ماہِ مئی ۔۔۔ایٹمی اور معاشی دھماکوں کا امین!!

 پروفیسر ضیاء الرحمن کشمیری
بھارت نے11اور13مئی 1998ء کو پوکھران کے علاقہ میں اچانک پانچ ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر دی تھی۔بھارت کی طر ف سے کئے گئے ان دھماکوں نے پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو گہرے اندیشوں اور شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ ہر کوئی پریشان تھا کہ ان کاازلی دشمن ایٹمی دھماکے کر کے علاقہ بھر میں جنگی و دفاعی بر تری حاصل کر چکا ہے۔ایسے نازک وقت میں پورے ملک کے عوام کی نگاہیں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی طرف لگی ہوئی تھیں ۔ صورتحال کی سنگینی اس لیے زیادہ بڑھ گئی تھی کہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ آئے دن کسی نہ کسی بھارتی لیڈر کا جارحانہ بیان سامنے آنے لگا اور یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے بھارت کسی بھی دم پاکستان یا کشمیر پر حملہ کرنے والا ہے ۔آزمائش کے اس کڑے وقت میں ایک طرف بھارت ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان پر مسلسل نفسیاتی دباؤ بڑھا رہا تھا اور دوسری طرف دنیا کے ’’ انصاف پسند ‘‘ ممالک لالچ اور دھونس کے ذریعے پاکستان کو جوابی ایٹمی دھماکوں سے روکنے پر کمر بستہ تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف کو وائٹ ہاؤس ، 10ڈاؤننگ اسٹریٹ اور پیرس سمیت دنیا بھر کے سربراہان کے فون پر فون آرہے تھے، جن میں ایک ہی تقاضا تھا کہ پاکستان جوابی ایٹمی دھماکے کسی صورت نہ کرے۔ان ٹیلی فون کالز کے ذریعے گزارش بھی کی جارہی تھی، دھمکی اور دباؤ بھی ڈالا جا رہا تھا جبکہ دیا جانے والا مالی لالچ تو اربوں ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھارتی دھماکوں کے بعد اپنا پہلا باقاعدہ سرکاری ر دعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے بھارتی دھماکوں سے حیرت ہوئی نہ صدمہ ،ہم نے عالمی برادری کوبھارتی عزائم کے متعلق پیشگی بتا دیا تھا مگر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ ‘‘ میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ ’’ ہم بھارت کی اس جارحیت کے بعدکسی صورت بھی کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے ، ہمیں اپنے ملک و قوم کے دفاع کے لیے ردعمل میں کیا کرناہے اس کا فیصلہ ہم خود کریں گے ۔ قوم اپنی قیادت پر بھروسہ اور اعتماد رکھے، ہم مایوس نہیں کریں گے۔‘‘میاں نواز شریف نے اپنے اس نہایت اہم بیان میں بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاتھا کہ’’ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، اگر اس نے پاکستان کے دفاع کو توڑنے کی احمقانہ کوشش کی تو بھارت کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہے گا ۔‘‘پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور پہلے اسلامی ایٹم بم کے خالق ممتاز ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بھی 12مئی1998ء کو بھارتی دھماکوں کے بعد یہ دو ٹوک بیان جاری کیا کہ ’’ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے ، حکومت جب کہے گی ہم بلا تاخیر دھماکے کر دیں گے ۔‘‘
بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستانی قوم میں اتحا د اور یگانگت کا شدید جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی۔وزیر اعظم میاں نواز شریف سے لے کر عام پاکستانی تک ہر ایک کے دل کی یہی آواز تھی کہ پاکستان کو جس قدر جلد ممکن ہو سکے جوابی دھماکہ کر دینا چاہیے۔اس نازک اور تاریخی موقع پر پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھارتی دھماکوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے ۔‘‘ اسی دوران بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس وقت کی اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو (مرحومہ )نے بھی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ’’ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کو بھی فوری طور پر جوابی کارروائی کر نی چاہیے ۔‘‘
11سے 28مئی 1998ء تک کے 17دن وزیر اعظم میاں نواز شریف ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت اورمحسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور آزمائش سے بھر پور تھے۔بھارت کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے جوابی دھماکوں کی عظیم ذمہ داری ان تینوں کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے اوپر تلے درجن بھر فون میاں نواز شریف کو آچکے تھے،جن میں انہیں بڑے بڑے لالچ بھی دئیے جارہے تھے اور ڈھکی چھپی دھمکیاں بھی لیکن تاریخ تا قیامت اس بات کی گواہ رہے گی کہ اس قدر بین الاقوامی دباؤ کے با وجود وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ثابت قدم رہے اور ہر طرح کی مشکلات کا دیوانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے با لآخر قوم کی خواہشات پر پورے اترے اور 28مئی 1998ء کو بلوچستان کے ضلع چاغی کی حدود میں واقع دالبندین سے 50کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ’راس کوہ ‘کے پہاڑی سلسلہ کے دامن میں 5تاریخ سازجوابی ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ڈکلئیر کروانے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ان دھماکوں کو جدید ترین سائنسی آلا ت کے ذریعے مانیٹر کرنے والی دنیا کی بڑی بڑی لیبارٹریز کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی طاقت بھارت کے دھماکوں سے کئی گنا زائد تھی ۔ 
بھارت جو 11اور 13مئی 1998ء کو 5ایٹمی دھماکے کر کے جشن منا رہا تھا ، پاکستان کی طرف سے پانچ جوابی ایٹمی دھماکوں کی خبر ملتے ہی اس کا یہ جشن ماتم میں تبدیل ہو گیا۔میڈیا پر اچھل اچھل کر پاکستا ن کے خلاف بیان بازی کرنے والے ہندو وزراء، دانشوروں اور بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں کی حقیقت میں بولتی بند ہو گئی ۔لیکن ان بے چاروں کو ابھی نہیں معلوم تھا کہ میاں نواز شریف ، ڈاکٹر خان اور جنرل جہانگیر کرامت ان کو ایک اور سر پرائز دینے والے ہیں۔28مئی کوبھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پانچ دھماکے کر کے خطے میں طاقت کا توازن برابرکر دیا گیا تھا لیکن بھی چاغی کے پانچ ایٹمی دھماکوں کی باز گشت ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ 30مئی کی دوپہر کو پاکستان نے چھٹا ایٹمی دھماکہ کر کے نہ صرف دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا بلکہ بھارت پر اپنی برتری بھی ثابت کر دی۔یہ پوری پاکستانی قوم کے لیے ناقابل فراموش لمحات تھے۔ پوراملک میاں نواز شریف اور ڈاکٹر خان’زندہ باد‘کے نعروں سے گونج رہا تھا ،مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں، مبارکبادیں دی جا رہی تھیں ، شکرانے کے نوافل پڑھے جا رہے تھے، میاں نواز شریف اورڈاکٹر عبد القدیر خان کی درازئ عمر کی دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ممتاز عوامی لیڈر ذولفقار علی بھٹو(مرحوم) کے بہترین انتخاب ڈاکٹر خان کی 24برس کی شبانہ روز محنت آج رنگ لائی تھی۔محسن پاکستان نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔ بھارت کے دھماکوں کے بعد جنوبی ایشیا میں طاقت کا جو تواز ن بگڑگیا تھا وہ دوبارہ بحال ہو گیا تھااور وطن عزیز پاکستان کے ازلی دشمن، انتہا پسند اور جنونی ہندوؤں کا جنگی جنون بھی پاکستانی دھماکوں کے بعد ایک دم ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔
28مئی 1998ء پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا یاد گار دن ہے جو ہمیشہ تاریخ پاکستان اور تاریخِ اسلام کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا رہے گا۔ اس دن کو قوم نے ’’ یوم تکبیر ‘‘ کا مبارک نام دیا ہے ۔’’ یوم تکبیر ‘‘ ہر سال 28مئی کے دھماکوں کی یاد میں منا یا جا تا ہے ۔ اس برس بھی یہ دن قومی جذبہ سے منا یا جا رہا ہے ۔لیکن اس مرتبہ اس دن کی خوشی دوبالا ہو گئی ہے۔19برس قبل اسی مئی کے ماہ میں پاکستان کا دفاع ایٹمی قوت ڈکلیئر ہونے کے بعد ناقابل تسخیر ہواتھا اور آج اسی ماہِ مئی میں ہی پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے’’ایک خطہ ،ایک سڑک‘‘کے عنوان سے بہت مضبوط ، مستحکم اور دیر پا بنیاد رکھ دی گئی ہے۔یہ بلا شبہ گیم چینجر منصوبہ ہے، جس کا بڑا کریڈٹ ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف کے حصے میں ہی آیا ہے۔دنیا کے تمام معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ’ون بیلٹ ، ون روڈ ‘ منصوبہ کے ذریعے تین بر اعظموں کے درمیان زمینی رابطہ استوار ہو گیاتو اس منصوبے میں شامل تمام ممالک میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک پاکستان ہو گا۔بھارت کی پوری کوشش ہے کہ سی پیک منصوبہ اور گوادر پورٹ پراجیکٹ پر کام رک جائے۔اس کے لیے وہ اتنے نچلے اور گھٹیا لیول پر آگیا ہے کہ ان منصوبوں پر کام کرنے والے عام نہتے غریب مزدوروں کی جان لینے سے بھی باز نہیں آرہا۔بادی النظر میں وفاقی حکومت کے خلاف اس اہم موقع پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں کی ’ہاہاکار‘اور بے موسمی احتجاج کی کال بھی اس منصوبے کو ثبوتاژ کرنے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔ سیاست دانوں کو اس شاندار اور تاریخ سازموقع پر سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ قومی منصوبوں پر سیاست کرنے اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستانی قوم کی نا امیدی کو امید اور مایوسیوں کو خوشیوں میں بدلنے والا ہے۔یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اگر بھارت کی تمام چالبازیوں کو شکست دے کر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بننے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکے گی۔موجودہ حالات اس بات کے شدت سے متقاضی ہیں کہ جس طرح 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے موقع پرتمام سیاسی جماعتیں ملک کے دفاع کے لیے متحد ہوگئی تھیں ، آج ملک کے معاشی استحکام اور ترقی کے لیے بھی اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی و سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک ہو جائیں۔ملک کے دفاع اور ترقی کے منصوبوں کے خلاف بیان بازی، جلسے، احتجاج اور انتشار پر مبنی سطحی سیاست ملک و قوم کے دفاع اور ترقی کے لیے کسی کینسر سے کم نہیں۔ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا ہے تو ’ون بیلٹ ، ون روڈ‘ منصوبہ سے پاکستان کا معاشی استحکام ناقابل شکست ہونے جا رہا ہے۔ اتحاد اور یکجہتی کی طاقت ہی ہمیں اس عظیم منصوبہ میں کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر فکر و تدبر کرے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com