بے نظیربھٹو ۔۔۔ عظیم لیڈر

بے نظیربھٹو ۔۔۔ عظیم لیڈر
تحریر: عرفان اعوان۔۔۔۔۔ لودہراں

لیڈر نہ تو بنائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں بلکہ لیڈر پیدا ہوتے ہیں ۔ لیڈر کبھی بھی چُھپ کرنہیں رہ سکتا اور سامنے آجا تا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان بننے سے آج تک نہ تو بھٹو جیسا کوئی لیڈر پیدا ہوا ہے اور نہ اس کے اصولوں پر چلے بغیر کوئی خود کو لیڈر منواسکا ہے۔ بھٹو کے بعد آمروں اور ان کے حامیوں نے سمجھا کہ بس اب غریبوں ، مزدوروں ، ہاریوں ، اقلیتوں ، خواتین اور طالبعلموں کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن ہوگئی ہے اور اب صرف سرمایہ داروں ، ڈنڈے والوں اور وڈیروں کا راج رہے گالیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر کمزور اور کم عُمر نظر آنیوالی ایک لڑکی وقت کے ان فرعونوں کے سامنے کھڑی ہوجائے گی اور للکار للکار کر انہیں کہے گی کہ وہ غریب عوام کیلئے اپنی جان کی بازی لگادیگی لیکن تمہارے ارادوں کو کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیگی۔ اس وقت کے جج ، جرنیل ، مُلاں اور مسلم لیگ آخری حد تک گئے اور کہا اب ایک عورت پاکستان کی حکمرانی کریگی ، یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے ، یہ ہماری تہذیب کے خلاف ہے ۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پاکستان کو دوٹکڑے کرنے کا الزام بھٹو پر لگانے والے عوام میں یہ تاثر دینے لگے کہ وہ غدار تھا اور اس کی بیٹی ایک غدار کی بیٹی ہے۔ وقت نے دیکھا کہ وہ کمزور سی لڑکی تن تنہا ڈٹ گئی اور تمام قوتوں کو اپنی ساکھ کے لالے پڑگئے۔ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں جب جمہوری انداز میں حاصل کیے گئے جمہوری مُلک میں اس کے جمہور پر ظلم کی انتہا کی گئی ہو۔ اسی ظلم کی فضا میں 1986میں یہ لڑکی فضاؤں کو چیرتی ہوئی جب لاہور ائیرپورٹ پر اُتری تو تمام تر رکاوٹوں اور خوف کے سائے کے باوجود دس لاکھ سے زائد لوگ استقبال کیلئے موجود تھے۔ وقت کے فرعونوں کو یہ استقبال ، اس کی وجہ اور اس میں شریک عوام کی شرکت ہضم نہ ہوئی اورعوا م پر ظلم میں مزید تیزی کردی۔ یہ وہ وقت تھا جب آمر اپنے انجام کی طرف جارہا تھا اور ایک سال قبل وہ غیرجماعتی انتخابات کراچکا تھا ۔ اسی دورآن آمر ضیاء الحق نے اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت یہ کہہ کر توڑ دی کہ وہ اپنی مرضیاں کرنے لگے ہیں اور نومبر1988میں نئے الیکشن کرانے کا اعلان کردیا۔سدا بادشاہی صرف اللہ کی رہنی ہے اور الیکشن سے دوماہ پہلے اگست میں ضیاء الحق کا طیارہ لودہراں کی سرزمین پر گر کر تباہ ہوگیا اور گیارہ سالہ آمریت کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔ دوماہ بعد نومبر میں الیکشن ہوئے اور گیارہ سال سے ظلم کی چکی میں پِسی ہوئی عوام نے آمر کے بنائے ہوئے نام نہاد لیڈروں کو شکست دیکر ان کیلئے قربانی دینے والے بھٹو کی بیٹی بے نظیر کو ووٹ کے ذریعے وزیراعظم بنادیا لیکن جمہوریت کے دشمنوں کو یہ کامیابی اور حکمرانی ہضم نہ ہوئی اور سازشوں کا عمل جاری رہا۔ دوسال میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کرپشن کا الزام لگا کر ختم کردی گئی اور ایک بار پھر جمہوریت اور پیپلزپارٹی دشمن عناصر نے سازشوں میں تیزی کردی اور اپنے چہیتے اور لاڈلے کو وزیراعظم بنوادیا۔ 1993میں ایک بار پھر تمام ظاہری اور پوشیدہ طاقتوں کو شکست دیتے ہوئے بے نظیر بھٹو مُلک کی وزیراعظم بن گئیں لیکن اس بار بھی انہیں کام نہ کرنے دیا گیااور تین سال بعد ہی ان کی حکومت کو ایک بار پھر توڑ دیا گیا۔یہ چوہے بلی کا کھیل آمریت کے گیارہ سالوں سے بھی بدتر تھا جب عوام کی منتخب حکومت کو کام نہیں کرنے دیا جارہا تھا جبکہ دوسری طرف آمر کے بنائے ہوئے لیڈر پر نوازشات کی انتہا ہورہی تھی اور اسے بڑالیڈر بنانے کی کوششیں جاری تھی۔اس دورآن بے نظیر بھٹو ، اس کے والدین ، خاندان ، سُسرال پر گھٹیا الزامات اور اخلاق سے گری ہوئی تہمتوں کی انتہا کی گئی اور یہ سب کچھ ضیاء الحق کے مشن کو آگے بڑھانے والے اُن کے بنائے ہوئے لیڈر کی سربراہی میں کیا جارہا تھا۔ بے نظیر بھٹو چونکہ بین الاقوامی اور اپنے بل بوتے پر سیاست کررہی تھیں اس لئے ایسے گھٹیا الزامات ان کو کمزور کرنے کی بجائے ان کی طاقت میں اضافہ کرتے گئے اور آمر کا بنایا ہوا لیڈر ایک دوسرے آمر کی گرفت میں آگیا اور دوبار وزیراعظم رہنے والا جب اڈیالہ جیل پہنچا تو اس کے تمام ساتھی موجودہ آمر کے ہاتھ پربیعت کر چُکے تھے۔ اس دورآن آمر مشرف سے معاہدہ اور معافی تلافی کرکے جیل سے جدہ کا سفر شروع ہوا۔یہ وہ وقت تھا جب بے نظیر بھٹو نے اپنے اور پیپلزپارٹی پر کی گئی تمام تر زیادتیوں کو معاف کیااور ایک بار پھر جمہوریت کے قیا م کیلئے اپنے سخت ترین مخالفین کو عام معافی دیکر ان کی بحالی کیلئے تحریک چلا دی جس میں تما م سیاسی جماعتوں نے اُن کا ساتھ دیااور بے نظیر بھٹو نے خالص سیاسی چال چلتے ہوئے نوسال سے اقتدار میں بیٹھے آمر مشرف کو مجبور کردیا کہ وہ نواز شریف کو وطن واپس آنے دیں اور جنرل الیکشن کرائے ۔ حالانکہ اس سے پہلے شریف برادران ایک کوشش کرچکے تھے اور ائیرپورٹ تک آچکے تھے ان کا خیال تھا کہ جس طرح عوام بے نظیر کے استقبال کیلئے 1986میں باہر نکلی تھی ویسے ہی ان کے استقبال کیلئے کم ازکم پنجاب ضرور باہر نکلے گا لیکن ایسا نہ ہوا ۔ بے نظیر بھٹو اپنے باپ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ملک دشمن طاقتو ں کیلئے ایک خطرہ بن چُکی تھیں اور باپ کی طرح بیٹی کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا۔27دسمبر 2007کا سورج دُخترمشرق کو اپنے ساتھ لے کر ڈوبا اور بھٹو خاندان کا ایک اور فرد قوم وملت کیلئے قربان ہوگیا۔ آج بے نظیر کے سخت سے سخت دشمن اُن کا نام لیے بغیر سیاست نہیں کرسکتے اور انہیں جمہوریت کانام لینے سے پہلے شہید بے نظیر بھٹو اور شہیدذوالفقار علی بھٹو کا نام لینا پڑتا ہے۔ آج کئی برس بیت جانے کے بعد بھی جمہوریت دشمن قوتوں کیلئے ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو خطرے کی علامت ہیں ۔ آج وہ اگر زندہ ہیں تو اپنے نظریے کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ سرمایہ دار ، جاگیردار آج بھی کانپ جاتا ہے جب اسے مزدور کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ آج بدقسمتی سے تمام سیاسی لوگ بھٹو کا نام تو اپنے سیاسی پیرومرشد کے طور پر لیتے ہیں لیکن بھٹو اور اس کی بیٹی کے دئیے گئے منشور سے کوسوں دور ہیں کیونکہ وہاں صرف کسان ، مزدور اور محروم طبقات کی بات ہے اور آج کے سیاسی لوگ ان طبقات کو ویسے ہی ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ آج نواز شریف کو بھی یاد آگیا کہ بھٹو کی طرح وہ بھی ایک نظریہ ہے لیکن وہ بھول گئے کہ نظریہ صرف ایک شخص کی ذات کانام نہیں بلکہ ذات سے آگے کی چیز ہے۔ پیپلزپارٹی آج بھی اپنے نظریے پرقائم ہے اور جہاں انہوں نے لچک دکھانے کی کوشش کی وہاں ان کے ورکر ز نے انہیں جُھٹلا دیا ۔ بے نظیر بھٹو کو نہ تو کسی نے لیڈر بنایا اور نہ انہوں نے کوئی سہارا لیا بلکہ اپنے بل بوتے پرانہوں نے منوایا کہ وہ پیدائشی لیڈر ہیں۔ملک کی تاریخ میں بہت سے وزیراعظم آئے لیکن ان کے نام صرف وزیراعظم ہاؤس میں لگی تختیوں تک محدود رہ گئے ۔ قوم اور تاریخ نے صرف بھٹو اور بھٹو کی بیٹی کو یاد رکھا ہے ۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم 
سو بار کرچُکا ہے تو امتحاں ہمارا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com