قبل ازوقت انتخابات 

وصال محمدخان
قبل ازوقت انتخابات 
جسے ہم جمہوریت کے نام سے جانتے ہیں اورجسے فی زمانہ بہترین طرزحکومت سمجھاجاتاہے اس کابنیادی جزوبرداشت ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت برداشت کانام ہے صبر،استقامت اورتدبرکے مادے جس جمہوریت میں موجودہوں اسی جمہوریت سے عوام مستفیدہوتے ہیں اوراسی جمہوریت سے معاشرے اورملک ترقی کی شاہراہ پرناصرف گامزن ہوتے ہیں بلکہ فراٹے بھی بھرتے ہوئے نظرآتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی جمہوریت کے نام پہ ایک عجیب الخلقت طرزحکومت رائج ہے جوناہی صحیح معنوں میں جمہوریت کہلانے کی مستحق ہے اورناہی اسے ڈکٹیٹرشپ کانام دیاجاسکتاہے مگرکچھ نہ ہونے سے کچھ ہونابہترہے کے مصداق بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت اچھی ہوتی ہے ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پہ جوپارلیمانی نظام کاچربہ رائج ہے اورجس کی ہئیت ترکیبی پراگرچہ جمہوریت کا لیبل لگاہواہے مگرحقیقت میں یہ جمہوریت نہیں بس ملک چلانے کیلئے ایک برائے نام ٹوٹاپھوٹانظام ہے جس سے یہ ملک اسی توٹے پھوٹے اندازمیں’’جیسامنہ ویساتھپڑ‘‘کی مانند چل رہاہے کبھی آمریت کے گھٹاٹوپ اندھیرے ملک کواپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں توکبھی نیم دلانہ بظاہرکچھ اختیارات سویلینز کوسونپ کرکنٹرولڈقسم کی طرزحکومت کوجمہوریت کانام دے دیاگیاہے اکثروبیشترفوجی آمروں کوعدالتیں آئین میں ترمیم کااختیارتک تفویض فرمادیتی ہیں آمرآئین کوکھلوناسمجھ کراسکی اٹاپٹخ میں جت جاتے ہیں اس اچھل کودمیں آئین کاحلیہ ہی بگڑجاتاہے 1973کے موجودہ آئین میں آج بھی آمروں کی جانب سے کی گئیں ترامیم موجودہیں جوسراسرملک وقوم سے غداری کے زمرے میں آتاہے آئین میں ترمیم کے مروجہ طریقے سے ہٹ کراسمیں فردواحدکوترمیم کااختیارتفویض کرنابذات خود ایک بڑاجرم ہے مگرہمارے ہاں کبھی نظریہء ضرورت اورکبھی ایل ایف اوکی شکل میں عدالتیں ہی آئین کامذاق اڑانے اوراس کاحلیہ بگاڑنے میں مصروف رہتی ہیں قابل افسوس امریہ ہے کہ آئین کاحلیہ بگاڑنے اوراس میں من پسند ترامیم کرنے پرآج تک ناہی کسی جج کوکوئی سزاہوئی ،کوئی ڈکٹیٹرقانون کی گرفت میں آیااورناہی ساتھ دینے والاکوئی سیاستدان اس جرم میں جیل گیاجس کے جی میں آتاہے اورجس کابس چلتاہے وہ آئین کوموم کی ناک سمجھ کراسے ادھرسے ادھرموڑلیتاہے جج اورجرنیلوں کورکھیں ایک طرف یہاں آئین میں غیرقانونی ترامیم کیلئے سیاستدان ہی ادھارکھائے بیٹھے رہتے ہیں وہی سیاستدان آمریت کے بھی ساتھی ہوتے ہیں اورجمہوریت کے بھی بابے بن جاتے ہیں میں جہاں تک پاکستانی تاریخ پرنظردوڑاتاہوں مجھے یہاں ہرمارشل لااورہرغیرقانونی آئینی ترمیم کے پیچھے سیاستدان کاکرداربھی نظرآتاہے ایوب خان کی پہلی مارشل لاہو،یحیٰ خان کی ملک شکن آمریت ہو،ضیاء الحق کی جابرانہ حکومت ہویاپرویزمشرف کے آئین شکن اقدامات ہوں ان سب کے پیچھے سیاستدانوں کاہاتھ موجودہے یہی سیاستدان جب خودکوحکومت سے باہرپاتے ہیں تو یہ’’ماہی بے آب کی طرح تڑپتے ہوئے ‘‘کسی بھی جائزوناجائز طریقے سے اقتدارکی حصول کے مرض میں مبتلاہوجاتے ہیں 90کی دہائی میں بے نظیربھٹواورنوازشریف نے ایک دوسرے کواس قدرتھکایا،اتنادوڑایا،اس برے طریقے سے زدوکوب کیاکہ جب مارشل لگاتوسیاستدانوں میں سے کسی کی’’ چونچ گم‘‘ ہوچکی تھی اورکسی کی ’’دم غائب تھی‘‘ انکی ٹانگوں میں کھڑاہونے کی سکت تک نہیں تھی پھرسدابہارحکومتی سیاستدانوں نے فوجی آمریت کوخوش آمدیدکہااوراسکی گودمیں پناہ لیکراقتدارکے مزے لوٹنے کانارواسلسلہ شروع ہوگیا مخالفین کوجلاوطن کرنے پہ بغلیں بجائی گئیں اورانقلاب کاساتھ دینے کی نویدیں سنائی گئیں آمریت کے رگڑے کھانے کے بعدبے نظیربھٹواورنوازشریف کواپنی غلطیوں کااحساس ہوامگراس احساس کے ’’زلف کے سرہونے تک‘‘ پلوں کے نیچے اتناپانی بہہ چکاتھاکہ اس سیلاب میں بے نظیربھٹوجیسی جمہوریت پسند بہہ گئیں مگراسکے باوجودہمارے ہاں کے انقلابی سیاستدانوں کوسبق سیکھنے کی توفیق نہ ہوسکی اورآج ہم ایک مرتبہ پھراس سٹیج پہ پہنچ چکے ہیں کہ کبھی ٹیکنوکریٹس حکومت کی باتیں سننے کومل رہی ہیں اورکبھی فوجی مداخلت کی گنگناہٹیں سنائی دے رہی ہیں آج ایک مرتبہ پھرملک کے ایک بے صبرے سیاستدان 228کھلاڑی کوآئین سے انحراف کادورہ پڑچکاہے وہ کسی بھی حالت اورکسی بھی صورت میں موجودہ حکومت کورخصت کرنے کے درپے ہیں اس کیلئے وہ کبھی انتخابی دھاندلی کے نام پہ قومی املاک اوراداروں پرحملہ آورہورہے ہیں اورکبھی مڈٹرم الیکشن کی بے پرکی اڑائی جارہی ہے مگرشکرہے خداکااب اس اہم معالے پر ملک کی سیاسی جماعتوں اورانکی قیادت نے ماضی سے عبرت پکڑنے کااشارہ دیاہے اورتمام جمہوریت پسندقوتیں بے نظیربھٹوکے نعرے’’ جمہوریت بہترین انتقام ہے ‘‘ سے متفق نظرآتی ہیں حکمران جماعت سمیت اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی اوراے این پی نے مڈٹرم انتخابات کی مخالفت کی ہے صبح شام خبروں میں اِن رہنے کے طریقے ڈھونڈھتے رہناالگ بات ہے مگرجس ملک میں جمہوریت موجودہو،آئین موجودہووہاں آئین سے روگردانی اورآئین کے دائرے سے باہرمسائل کاخودساختہ حل تلاش کرناپرلے درجے کی اورباربارکی دہرائی ہوئی حماقت ہی قراردی جاسکتی ہے جمہوریت کے ثمرات تب اس ملک اوراسکے خانماں بربادعوام سمیٹ سکیں گے جب یہاں ہر حکومت یاکم از کم ہراسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرتی رہے عوام سب سے بڑے جج ہوتے ہیں گزشتہ تین اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اورتینوں مرتبہ حکمران سیاسی پارٹیاں فارغ ہوگئیں اسی طرح اگرانتخابات کی چھلنی ہرپانچ سال بعدچلتی رہے تو کوئی بعیدنہیں کہ مزید دوچارالیکشنوں کے بعدہمیں اہل ،نیک اورصالح( بلکہ صادق وامین) قیادت میسرآجائے ادارے درست خطوط پہ استوارہوجائیں اورملک کوکرپشن کی ناسورسے نجات مل جائے ہاں سیاستدانوں کی بے صبری کے پیش نظر اسمبلی کی مدت چارسال کرنے کی ضرورت سے انکارممکن نہیں تمام سیاستدان بلاتفریق’’ رنگ ونسل‘‘ مل بیٹھ کراسمبلی کی مدت چارسال کرائیں اوران چارسالوں کے دوران کسی کوبھی منتخب حکومت کوغیرمستحکم کرنے ،اسکے خلاف سازشیں کرنے یااسے وقت سے پہلے رخصت کرنے جیسے مشاغل کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اس قسم کامطالبہ کرنے والے کیلئے آئین میں سخت سزاتجویزکرنے کی ضرورت ہے سیاستدانوں کوصبربرداشت ،تحمل اورتدبرکامظاہرہ کرناہوگااپوزیشن کاکام صبح شام حکومت کی ٹانگیں کھینچنااوراسے گرانانہیں ہوتااپوزیشن اپناکام اورمقام پہچانے اوراٹھتے بیٹھتے حکومت جانے کی خوشخبریاں دینے کاسلسلہ بندکیاجائے حقیقی سیاسی پارٹی کامطمح نظر محض اقتدارنہیں ہوتااپوزیشن حکومت کے اچھے کاموں میں ساتھ دے اوربرے کاموں کوپارلیمنٹ کے فلورپرروکے، آوازاٹھائے اورعوام کوشعوردیں ،سمجھ دیں کسی کودنیاکابدترین انسان ثابت کرنے میں توانائیاں ضائع کرنے ، سرعام اول فول بکنے ،صبح کے بیان کی شام والے بیان میں تردیدکرنے، پگڑیاں اچھالنے اورجومنہ میں آئے اسے کہہ ڈالنے جیسے روئیوں سے اجتناب ہی ہمیں ہردوسرے دن حکومت جانے کی تاریخیں دینے اور’’بے وقت کی راگنی ‘‘سے مشابہہ قبل ازوقت انتخابات کے مطالبات سے نجات دلاسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com