اداروں کی تعمیر

وصال محمدخان
اداروں کی تعمیر
وطن عزیزمیں گزشتہ دوچارسالوں سے الزامات اورجوابی الزامات کاایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوچکاہے چہارسوں الزامات کی بوچھاڑہے جو سیاستدان ایک دوسرے پرکررہے ہیں اس سلسلے میں تیزی اس وقت آئی جب پانامہ پیپرزکاغوغااٹھاپانامہ پیپرزمیں اگرچہ 400سے زائدپاکستانیوں کے نام ہیں مگرسزاصرف سابق وزیراعظم نوازشریف کونااہلی کی صورت میں ملی انکے علاوہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے درجنوں آف شورکمپنیاں ہیں مگروہ مونچھوں کوتاؤدیکربڑے آرام اورمزے سے ملک کے طول وعرض میں گھوم پھررہے ہیں اورکرپشن پرلیکچرزبھی دے رہے ہیں کرپشن اس ملک کیلئے کسی ناسورکی صورت اختیارکرچکاہے جواسکی جڑیں کھوکھلی کررہاہے اس کرپشن میں اعلیٰ وادنیٰ بیوروکریٹس،ججز، جرنلسٹس، فوجی افسران اورسیاستدان سب ملوث ہیں مگرپانامہ پیپرزکے سامنے آنے کے بعدزیادہ ترسیاستدان ہی کرپشن الزامات کی زدمیں آئے عمران خان ، شیخ رشیداورسراج الحق نے پانامہ پیپرزکے معاملے پرسپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں سے ساڑھے چارسولوگوں کوچھوڑکرصرف اس ایک شخص کونااہلی کی سزادی گئی جس کانام ان پیپرزمیں تھاہی نہیں اورانہیں سزابھی پانامہ کی بجائے اقامہ پردی گئی اس سزاکے خلاف نوازشریف نے اپنی زبان کھولی اوران سمیت انکی صاحبزادی مریم نواز کھل کراس فیصلے کو تنقیدکانشانہ بنارہی ہیں جس سے عدلیہ کے احترام میں فرق آنا قدرتی سی بات ہے دنیاکے دیگرجمہوری معاشروں میں عدلیہ اس طرح تضحیک کانشانہ نہیں بنتی ہاں معاشرہ اگربنگلہ دیش جیساہوتووہاں اس دورِ جدیدمیں بھی عدلیہ کوحکومت کے زیرِنگیں رکھنے کی کوشش ہورہی ہے بلکہ وہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کوجبری رخصت پربھی بھیجاجاچکاہے ہمارے ہاں بھی افتخارچوہدری سے پہلے ججوں کے ساتھ یہی سلوک روارکھے جانے کارواج عام تھاپرویزمشرف نے جسٹس افتخارچوہدری کو اقتدارکے نشے میں دھت ہوکرگھربھیجناچاہاجس کے خلاف ناصرف افتخارچوہدری بلکہ انکے ساتھ سول سوسائیٹی ، سیاستدان اوروکلاء برادری بھی اٹھ کھڑی ہوئی جس کے نتیجے میں مشرف کوپسپائی اختیارکرنی پڑی آج اگر دیکھاجائے تو پاکستان ایک مرتبہ پھر2007کے دورمیں کھڑانظرآرہاہے جہاں اگرحکومت کابس چلتاتو ایک دوججوں کوکیاپورے سپریم کورٹ کوگھربھیج دیاجاتامگرشکرہے خداکاپاکستان اس برے دورسے بہت آگے نکل چکاہے جہاں آزادعدلیہ موجودہے اورگزشتہ جمہوری حکومت نے عدلیہ کوایک سسٹم کے تحت لاکراسے مضبوط بنایا پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں کبھی فوجی ایکٹیوازم سے جمہوریت کابوریابسترگول کردیاجاتاہے اورکبھی عدلیہ اس طرح ایکٹیوازم کامظاہرہ کرتی ہے کہ حکومت کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے آج جس قسم کی ایکٹیوازم چل رہی ہے اگریہی ایکٹیوازم فوجی حکومتوں کے دورمیں بھی ہوتی توآج ہم ایک جمہوری معاشرے کاروپ دھارچکے ہوتے عدلیہ کامسئلہ یہ رہاہے کہ اس نے کبھی کسی سیاسی پارٹی کوناکردہ گناہ میں پابندی کی سولی پرلٹکایااورکبھی سیاستدانوں کوپھانسی پرلٹکاکربیس تیس سال بعدکہاگیاکہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے جبکہ سب سے بدقسمت ادارہ اس ملک میں پارلیمنٹ کارہاہے جو کسی بھی دورمیں اس قدرطاقت حاصل نہ کرسکاکہ خودکو’’ تندئی بادِمخالف‘‘ سے محفوظ رکھ سکے یہاں ہرطالع آزمانے پارلیمنٹ کوربڑسٹیمپ میں تبدیل کیاکبھی فوجی آمرنے اپنے حکم کے ذریعے پورے پارلیمنٹ کوگھربھیج دیاتوکبھی عدلیہ نے پارلیمنٹ میں کی گئی قانون سازی کوردکردیامقام افسوس یہ ہے کہ کبھی کسی عدلیہ کو توفیق تک نہ ہوسکی کہ وہ آمرکی جانب سے کی گئی کسی ترمیم کومستردکردیتی بلکہ عدلیہ کاکلہاڑاہمیشہ پارلیمنٹ یاپارلیمنٹیرینزکی گردن پرچلتارہاہے آج بھی اس ملک میں صرف سیاستدانوں کااحتساب ہورہاہے کسی کی ضمانت منسوخ ہورہی ہے ، کسی کے گھرپراشتہارچسپاں کئے جارہے ہیں ، کسی کوائیرپورٹ سے گرفتارکیاجارہاہے اورکوئی عدالتوں میں پیش ہوکر اپنی صفائیاں دے رہاہے اگرپارلیمنٹ کومضبوط ادارے کی شکل دے دی جاتی ، اسکے فیصلوں کااحترام کیاجاتا، اسے بے وقعت نہ بنایاجاتا،اسے ربڑسٹیمپ میں تبدیل نہ کیاجاتا، اسے بے دست وبازو بناکرمعذوریامعذول نہ کیاجاتا شروع سے ہی الیکشن کراکرپارلیمنٹ کوآئین بنانے دیاجاتا توآج شائد ہم صرف پاکستان میں نہیں متحدہ پاکستان میں رہ رہے ہوتے یہاں بھی جمہوریت پروان چڑھتی ، یہاں بھی انسانی حقوق ، قانون اورآئین کااحترام ہوتا اوریہاں بھی جمہوریت پھل پھول رہی ہوتی دنیاکی وہ قومیں جواپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں آگے بڑھتی ہیں اوردنیامیں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہیں مگرہم نے 70برسوں میں ناہی اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں سے کچھ سیکھااورناہی آئین وقانون کی عملداری قائم کی جاسکی جس کے بازوؤں میں زیادہ طاقت تھی اس نے اقتدارپرقبضہ کیا ، آئین و قانون کوبالائے طاق رکھا، اپنے فرمان کوقانون اورحرف آخر قراردیا، عدلیہ نے پی سی او ، ایل ایف او اورنظریہ ضرورت کومقدس جانا اورملکی آئین کی بجائے فردواحدکاحلف اٹھالیاگیا آج یہ ملک اگرسیاسی خلفشارکاشکار ہے ، یہ اپنے باشندوں کیلئے محفوظ ملک نہیں ، اسکے باسی گلی کوچوں اوربازاروں میں مررہے ہیں ، غربت اورلاقانونیت کاراج ہے تو اسکی ذمے داری صرف سیاستدانوں پرعائدنہیں ہوتی اگراحتساب ہی کرناہے اگرقانون کی گرفت مضبوط بنانی ہے ، اگرآئین و قانون کی پاسداری کاعزم کیاگیاہے تو پھرصرف سیاستدان ہی نشانہ کیوں ؟ ملک میں جو لوگ کسی نہ کسی طرح سے اقتدارمیں رہے ہیں ، طاقت واختیارانکے گھرکی لونڈی تھی اورانکے ’’حسن کرشمہ ساز‘‘ نے جوچاہاکردکھایاان سب کااحتساب ہوناچاہئے دوچارسیاستدانوں کو کٹہرے میں کھڑاکرنے اوران کا استحصال کرنے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے پارلیمنٹ کواحتساب کے حوالے سے ایسی قانون سازی کرنی چاہئے کہ کوئی بھی مجرم چاہے اس کاتعلق سیاست سے ہو ، کاروبارسے ہو، استاد ہو،ٹرانسپورٹرہو،ٹھیکیدارہو، سرکاری ملازم ہو، جج ہو ، جرنلسٹ ہو، فوجی ہو یاحاکم وقت ، سب کابلاامتیازاحتساب ہو کوئی کسی بھی اعلیٰ عہدے پرمتمکنت سے قبل اپنے اثاثے ظاہرکریں اورعہدے سے فراغت پراگراس میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آئے تو اسکے خلاف قانون کادائرہ خودبخودتنگ ہواوروہ احتساب سے بچ نہ سکے پارلیمنٹ کومضبوط بنایاجائے تاکہ یہ اس قابل ہو کہ کسی سیاستدان یاپارلیمنٹیرن کااحتساب کرسکے نوازشریف اوراسکاخاندان ، عمران خان اورجہانگیرترین یاشرجیل میمن یہ تمام پارلیمنتیرینز ہیں ان کااحتساب پارلیمنٹ کے ذریعے ہوناچاہئے سیاستدان اگراسی طرح اپنی داڑھی کبھی فوجی آمروں کے ہاتھ میں دیتے رہے اورکبھی اپناگریبان عدلیہ کے حوالے کرتے رہے توناہی یہ ملک ترقی کی صورت دیکھ سکے گااورناہی کسی کاشفاف احتساب ممکن ہوسکے گا بلکہ ہرفیصلے کے بعدیہی صدائیں بلندہونگیں کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے دھاندلی کمیشن کی رپورٹ پرعمران خان عدلیہ کوتضحیک کانشانہ بناتے رہے ، پیپلزپارٹی کینگروکورٹس کی اصطلاح استعمال کرتی رہی اورآج ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کی صدائیں بلندہورہی ہیں تمام اداروں کوسیاسی الزام تراشی کے ذریعے تباہ کرنے ،انہیں شکست وریخت کے حوالے کرنیکی بجائے انکی تعمیرہونی چاہئے یہ تعمیرجمہوریت ہی کرسکتی ہے کوئی اورنظام نہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com