میرا لیڈر۔۔۔۔۔۔قائد اعظم ہی کیوں؟

میرا لیڈر۔۔۔۔۔۔قائد اعظم ہی کیوں؟
مرادعلی شاھد دوحہ قطر
ڈاکٹر محمد مہاتیر نے لیڈر کی تعریف بیان کرتے ہوئے چند خصوصیات کو واضح کیا کہ لیڈر وہ ہے جس کے پاس۔۔۔حکمت عملی ہو،جامع علوم میں ماہر میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ قوموں کے مستقبل پر گہری نظر رکھتا ہوں۔
قوموں کی تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی اگر کی جائے تو یہ بات اطہرمن الشمش ہے کہ عظیم قومیں عظیم لیڈر کی وجہ سے معرض وجود میںآتی ہیں۔عظیم قوموں کے لیڈر بھی انہیں میں سے ایک ہوتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے مذہب اسلام کا عظیم ترین لیڈر حضرت محمدﷺ
عرب قوم میں ہی پیدا ہوئے۔ایسا عظیم راہنما کہ جن کی عظمت کے شمائل ومحاسن دشمنان اسلام بھی بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ مائیکل ایچ ۔ہارٹ جیسا عیسائی مصنف بھی جب دنیا کے سو(۱۰۰)عظیم انسانوں کی لسٹ مرتب کرتا ہے تو ہماتے پیارے آقاﷺ کو سر فہرست رکھنے پہ مجبور ہوتا ہے۔تھامس کارلائل بھی :ہیرو اینڈ یئرو شپ:میں دنیائے مذاہب میں سب سے بڑا ہیرو آقا ﷺ کو ھی خیال کرتا ہے۔تاہم لیڈر شپ کی سب سے خوبصورت تعریف حضرت علی ؑ نے فرمائی ہے کہ
اگر سو(۱۰۰)بھیڑیں ہوں اور انکی امامت ایک شیر کر رہا ہو تو بھیڑیں بھی اپنے آپ کو شیر ہی سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔اگرسو شیر ہوں اور ان کی امامت ایک بھیڑ کر رہی ہو تو سو شیر بھی اپنے آپ کو بھیڑیں ہی خیال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
برصغیر پاک و ہند پر نظر خاص ہی رہی کہ ان کے مقدر میں ایک ایسا لیڈر لکھا گیاکہ جسے اپنی بصیرت،سیرت،علم و عمل،زیرک نظری کی وجہ سے وہ شہرت دوام نصیب ہوئی جو کسی اور شخص کی زندگی کا خاصہ نہ بن سکی۔تاریخ اسے قائد اعظم کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔قائد اعظم نے ایک بار مسلم سٹودنٹس علی گڑھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ۔
فیصلہ کرنے سے قبل ایک سو بار مرتبہ سو چو لیکن جب فیصلہ کر لو تو پھر اس پر ڈٹ جاؤ:
یہ محض افسانوی اور داستانوی خیالات پر منحصر باتیں نہیں بلکہ جس کام کے لئے وہ عظم کر لیتے پھر مصداق اس کے کہ 
زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد
سختی سے اپنے بیان پر قائم ہو جاتے۔یہ ان کا عزم صمیم ہی تھا کہ اپنے تمام سیاسی کیرئیر میں کبھی بھی مزاکراتی میز پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے قطع نظر انکے مقابل لارڈ ہو،وزیر ہو،وائسرائے یا حکومت برطانیہ کا کوئی پارلیمانی وفد قائد نے اپنے مؤقف کی تائید،توضیح و تشریح سے انچ برابر بھی قدم واپس نہیں اٹھائے ۔یہ ان کے کردار کی پختگی پر لوگوں کا ایمان کامل تھا کہ ان کے جلسون میں ننگ بدن لوگ بھی قائد کی انگریزی تقریر کے جواب میں نعرہ مستانہ دیوانہ وار لگائے چلے جاتے تھے کہ۔
بٹ کے رہے گا ھندوستان۔۔۔۔۔لے کے رہینگے پاکستان
اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر پہلی اسلامی ریاست بن کر ابھرا جسے حکومت برطا نیہ سے آزادی نصیب ہوئی۔
جدوجہد آزادی جو ایک صدی پر محیط ہے داستان عزم و ہمت و ایثار کی ترجمان ہے کہ جس کے ہر صفحہ پر ایک نام سنہری حروف میں لکھا نظر آتاہے وہ نام ہے۔۔۔۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں نہ ہو میرے لیڈر میں وہ قائدانہ صلاحیتیں تھیں کہ جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں۔قائد اعظم کے عزم و استقلال،استقامت،وفاداری ،حب الوطنی،علم و عمل،حاضر جوابی،جمہور سے پیار کے وہ واقعات جن سے تاریخ پاکستان بھری ہوئی ہے۔ان واقعات کی وجہ سے ہی میں یہ کہنے پہ مجبور ہوں کہ
کوئی اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔میرا لیڈر صرف قائد اعظم
بطور گورنر جنرل قائد اعظم جب پہلی بار لاہور تشریف لائے تو بادشاہی مسجد میں تشریف لے گئے عوام نے گرم جوشی سے ان کا ستقبال کیا ور قائد اعظم زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔قا ئد اعظم نے انہیں نرمی سے روکا اور فرمایا کہ۔
man was too mortal to be immortalised in zindabad in the shadow of the house of GOD.
با الفاظ دیگر ۔۔۔۔۔۔کل من علیہا فان۔۔۔۔۔۔ کی بنیادی حقیقت کے خلاف زندہ باد کے نعرے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
ایک بار ایک ھندو طالب علم نے قائد سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ہندو اور مسلمان میں فرق کیا ہے؟
قائد اعظم کچھ دیر خاموش رہے۔۔۔۔ایک طالب علم سے پانی کا گلاس منگوایا۔ایک گھونٹ اس میں سے پی کر باقی ماندہ اس ہندو طالب علم سے کہا کہ باقی ماندہ پانی تم پی لو۔
ہندو طالب علم نے پینے سے انکار کر دیا
قائد نے ایک مسلمان طالب علم کو بلا کر پانی پینے کو کہا تو مسلمان طالب علم نے فوراً پانی کا گلاس پی لیا۔
اس پر قائد نے فرمایا کہ ہندہ اور مسلمان میں یہ فرق ہے اسی لئے میں مسلمانوں کے لئے الگ وطن بنانا چاہتا ہوں۔
سر آغا خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔ایک مرتبہ مشہور صحافی بیورلے نیکولسن نے قائد اعظم سے پوچھا کہ آپ کس اصول کے تحت پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔قائد اعظم نے بہت ہی پیارے انداز میں فرمایا کہ صرف چار الفاظ میں۔۔۔
:مسلمان ایک قوم ہیں:
سردار شوکت حیات کہتے ہیں کہ قائد نے جب الفاروق کی پہلی جلد کا انگریزی ترجمہ پڑھا تو فرمائش کی کہ دوسری جلد بھی انہیں مہیا کی جائے۔مکمل کتاب پڑھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ مغرب والے کیا نعرہ لگاتے ہیں۔
:فلاحی مملکت کا تصور تو بارہ سو سال قبل حضرت عمرؑ نے دیا تھا۔مسلمانوں کے ملک میں ایسا ہی نظام ہونا چاہئے۔:
مرزا ابوالحسن اصفہانی اپنے مضمون:بے مثال لیڈر: میں لکھتے ہیں کہ :میں ۳۱ ،اگست۱۹۴۷ کو آخری بار گورنر ہاؤس میں قائد سے ملا تھا ۔وہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت انہوں نے حسب عادت خود ہی تمام سوئچ بند کر دئے۔۔۔
میں نے پوچھا آپ گورنر ہیںیہاں کی لائٹ چلتی رہنی چاہئے یہ سرکاری قیام گاہ ہے۔۔۔۔۔۔۔قائد نے جواب دیا ؛یہ سرکاری رہائش ہے اسی لئے تو محتاط ہوں،آپ سیڑھیوں سے نیچے اتریں تو میں ہی بتی بھی بجھا دوں:
قائد اعظم اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔مسلمانوں میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔میں چاھتا ہوں جن مروں تو میرا ضمیر اور خدا یہ گواہی دے رہا ہو کہ ؛جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی:
جناح کیا کرتے تھے کہ جب میں بارگاہ ایزدی میں حاضر ہوں تو میرا خدا مجھ سے کہے
well done Mr jinnah you have done a great job. . 
قائد اعظم زندہ باد 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com