ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے؟

ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے؟
تحریر:سلیم سرمدؔ 
فطرت حیات کا دوسرانام ہے اورتہذیب ا نسانی حیات کی بقاء و ارقاء کی جہد کاایک پہلو، اور تمدن ایک طریق ‘زندگی سہل بنانے کا ایک قرینہ۔ حیات و موت کی جنگ میں تمام جاندار اپنی بقاء کے لیے ہر ممکن حد تک سعی کرتے ہیں جبکہ انسان اشرف المخلوقات ہونے کے سبب اپنی بقاء اور ترقی کے لیے بہت کچھ کر گزرتا ہے۔ حصولِ مقاصد اور ترقی کی دوڑ میں ہم فطری نظام‘ سماجی اقدار اور اخلاقیات سے متصادم ہو جاتے ہیں۔
ایک کچے کمرے کے کچے صحن میں بان کی چارپائی پر بیٹھے رات کا کھانا کھاتے ہوئے خیال آیاکہ یہ معقولہ کس حد تک ٹھیک ہے کہ دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔اس معقولے کی حقانیت اسی بات سے واضح ہے کہ امیر لوگ ڈنر‘ کینڈل لائٹ ڈنر یا شام کا کھانا کھاتے ہیں جن کے دستر خوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوتے ہیں جبکہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کے لوگ رات گئے ’’رات کا کھانا‘‘ کھاتے ہیں۔ رات گئے اس لیے چونکہ غریب آدمی دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد جب شام کو دو کلو آٹا لیے تھکان کے ساتھ گھر لوٹتا ہے تو روکھی سوکھی تیار کرتے کرتے بھی رات ہو جاتی ہے۔اسی لیے ہر غریب آدمی کا کھانا رات کا کھانا کہلاتا ہے جبکہ امیر طبقے کے لوگوں کا کھانا شام کا کھاناکہلاتا ہے۔
ؓؑ بعد از طعام خواص طبقے کے لوگ اپنی فیملی کے ساتھ کسی نہ کسی تفریح میں لگ جاتے ہیں اور غریب آدمی کل کی دیہاڑی کی فکر اوڑھ کر سونے کی کوشش کرتا ہے کہ پتہ نہیں کل اس کے بچوں کے نام کا دانا پانی لکھا بھی ہے یا نہیں اور اگر لکھا بھی ہے تو پتہ نہیں کہاں کہاں کی خاک چھاننی پڑے گی؟
عجیب سسٹم ہے کہ کچھ لوگ اپنے حصے کے رزق کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حصے کا رزق بھی ہتھیا لیتے ہیں غریب آدمی کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنے شکم کے نار کی نذر کرتے ہیں اور منطق پیش کی جاتی ہے ’’کہ دانے دانے پرلکھا ہے کھانے والے کا نام‘‘ اور’’ نصیب سے زیادہ کچھ نہیں ملتا‘‘�آ اپنی اپنی فطری خصوصیات کے مؤجب تمام جاندار( ہجرت پزیر) اپنی بقاء اور زندہ رہنے کے لیے خوراک کے حصول کی خاطر ہر ممکنہ حد تک چلے جاتے ہیں جن میں ان کی فطری جبلت کارفرما ہوتی ہے ۔مثلاً شیرکا گوشت خوری کرنا اس کی جبلت ‘ چیر پھاڑ کر کھانا اس کی خصلت اور اپنا پیٹ بھرنے کے بعد بچھے کھچے پر موتنا اس کی عادت۔ مگر ہم انسانوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ذرا دیکھیے تو!
انسان کے اندر انسانی خصلتوں کے ساتھ ساتھ حیوانی خصلتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ہم حرص و حوس کے مارے لوگ اگا کر کھاتے ہیں ‘ پکا کر کھاتے ہیں ‘ کاٹ کر کھاتے ہیں‘ چھین کر بھی کھاتے ہیں ، اور کھاتے ہیں کھاتے ہیں اتنا کھاتے ہیں کہ پھر قے کر دیتے ہیں۔

خیر چھوڑیے یہ سب۔دراصل ترقی اورسہولیات کے حصول کی دوڑ میں ہم مہذب انسان‘ ہم اشرف المخلوقات اتنا آگے نکل گئے کہ اپنی بقاء کے ساتھ ساتھ بربادی کا سامان بھی پیدا کیے بیٹھے ہیں۔ہم بھولے لوگ اتنا سمجھنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کر تے کی زندہ رہنے کے لیے صرف پر تکلف کھانا پینا اور بدنی راحت ہی ضروری نہیں بلکہ انسانیت کا ظرف‘ زندگی کے معیار اوراپنے ارد گرد کے زمینی حقائق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ قدرت کی طرف سے عطا کردہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور زرپرست اور غاصب قوتوں کے ان وسائل پر قابض ہونے کی وجہ سے عام آدمی ہمیشہ بھوکا رہا ہے۔مگر بھوک حرص و حوس کی وجہ سے غاصب طبقے کی بھی نہیں مٹ رہی۔
ہم لوگ خدا کے نائب ٹھہرائے گئے تھے مگراپنی بد اعمالیوں کی بدولت ہم شیطان کے چیلے بھی بن بیٹھے۔انسانی اقدار و معیار بھلا بیٹھے ۔انسانی رویوں معاشرتی نظام اوردین و مذہب کو ہم نے آلائشوں سے بھر دیا۔تعلق ‘محبت اور مروت کو ضرورتیں نگل گئیں‘دلوں میں کدورت رکھتے ہیں قتل و غارت کرتے ہیں‘ فتنہ فساد پھیلاتے ہیں۔اپنے حسب و نسب پر فخر کرتے ہیں ‘ مال و دولت اور علم و فن پر اتراتے ہیں ‘ جہالت جھاڑتے ہیں ‘ اور تکبر سے کہتے ہیں ہم تکبر نہیں کرتے۔
زن پرستی‘ زر پرستی ‘ شخصیت پرستی‘ آباء پرستی‘ مادہ پرستی اور سنگ پرستی کو ہم نے محبت عزت عقیدت اور اعتقاد کادرجہ دے دیا۔اندھا اعتقاد انسان کو بربادی کی طرف لے کر جاتا ہے۔عقیدت چاہے کسی طرح کی بھی کیوں نہ ہوانسان کو بصیرت کی آنکھوں سے اندھا کر دیتی ہے۔جبکہ غور و فکر انسان کو گیان ‘ عرفان اور معرفت کی بلندیوں تک پہنچا دیتاہے۔
زمین پر خون کے تیزابی چھینٹے پڑے تو ہمارا اگنے والا رزق زہر آلودہ ہو گیا۔ہماری نسوں میں خون کے بجائے تیزاب دوڑنے لگا۔ برداشت اور بردباری جو کہ ہمارا خاصا تھیں نہ رہیں۔ہماری ظاہری ہیت انسانوں سی ہی رہی مگر ہماری باطنی کیفیت بدل کر کچھ اور ہو گئی۔علقل و فہم اور علم سے عاری فرشتوں نے انسان کی تخلیق پر جن جن خدشات کا اظہار خدا کے حضور کیا تھا وہ ہم نے عملی طور پر ثابت کر کے دکھا دیے۔
پتہ نہیں کن صفات کی بنیاد پر ہمیں اشرف المخلوقات بنایا گیا؟پتہ نہیں ہمارا جنت سے نکالا جانا ضروری تھا یا زمین پر بسایا جانا؟مگر خدا کے راز خدا ہی بہتر جانے ہے ۔خدا اور انسان کے بیچ صرف ایک ہی قدر مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے محبت۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ محبت ہی تھی جسکی وجہ سے ہم انسانوں کو اتنا بڑا رتبہ ملا‘ہماری تخلیق ہوئی ۔ ورنہ محبت کے علاوہ انسان اور انسانیت میں کچھ بی نہیں۔
یہی ایک خدائی صفت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی تاکہ اسی جذبے کے بدولت دنیا میں قدرت کے نظام کا توازن قائم رہ سکے۔ محبت کے فروغ کے ساتھ انسانیت کو فروغ حاصل ہو مگر ہم نے زمیں پر اترنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی خدا کو صرف آسمانوں تک محدود تصور کرکے زمین کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر خود خدا بن بیٹھے۔
ہمارے ذہنوں میں عقلِ سلیم اور افہام و استحکام کے بجائے‘ تعصب تنگ نظری اور شدت پسندی پنپ رہی ہے۔ کوڑھ زدہ ہو گئے ہمارے ذہن۔علم اور عقل و شعور سے عاری ہم لوگ نظام قدرت میں دخل دینے لگے ، اپنا اختراعی اور خود ساختہ نظام رائج کرنے لگے۔ذات پات اونچ نیچ امیر غریب اور تفرقہ بازی میں گھر گئے۔ 
حسنِ اخلاق‘ احساسِ ہمدردی اور محبت و مروت کو مفادات کے ترازو میں تولتے ہیں ۔ اہلِ علم کے بجائے صاحب اعزاز اور صاحب دستارہم اُن لوگوں کو ٹھہراتے ہیں جن سے ہمیں معاشی اور دنیاوی فوائد پہنچنے کی امید ہو۔اپنے حقوق طلب کرنے 
میں تاخیر نہیں کرتے جبکہ فرائض کی ادائیگی سے کتراتے ہیں۔ہمارابھائی بھلے ہی بھوکا سوئے یا بھلے ہی ہمارے پڑوس میں کسی گھر میں چولھے پر چڑھی دیگچی میں پتھر ابلتے ہوں اور ماں اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بچوں کو جھوٹادلاسہ دیتی ہو کہ بیٹا کھانا پک رہا ہے‘ مگراس سب کے باوجود ہمارے گھر میں قیمہ‘ قورمہ اور مٹن ضرور بنے گا۔
ہم انسان ہیں کیا؟ ناشکرے عاقبت نا اندیش۔۔سر تا پا خلطوں کا مجموعہ،ایک عرصہ غاروں میں جانوروں کی طرح رینگ کر زندگی گزاری،پھراللہ تعالی کی طرف سے بے شمار نعمتیں اتریں،آسمان سے مینہ برسا‘ زمین نے رزق پیدا کیا۔ علم و شعور‘عقل، صحت ‘ اورطاقت عطا ہوئی۔شکر اور غور و فکر کا حکم دیا گیا ،پھر ہم تمدنی ہوئے تہذیبیں پروان چڑھائیں،گروہ سے قبیلے اور قبیلے سے قوم کی طرف ترقی کی،دنیا کی وسعتوں کو ناپنے کی ہر عہد میں سعی کی۔ اجتماعی خصوصیات کے علاوہ ہر انسان کے اندر انفرادی خوبیاں پیدا کی گئیں۔اوصاف کی عظمت سے بہرہ مند ہوئے ۔ہم پر اتنی نوازشات ۔۔۔ مگر ۔۔۔پھرہم راستہ بھٹک گئے۔ خدا رحیم وکریم ہے اس کی رحمتیں وسیع ہیں مگرسوچتا ہوں کہ کیا ہم اس کے حق دار تھے یا ہیں؟
یہ کائنات اور یہ تما م دنیاوی سامان و اسباب ہمارے لیے پیدا کیے گئے ۔ کیا ہم اس قابل تھے؟ کیا ہم اتنے دانا( شکر گزار ) تھے۔؟ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے؟ ہمیں جو کچھ بھی ملایہ سب خدا کی عنایت ہے‘عطا ہے‘ رحم ہے‘ کرم ہے۔۔
بہر حال !جن صفات کی بنیاد پر بھی انسان کو اشرف المخلوقات اور نائبِ خدا بنایا گیا مگر ’’ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘۔
ٍٍ لیجئے!میرے بھائی نے اپنے صحن میں سولر سسٹم پہ جلنے والابلب آف کر دیا جس کی وجہ سے میرے صحن تک آنے والی روشنی کی ہلکی ہلکی کرنیں دم توڑ گئیں ۔ سو اب میرا قلم کرۂ قرطاس پہ آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔
سلیم سرؔ مد
شاعر ادیب اور کالم نگار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com