ہوا کیسے اس سے سبق تو لو ۔۔۔۔

ضیغم سہیل وارثی
ہوا کیسے اس سے سبق تو لو ۔۔۔۔
ما ضی خا لی مو لی نہیں رہی،صر ف ایک معا ملے میں نہیں ، ہر طر ف سے تا ریخ بھر ی پڑی ہے ، مگر سبق سیکھنے کو کو ئی نہیں ،تب وا قعا ت ویسے ہو ئے جا تے ہیں ، سلسلہ رکے گا ، بہتری آ ئے گی ، مگر ٹھیک کہا جا تا ہم بیما ر معا شر ے کا حصہ ہیں ، جن کو شک وہ تر قی یا فتہ ممالک کی مثا لیں لے لیں ، مثا لیں زما نہ انہی کی دتیا جو بہتری لا تے ہیں، ہما ری مثال الٹی ہی دی جا تی ہے ، صرف ایک بار نہیں ۔ شا عر نے کہا ،،،
دل کی ویر انی کا کیا مذ کور ہے 
یہ نگر سو مر تبہ لو ٹا گیا 
کا ن میں آ وا ز پڑی ، کہ ، دنیا اب ہما رے ملک ، اور ہما ری قو م کے بارے یہ بھی کہا کر ئے گی کہ پٹر ول اکٹھا کر نے کی لا لچ میں جا نیں گنو ا دیتے ہیں ، سا منے نظر بھی آ تا ہے کہ آ گ لگ سکتی مگر یہ قو م لا لچ میں کیسا بھی رسک لے سکتی ہے ، میں نے کہا جہاں پہلے اتنی با تیں ہو تی ہیں اور بلکل ٹھیک ہو تی ہیں ان کے ساتھ یہ بھی ایڈ ہو گی ، کہا گیا کو ن سی با تیں ٹھیک ہو تی ہیں ، کو ن سی کیا ، سا منے نظر نہیں آ تا کیا ، سیاس ت دان ملک کے نظام کو چلا تے ہیں اور یہی سیاست دان چلا چلا کر معز ز لو گوں کے خلا ف دھمکی دیں اور ان سے صفا ئی لی جا ئے ، مو قع فر اہم کیا جا ئے ہو نا یہ چا ہیے جو ویڈ یو ریکا رڈ میں کلےئیر سنا جا سکتا کہ دھمکی دی گئی پھر کیا صفا ئی کہ مو صو ف کے کہنے کا مطلب کچھ ہو تھا ، ایک اور مثال ،معا ملہ پا نا مہ کیس کا ،جے آ ئی ٹی بنی ،ایک پا رٹی کہہ رہی کہ جے آ ئی ٹی یہ ڈرامہ بازی کر رہی یا ہما رے ساتھ غلط سوال کیے جا رہے ہیں ، دوسری پا رٹی کہہ رہی کہ جے آ ئی ٹی پر کو ئی دبا ؤ نہیں ڈال سکتا ،سا دہ سا سوال ہے ، جے آ ئی ٹی بنا ئی کس نے ، کس نے حکم دیا ، اب کیا اس ادارے پر سوال اٹھا ئیں گے ، سپر یم کو رٹ کے فیصلے کو ڈرا مہ با زی کہا جا ئے ،دوسرے ایک سر کا ری ادارے کی حفا ظت کی باتیں کر کے ہمد ردی لیں گے تو پھر وہی بات عوام جیسی حکمران ویسے ، اور ہما ری عوام دیکھیں ذرا ، سپر یم کو رٹ کے دو جج صا حبان فر ما چکے کے بند نا اہل ہو چکا تو عوام اس کے حق میں ریلی نکا ل کر آ تی ، کون لیڈ کر تا گا ؤں ، شہر کا سیاسی چمچہ، دوسری جا نب جو کر پشن صا ف کر نے کی با تیں کر تے وہ اپنی ٹیم میں کر پٹ زدہ لو گ شا مل کر رہے ہیں ،اور منطق الٹی ، کہ ، وہ لو گ اس لیے لے رہے ہیں کہ وہاں سے سیٹ حا صل کر نے کے لیے ایسے سیاست دان ہی کا میا ب ہو تے ہیں، جناب آ پ سے تو امید ہی یہی لگا ئی گئی تھی کہ یہ ایسے ویسے سیا ست دانوں سے عوام کی جان بخشی ہو ، کیونکہ پڑ ھے لکھے نو جوان لو گ سامنے آ ئیں گے تو ملک تر قی کر ئے گا ،وہ سیاست دان جس کے سیاسی فیلو ، سیاسی اٹھنا بیٹھنا ان سیاست دان سے رہا ہو جوسیاست میں آ ئے زیرو تھے مگر اکا و نٹ میں اب ان کے زیر و ختم نہیں ہو تے ، تو پھر وہ اس سو چ میں ہو تے ہم بھی ان جیسے ہوں گے ، تو کیا پا رٹی چھو ڑنے سے ان کی سو چ، عا دت بد ل جا ئے گی ،ہر گز نہیں، عجب منطق ، عجب سیا ست ، کیا عوام کے نصیب میں یہی ہے ، خا کسا ر انکا ر نہیں کر تا کہ پا کستا ن تر قی کی رہ پر ، مگر پھر سا دہ سوال ، ایک ایم پی اے قتل کے کیس میں عدالت میں آ ئے اور صحا فیوں کو دیکھ کر کہہ کہ تم کو دعو ت ملی ہو ئی تھی یہاں آ گے اور ساتھ نا زیبہ الفاظ استعمال کر ئے تو ، جو اس نے قتل کیا وہ کیس کب فیصلہ ہو مگر یہ انداز اس کا جیسے اس کی سزا اس کو فورا ملنی چاہیے تب صا حبو سمجھا جا ئے گا کہ پا کستان بد ل رہا ہے اور یہاں قا نون کی پا سداری ہو رہی ہے ،پا کستا ن میں قد رت کی ہر نعمت مو جو د ہے ، صرف کمی ہے تو یہ کہ جو قا نون بنا کر رکھے ہیں ان پر سختی کے سا تھ عمل کیا جا ئے اور جو تھوڑی سی بھی کو تا ئی کر تا اس کو سزا ء دے کے مثال قا ئم کی جا ئے، 
بہا ولپو ر میں پٹر ول کو آ گ لگی ، وزیراعظم صاحب نے فرما یا بات کی طہ تک جا ئیں گے اور تفتیش کر یں گے ، زیا دہ لمبی با تیں نہیں کر تے ہیں ، پٹر ول لے جا نے والا ٹینک رستے میں الٹا ہو گیا ،وہاں پو لیس کے اہلکا ر مو جو د تھے یا آ س پا س تھے ان کو فورا وہ تمام علا قہ بین کردینا چا ہیے تھا تا کہ اس پٹر ول کی طر ف کو ئی جا نہیں سکے ، اگر یہ کہہ جا ئے کہ عوام زیادہ تھی اور پو لیس کے بند ے کم تو ایمر جنسی میں پو لیس کی نفر ی زیا دہ بلو ائی جا تی اور کسی بھ طر یقے سے وہ علا قہ بین کر دیا جا تا ، اب اس سارے عمل کو کس ذمہ دار نے نہیں کیا اس کو ایسی سزا ء دی جا ئے کہ اگلی بار ایسی کو تا ئی نہ ہو ، اور جو افسران یا ذمہ دارن ہوں وہ پھر توجہ سے اپنی ڈیو ٹی پر رہیں اور ان کے ذہن میں سزا ء والی بات رہے ، جب ہما رے ہاں کو ئی ایسی مثا لیں ہی نہیں ہیں تو سب معا ملے کو ایزی لیتے ہیں وہ جا نتے ہیں کہ کو ئی پرابلم بنی لے دے کے جان چھو ڑا لیں گے ، جیسے ایک ایم پی اے صا حب کیسے پو لیس اہلکا ر کو ٹکر ما رت ہیں پھر پر چہ درج ہو تا نا معلوم فر د کے خلا ف بعد میں ایم پی اے کو گر فتا ر کر لیا جاتا ، تھا نے میں جس نے نا معلوم فر د کا لکھا تھا اس کے ہا تھ کا ٹ کر عمر قید سزا دی جا ئے تا کہ کو ئی اگلی بار اثر سو رخ کا پا س نہ رکھے ، با تیں کچھ تلخ ہیں ، مگر جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا ، امیر ، اثر سو رخ والے غر یب لو گوں کے ساتھ برا سلو ک کر تے رہیں گے اور یہ سیاست دان عوام کو اپنی انگلیو ں پر نچا تے رہیں گے ،ما ضی خا لی مو لی نہیں رہی،صر ف ایک معا ملے میں نہیں ، ہر طر ف سے تا ریخ بھر ی پڑی ہے ، مگر سبق سیکھنے کو کو ئی نہیں، تب وا قعا ت ویسے ہو ئے جا تے ہیں ، سلسلہ رکے گا ، بہتری آ ئے گی ، مگر ٹھیک کہا جا تا ہم بیما ر معا شر ے کا حصہ ہیں ، جن کو شک وہ تر قی یا فتہ ممالک کی مثا لیں لے لیں ، مثا لیں زما نہ انہی کی دتیا جو بہتری لا تے ہیں، ہما ری مثال الٹی ہی دی جا تی ہے ، صرف ایک بار نہیں ۔ شا عر نے کہا ،،،
دل کی ویر انی کا کیا مذ کور ہے 
یہ نگر سو مر تبہ لو ٹا گیا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com