’’ جماعت اسلامی کی وسیع القلبی اور وسیع النظری‘‘ ۔ قسط دوم

’’ جماعت اسلامی کی وسیع القلبی اور وسیع النظری‘‘ ۔ قسط دوم
۱۹۸۸ ء کے بعد جموں و کشمیر میں جہاد کے ترانے نصابوں کا حصہ بنے تو جماعت اسلامی نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گریز نہیں کیا اور حزب المجاہدین کے ذریعے جہاد کشمیر میں کود پڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر افغانستان میں جہاد کے نام پرکمسن بچوں کو پراکسی وار کا ایندھن بنانے کے منافع بخش تجربے نے یہاں بھی باقی جہادی تنظیموں سمیت انکی خوب ’’معاونت‘‘ کی۔ نائن الیون کے بعد عسکریت سے کمرشل ازم کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور آج کہیں حافظ سعید کو تحریک کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کا دفاع کر رہے ہیں۔ انکے نزدیک حافظ سعیداور اُنکی تنظیم لشکر طیبہ توبہت بڑا خطرہ ہیں لیکن جماعت اپنی ذیلی تنظیموں اور این جی اوز کے تنظیمی ، انتظامی و مالی معاملات اور بیرون ممالک سے فنڈز کی تمام تفصیلات سامنے لانے اور البدر اور حزب المجاہدین کے ساتھ اپنے تعلق اور ان تنظیموں کا تحریک آزادی کشمیر میں کردار پر اپنی پالیسی واضع کرنے سے صریحاََ قاصر ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان اپنے پڑوسی ملک چین کو بظاہر اپنا دوست سمجھتی ہے لیکن اسکے صوبے سنکیانگ میں اسلامی انقلاب لانے کی بھی خواہاں ہے۔ماضی کو چھوڑیے حال کو دیکھیے تو جماعتِ اسلامی کی پالیسی میں بے اصولی کا اصول ہر طرف نظر آئے گا۔ پنجاب اسمبلی میں اُنکا واحد رکن تحریک انصاف کا جزو ہے تو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ کیساتھ اتحاد، بلکہ بیک وقت پانچ سیاسی جماعتوں سے بے تکلف انتخابی اتحاد۔ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے لیکن قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن میں ہے بلکہ مرکز میں تو تحریک انصاف کے خلاف بھی اپنا وزیراعظم کا امیدوار لاتی ہے۔ پاکستان میں ہی کہیں یہ جماعت اپوزیشن میں ہے اور کہیں حکومت میں۔ جہاں حکومت میں ہیں وہاں دوسرے صوبے کی اپوزیشن پر تنقید اور جہاں اپوزیشن میں ہیں وہاں حکومت پر تنقید۔ جماعت کے امیر سراج الحق فرماتے ہیں کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال اگر زندہ ہوتے تو آج جمعیت میں ہوتے۔ جماعت اسلامی کے امیر ہوں یافالورز واقعی وہ بہت بڑے بہادر لوگ ہیں، ، باہر مسلم لیگ کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اپنا ووٹ وسیع تر ’’ قومی مفاد ‘‘ میں ایاز صادق کو ووٹ دے دیتے ہیں۔ سڑکوں پر لوگوں سے کہتے ہیں نواز شریف نے ملک کو لوٹ لیا لیکن آزاد کشمیر میں اُسی نواز شریف اور اسکی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیتے ہیں نواز شریف اور اسکی فیملی پر محل بنانے کے الزامات لگاتے ہیں لیکن جہلم کے ضمنی الیکشن میں اُنکی جماعت سے اتحاد کر لیتے ہیں۔ جماعت سپیکر کو ووٹ دینا جائز سمجھتی ہے لیکن وزیراعظم کو ناجائز۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کا حصہ ہے لیکن پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی حمایتی ہے۔ گلگت و بلتستان میں مذہبی اتحاد کا حصہ ہے اور بلوچستان میں موجودہ حکومت کی حمائتی۔ حال ہی میں مسلم لیگیوں کی طرف سے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے دونوں طفیلی ممبران اور انکو دیئے گئے کروڑں کے فندز کی واپسی کی بات کی گئی تو جماعت کے آزاد کشمیر کے اسوقت کے امیر اور طفیلی ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے جماعت اسلامی پاکستان اور مولاناسراج الحق سے لا تعلقی کا اعلان کر کہ اپنی سیٹ بچانے کی خاطر سراج الحق کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔خود کو زندہ رکھنے کے لئے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کبھی افغان جہاد کا چورن بیچتی ہے کبھی کشمیر کا۔ کبھی دھرنا سیاست اور کبھی آمروں کی چھتری تلے پناہ ۔ آج جماعت اسلامی ایک ایسی کنفیوز جماعت بن چکی ہے ، انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں اور کدھر جائیں۔؟وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کا مزہ لینے والی جماعت اسلامی یا تو ہمیشہ غلط موقف اپنا کر مار کھا بیٹھی یا پھر عصر کے بعد روزہ توڑ کر سارے دن کی بھوک پیاس کا کریڈٹ گنوا بیٹھی۔جماعت اسلامی پاکستان، بھارت اوربنگلہ دیش کی پالیسیوں کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا کہ یہ ’’ برصغیر کے تین ممالک پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں سیاسی اور مذہبی طور پر سر گرم عمل ہے اورکشمیر کے دونوں حصوں میں جماعت کی شاخین موجود ہیں۔ جماعت اسلامی کی یہ تمام شاخیں مولانا مودودی کو اپنا فکری رہنما اور لیڈر تسلیم کرتی ہیں اور انہی کی فکر کی روشنی میں سیاسی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کی کو ششیں کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی عمومی طور پر یہ دعوی ٰ بھی کرتی ہیں کہ جماعت اسلامی کے نام سے کام کرنے والی یہ سبھی جماعتیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور آزاد سیاسی و سماجی پالیسی پر یقین رکھتی ہیں اور عمل کرتی ہیں۔ پاکستان کی جماعت اسلامی پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی داعی ہے جبکہ اس کے برعکس جماعت اسلامی ہند، ہندوستان میں سیکولرازم کی حامی ہے کیونکہ اسکے نزدیک سیکولرازم بھارت کے مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی جماعت اسلامی کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے بزور شمشیرآزاد کروانا چاہتی ہے ۔متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کا تعلق بھی جماعت اسلامی ہی سے ہے۔جب کہ جماعت اسلامی ہند کو کشمیر کی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے اُنکی کوئی قابلِ ذکر پالیسی ہے۔ جماعت اسلامی ہند، ہندوستان کے خلاف کام کرنے والے افراد، جماعتوں اور اداروں سے لا تعلقی کا اظہار کرتی ہے اور بھارت کی اکھنڈتا پر کامل یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی ہند نے سٹودنٹس موومنٹ آف انڈیا جو اسلامی جمعیت طلبا ء کا بھارتی ورشن ہے، کے ساتھ اس وقت لا تعلقی کردیا تھا جب اس نے بھارت میں دہشت گرد حملے کئے تھے۔ پاکستان کی جماعت اسلامی فوجی آمروں سے سیاسی ملاپ میں کوئی قباحت خیال نہیں کرتی جب کہ جماعت اسلامی ہند جمہوریت کو تمام تر خامیوں اور خرابیوں کے باوجود ایک قابل عمل سیاسی نظام خیال کرتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کا مؤقف ہے کہ مولانا مودودی نے کسی بھی مرحلے پرتحریکِ پاکستان اور قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی جبکہ جماعتِ اسلامی ہند مولانا مودودی کی ان تحریروں اور تقریروں کو نمایاں کرتی ہے جس میں انہوں نے بانی پاکستان اور تصور پاکستان کی مخالفت کی تھی اور ثابت کیا تھا کہ جو پاکستان مسٹر جناح کی قیادت میں قائم ہو نے جا رہا ہے وہ قطعی طور پر ’’ اسلامی ‘‘ نہیں ہوگا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان توہین مذہب کے قوانین کی بہت بڑی محافظ اور ان میں کسی قسم کی ترمیم خواہ پارلیمینٹ ہی کیوں نہ کرے ،کی مخالفت کرتی ہے جبکہ جماعت اسلامی ہند کے ایجنڈے پر ایسا کوئی قانون تو کجا وہ تبدیلی مذہب کو فرد کا حق سمجھتی ہے اور اس پر کسی قسم کی سزا کو انسانی حقوق کے منافی خیال کرتی ہے ۔ ‘‘ جماعت اسلامی کی حالت زار پرباہر سے کسی کو کوئی تبصرہ کرنیکی کوئی ضرورت نہیں۔مولانا امین احسن اصلاحی ، جماعت اسلامی کے اولین اکابرین میں سے ایک تھے۔ انکا علمی و جماعتی رتبہ مولانا مودودی سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ مذہبی لوگ ہمیں بہروپیا سمجھتے ہیں اور سیاستدان چغد۔ ’’ یعنی کنگ سائز آلو‘‘ ۔ پھر وہ جماعت اسلامی کو چھوڑ گئے۔ کسی نے ان سے پوچھا ، مولانا ، آپ نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ جماعت کے ساتھ گزارا ، آپ کو اس میں کون سی بات سب سے اچھی لگی ، مولانا نے کہا ’’سب سے اچھی بات یہ کہ جماعت انسان کو عقل سکھاتی ہے اور جب اسے عقل آ جاتی ہے تو وہ جماعت کو چھوڑ جاتا ہے۔‘‘ جماعت کی پالیسیوں کو ’’وسیع المفاداتی‘‘ کہناتو گستاخی ہوگی لیکن اسے وسیع القلبی اور وسیع النظری کا مظاہرہ ضرور کہا جا سکتا۔اسے کہتے ہیں’’ رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com