہیں ہے۔اس سال ہی پاکستانیوں کو واہگہ بارڈر کے بعد اس سال کے اختتام کے قریب سانحہ پشاورکا ایک اور دکھ ملا،جس کو پوری قوم نے محسوس کیا۔16دسمبر کو جہاں قوم پہلے ہی سقوط ڈھاکہ کی ایک تلخ یاد کی وجہ سے غم ذدہ تھی،اسی روز ہی دہشت گردوں نے پشاور آرمی پبلک سکول کے بچوں پر حملہ کر کے اپنے آپ کو کمزور اور حیوان ہونے کا ثبوت دیا۔اس سانحہ پر پوری قوم ایک نظر آئی،پاکستانیوں کے علاوہ دنیا کے ہر کونے سے پشاور سانحہ پر دکھ درد کی آواز سنائی دی گئی۔لیکن پھر بھی یہ قوم ڈر نہ پائی،دہشت گردوں کے عزائم پورے نہ ہو سکے۔اس سانحہ کے بعد پوری قوم،سیاسی و عسکری قیادت ایک صف میں کھڑی ہو گئی،اور دہشت گردوں کے خلاف کھلے عام جنگ کا اعلان بلند کر دیا۔ایک طرف اس سال دہشت گردی سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا،لیکن دوسر ی جانب اس سال میں ہی سیاسی وعسکری قیادت کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیا۔جس کی قیادت خود ہمارے بہادر آرمی چیف کر رہے ہیں۔آپریشن ضرب عضب اس وقت بھی نہایت کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن میں پاک فوج نے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کا مکمل صفایا اور دہشت گردوں کے اہم جہگوں کو مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔یہ ہی وہ ہماری پاک فوج کی کامیابیاں ہیں،جن سے آج دہشت گرد ڈر چکے ہیں،او ر ان کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔آپریشن ضرب عضب کے فیصلے پر پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔دہشت گردوں کو اس وقت بے شک اس آپریشن کی وجہ سے بہت سی مشکلات درپیش ہیں،لیکن آپریشن ضرب عضب اس عزم کے ساتھ ہی جاری ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔آپریشن سے قبل حکومت نے اس سال میں ہی طالبان کے ساتھ خلوص نیت سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔جس کے لئے دو کمیٹیاں بھی تشکیل بھی دیں گئیں،لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود مذاکرات ناکام ہوئے۔سال 2014ء میں دہشت گردی کے ساتھ دوسرے مسائل کی بات کروں ،اس سال میں ہی پاکستان کا نام ان ممالک میں نظر آیا جو اب تک اپنے ملکوں سے پولیو کا خاتمہ نہیں کر سکے،اور پاکستان میں اس سال بھی پولیو کے گئی کیسسز سامنے آئے۔جس سے پاکستان کو عالمی دنیا میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،کیونکہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستانیوں کے بین الاقوامی سفر پر بھی پابندی لگائی گئی۔لیکن حکومت نے پولیو سے نمٹنے کے لئے ایک مکمل حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ کیا ہے۔دوسری جانب پولیو کے خاتمے کے لئے سرگرم لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھی گئی بار دہشت گردی کا شکار بنایا گیا۔

اس سال 2014ء میں ،میں اگر پاکستان میں سیاست کی بات کروں تو اس سال میں ملک میں سیاسی میدان خوب گرم رہا۔اگست کے ماہ سے ستمبر تک پورے ملک میں ایک سیاسی ماحول قائم رہا۔سال 2013ء میں ہونے والے الیکشن ،اور موجودہ حکومت پر اعتراض کے خلاف پاکستان عوامی تحریک،اور پاکستان تحریک انصاف نے لاہور سے اسلام آباد مارچ اور پھر اسلام آباد پہنچ کر دھرنا شروع کردیا۔یوں اسلام آباد میں ایک جانب پاکستان عوامی تحریک ڈاکڑ طاہر القادری کی قیادت میں دھرنا دے رہی تھی، تو دوسری جانب پاکستانی تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں دھرنا دئے ہوئے تھے۔اس سیاسی ماحول کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو اس میں بہت سے موڑ آئے،کبھی ریڈ زون پر حملہ کیا گیا،تو کبھی مذاکرات کی راہ اپنائی گئی۔آخرکار تمام تر کوششوں کے بعد حکومت طاہر القادری کا دھرنا ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی،اور پاکستان تحریک انصاف نے سانحہ پشاور پر اپنا دھرنا ختم کیا۔اس سال ان دھرنوں نے جہاں ایک سیاسی سوچ سمجھ دی،تو دوسری جانب پاکستانی معشیت کو بھی نقصان پہنچا۔پاک بھارت کے اس سال تعلقات کو دیکھا جائے تو نہایت کشیدہ رہے،بھارت کی ورکنگ باونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ سے بہت سے پاکستانیوں کو شہید کیا گیا۔جس سے پاکستان نے بھی اپنی خارجہ پالیسی میں اس سال بھارت کے لئے اپنا رویہ تبدیل کیا۔اگر میں عالمی سطح پر اس سال کو دیکھوں تواس سال میں اسرائیل نے فلسطین پر ظلم کی انتہاہ کی،اور لاکھوں فلسطینوں کو شہید کیا۔جس کی مزاحمت تمام عالمی دنیا نے کی۔۔سال 2014ء کے بعد اب 2015ء کا آغاز ہو رہا ہے۔میں اور پوری پاکستانی قوم کی دعا ہے کہ یہ سال پوری پاکستانی قوم کے لئے پرامن ثابت ہو۔ہمیں خود ذاتی طور پر ان غلطیوں کو نہیں کرنا،جو ہم نے ماضی میں کئیں۔دہشت گردی جیسی لعنت کو ہم رب کی مدد سے ضرور شکست دیں گے۔ہمیں خود انفرادی طور پر اس سال میں بہتر کوششوں کی ضرورت ہے۔اس بار ہم سانحہ پشاور کی وجہ سے سال 2015ء کی خوشیاں نہیں منانا چاہتے۔ہماری تمام دعائیں،سانحہ پشاور سمیت تمام شہیدو ں کو سلام ہے۔یہ سرزمین بہت سرخیز ہے۔اس پر قوم کا ہر فرد قربان ہونے کے لئے تیار ہے۔آخر میں تمام پاکستانیوں کے لئے سال2015ء کے لئے بہت سی نیک خواہشات۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com