کٹ پُتلی تماشا

کٹ پُتلی تماشا

محمد طیب زاہر

ایک ڈور کسی کے ہاتھ میں تو ایک ڈور کسی اور کے ہاتھ میں رسہ کشی کے اس کھیل میں کتنی الجھنیں ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ کسی ان دیکھی طاقت نے انہیں باہر نکال پھینکا۔کوئی کہتا ہے کہ یہ تاثر وہم اور گماں پر مبنی ہے ۔مسلم لیگ نواز پاناما کیس کے فیصلے کے بعد اپنی گری ہوئی ساکھ کو بچانے کی کوشش اس انداز میں کر رہی ہے کہ وہ بہت مظلوم ہے اور کسی سازشی تھیوری کے تحت اسے نکال باہر کیا گیا ہے۔ 11 اکتوبر 2015 میں این اے 120 میں علیم خان اور ایاز صادق کے درمیان مقابلہ ہوا وہ بہت ہی  کانٹے دار رہا ایاز صادق کو ملنے والے ووٹوں کی کل تعداد 74525 رہی جبکہ علیم خان کو ملنے والے ووٹوں کی کل تعداد 72082 رہی یوں ایاز صادق بہت ہی کلوز مارجن سے جیتنے میں کامیاب ہوئے یوں محض انہوں نے 2،443 ووٹوں سے فتح اپنے نام کی۔اسی طرح حالیہ دنوں میں ہونے والا این اے 122 کا انتخاب بھی ن لیگ کی گرتی ہوئی پرفارمنس کی بہترین مثال ہے کلثوم نواز اور مریم نواز میں کانٹے دار مقابلہ ہوا ۔اس انتخابی دنگل کے ابتداء میں یاسمین راشد کل 1500 ووٹوں کی برتری سے کلثوم نواز کے مقابلے میں آگے رہی۔جس کو چند لوگوں نے غائبی قوت  کی ہیرا پھیری بھی قرارد یا۔کلثوم نواز کو ملنے والے ووٹوں کی کل تعداد 61،745 رہی جبکہ یاسمین راشد نے 47،099 ووٹ حاصل کئے ۔اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف نے اسی حلقے سے 91،666 ووٹ حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی۔این اے 120 کے الیکشن میں مسلم لیگ نواز اس بات کا فائدہ تو اُٹھا سکتی ہے ان کے خلاف سازش ہوئی اور پاناما میں ہونے والے نقصان سے ہمارا ووٹ بینک متاثر ہوا لیکن این اے 122 میں 2 ہزار سے زائد کے مارجن سے ہارنا جبکہ سرکاری مشینری بھی بھرپور طریقے سے استعمال کی گئی اور یہ الیکشن پاناما کے آنے سے ایک سال پہلے ہوئے پھر یہ سوال اُٹھنا حق بجانب ہوگا کہ ن لیگ کے ووٹ بینک کے گرنے کی اصل وجہ پاناما ہے یا پرفارمنس ؟؟؟کسی حد تک تو کہا جاسکتا ہے کہ ووٹ بینک کو ہلانے میں غیر مرئی قوت کا ہاتھ ہے جیسا کہ این اے 120 کے حالیہ انتخاب  میں  لبیک یا رسول اللہ  کو ملنے والا ووٹ لیکن اس کے پیچھے بھی ایک سوچ یہ کہتی ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مذہبی ووٹ نواز شریف سے روٹھ گیا۔لیکن کیا اس وقت آن دیکھی طاقتیں اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ سیاسی عمل پر ہر طرح سے اثر انداز ہوسکے۔ مسلم لیگ نواز کا یہ اعتراض کسی حد تک درست ہے کہ مہرے ہلانے والی طاقتیں اپنی جگہ موجود ہیں ۔جس کی ایک مثال پی ایس پی اور ایم  کیو ایم پاکستان  کا اتحاد اور ایم ایم اے (متحدہ مسجد عمل) کی دوبارہ بحالی ہے   پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کا اتحاد تو تقریبا طے پا چکا تھا ۔لیکن غدار وطن کے کچھ چمچوں نے سارا معاملہ اُلٹا کر رکھ دیا جس کی وجہ سے فاروق ستار کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا اتحاد ہونا کوئی حادثہ نہیں تھا اور نہ ہی سابق صدر پرویز مشرف کا ان جمعاتوں کی سربراہی کرنے کی خواہش کوئی اتفاق تھا۔یہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس میں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں کسی (طاقت) کا کردار تھا۔اس کا مقصد سیاسی جماعتوں کو لگام دے کر رکھنا تھا۔اسی طرح ایم ایم اے کے پھر سے بحالی کی باتیں ہونا اور اس اتحاد سے پریشان ہوکر پرویز خٹک کی مولانا سمیع سے ملاقات کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ اس اتحاد سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔تحریک انصاف کے سندھ میں بڑے بڑے جلسوں کے باوجود اس کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنے آپ میں رہیں۔دوسری جانب ڈوریں ہلانے والوں کے ہاتھ عمران خان نہیں آسکتا کیونکہ عمران خان کا جو مزاج ہے وہ ان سے میل نہیں کھاتا اور ڈوریں ہلانے والوں کو بھی پتہ ہے کہ عمران خان کل کو انہیں بھی سامنے لاسکتا ہے اسی لئے وہ یہ رسک ہرگز نہیں اُٹھا سکتے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ نواز شریف واقعی خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے  سازش کو ڈھال بنا کر اداروں کے خلاف غیر معمولی طور پر حملے کر رہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com