قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے 

قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے 
یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ ڈائیلاگ وقت کی ضرورت بن چکا ہے مملکت خدادا اب نئی وسعتیں طے کر چکا ہے سی پیک اس ملک کی ترقی کا ضامن ہو گا مگر اس سے پہلے ڈائیلاگ ضرور ہونا چاہیے مگر ایسے نہیں جیسے آج کل قوم کو بیوقوف بنانے کیلئے اس لفظ کا استعمال تبرک سمجھ کر کیا جا چکا ہے جب بھی کسی صاحب اقتدار کو اس کی ناقص ذاتی واقرباء پروری پر مشتمل پالیسوں کی وجہ سے منظر سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ ڈائیلاگ کا نعرہ مستانہ بلند کرتا ہے بھائی میرے جس ڈائیلاگ کی یاد آپ کو ایسے آئی ہے جیسے آسمان سے الہام ہوا ہو اس کی ضرورت آپ سیاستدانوں کو بہت ذیادہ ہوگی مگر وطن عزیز کو نہیں ہے پاکستان کے ستر سالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے تو ایک حصہ پاک آرمی اور دوسرے میں سے ذیادہ حصہ آج کل کے نوے دن کے انقلابی نعروں کو ملا ہے۔ 
جناب عالی !ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے اس ایجنڈے پر نہیں جس کی بات آپ کرتے ہیں آپ مسند اقتدارسے باہر کیا ہوئے ملک بھی خطرے میں پڑ گیا بقول �آپ کے اگر ڈائیلاگ نہ کیا گیا تو کوئی بڑا سانحہ رونماء ہو سکتا ہے جناب سانحہ کونسا رونماء ہو گا یہ بات تو آپ کے چھوٹے بھائی خادم اعلیٰ ہی بڑے عرصے سے بتا چکے ہیں جب وسائل پر اشرافیہ قابض ہو لوگ صاف پانی کی بوند اور روٹی کے نوالے کو ترستے ہوں تو پھر خاکم بدہن ایسے حکمرانوں کے خلاف کسی بڑے سانحے کو رونماء ہونا چاہیے جس خونی انقلاب کی بات میاں شہباز شریف کرتے تھے اس کا رخ آپ کی طرف ہی نہیں بلکہ عوام کے وسائل لوٹنے والے تمام افراد کی طرف ہو چکا ہے جناب قوم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آپ نے ہمارے حق میں آج تک ڈائیلاگ کی بات کیوں نہ کی ؟ماسوائے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے جھوٹے وعدے وعید اور طفل تسلیاں دینے کے آپ نے کونسا ڈائیلاگ کیا ہے ہمارے لیئے آج قوم آپ سے پوچھتی ہے حضور جواب دیں ۔اس قوم کو ٹرک کی بتی پیچھے لگا کر ابھی تک آپ حکمرانی کے مزے لے رہے ہیں آپ کو کیوں یاد نہ آیا کہ قوم کے حق میں ڈائیلاگ کر لیا جائے آئین کے ان حصوں پر بھی عمل کرلیا جائے یا نہ ماننے والے سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر ڈائیلاگ کر لیا جائے جو عوام کو بنیادی سہولیات دینے کی ضمانت دیتے ہیں آپ کو یاد آنا ہی نہیں تھا جناب چونکہ آپ کے انٹرنیشنل وسیع وعریض تعلقات ہیں آپ کے ساری دنیا میں کاروبار ہے ملک دشمن عوام دشمن سیاستدان آپ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے اور ہیں آپ کو یاد ہی نہیں تھا ۔
جناب آج آپ نوے دن کے انقلاب کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں جناب یہ نعرہ مستانہ آپ کو پہلے کیوں یاد نہیں آیا ہے اس بات کا جواب دینا پسند کریں گے آپ ؟اس قوم کا خون نچوڑنے کیلئے نت نئی مکارانہ پالیسیاں بناتے وقت کاغذی منصوبوں کے ذریعے اس ملک کی دولت کو کمیشنوں کے نام پر اپنے اور دوسرے سیاستدانوں و اشرافیہ کی جیبوں میں ڈالتے وقت یہ انقلاب جناب کے دل میں کہاں سویا ہوا تھا کیا بتا سکتے ہیں آپ۔
آج اس قوم کے بچے پڑھ لکھ کر نوکریاں نہ ملنے پر اپنی ڈگریاں جلا رہے ہیں تو کوئی کسی ڈکیت گروپ میں شامل ہو رہا ہے ماں باپ دودھ کیلئے پیسے نہ ہونے پر اپنے متاع زندگی جگر کے ٹکڑوں کو زندہ درگور کر رہے ہیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی اولاد کی خواہشں پوری نہ کر سکنے پر اور وہ خواہشیں کیا ہیں ماں کہتی ہے بچوں کے باپ سے صبح مزدوری پر جاتے وقت دودھ کیلئے پیسے دیتے جاؤباپ پیسے نہ ہونے پر مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے اپنے ہی چمن کو جلا ڈالتا ہے جناب عالی!یہ پچاس سالہ پرانا قصہ نہیں ہے آپ ہی کی حکومت میں رونماء ہونے والا دلدوز واقعہ ہے لاہور میں ماں بچوں کو ایک نوالہ روٹی میسر نہ کر سکنے پر خود بھی زہر کھا لیتی ہے ساتھ میں اپنی ننھی کلیوں کو بھی کھلا دیتی ہے کہ میرے جگر کے ٹکڑو یہ دنیا تمہیں نوچ کھائے گی اور میری روح کو بہت تکلیف ہو گی اس لیئے آجاؤ اس ظالم دنیا کے انقلابی نعرے لگانے والے لیڈروں سے میں اپنے ساتھ تمہیں بھی آزاد کردوں !حضور میں جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں بلکہ اس قوم پر ہونے والے مظالم کو یاد کروا رہا ہوں میرے الفاظ تلخ نہیں بلکہ حقیقت ہوتی ہی تلخ ہے ۔
جس دور میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی 
اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے 
جناب ڈائیلاگ ہو نا چاہیے سب حکمرانوں کی پالیسیوں پر جنہوں نے آج تک اس قوم کے غریبوں کو ماسوائے آکسیجن کے سلنڈر کے کچھ نہیں دیا جو مریض کو اس لیئے لگایا جاتا ہے کہ آخری لمحے تو سکون سے نکال سکے جناب آپ ہی کے دور حکومت میں عوام کی مائیں فرشوں پر دم توڑتی ہیں حضور بوڑھے پنشنرز حضرات لائن میں کھڑے کھڑے دم توڑ دیتے ہیں آپ نے کسی بھی ضلعی ہسپتال کو اس قابل نہیں کیا کہ وہاں پر کوئی غریب اپنا علاج کروا سکے جنا ب انسانوں پر آپ نے پیسہ خرچ نہیں کیا ہے الٹا آپ نے قوم کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے منصوبوں پر عمل پیرا ہو کر بھکاری بنا دیا ہے جناب آج آپ کے منتخب عوامی نمائندے قوم کو نوکریاں بیچتے ہیں اور قوم کے نوجوان پہلے تو ماں باپ کا پیسا پڑھائی پر خرچ کرواتے ہیں تو بعد میں رہی ماندہ کمائی آپ کی سرکار سے نوکری حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں میرے بادشاہ وقت کیا یہ باتیں ڈائیلاگ کے قابل نہیں ہیں یا پھر ان باتوں میں آپ کا مفاد ہی شامل نہیں ہے۔ 
جناب عالی میں وہ قلم کا ر نہیں جو لفظوں کے پہاڑ بنادوں انشاپردازی کر کے الفاظ کے ایسے گورکھ دھندے استعمال کروں جنہیں یہ قوم سمجھے کہ واہ ہمارے حق میں بڑا لکھ دیا ہے نہیں جناب سیدھا سادھا انسان ہوں اس لیئے وہی لفظ لکھوں گا جن کو قوم اور آپ بھی سمجھ سکیں ۔
جناب پینے کا صاف پانی پورے ملک میں تو دور کی بات صرف لاہور میں ہی نہیں ہے باقی پنجاب کو آپ کیا دیں گے پسماندہ علاقوں کی ترقی آپ کی اولین ترجیح ہے جناب عالی اپنے لاہور کے مضافاتی علاقوں کو ہی دیکھ لیںیا پھر یہ باتیں ڈائیلاگ کے قابل نہیں ہیں بڑے ہی معذرت کے ساتھ آپ کی بنائی پالیسیوں پر آج نئے بھرتی ہونے کے خواہشمند اس قوم کو سبق یاد کروانے والے اقبال کے شاہین بنانے کی جن سے امید ہے وہ ہی زلیل ہو رہے ہیں جناب آج آپ کے ہونہار افسران قوم کے ان معماروں کو اپنی دوغلی پالیسیوں میں گھسیٹ رہے ہیں میری مراد محکمہ ایجوکیشن ہے جہاں پر قوم کو معذوروں ،اقلیتوں ،خواتین اور مردوں کی ترتیب لگا کر میرٹ سے آؤٹ کر رہے ہیں جبکہ یہ آپ کے ہونہار افسران کی پالیسیوں میں تحریری طور پر کہیں شامل نہیں ہے آخر ایسا کیوں کیا جاتا ہے آپ بتا سکتے ہیں کیا یہ باتیں ڈائیلاگ کے قابل نہیں ہیں ایک طرف آپ پٹواریوں کو کرپشن سے روکتے ہیں تو دوسری جانب ہر علاقے میں ہونے والے سرکاری فنکشنز کے اخراجات آپ انہی کی جیب سے پورے کرواتے ہیں یہ دوغلا پن آخر کیوں ہے ؟
آخری لفظو ں کی طرف بڑھتا ہوں جناب نصاب تعلیم بدلا گیا حکومت آپ کی ہے خطرناک تبدیلیاں کی گئیں مگر آپ قابو نہیں کر سکے آپ کے منسٹر بھی ایک لفظ بول نہیں سکے کیا یہ سب کچھ آپ کی مرضی کے بغیر ہوا ہے جناب اس پر بھی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے لکھنے کو تو بہت کچھ ہے جناب آپ اب اس قوم کو نعروں سے بیوقوف نہ بنائیں بلکہ اب شاید آپ کے پاس وقت نہیں ہے جن کے پاس ہے انہیں کام کرنے دیں ۔یہ ملک بہت عظیم ہے اور جو اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریگا اس کے ساتھ باتوں کا ڈائیلاگ نہیں بلکہ ہمارے بہادر جوان ٹینکوں اور گولیوں سے ڈائیلاگ کریں گے ۔
مہر سلطان محمود ایڈیٹر روز نامہ جسٹس پاور لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com