’’ جماعت اسلامی کی وسیع القلبی اور وسیع النظری‘‘ ۔ قسط اول

’’ جماعت اسلامی کی وسیع القلبی اور وسیع النظری‘‘ ۔ قسط اول
جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جسے لیلائے اقتدار کی چاہ نے ایک دعوتی جماعت سے مذہبی سیاسی جماعت میں بدلا مگر عوام نے اسے کبھی بھی اپنے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں میں بھیجنے کا اہل نہ سمجھا۔جماعت اسلامی کا قیام پاکستان سے پہلے کا کردار دیکھا جائے تو محسوس ہو گا کہ ان کے قول و فعل میں کتنی مطابقت پائی جاتی ہے۔قبل از قیام پاکستان ہندوستان میں مسلمانوں کی تمام مذہبی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام اور مجلسِ احرار تحریک پاکستان و قیام پاکستان کی شدید مخالف تھیں۔ جماعت اسلامی والے پاکستان کو ’’ ناپاکستان‘‘ ، جمعیت علماء اسلام والے پاکستان کو ’’ پلیدستان‘‘ ، اور مجلس احرار والے تو قائدِ اعظم ؒ کے لئے ’’ کافرِ اعظم ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ معمر مسلم لیگی رہنما سردار شوکت حیات کہتے ہیں کہ ’’ قائد اعظم ؒ کے حکم پر میں اور راجہ غضنفر علی خان ۱۹۴۶ء میں جب قائد اعظم کا پیغام لیکر مولانا مودودی کے پاس گئے اور کہا آپ پاکستان کے لئے دعا کریں تو ’’ بانی جماعتِ اسلامی‘‘ مولانا مودودی نے کہا آپ میرے پاس ’’ناپاکستان ‘‘ کے لئے دعا کروانے آئے ہیں۔ مولانا مودودی نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’ ترجمان القرآن ‘‘ لاہور کے نومبر انیس سو تریسٹھ کے شمارے میں لکھا ’’ ہم اس بات کا کُھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں کہ تقسیم ملک ’’ہندوستان ‘‘ کی جنگ سے ہم غیر متعلق رہے۔ ‘‘ وہ ترجمان القرآن میں ہی لکھتے ہیں کہ پاکستان کا قیام اور اسکی پیدائش درندے کے برابر ہے۔’’ اس کارکردگی کا سہرا ہم صرف ’’ آل انڈیا مسلم لیگ ‘‘ کے سر باندھتے ہیں اور اس میدان میں کسی حصے کا اپنے آپ کود عویدار نہیں سمجھتے ۔‘‘محمد علی جناح کا مقام مسند پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے۔ تقسیم ہند کے تین اداکار تھے اور محمد علی جناح کی اداکاری سب سے زیادہ ناکام رہی۔ ’’ محمد علی جناح اوراُ نکے مقتدی اسلام سے جاہل ہیں‘‘۔جناح جنت الاحمقاء ( احمقوں کی جنت) کا بانی اور رجل الفاجر ( گناہ گار انسان) ہے۔پاکستان لاکھوں کروڑوں ڈاکوؤں لٹیروں ، زانیوں اور سخت کمینہ صفت ظالموں سے بھرا ہوا ہے۔مولانا مودودی نے یہ بھی کہا کہ’’ جب میں مسلم لیگ کی ریزولیشن کو دیکھتا ہوں تو بے اختیار میری روح ماتم کرنے لگتی ہے ‘‘۔ مسلم لیگ خدا سے بے خوفی اور اخلاق کی بندشوں سے آزاد جماعت ہے جس نے ہمارے اجتماعی ماحول کو بیت الخلاء سے بھی زیادہ گندا کر دیا۔‘‘ تحریک پاکستان سے کمال بے نیازی کے ساتھ دور رہنے اور پاکستان مخالفت کا علم اُٹھا کر سب سے آگے چلنے والی جماعت نے پاکستان بننے کے بعد نظریہ پاکستان کی آبیاری کا پرچم تھام کر دوسروں کو حُب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے شروع کر دئیے۔پاکستان کو ’’ناپاکستان‘‘ لکھنے والی جماعت ’’جماعت اسلامی‘‘ والے پاکستان میں تو اس کے قیام اور تحریک پاکستان کی تشریح شروع کر کے یہاں کے سادہ لوح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نظریہ ء پاکستا ن کے بانی ،محافظ اور وارث بن بیٹھے لیکن بنگلہ دیش میں ان کی دال نہ گل سکی اور جب قیام بنگلہ دیش کے بعد ان جماعتیوں نے پینترا بدل کر محب وطن بنگلہ دیشی کے روپ میں آنا چاہا تو بنگلہ دیشیوں نے ان کا نقاب اُتار ڈالا۔آج پاکستان، اسلام اور امت کا علم بلند کرنے والے جماعت کے بانی مولانا مودودی نے انڈین نیشنلسٹ سیاست اورمسلم قوم پرستی کی بھی نفی کرتے ہوئے ہمیشہ یہی کہا کہ مسلم لیگی قومی مفاد کے لئے لڑ رہے ہیں انکی لڑائی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد جماعت اسلامی اپنے نظریے کے برعکس سیاست کے میدان میں اُتری اورپاکستان بننے تک جو مؤقف اپنایا گیا اب اس کو رد کرنا شروع کر دیا، اور اسی سیاست اور سیاسی نظام میں حصہ لینا شروع کر دیا جس کی وہ ہمیشہ سے سخت مخالفت کر رہے تھے۔پاکستان بننے سے پہلے مولانامودودی کی جماعت اسلامی خلافت کی حامی تھی لیکن بعد کی جماعت نہ صرف ہر مارشل لاء کی آمد پر خوش آمدید کے جلوس نکالتی رہی بلکہ ساتھ ہی ساتھ بوقت ضرورت جمہوریت کی بھی حمائت کرتی رہی۔ اپنے اتنے اعلیٰ نعرے کو چھوڑ کر اُنکا جمہوری سیاست کی جانب آ نا بہرحال ایسا سوال ہے جو ہمیشہ سے جواب مانگتا ہے۔! اگر وہ مولانا مودودی کے پیروکار ہیں تو انہیں انکے ارشادات اور فتوؤں پر عمل کرنا چاہیے یا وہ وجوہات بتانی چاہیں کہ وہ کونسی وجہ ہے کہ مولانا مودودی کے فتوے اور ارشادات اب قابل عمل نہیں رہے ۔۱۹۵۱ ء کے الیکشن میں جماعت نے عجیب نظام وضع کیا۔ جماعت نے پنجائتی سسٹم بنا کرامیدوار بننے کے عمل کو حرام کہا، اپنے لئے ووٹ مانگنا بھی حرام ٹھہرا اور الیکشن کا خرچہ بھی ممنوع قرار پایا۔ سارا کام پنجائیت کے ذمے لگایا گیا۔ اپنے پروں پر اڑنے کاناز اور دوسری جماعتوں سے اتحاد سے بے نیاز اور خود کو ناگزیر سمجھنے والی جماعت سے قوم نے بھی بے اعتنائی برتی کہ انکا ایک بھی امیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔ نتیجے کے طور پرجماعت نے انہی لوگوں سے ہاتھ ملایا جن کے ساتھ اتحاد سے انکار کیا تھا اور بعد ازاں فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور بحالی جمہوریت کی مہم شروع کردی۔ ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی ایک روایتی پارٹی بن چکی تھی اور اس نے روایتی سیاست شروع کردی۔بھٹو مخالف تحریک اور مارشل لاء کا نفاذ ، ضیا ء الحق کی غیر مشروط حمایت اور پھر مجلس شوریٰ میں بیٹھنے کا فیصلہ، پھر جب مجلسِ شوریٰ چھوڑی بھی تو افغان جہاد کے نام پر خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ا ور ضیاء ا لحق کے مارشل لا ء کو سپورٹ کیا،۱۹۸۰ء کی دہائی میں لوگوں کے بچوں کو اُٹھا کر کشمیر اور افغانستان جہاد پر بھیج دیا جبکہ اپنے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیج دیا۔بعد ازاں کبھی فوجی آمر جنرل ضیا ء الحق کا ساتھ دیا اور کبھی نواز شریف کا۔ ضیاء الحق دور میں انکے اتحادی اور انکی پالیسیوں کے حمائیتی رہے لیکن بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بن گئے۔۱۹۹۳ ء میں جب اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف سے دوریاں ہونا شروع ہوئیں تو اچانک پاکستان اسلامک فرنٹ نامی ناکام ایڈونچر کردیا تاکہ نواز شریف کو ۱۹۹۳ء کا الیکشن ہروایا جاسکے، پھر جب اسٹیبلشمنٹ نے ہاتھ کھینچا تو جماعت کے اسلامی فرنٹ کا وجودخود بخود ختم ہو گیا۔جماعت نے۱۹۹۹ء میں جنرل مشرف کے مارشل لاء کی حمایت کی ، جسکے تسلسل میں ۲۰۰۲ ء کے الیکشن میں مشرف کی سپورٹ سے کے پی کے میں مولانا فضل الرحمن کیساتھ ملکر پانچ سال صوبائی حکومت کی اور قومی اسمبلی میں بھی روایات اور رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم ایم اے کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دلوایا۔ موروثی اور خاندانی سیاست کے خلاف بات کرنیوالی جماعت نے اس دور میں پہلی اور آخری بار مشرف کی ایماء پر الیکشن جیتنے کے بعد اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کو خصوصی سیٹوں پر منتخب بھی کروایا۔اور پھرجب مشرف پر وردی اتارنے کا دباؤ پڑا اور اس کی آئینی حیثیت خطرے میں پڑنے لگی تو ایل ایف او ، مشرف کی وردی اور ایمرجنسی کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے ترمیم پاس کروا دی۔بعد ازاں ایل ایف او کے ثمرات آصف علی زرداری تک پہنچانے کے لئے ۲۰۰۸ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کرڈالا ۔ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لہر چلی، اورجب تحریک طالبان آئے روز پاکستان میں دھماکے اور خود کُش حملے کر کے معصوم لوگوں کو شہید کر رہی تھی تو منور حسن نے پاک فوج سے لڑنے والے خوارج اور انکے سربراہ حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا اور افغانستان کے طالبان کو جماعت کی جانب سے سلام بھی پیش کیا۔ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بیٹھ کر اسلام میں جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات کا بیان سننے سے بھی جماعت کے اصل’’ پولیٹیکل اسلام ‘‘سے کما حقہ ہو آگاہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔قوم جب جماعتِ اسلامی کے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے کردار کو فراموش کر رہی تھی تو مولانا عبدالعزیز کی حمایت اور دہشت گرد حکیم اللہ محسود کے حق میں منور حسن کے بیان نے تحریک آزادی سے آگاہ اکابرین اور طالبعلموں کو بارہا یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا جماعت اسلامی قیامِ پاکستان سے قبل کی سوچ کی آج بھی اسیر ہے۔۔؟ 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com