ایک اور جوانی دوستی کی بھینٹ چڑھ گئی

ایک اور جوانی دوستی کی بھینٹ چڑھ گئی

دوستوں میں بیٹھ کر ان پر رعب جمانے کی خاطر بلند و بانگ دعوے کرنا اور پھر  اگر دوستوں کی وہ مجلس بے وقفوں کا ٹولہ ہو تو ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے بات بات پر شرط اور جوا کھیلنا شتوع کر دینا یہ وبا ہمارے نوجوانوں میں عام ہے. اکثر اوقات اس بری عادت کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں مگر یہ مرض ہمارے نوجوانوں میں کم ہوتا نظر نہیں آتا. ابھی رواں ہفتے میں اسی شرط نے ایک ہنستے مسکراتے گھرانے سے ان کی مسکراہٹیں چھین کر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سسکیاں اور آہیں تھما دی ہیں. گجرات کی فضائیں ابھی پاکستان کے سابقہ نااہل وزیراعظم کے طاقت کے مظاہرے کے دوران کج کلاہوں کی رعونت تلے کچل کر مسلے جانے والے بارہ سالہ ننھے پھول حامد کی سوگواری سے ہی نہیں نکلی تھیں کہ گجرات ہی کے ایک اور خاندان کا جواں سال بیٹا بری دوستی اور اس بدنما فعل شرط کے ہاتھوں جان کی بازی ہار کر گھر میں قیامتیں برپا کر گیا. گجرات کے رہائشی ابرار کا بیٹا علی ابرار بہت سارے لوگوں کی طرح ان دنوں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر پر تھا. ان دنوں پورے ملک میں گرمی کی اک زبردست لہر اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے گھبرائے ہوئے ہزاروں لوگ شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکل کھڑے ہوتے ہیں جہاں پر موسم قدرے ٹھنڈا ہوتا ہے. علی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مری کے قریب کوہالہ کے سیاحتی مقام پر  دریائے جہلم کے کنارے موجود تھا کہ دریا کی طغیانی کو دیکھتے ہوئے دوستوں میں دریا کو تیر کر پار کرنے کے خطرناک موضوع پر بات ہونے لگی. علی نے دعویٰ کیا کہ وہ تیر کر دریا کو پار کر سکتا ہے.یاد رہے کہ ان دنوں برفیں پگلھنے کی وجہ سے پہاڑی دریاؤں میں طغیانی کا سا سماں ہوتا ہے اور دریا کے پانی کی چیختے چنگاڑتے تیز رفتاری کو دیکھ کر کوئی مقامی شخص بھی دریا کے قریب جانے کی جرات نہیں کرتا مگر حکام کی بے توجہی کے وہاں پر باہر سے آئے ہوئے سینکڑوں لوگ دریا کے بیچوں بیچ چارپائیاں لگا کر اٹھکلیوں میں مصروف نظر آتے ہیں. انہی میں سے ایک گروپ علی اور اس کے دوستوں کا بھی تھا جو دریا کو تیر کر پار کرنے پر بحث کررہے تھے. دیکھتے ہی دیکھتے ان دوستوں میں شرط لگ گئی کہ اگر علی تیر کر دریا کو پار کرتا ہے تو اس کا دوست اس کو اپنا سیم سانگ کا موبائل اور پیسے علی کو دے دے گا. علی نے بھی پکا ارادہ کرلیا اور پتھر پر کھڑا ہوکر دریا میں کودنے لگا تھا کہ اس کے اسی ظالم دوست نے اس کو آواز دی اور کہا کہ اپنی آخری خواہش ہی بتاتے جاؤ اور اس تاؤ دلانے کی خاطر آوازے کس رہے تھے کہ تم سے نہیں ہوگا واپس آجاؤ. یہ سارے مناظر وہ دوست اپنے موبائل کے کیمرے میں وڈیو کی صورت میں محفوظ بھی کر رہے تھے. بالآخر علی نے دریا میں چھلانگ لگائی اور دریا کے پار جانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر دریا کی بے رحم موجوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور اس کو بے بس کردیا اور چند ہی لمحوں میں علی پانی میں غائب ہوگیا اور تاوقت تحریر اس کی لاش بھی دریافت نہیں ہوسکی. قریبی تھانے بکوٹ کی پولیس نے اس کے سبھی دوستوں کو حراست میں لے لیا ہے. یوں دیکھتے ہی دیکھتے   ایک جواں سال نوجوان جس نے اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارہ بننا تھا، جس کی آنکھوں میں مستقبل کے کئی سہانے خواب سجے تھے، جس کی جوانی پر اس کے ماں باپ فخر کرتے تھے  فقط چند ہی لمحوں گندی عادت شرط اور بری صحبت کی بھینٹ چڑھ گیا. تبصرے کرنے والے بہت کچھ کہہ رہے ہیں کہ فقط ایک موبائل کی خاطر اس نے اپنی جان گنوا دی ہے. مگر حقیقت یہ کہ بات دو ٹکوں کے موبائل کی نہیں تھی بلکہ قصور بری صحبت اور اس کی وجہ سے اختیار کی جانے والی گندی اور سماج دشمن عادتوں کا ہے. ہمارے دیہاتی اور حتیٰ کہ شہری علاقوں کے کتنے ہی نوجوان بری صحبت اور دوستی کی وجہ سے بچپن میں غلط ہاتھوں میں پہنچ جاتے ہیں. اس میں بہت بڑا قصور ہمارے والدین اور مربی اساتذہ کا بھی ہوتا ہے جن کام فقط پیسے کما کر اس کی ظاہری تعلیم اور اسٹیٹس بنانے کی فکر کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی دنیا و آخرت سنوارنے کی تربیت کرنا بھی والدین اور اساتذہ کا ہی کام ہے. والدین کی آپس کی تلخ کلامیاں اور معمولی باتوں پر جھگڑے بھی بچوں کو ان سے دور کرکے دوستوں کے قریب کر دیتے ہیں اور پھر حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق بندہ اپنے دوستوں کے ہی دین پر ہوتا ہے. یعنی جس طرح کے دوست اس کو میسر آئیں گے ویسی ہی اس کی تربیت ہوگی. ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی کے معاملے بہت زیادہ احتیاط کرنے کی تلقین کی ہے. آپ نے ایک دفعہ فرمایا اچھے دوست کی مثال ایسے ہے جیسے بندہ کسی خوشبو والے کے پاس بیٹھ جائے، پھر بندی اس سے خوشبو خرید لے گا اور اگر نہ بھی خریدے تو اس کو وہاں بیٹھے ہوئے خوشبو آتی رہے گی جبکہ برے دوست کی مثال ایسے جیسے کوئی بندہ کسی بھٹی والے کے پاس بیٹھ جائے کہ وہاں پر آگ اس کے کپڑوں کو جلائے گی یا داغ اس کے کپڑوں پر لگ جائیں گے (مفہوم حدیث). اس لیے ہمارے نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ دوستی کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کا دامن پکڑا جائے ، برے دوستوں اور بری صحبتوں سے بچا جائے. اسی طرح والدین کو بھی اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان پر کڑی نظر بھی رکھنی چاہیے کہ ان کی اولاد کی دوستی کہیں برے لوگوں کے ساتھ تو نہیں ہے. اسی طرح گاہے بگاہے اپنی اولاد کی عادات و اطوار کو بھی جانچتے اور پرکھتے رہنا چاہیے تاکہ اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔

تحریر: محمد عبداللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com