فری بلوچستان مہم اب نیویارک میں بھی

فری بلوچستان مہم اب نیویارک میں بھی ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) 
سال2017کے آخر میں سوئٹرزلینڈ اور لندن کے بعد امریکہ کے شہر نیویارک میں بھی فری بلوچستان کی تشہری مہم پہنچ گئی،یہ مذموم اشتہاری مہم ورلڈ بلوچ آ رگنائزیشن جو بلوچ لبریشن آرمی ،بلوچ لبریشن فرنٹ اور ریپبلکن بلوچستان لبریشن سے منسلک ہے نے امریکی شہر نیویارک کے معروف اور مشہور ترین علاقے ٹائمز سکوائر سے شروع کی گئی یہ بل بورڈ ٹائمز سکوائر کے وسط میں کلئیر چینل سپیکٹاکلر نامی کمپنی کا ہے جو فاسٹ فوڈ میکڈونلڈ کے اوپر آویزاں ہے پاکستان دشمن عناصر پر مشتمل ایک منظم لابی اس طرح کی کاروائیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے جو پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش ہے جس کے تانے بانے انڈیا سے جا ملتے ہیں ،معلوم ہوا ہے کہ فری بلوچستان کا یہ اشتہار تین دن تک لگا رہے گا جس کا مقصد امریکی عوام کو بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے اس کے علاوہ یہ گھٹیامہم نیو یارک کی ایک سو سے زائد ٹیکسیوں کے ذریعے بھی جاری ہے، نیو یارک میں جس جگہ بلوچستان فری مہم کا شتہار لگایا گیا ہے اس بارے بل بورڈ کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ اس جگہ آنے والوں میں نمبر1۔امیر لوگ،2 ۔پڑھے لکھے لوگ ،ٹائمز سکوائر آنے والوں میں 70فیصد افراد کالج تک تعلیم مکمل کر چکے ہوتے ہیں ،3۔66فیصد افراد کے اپنے گھر ہیں ،4۔نیویارک میں آنے والے 80فیصد سیاح ٹائمز سکوائر ضرور آتے ہیں اور5۔یہاں آنے والے تین گھنٹے سے اوسط وقت گذارتے ہیں ،اعداد و شمار کے مطابق ہر ہفتے ٹائمز سکوائر سے پانچ لاکھ گاڑیاں گذرتی ہیں،تین لاکھ نوے ہزار افراد ٹائمز سکوائر میں واقع دفاتر میں کام کرتے ہیں اور نیو یارک میں واقع تمام ہوٹلز کے کمروں میں سے 25فیصد کمرے اسی جگہ ہیں،یورپ میں اس تشہیری مہم کا آغاز پاکستان دشمن عناصر نے رواں سال ستمبر میں سوئٹرزلینڈ کے شہر جینوا سے شروع کیا گیاجہاں متعدد مقامات ،بسوں اور دیگر گاڑیوں پر ایسے پوسٹرز آویزاں کئے گئے جن پر بلوچستان کی آزادی ،پاکستان میں اقلیتوں سے مبینہ ناروا سلوک جیسے نعرے درج تھے،حکومت پاکستان نے فری بلوچستان کی اس پوسٹر مہم پر شدید احتجاج کیا اور شر انگیز مہم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا،جینیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں تعینات پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے اپنے ہم منصب کو ایک مراسلے کے ذریعے اس اشتہاری مہم کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات سے آگاہ کیا تاہم سوئس حکام کی جانب سے کوئی بہتر رسپانس نہ ملا جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے سوئس سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج کیاتھا سوئٹرزلیند میں اس مہم کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں ایک مذمتی قرار داد بھی پاس کی گئی جس کے مطابق ملک دشمن عناصر دشمن ملک سے پیسے کے لالچ اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ملک کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اس موقع پر وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ فری بلوچستان مہم کی فنڈنگ انڈیا کر رہا ہے،،دو ماہ بعد یہی گھٹیامہم لندن میں نظر آنے لگی پہلے لندن کی ٹیکسیوں میں یہ پوسٹر چسپاں کئے گئے پھر ایسے اشتہار لندن میں چلنے والی ڈبل ڈیکر بسوں پر عام نظر آنے لگے جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے برطانیہ میں اس مہم کو ملکی سالمیت پر براہ راست حملے کے مترادف قرار دیا،سیکرٹری خارجہ تہمینہ نے برطانوی ہائی کمشنر ٹوئس ڈرو کو طلب کر کے تشویش کا اظہار کیا،پاکستانی احتجاج پر لندن میں ٹرانسپورٹ سے متعلقہ تنظیم ٹرانسپورٹ فار لندن(TFL)نے اس اشتہاری مہم کو ہٹانے کے کام کا آغاز کیا ،چند روز قبل آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا تھاکہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے دو ہزار سے زائد فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں اب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے حکم پر بہت جلد خوشحال پروگرام کا آغاز بلوچستان میں کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ چار نکات پر ہو گا،بلوچستان میں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی کاموں سے پلوتہی نے اس علاقہ میں پسماندگی کو جنم دیا تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلوچستان میں ترجیحی بنیادوں پر کام کئے جا رہے ہیں،اس صوبہ میں قوم پرستی کا آغاز مری قبائل نے کیا جو بلوچ قبائل میں سب سے بڑا اور اہم قبیلہ ہے بلوچستان لبریشن فرنٹ کا آغاز1964میں جمعہ خان مری نے کیا اس تنظیم کے اب بھی دہشت گرد تنظیم جنداللہ سے ہیں جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد نواب خیر بخش مری عرف گونگا بابا جو ساری زندگی قوم پرست اور سوشلسٹ نظریات پر ڈٹے رہے کے بیٹے میر بالاچ مری نے بنیاد رکھی جسے اب عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے،یہ ایک گوریلا دہشت گرد اور علیحدگی پسند تنظیم ہے جو اپنے قیام سے ہی بلوچستان میں گیس لائینیں اڑانے ،فوج ،پولیس اور غیر مقامی افراد پر حملوں میں ملوث رہی ،حکومت پاکستان نے اس دہشت گرد اور شدت پسند تنظیم کو بھارتی سائے تلے کام کرنے والی تنظیم قرار دیا،اس تنظیم کو قیام کے فوری بعد عراق،روس اور انڈیا سے مدد حاصل ہوئی،میر بالاچ مری سات جنوری 1965کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد روس سے سول انجیرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر لندن منتقل ہو گئے انہوں نے مشرف دور میں ہونے والے عام انتخابات2002میں لندن سے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور کامیاب ہو کر حلف اٹھانے واپس پہنچے اور اسمبلی میں حلف لیتے وقت پاکستان سے وفاداری کی بجائے بلوچستان سے وفاداری کا نعرہ بلند کردیا تو ایوان میں شور اور ہلچل مچ گئی ،بعد میں انہیں حکومتی حلقوں کی جانب سے وزارت دینے کی پیشکش کی اطلاعات بھی ہیں مگر انہوں نے قبول نہ کی تو ان کے خلاف کئی پرانے مقدمات کو تازہ اور زندہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ زیر زمین چلے گئے،اگست2006میں مری علاقے میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے وقت بھی اسی غار میں میر بالاچ مری ان کے ساتھ تھے،ان کے کزن کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ جب فوج نے نواب اکبر بگٹی کے خلاف آ پریشن کا آغاز کیا تو اس فوجی اٹیک سے صرف15منٹ پہلے اکبر بگٹی نے انہیں اپنے پوتے نواب براہمداغ بگٹی کو ساتھ لے جانے کا کہا میر بالاچ نے انکار کیا کہ ہم مہمان کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے مگر نواب اکبر بگٹی نے انہیں زبردستی وہاں سے بھیجا اس کے چند منٹ بعد ہی اکبر بگٹی فوجی حملہ میں ہلاک ہو گئی میر بالاچ مری کئی برسوں سے قبائلی معاملات کے ساتھ ساتھ بلوچ مزاحمتی تحریک کے اہم ترین رہنماؤں میں تصور کئے اور حکومت کو مطلوب تھے،میر بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقہ نوشکی کے قریب سرلچ کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی حکومتی ذرائع کے مطابق بالاچ کی موت دو قبائلی دھڑوں کے باہمی فساد کا نتیجہ ہو سکتی ہے،ان کی ہلاکت بارے کچھ یہ اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں کہ وہ افغانستان میں اتحادی فوج کی ایک فضائی حملے میں مارے گئے،بعد میں ان کے بھائی حیر بیار مری نے اس تنظیم کی باگ دوڑ سنبھالی تاہم انہوں نے کئی مقامات پر اس کی تردید کی،ڈاکٹر اللہ نواز بلوچ نے بھی قوم پرستی اور شدت پسندی میں بہت گھناؤنا کرار ادا کیا،یورپ اور امریکہ میں پاکستان کے خلاف ایسی تشہیری مہم پاکستان پر حملہ کے مترادف ہے اسیے عناصر کے ساتھ سختی سے نبٹا جائے اور وہ ممالک جہاں انہیں کسی نہ کسی طرح کے سہولت کار مل جاتے ہیں انہیں بھی خوداری سے روکا جائے ایساکچھ جہاں ہو رہاہے یا مستقبل میں ہو گا وہ ہم سے مخلص نہیں ہیں وہ ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں ہماری سلامتی انہیں کسی صورت نہیں بھاتی ،ہمیں بلا خوف و خطر سب کو کھلا ،کھرا ،سچا اور آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنا ہو گی ۔
a

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com