ملحدین کے خلاف سازش۔ آخر کیسے ممکن ہے؟

(ابن نیاز)
ملحدین درحقیقت اور کوئی نہیں بلکہ یہودیوں، قادیانیوں اور عیسائیوں کی سازش ہے۔ وہ ذاتی طور پرازلی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خود کو پس پشت رکھ کر ان افراد کو سامنے لاتے ہیں جو اس دین اسلام میں کسی بھی سطح پر کسی سقم کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ سقم کا ذکر کرنا دراصل ان کے ناقص علم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ کسی عالم باعمل یا عالمِ حق سے رجوع نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کے اذہان میں اس طرح کے لایعنی سوالات جنم لیتے ہیں۔اور جب اس طرح کے سوالات یہودیوں یا عیسائیوں کی نظر سے گزرتے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کچے ذہن کے پکے لوگ پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں گرنے کو کسی بھی وقت تیار ہیں۔ پھر یہ پس پشت رہنے والے اسی طرح کے اور سوالات تیار کرتے ہیں اور ان کو بھیجتے رہتے ہیں۔وہ بھی ان سوالات کو بنا تحقیق کے مختلف علماء سے پوچھتے رہتے ہیں جو اس کا جواب تو دے دیتے ہیں لیکن یہ لوگ اس جواب کو شافی جواب نہیں سمجھتے۔ اور سوال در سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو سوال کے جواب میں دلیل دی جائے۔ لیکن بھلا ہو ان کے کچے ذہن کا کہ دلیل کو بھی وہ نہیں مانتے۔بھلے ان کو قرآن کی کوئی آیت نہ سنائی جائے، کوئی حدیث نہ سنائی جائے۔ ان کو صرف اور صرف دلیل دی جائے لیکن میں نہ مانوں کے مصداق نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ خدا کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا خود بخود وجود میں آئی۔ خود بخود چل رہی ہے۔ میرا ان سے بالکل ایک عامیانہ سا سوال ہے کہ کیا ان کے ہاتھ میں موجود موبائل بنا کسی سافٹ ویئر کے چل سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ یقیناًوہ سافٹ ویئر بھی کسی نے بنایا ہی ہو گا۔ تو یہ کہتے ہیں کہ یہاں سافٹ ویئر بنانے والے کا علم تو ہے نا۔ تو یہی تو بات ہے کہ جب سافٹ ویئر کے بغیر ایک چھوٹا سا نوکیا ۱۱۰۰ نہیں چل سکتا تو اتنی بڑی کائنات بنا کسی ضابطے کے کیسے چل سکتی ہے۔ اور جب کوئی ضابطہ ہے تو اس ضابطے کو بنانے والا بھی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ موبائل سافٹ ویئر بنانے والا نظر تو آتا ہے کہ ہاں فلاں خالق ہے۔ تو میں یہ کہوں گا کہ عام دنیاوی خالق میں اور کائنات کے خالق میں یہی تو فرق ہے۔ جو نظر آگیا، وہ تو انسان ہو گیا۔ مخلوق ہو گیا۔ خالق کا مطلب ہی یہی کہ وہ اپنی مخلوق کو نظر نہ آسکے۔ کیا سافٹ ویئر اپنے خالق کو اس حیثیت سے پہچانتا ہے کہ یہ اس کا خالق جب تک اس کانام پتہ، حلیہ یا مخصوص الفاظ اس سافٹ ویئرمیں ڈالے جاتے ہیں ،تب ہی وہ سافٹ ویئر اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔ لیکن صم بکم عمی فھم لا یرجعون۔ وہ گونگے بہرے اور اندھے ہیں اور ہر گز لوٹنے والے نہیں ہیں۔ 
کچھ ایسی ہی صورت حال مولانا عبدالوحید عرف ایاز نظامی کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔بے چارہ ایاز نظامی سابقہ مسلمان اور مذہبی سکالر تھا۔ اس کا تعلق ایک مسلمان خاندان سے تھا۔ روایتی طور پر سکول میں داخل ہونے کے بعد وہ اپنے مذہب اسلام کے ساتھ منسلک تھا۔ وہ اس دین کو مزید بہتر طور پر سمجھنا چاہتا تھا اور اس پر عمل کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک مخصوص مسلک کا انتخاب کرکے اس مسلک سے متعلقہ ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔جیسے جیسے وہ مدرسے میں درجہ بہ درجہ آگے بڑھتا گیا، اس کے ذہن میں سوالات کا انبار لگتا گیا۔ جس کا شافی جواب اس کے مدرسے کے اساتذہ نہ دے سکتے تھے۔اس کی وجہ سے اس کے ذہن میں دین اسلام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے۔مذہب اس کے لیے ایک ثانوی حیثیت اختیار کرتا گیا۔ باوجود اس کے، اس نے اپنی دینی تعلیم جاری رکھی۔ تفسیرو اصول تفسیر، حدیث و اصول حدیث، اصول فقہ، عربی لغت (بشمول قواعد، ذخیرہ الفاظ اور ادب)، فلسفہ اور علم منطق یا استدلال اس کے اہم مضامین تھے۔
ایاز نظامی نے اسلام کا گہرائی میں مطالعہ کیا۔ اس کی آنکھیں کھل گئیں (جو درحقیقت کھلی نہیں تھیں، بلکہ اللہ کے حکم کے مصداق اندھی ہو گئی تھیں ) اور اس نے جانا کہ جو دینِ ابراہیمی ہے وہ الوہی نہیں ہے بلکہ انسانی دماغ کی اختراع ہے۔ اور بالخصوص انسان کی تہذیب و ثقافت کا مجموعہ ہے۔ دین کی یہ حقیقت جان کر اس نے اپنے ملک کے دیگر عوام کو اس (گمراہ کن )عقیدے کی تعلیم سے روشناس کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بقول اس کا مشن (جھوٹی) سچائی کو پھیلانا اوراس علم کو عام کرنا جس کی بدولت اس نے (جھوٹی) حقیقت جانی ہے۔ اس سلسلے میں اس کا کوئی بھی چھپا ہو ایجنڈا نہیں ہے۔ جو ہے سامنے ہے۔
پھر 2012 میں ملحدین و مادیت پرست اتحاد پاکستان نامی تنظیم کے آغاز کرنے میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اس نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس نے یکم جنوری 2013 کو realisticapproach.org کے نام سے ایک اردو ویب سائیٹ کا آغاز بھی کیا۔جس میں اس کے مدد گار اسی جیسے ذہن رکھنے والے ملحدین شامل تھے جو دین اسلام کے (غلط طور پر) تاریک پہلو کو سامنے لانے میں پیش پیش تھے۔
ایاز نظامی نے مدرسہ سے تعلیم تو ضرور حاصل کی لیکن علم نہیں۔ کیونکہ اگر علم حاصل کیا ہوتا تو ہر گز اللہ کا منکر نہ ہوتا۔ کیونکہ علم میں تو قدم قدم پر ، قرآن کی ہر ہر آیت پکار پکار کر اللہ کی وحدانیت کا، اس کی موجودگی کا اقرار کرتی ہے۔ رسول پاک ﷺ کا فرمان درحقیقت اللہ کا ہی فرمان ہے۔ لیکن اس نے معلوم نہیں کن علماء سے تعلیم حاصل کی جو اس کے سوالات کا جامع جواب نہ دے سکے۔ یا پھر اللہ نے تب اس ایاز نظامی کے دل پر مہر لگا دی ہو گی جب اس نے پہلا گستاخانہ سوال کیا ہو گا۔ اس کو بلا شبہ بہترین اور مدلل جواب ملا ہو گا، لیکن جب اس نے نہ ماننے کی قسم کھا ہی لی ہو گی، تو پھر کیا پتھر، کیا پانی۔ اس پر کس بات نے اثر کرنا۔ اس ساری تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی علم حاصل کرکے خود سے عالم فاضل بن جائے تو وہ تباہی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ اس کی دنیا بھی خراب ہوسکتی ہے اور آخرت تو ہوتی ہے تباہ ہے۔بلم باعور کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں موجود ایک باعمل شخص تھا اور اتنا عالم تھا کہ اس کو اسم اعظم اور اسکا استعمال معلوم تھا۔ لیکن پھر کسی کے ورغلانے میں آکر اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اسم اعظم کا عمل کیا۔ یہ الگ بات کہ اللہ کے حکم سے وہ عمل کارگر نہ ہوا۔ لیکن اس بلم باعور کی حالت اس طرح ہو گئی جیسے ہانپتا ہوا کتا۔ تفصیل کے لیے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۶ کا مطالعہ تفسیر کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
ملحدین کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اب یہ ملحد ایاز نظامی پکڑا گیا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر اور انٹرنیٹ پر گستاخی کی انتہا کر دی تھی۔ لیکن اللہ کی رسی دراز ضرور ہے لیکن جب کھنچی جاتی ہے تو پھر اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ البتہ اس ایاز کو پکڑنے کی وجہ سے ایک اور مسلہ مدرسوں کے حوالے سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کہ یہ سب مدرسوں کی تعلیم کا قصور ہے۔ بدبختو، مجھے یہ بتاؤ کہ اس ایاز نظامی کے علاوہ اور کتنے لوگ مدرسوں سے پڑھ کر گستاخ رسول بنے۔ جس طرح میں نے شروع میں کہا کہ گستاخان کی اکثریت کے پیچے یہودی و عیسائی گستاخوں کا ہاتھ ہے۔ وہ ہمیشہ پس پشت رہ کر دوسروں کا کندھا استعمال کرتے ہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر اس ایاز نظامی کے تعلقات تو نہیں لیکن اس کے روابط انٹرنیٹ کے ذریعے الٹی سمت تلاش کرنے آسان ہوں تو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی غیر مسلم کا رابطہ ضرور ملے گا۔اور یہی ملحدین کے خلاف درحقیقت سازش ہے۔ آزمائش شرط ہے۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com