سیاسی گلے شکوے یا قوم سے مذاق

سیاسی گلے شکوے یا قوم سے مذاق
غلام مرتضیٰ باجوہ 
یوم پید ائش قائداعظم محمد علی جناح ، سالگر ہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمدنواز شریف ، مسیحی برادری کا کرسمس کے حوالے سے پاکستان میں 25دسمبر کے دن کو بہت اہمت حاصل ہے اس موقع پر پاکستان بھر میں خصوصی تقریبات ، سیمینار سمیت جلسے ، جلوسوں کا خاص اہتمام کیاگیاجس میں وطن عزیز سمیت محب وطن شہداء کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔
قا ئد اعظم کے یوم ولادت پروزیراعلیٰ شہباز شریف نے 20 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین ادارے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا ۔ جس میں گردے و جگر کے امراض میں مبتلا مستحق مریضوں کا علاج مفت ہوگا اور مریضوں کوتشخیص اور علاج معالجے کی جدید سہولتیں ملیں گی۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ میاں شہبا زشر یف اپنی تقریر میں بے شما ر گلے شکوے بھی کیالیکن عالمی اداروں کی تعلیم اور صاف پانی کے بحران کی رپورٹ کاسیاسی مخالفین کی نذر کردیا کہا کہ ہم یہ دن گزشتہ 70سالو ں سے منا رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ یہ دن اس لئے منفرد ہے کہ پنجاب حکومت نے قائد اعظم کے ویڑن کے مطابق دکھی انسانیت کو ایک عظیم ہسپتال کا تحفہ دیا ہے۔ وسائل سے محروم غریب مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوگا جبکہ وسائل رکھنے والے مریضوں کو ادائیگی کرنا پڑے گی اور یہی قائد کا ویڑن تھا۔ یہاں نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے غریب مریضوں کا علاج یہاں مفت ہوگا۔پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے یہ ادارہ قائم کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ہمیں آج کے دن اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ ہم نے بانیان پاکستان اور اپنے آباؤ اجداد کی جدوجہد اور قربانیوں کا کہاں تک احترام کیاہے۔موجودہ حکومت نے قائداعظم کے یوم ولادت پر ایک ا یسے منصوبے کا افتتاح کیاہے جو قائد کی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اشرافیہ کی چوکھٹ پر تو زندگی کی تمام نعمتیں سلام کرتی ہیں جبکہ ملک کی بڑی آبادی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔
ماہرین اور مبصرین کہناہے کہ افسوس اگر وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریفعالمی اداروں کی رپورٹس کو بھی زیرغور لاتے تو پتہ چلتا کہ پاکستان بھر مسلم لیگ ’’نون ‘‘ کی حکومت کی پالیسیوں کے باعث سکولوں میں تدریسی عملہ سمیت بنیادی سہولیات کا فقدان طالب علموں کی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ بیشتر سکولوں میں پینے کا صاف پانی اور واش رومز کی صاف اور معیاری سہولیات موجود نہیں،کلاسوں میں حاضری گو پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے لیکن معیار تعلیم و تریبت یافتہ تدریسی عملے کی کمی کے باعث ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل ہیومن کیپیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 130 ممالک کی فہرست میں شرمناک طور پر 125 ویں نمبر پر ہے اور تعلیم و تربیت اور اہلیت تعلیمی اداروں اور دیگر ذرائع کے ذریعے طالب علموں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ یونیسف کی حالیہ رپورٹس سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھول کر رکھ رہی ہیں جس کے مطابق 53 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی موجود نہیں، بوائز اور گلرز اسکولوں میں تقریبا 50 فیصد اسکولوں میں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں۔ پاکستان اکنامک سروے رپورٹ 2016۔17کے مطابق شرح خواندگی ملک تشویشناک حد تک 5 فیصدگر گیا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان 17ملکوں میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق قیام پاکستان کے وقت ہر شہری کیلئے 5600کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر 1000 کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور 2025 تک 800 کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ دیکھا جائے تو صاف پانی کا مسئلہ دہشت گردی‘کرپشن اور توانائی کے بحران سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے 24 اضلاع اور 2807 دیہات سے پانی کے نمونوں میں انکشاف ہوا ہے کہ 62 سے 82 فیصد پینے کا پانی مضر صحت ہے۔ 
امید ہے کہ تقریب میں جس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا کہ مجھے 2003میں اپینڈکس کے مہلک کینسر کے خطرناک مرض کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے امریکہ سے علاج کرایا اور اللہ تعالی کا کرم تھا کہ میرا علاج کامیاب ہوا جس کی بدولت میں آج آپ کے سامنے موجود ہوں۔مجھے اس علاج پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑی لیکن میں سوچتا ہو ں کہ اگر رحیم یا ر خان، کراچی، کوئٹہ، پشاور یا پاکستان کے کسی دور دراز علاقے کے کسی غریب خاندان کے فردکو یہ موذی مرض لاحق ہو گیا تو وہ اپنے علاج پر 50، 60لاکھ روپے کہاں سے خرچ کرے گا، وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دوائی اور علاج نہ ملنے سے خالق حقیقی سے جا ملے گا۔احساس ہونے کے باوجود ابھی کئی سالوں سے مسلم لیگ ن حکومت قائم ہونے پر بھی عوامی کو سرکاری ہسپتا لوں میں علاج تومکمل میسر نہیں بلکہ فری پارکنگ کا نظام بھی نہیں مل سکا ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کر کے ایک ٹیم کی طرح متحد ہو کر آگے بڑھنا ہے۔سیاسی لڑائیاں الیکشن میں لڑیں۔ سیاست سے انسانیت کے دکھوں میں اضافہ نہ کریں اور غریب کی غربت کو نہ بڑھائیں۔ اب تو خداکیلئے سیاستدان اپنے تقریروں میں سیاسی گلے شکوؤں کے ذریعے پاکستانی قوم کا مذاق اڑانا بند کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com