بٹ نہ جا ئے ترا بیما ر مسیحا ؤ ں میں 

ضیغم سہیل وارثی 
بٹ نہ جا ئے ترا بیما ر مسیحا ؤ ں میں 
سنے کو ملا ، پہلے کہتا چلوں ، ایسے تجز یے کا ر بھی بیٹھے ہیں ، فر مایا گیا ، پہلے ایک کو نا اہل کیا گیا ، اب خاں، سا تھ تر ین ، کیا امیج بنے گا ، کہنا بنتا تھا ، عدالت ہر اس کو سز ا ء دے گی جو قا نون کے خلا ف جا ئے گا ، مگر یہاں تو بقو ل شا عر ،،،
جو بھی آ تا ہے بتا تا ہے نیا کو ئی علا ج 
بٹ نہ جا ئے تر ا بیما ر مسیحا ؤ ں میں 
معا ملا ت ملک کے خر اب چل ہی رہیں کیونکہ ملک کی معا شی صو رت حال بہتر نہیں ہو سکی ، ما نتے ہیں لو ڈ شیڈ نگ کم ہوئی ، دوسری جا نب بچوں کی پیدا ئش سڑکوں پر ، شرم کس کو آ ئے ،سیا ست دان ، نا خن میں درد ہو سر کا ری خر چ پر بر طا نیہ ، امر یکہ کا رخ کر تے ہیں ، وہاں سے میڈ یا ٹاک ، کہ ہم عوام کا دکھ درد سمجھتے ہیں ، بس ہم کو فل ٹا ئم نہیں دیا جا تا ورنہ ملک وقو م کی وہ خد مت کر یں کہ تا ریخ میں لکھا جا ئے ۔ایک سیا ست بیان ، اس کے پیچھے ، اور اب اور بہت کچھ سا منے آ ئے گا ، فر ما یا گیا کہ شہبا ز شر یف کو پا رٹی قیا دت میں سا منے آ نا چا ہیے، لا ہور میں اشتہار بھی لگا ئے جا چکے ہیں ، معا ملا کس طر ف ، کیا ایم کیو ایم کی طر ح ایک ن لیگ لند ن اور ایک ن لیگ پا کستان یا ن لیگ لا ہو ر بن کے سیا ست ، بچی کچی سیا ست چلا ئی جا ئے گی ، یہ خیال بھی تب تک جب تک عدالت کی طر ف سے فل فیصلے نہیں آ جا تے کس شر یف خاندا ن میں کس کو ، کتنی ،اور کیسی سزا ملنی ہے ، سیا سی پر ندے پھر اڑانا بھر یں گے ، ابھی اپنی ہی حد ود میں ایک لیڈ ر سے دوسرے لیڈ کی جا نب آ ئے ہیں ، آ گے شا ہد حد دواور اپنا ٹھکا نا بھی بد ل دیں، شہباز شر یف صاحب کی جا نب سے اس بارے چھوٹی مو ٹی تر دید بھی نہیں آئی ، لہذ ا کہہ سکتے ہیں سیاسی ورک کے ذر یعے یہ بیان خو د دلوا یا گیا ہے ، مر یم صفد ر کے بیان کے بعد ، سزا دنیے ایک با ر دے دو ، ن لیگ کے ایم این اے ، اور اور با قی سیاسی ورک سمجھ چکے ہیں کہ ہتھیا ر ڈال دیے گے ہیں اب صر ف معاملا ت کو لٹکا ئے گا جا ئے گا ، وہ بھی ممکن نہیں ،کیونکہ سب عد الت میں ہے ،سیاسی قوت کا استعمال فا ئد ہ مند ہو تا تو زرداری صا حب کی خد ما ت حا صل کی جا تیں، وہ اب ممکن نہیں ہے ۔
قبل از وقت ، مگر ، لکھتا چلوں ، مسلم لیگ ن لاہو ر یا مسلم لیگ ن پا کستا ن بنا نے اور شہبا ز شر یف کو سا منے لا نے کے فیصلے کے بعد لا ز می زر داری صا حب یا کسی دورسری سیا سی پا رٹی کے سا تھ اندر خا نے اتحا د کیا جائے گا ، اس کے پیچھے وجوہا ت ، وہ یہ ہیں کہ ، وفا ق کی لا لچ دے کر پنچا ب اپنے پا س رکھا جا ئے گا اور جو وفا ق میں آ ئے گا ، جیسے لگ رہا کچھ کو تو عدالت سزا ء دے گی ، ان کے لیے وفا قی حکو متی نر می کے اسبا ب پیدا کیے جا ئیں گے ، مجھ نا چیز کے اس تجز یے کو حقیقت میں بد لتے قا ر ئین اس وقت دیکھیں گے جب پی ٹی آ ئی کے قا ئد اور مضبو ب سیا ست دان کو عدالت نے اگر نا اہل کر دیا تو ، نا اہلی کے چا نس ابھی تک ہیں بھی ۔
کہا جا رہا ہے کہ عدالت ہر بڑے سیا ست دان کو نا اہل کر نے لگی تو امیج کیا بنے گا ،سو چ ، امیج یہ کا فی کہ عدا لتیں آ زاد اور ہر طا قت وار کے خلاف قا نون کے مطا بق فیصلے کیے جا رہے ہیں ، چر چل نے کہا تھا ، عد التیں آ زاد ہیں پھر فکر نہ کر و ، مگر یہا ں قو م کی فکر کر نے والے اپنی منطق پیش کر تے ہیں ، خیر وہ جا نتے نہیں ہیں ، قر با نی عید پر آ نے وا لے قصا ئی ، قصا ئی کم ہو تے ہیں ڈرا مے با ز زیا دہ ، اب عوام بھی سمجھتی ہے کہ آ گ گر م ، معا ملا ت خراب اس طر ح کے تجز یے کار کم اور ذا تی مفا د لینے وا لے زیا دہ ہیں ،اس با رے زیا دہ ہم بو ل نہیں سکتے، تھو ڑ ے کو زیا دہ اور خط کو تا ر سمجھا جا ئے ۔ایک منطق یہ بھی سنے کو ملی کہ عدا لتیں آ ج سے پچیس تیس سال پہلے کا ریکا رڈ ما نگتی ہے تو سب کو ن سنبھال کے رکھتا ہے ، تو جنا ب یہ کسی درزی، نا ئی ، مو چی کی دوکا ن کا حسا ب کتا ب نہیں ہو رہا ، یہاں با ت کر وڑوں ، اربوں کی ہے ۔
عوام کو اب اتنا تو ضر ور دیکھ لینا چا ہیے کہ ن لیگ کہ وہ سیا ست دان جو بہت میڈ یا پر شام کی ٹی کا فی پیتے تھے آ ج کل وہ ٹی وی پر وگراموں میں اس لیے نہیں آ ر ہے کہ وہ شو گر نہیں اب پی سکتے یا کو ئی اور وجہ ہے ، اس طرف ن لیگ والوں کو بھی سو چنا چا ہیے ،جیسے شہبا ز شر یف صاحب اور نثا رصا حب فر ما چکے ہیں کہ پا رٹی قیا دت کو غو ر فکر سے مشو روں پر عمل کر نا چا ہیے ، مسلم لیگ ن کے اند ر بغا وت یا انتشا ر اس کے بعد زیا دہ ہوا ہے جب اداروں کے سا تھ ٹکراؤ کی پا لیسی کو ہو ا دی گئی ، زرادری صاحب ک بیا ن میں سچا ئی ڈھو نڈ ے سے ہی ملے گی کہ ہم نے جیلیں کا ٹی ہیں ، ہم پر کر پشن ثابت نہیں ہو ئی ، عوام بے چا ری ایسے بیا ن سنے یا پھر یہ غور کر ئے کہ ، کر پٹ کو ئی بھی نہیں ، پیپلز پا رٹی والے اپنی جگہ ، ن لیگ والے اپنی جگہ ، ق لیگ والے اپنی جگہ عوام کی خد مت کے ریکا رڈ پیش کر رہے ہیں تو ملک بیر ونی قر ضو ں ڈو ب چکا ہے ،حالت یہ ہے کہ آ نے والی نسل سڑ کوں پر انٹر ی ما ر رہی ہے ، عوامی خد مت گار با ربا ر کے بعد اور چا نس ما نگ رہے ہیں ، عوام کی خد مت میں جب الیکشن آ تا کو ن کو ن سے دعو ے کیے جا تے ہیں چا نس ملنے پر ان دعووں کو پورا نہیں کیا جا تا مگر ہما ری عوام ایسے سوال کر نے کی بجا ئے اپنے اپنے قا ئد کے دفا ع میں وہ کچھ بول جا تے ہیں جو پکی کھا نے کے بعد بھی ہضم نہیں ہو سکتا ۔ 
سنے کو ملا ، پہلے کہتا چلوں ، ایسے تجز یے کا ر بھی بیٹھے ہیں ، فر مایا گیا ، پہلے ایک کو نا اہل کیا گیا ، اب خاں، سا تھ تر ین ، کیا امیج بنے گا ، کہنا بنتا تھا ، عدالت ہر اس کو سز ا ء دے گی جو قا نون کے خلا ف جا ئے گا ، مگر یہاں تو بقو ل شا عر ،،،
جو بھی آ تا ہے بتا تا ہے نیا کو ئی علا ج 
بٹ نہ جا ئے تر ا بیما ر مسیحا ؤ ں میں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com