اپریل فول۔۔۔۔۔! ایک تلخ حقیقت

اپریل فول کیا ہے ۔؟ اس بارے میں ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ اس دن جھوٹ بول کر دوسروں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اس دن کے پیچھے ایک بہت بڑی تلخ حقیقت ہے اور نہ ہی ہم نے کبھی اسے جاننے کی کوشش کی ہے ۔ہم صرف اہل مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اس دن جھوٹ بول کر نہ جانے کتنے افراد کو بلاوجہ جانی ومالی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں بعض اوقات لوگوں کی جانیں چلی گئیں ہیں کہ انہیں کسی ایسے صدمے کی جھوٹی خبر سنا دی گئی جسے سننے کی وہ تاب نہ لا سکے اور زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اپریل فول کے پیچھے ایک اہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد مسلمانوں پر بے انتہا ظلم وستم ڈھائے گئے ان کا قتل عام کیا گیا ، ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو توڑا گیا اور مسلمانوں کو زبردستی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور انکار پر مسلمانوں کو بے دخل کر کے ان کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ہیرالڈلیم سمیت مختلف تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب ابوعبداللہ نے اپنے باپ اور تمام مسلمانوں سے غداری کی تو اس کے نتیجے میں فرنینڈو کو اسپین پر قبضہ کرنے میں بہت آسانی ہو گئی اور اسی ابوعبداللہ کو عیسائیوں نے اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد اسپین سے بے دخل کر دیا، ابوعبداللہ نے جب غرناطہ کی کنجیاں شہنشاہ فرنینڈو کو دیں تو یہ الفاظ ادا کیے’’اے بادشاہ خدا کی یہی مرضی تھی ، ہمیں یقین ہے کہ اس شہر کی رعایا کے ساتھ فیاضانہ سلوک کیا جائے گا‘‘ اس کے بعد وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر گزشتہ شان وشوکت کا نظارہ کرنے لگا اور پھر رونے لگا، اس کی ماں نے اس وقت اس سے یہ جملہ کہا کہ جس چیز کو مردوں کی طرح بچا نہ سکے اس گمشدہ چیز کے لیے عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا فائدہ۔البتہ آہستہ آہستہ عیسائی حکمرانوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا ان کو اپنا مذہب بدلنے پر مجبور کیا گیا اور ایک حکم جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہو جائیں یا نہ ہونے کے عیوظ پچاس ہزار سونے کے سکے دیں ، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹگا دیا جاتا تھا یا انتہائی ازیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔
جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت سر زمین اندلس پر جتنی خونریزی کی گئی اس کا اندازہ تاریخ دانوں کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فاتح فوج کے گھوڑے مسلمانوں کی نعشوں کرروندتے ہوئے گزرتے تب ان کے پاؤں خون سے رنگین اور آلودہ ہو چکے ہوتے ۔عیسائی افواج مسلمانوں کو ان کے حکمرانوں سمیت ختم کر چکی تھیں ۔جاسوس مسلمانوں کو تلاش کرتے اندلس کی گلیوں میں گھوم رہے تھے اگرچہ بظاہر اب کوئی مسلمان نظر نہیں آ رہا تھا لیکن نامعلوم اب بھی عیسائیوں کو کیوں یقین تھا کہ مسلمان ابھی بھی زندہ ہیں اور وہ اپنی شناخت چھپا رہے ہیں مسلمانوں کو ظاہر کرنے کے لیے نئی سے نئی سازشیں کی جانے لگیں ، پھر اعلان کیا گیا کہ جو مسلمان دیگر مسلم ممالک میں جانا چاہتے ہیں وہ یکم اپریل تک غرناطہ میں جمع ہو جائیں تا کہ ان کے جانے کا بندوبست کیا جا سکے۔ قصر الحمراء کے نزدیک خیمے نصب کر دئیے گئے ، سمندر میں بحری جہاز لنگر انداز ہوتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمانان اندلس خیال کرنے لگے کہ اب شائد امن ہو گیا ہے ۔مسلمان اس جھانسے میں آ گئے اور سمجھنے لگے عیسائی افواج اس معاملے میں سنجیدہ ہے لہذا خود کو ظاہر کردینے کا اس سے اور اچھا موقع نہیں ۔ مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ۔اب اہلیان اندلس الحمراء کے قریب خیمہ زن ہو گئے ۔31مارچ کی رات کو ان کی بڑی خاطر مدارت کی گئی ، نہایت متانت سے ان کا احترام واکرا م کیا گیا۔مسلمانوں نے اپنا تمام مال واسباب اور علمی ذخیرہ جمع کیا اور عیسائیوں کی جانب سے فراہم کردہ بحری جہازوں میں سوار ہو گئے ان مسلمانوں کوعلم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ان کو صرف یہ پتہ تھا کہ ظلم کے ماحول سے ہم دور چلے جائیں گے اگرچہ مسلمان اپنے وطن سے دور رہنے کو تیار نہ تھے لیکن ان کو اس بات کی بھی خوشی تھی کہ ان کی جان بچ جائے گی ۔یکم اپریل ہوتے ہی بحری جہازوں کا رخ مراکش کی طرف موڑ دیا گیا ۔ بندرگاہ پر حکومت کے اہلکاروں اور جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کہا اور ان کو رخصت کیا ۔بیچ سمند ر میں پہنچ کر منصوبہ بندی کے تحت ان جہازوں کو غرق کیا گیا اس کے باعث سینکڑوں مسلمان شہید ہو گئے اور ساتھ ساتھ وہ قیمتی و علمی ذخیرہ بھی برباد ہو گیا جو مسلمانوں نے بڑی مشکل سے جمع کیا تھا یہ واقعہ یکم اپریل کوپیش آیا تھا اور یہ گیارویں صدی عیسوی کے اوائل کا واقع ہے۔
اس کے بعد اسپین بھر میں جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بے وقوف بنایا ۔پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں ’’First April Fool‘‘کا نام دیا گیا یعنی ’’یکم اپریل کے بے وقوف‘‘آج عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے مناتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بے وقوف بنایا جاتا ہے۔اسلام کے مطابق مسلمانوں کے لیے اپریل فول یا اس سے مشابہت رکھنے والے کسی بھی غیر اسلامی اورغیر شرعی تہوار کو منانا ناجائز اور حرام ہے ۔اس لیے ہماری تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ کوئی ایسی غیر ذمہ درانہ حرکت نہ کریں، سنجیدہ رویہ اپنائیں اور اپریل فول کی قبیح رسم سے مکمل اجتناب برتیں۔

One comment

  1. اپریل فول اندلس کی ایک خونی تاریخ
     جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرمانروا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا ۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ For More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com