پلاسٹک شاپنگ بیگز سے آلودگی میں اضافہ اور سیوریج بند

پلاسٹک شاپنگ بیگز سے آلودگی میں اضافہ اور سیوریج بند حدیث پاک کا مفہوم ہے (اطہور شطر لاایمان) ترجمہ؛ صفائی نصف ایمان ہے ؛ویسے تو انسان کو ہر وقت پاک اور صاف رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے گھر بار اور اردگرد کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھنا چاہیے تا کہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہو سکے ۔اللہ کریم نے اس دنیا کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا ہے ۔ کہیں گھنے درخت اگائے تو کہیں سر سبز و شاداب باغات پیدا کیے ، کہیں دریا کہیں سمند ر تو کہیں آسمان کو چھوتے بڑے بڑے پہاڑ جو ، زمیں کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں، ان خوبصورت نظاروں کو دیکھتے ہی اللہ کی قدرت اور انسان پر دی گئی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے کتنی خوبصورتی سے اس دنیا کو انسانوں کے لیے سجایا ہے اور کوئی ایک چیز بھی فالتو نہیں پیدا فرمائی تا کہ حضرت انسان کی خواہشات کی تکمیل ہو سکے ۔ قرآن مجید میں اللہ کریم کا ارشا دہے جس میں اللہ تعالی ٰ اپنی کاری گری کی تعریف فرما رہے ہیں۔ سورۃ نمل آیت نمبر۸۸ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اللہ کی قاری گری ہے ، جس نے ہر چیز کو مناسب انداز میں مظبوط بنا رکھا ہے۔قرآن پاک بھی ہمیں پاکیزگی کا درس دیتا ہے کیونکہ ا للہ پاک صاف ہے اور وہ پاک صاف لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ اگر صحت مند زندگی کی خواہش ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ماحول بھی صاف ستھر ا اور گندگی اور الودگی سے پاک ہو کیونکہ اگر ہم اپنی یا اپنے گھر کی صفائی کرلیتے ہیں وہ کوڑا کرکٹ باہر گلیوں میں پھینک دیتے ہیں تو اس سے ماحول آلودہ ہونے کے قوی امکان ہیں جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے ۔اس لیے ہمیں حفظان صحت کے اصولوں کو اپنانا ہوگا پھر جا کر کہیں ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہے ۔جہاں اسلام ہمیں خود صاف ستھرا رہنے کی ہدایات دیتا ہے وہیں ماحول کو صاف رکھنے کی تلقین بھی کرتا ہے جب ہم اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینک دیں گے اس سے ایک تو بد بو خود گھر والوں کو برادشت کرنا پڑے گی دوسروں کے لیے مشکل ہوگی اور راہگیروں کے لیے وبال جان بنے گا ۔اسلام ہمیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جہاں ماحول کو دھواں آلودہ کر رہا ہے وہیں آج کل ایک نئی بیمار ی پلاسٹک شاپنگ بیگ بھی یہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ پلاسٹک شاپنگ بیگ جہاں عارضی طور پر سہولت فراہم کر رہے ہیں وہیں ماحول کو آلودہ کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہاں ایک بات واضع کر نا چاہوں گا ہمار ی عادت میں تنقید شامل ہوچکی ہے ہم صرف دوسروں پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت وقت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحول کا آلودہ ہونے سے بچائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری بھی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پلاسٹک شاپنگ بیگ صفا ئی ستھرائی میں بھی روکاوٹ کا باعث بنتے ہیں پلاسٹک شاپنگ بیگ پائپ نالیوں میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکاسی آب میں دشواری ہوتی ہے اور گندہ پانی لوگوں کے گھروں میں گٹروں کے ذریعے داخل ہو جاتا ہے اور ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے یہ وہی پلاسٹک شاپنگ بیگ ہے جس کو گلی میں پھینک کر ہم نے اپنے گھر کو صاف کیا تھا۔ پلاسٹک شاپنگ بیگ جہاںآلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں وہیں نکاسی آب میں شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں محکمہ موحولیات کو چاہیے کہ وہ فوراََ اس مسلے پر غور کرے ، صرف کاغذی کاروائیوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس مسلے کے حل کے لیے فوری طور پر عملی طور پر حکمت عملی تیار کرے ۔ جس طرح شہروں کی آبادی میں دن بند اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے وہیں پلاسٹک شاپنگ بیگ کا استعمال بھی کہیں زیادہ ہوتا جا رہا ہے جس سے شہری بہت سے بیماریوں کا شکار ہیں ۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک پلاسٹک شاپنگ بیگ کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں لیکن افسوس پاکستان میں ابھی تک اس کا تدارک ممکن نہیں ہوسکا۔محکمہ ماحولیات نے 2002ء میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے رو سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کا وزن ۱۵ مائیکرون ہونا ضروری ہے لیکن اس پر عمل درآمد نظر نہیں آرہا ، ایک منصوبہ یہ بھی یا تو اس کا وزن ۵۰ یا ۶۰ مائیکرون کر دینا چاہیے یا اس کی تیاری میں ایسے کیمیکل یا ایسڈ کا استعمال کرنا چاہیے جس یہ پلاسٹک شاپنگ بیگ خود بخود کچھ عرصے بعد تحلیل ہو جائے ۔ کیونکہ پلاسٹک شاپنگ بیگ کا استعمال ماحول کی آلودگی کے ساتھ ساتھ انسانوں اور جانوروں کی صحت کے لیے بھی مضر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوست ہمسایہ ملک چائنہ میں ۶۰ مائیکرون وزن سے کم کا پلاسٹک شاپنگ بیگ استعمال کرنے پر سخت پابندی عائد ہے لیکن ہمارے ملک پاکستان میں ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہی نہیں کیا جا سکا کہ اوپر بیان کر دہ طریقہ استعمال کو یقینی بنایا جائے گا یا اس بیگ کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے ۔بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں کاغذ سے بنے شاپنگ بیگ کو استعمال میں لا یا گیا ہے اس بیگ کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ کچھ دیر پانی میں پڑا رہنے سے یہ بیگ خود بخود تحلیل ہو جاتے ہیں جس سے نہ تو آلودگی کا باعث بنتے ہیں اور نہ ہی سیوریج کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ملک میں پلاسٹک شاپنگ بیگ کے استعمال کو روکنا ہوگا کیونکہ مون سون کے سیزن میں سیوریج کے نظام کو بری طرح متاثر کرتے ہیں انسانوں کی نسبت جانوروں کے لیے یہ بہت زیادہ نقصان دہ ہیں۔ اگر حکومت وقت کوئی مثال قائم کر دے ، عملی قدم اٹھائیں تو عوام بھی ان کے نقش پرچلنے لگ پڑے گی۔اس موزی بیماری سے بچنے اور ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ہم سب کو مل کر حکومت وقت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ٹھوس و عملی اقدامات اٹھائیں اورپلاسٹک شاپنگ بیگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے کاغذ کے بنے شاپنگ بیگز کے استعمال کو یقینی بنائیں آئیں ہم سب مل کر اپنے گھر، محلوں ، گلیوں ، لاری اڈوں ، ریلوے اسٹیشنز اور پارکوں کو اپنی مدد آپ کے تحت صاف ستھرا رکھیں تا کہ ہمارا آنے والا کل آج سے بہتر ہو سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com