مزارِ علامہ اقبالؒ ، سقوط ڈھاکہ اور نواز شریف

مزارِ علامہ اقبالؒ ، سقوط ڈھاکہ اور نواز شریف
تحریر : رانا عبدالباقی
قارئین کرام ! منصب وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد نااہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے جذباتی ہوکر اسلام آباد سے لاہور تک غم و غصہ کے جذبات کا عوامی سطح پر اظہار تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اِس دوران قومی سلامتی امور سے بالاتر ہوکر سپریم کورٹ اور افواج پاکستان کے خلاف جاری و ساری بے معنی پروپیگنڈا مہم کو مستقبل کا مورخ کلی طور پر اُنکی بے حکمت چالبازی سے ہی تعبیرکریگا۔ یہ درست ہے کہ انسان سوچتا کچھ ہے لیکن ہوتا کچھ ہے چنانچہ بعض اوقات حالات انتہائی غیر متوقع طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن ایسے ہی مشکل مرحلوں پر قومی فکر و نظر رکھنے والی شخصیتیں اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاح احوال کی فکر کرتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو موسمی تغیر و تبدل کے لحاظ سے بھی کبھی کبھی انتہائی گرج چمک کیساتھ طوفانی بارش ہوتی ہے، خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، ندہی نالے اپنے کناروں سے اُچھل پڑتے ہیں، نقصانات ہوتے ہیں لیکن پھر ازالہ بھی ہوجاتا ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے لیکن میاں صاحب شاید اپنے گریبان میں جھانکنے سے خوفزدہ لگتے ہیں کیونکہ اسلام آباد کی غلام گردشوں سے لپٹی اُونچی فصیلوں سے نکلنے اور اپنی ذاتی رہائش گاہ جاتی عمرہ پہنچنے پر پُروقار ماں کی دعائیں لینے کے باوجودنہ معلوم کیوں میاں صاحب کا غم و غصہ کم نہیں ہوا جس کا اظہار اُنکی حکیم اُمت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری کے دوران دیکھنے میں بھی آیا۔ مزارِ اقبالؒ پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اپنی نااہلی کے حوالے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قائداعظم کی وفات کے بعدجمہوریت اور قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے نظریہ ضرورت ایجاد کر لیا جس نے قائد کا پاکستان توڑ دیا۔ اگر یہ تماشا بند نہ ہوا تو ڈر ہے کہ نیا حادثہ نہ ہوجائے جو پاکستان کو کسی دوسرے سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ سے دوچار نہ کردے ۔
جناب نواز شریف مزار اقبالؒ پر عوام الناس کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا وہ سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے مزار پر یہ پیغام دینے کیلئے گئے تھے کہ مشرقی پاکستان کے بعد اب 1930 میں مسلم لیگ الہ آباد کے تاریخی خطبہ صدارت میں بیان کی گئی مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کی ویژن جس میں اُنہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ کم از کم شمال مغربی ہندوستان میں ایک مربوط مسلم ریاست کی تشکیل(موجودہ پاکستان) مسلمانوں کا مقدر نظر آتی ہے، اب خدانخواستہ سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ کا شکار ہونے جا رہی ہے؟ صد حیف کہ کرپشن اور منی لانڈرننگ کو چھپانے کیلئے جھوٹ ، جعل سازی اورتضاد بیانی کے سبب وزارت عظمیٰ کے منصب سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد وہ ذاری رنجش میں ملک کو ایک مرتبہ پھر سے سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ سے گزارنے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جناب نواز شریف سے ذاتی دوستی کی آڑ میں منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو بنگلہ دیش کی طرح بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اُن کی قیادت کے پس پردہ گزشتہ چار برس کی حکمرانی کے دوران ملک کے سلامتی امور سے متعلق کھلواڑکرنے کی کوشش کیوں کی گئی جس کے تانے بانے وزیراعظم ہاؤس سے جنم لینے والی ڈان لیکس کی بدروحوں سے جا ملتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ہے کہ گزشتہ چار برس میں ملک غیر اسلامی اور غیر جمہوری طور طریقوں کیساتھ بدترین مطلق العنان حکمرانی ، کرپشن ، بدعنوانی اور انتظامی چیرہ دستیوں کی زد میں رہا جہاں عوامی احتجاج کو ریاستی ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری سے کچلنے کی غیر جمہوری روایات کو آگے بڑھایا گیا جبکہ حکومتی وسائل کو سیاسی پراپیگنڈا بازوں اور حاشیہ نشینوں کی جانب سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی چالبازیاں کیلئے کھلم کھلا استعمال کیا۔ صد افسوس کہ علاقائی تعصب، فرقہ پرستی اور صوبہ پرستی سے قومی یکجہتی کو پہنچنے والے نقصات کی تلافی کیلئے سیاسی حکومت نے کچھ نہ کیا۔ 
دریں اثنا، کیا میاں صاحب نہیں جانتے کہ بھارت کشمیر کنٹرول لائین پر بدستور گولہ باری میں مصروف ہے اور بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں مسلح تخریب کاری کو ہوا دے رہا ہے جس کے ڈانڈے بلوچستان سے گرفتار کئے جانے والے سنیئر بھارتی تخریب کار ایجنٹ ہنڈلر کل بھشن جادیو سے جا ملتے ہیں جس کی مذمت میں میاں صاحب کی زبان آج بھی خاموش ہے ۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ میاں صاحب کا پاکستان اور مسلم امہّ کے دشمن نریندر مودی اور مودی کی سرپرستی میں کام کرنے والے بھارتی ایجنسی ،را، کے منفرد تاجر ایجنٹ جسے ،را ، افغانستان میں بخوبی استعمال کر رہی ہے یعنی سجن جندال کی نااہل وزیراعظم نواز شریف سے مبینہ طور پر نئی دہلی، کھٹمنڈو، مری اور لندن میں خفیہ ملاقاتوں کا کیا مقصد تھا؟بالکل اِسی طرح ماضی میں اگر تلہ سازش کیس کے سربراہ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے بھارتی ایجنٹوں سے ملاقاتوں میں ملوث رہے تھے۔ جناب نواز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے بنانے میں اندرونی مسائل اور حکمرانوں کی کوتاہی ضرور ایک وجہ تھی لیکن اِس کی اصل وجہ سابقہ مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل کی دوری تھی جہاں اگرتلہ سازش کے پس منظر میں بھارتی تخریب کاری اور بھارتی مسلح افواج کی اعلان جنگ کے بغیر پیش قدمی بڑی وجہ تھی جہاں وسائل کی کمیابی کے باوجود پاکستانی فوجیوں نے بیمثال قربانیاں دیکر بہادری کی داستانوں کو رقم کیا۔ کیا نواز شریف اپنے ذاتی دوست نریندرا مودی کے حالیہ بیان سے غافل ہیں جس میں اُنہوں نے اپنے ہموطنوں پو زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو بتا دو کہ بھارت نے مکتی باہنی کے شانہ بشانہ پاکستان کے خلاف جنگ لڑ کر بنگلہ دیش کو آزادی دلائی تھی۔ 
درج بالا تناظر میں جناب نواز شریف جانتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کیساتھ 1966 میں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا تاشقند معاہدہ کرنے کے باوجود مشرقی پاکستان میں مداخلت کی۔ بھارتی دہشت پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS کی آڑ میں بنگلہ دیش مکتی باہنی کو چکراتہ دیرہ دون میں بھارتی کمانڈو پوسٹ اسٹیبلشمنٹ 22 میں ٹریننگ دی گئی چنانچہ RSS کے مسلح رضاکاروں کو بھارتی سرحدوں کیساتھ منسلک ضلعوں میں تخریب کاری کیلئے استعمال کیا گیا ۔ اِس تخریب کاری میں رات کے اندھیرے میں ایسٹ پاکستان رائفلز کے ہزاروں اہلکاروں کا بیہمانہ قتل شامل ہے جن میں بیشتر کا تعلق صوبہ پنجاب اور سابق صوبہ سرحد سے تھا۔ گو کہ مکتی باہنی کی آڑ میں تخریب کاری تو فروری مارچ 1971 میں واضح طور پر سامنے آ چکی تھی جس میں مختلف آپریشنز میں لاکھوں مغربی پاکستانیوں اور بہاریوں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا لیکن تین سمتوں سے بھارتی علاقے سے گھرے مشرقی پاکستان کے تمام سرحدی علاقوں میں بھاری تعداد میں بھارتی فوج کے حملوں کو قلیل تعداد میں دلیر پاکستانی فوجیوں اور نہروں اور دریاؤں میں متعین مقامی کشتیوں پر تعینات بحریہ کے افسراور جوان بہادری اور قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے محدود وسائل کے باوجود 17 نومبر سے 14 دسمبر 1971 تک سخت مذاحمت کرتے رہے ۔ کیا جناب نواز شریف نے نریندرا مودی اور سجن جندال سے ذاتی دوستی کے پس منظر میں مزارِ اقبالؒ پر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ کے دوبارہ ہونے کے خدشات کی بات کرتے ہوئے اُن پاکستانیوں کی بے مثال قربانیوں کو بھلا دیا ہے جن کے رشتہ دار اور عام پاکستانی اُنہیں یاد کرکے آج بھی خون کے آنسو روتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نواز شریف مزارِ اقبالؒ پر پاکستان کی سلامتی کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کی بات کرتے لیکن ہوا اِس کے برعکس۔ کیا نواز شریف مشرقی پاکستان کے ایک محب وطن سابق ایم این اے مولوی فرید احمد کی سقوط ڈھاکہ کے دوران پاکستان کیلئے دی گئی بے مثال قربانی کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کبھی نہیں ! ایاز ظہیر ہاشمی نے سقوط ڈھاکہ کے بعد لکھا : " مولوی فرید احمد نے اپنی سرکاری حیثیت سے کبھی ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا ، سیاست کو تجارت نہ بنایا ، وکالت سے جو کچھ کمایا اُسے سیاست پر لُٹا دیا ۔ اُنہیں 26 دسمبر 1971 کی صبح مکتی باہنی کے ہاتھوں اِس انداز میں شہیر کیا گیا کہ وہ کلمہ شہادت ادا کرتے رہے کہ اُن کی آنکھیں نکال دی گئیں ، وہ کلمہ شہادت پڑھتے رہے کہ اُن کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ وہ کلمہ شہادت پڑھتے رہے کہ اُن کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اُن کے منہ سے آخری سانس تک پاکستان زندہ باد کے لفظ نکلتے رہے یہاں تک کہ اُن کی زبان کاٹ دی گئی۔ 
قارئین کرام ! قائداعظم کے سپاہی اور اسلام تمدن کے شیدائی مولوی فرید احمد کی پاکستان زندہ باد کے آخری لفظوں کے ورد کیساتھ شہادت ہر پاکستانی کو رحمانی اور شیطانی حوالے سے یہی پیغام دیتی نظر آتی ہے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے لیکن جو لوگ اصولوں پر مبنی زندگی پر شہادت کو ترجیح دیتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جبکہ شیطانی طور طریقے جہنم کی میراث ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ایک دولت مند وکیل تھے لیکن گورنر جنرل پاکستان کے طور پر محض علامتی طور پر ایک روپیہ ماہانہ تنخواہ لیتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنی تمام دولت اپنے خاندان یا بیرونی ملکوں میں منتقل کرنے کے بجائے تعلیمی ، فلاحی اور قومی اداروں کے نام چھوڑ دی تھی۔ ایک وہ ہیں جو اپنے آپ کو کہلواتے تو قائد ثانی ہیں لیکن جنہیں دنیا اُن کے قول و فعل کے تضاد کے حوالے سے دودھ پینے والے مجنوں کے طور پر بخوبی پہنچانتی ہے جن کی کچھ تعداد آجکل قارون کے خزانے کی مانند ناجائز دولت کے حصول اور آف شور کمپنیوں کی آڑ میں بیرونی دنیا میں چھپائی ہوئی بیش قیمت پراپرٹی کی شکل میں پاناما پیپرز کیس کے جال میں پھنسی نظر آتی ہے۔ لیکن صد شکر کہ دوسرے وہ ہیں جو ملک و قوم کیلئے خون دینے والے مجنوں ہیں اور آج بھی کنٹرول لائین اور پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو پاکستان کی سربلندی عزیز تر تھی۔ قائداعظم کے ایک اور سپاہی اور پاکستان کی پہلی کابینہ کے رکن سردار عبدالرب نشتر نے اپنے ایک سیاسی مقالے میں اِس اَمر کا بخوبی تذکرہ کیا ہے جس کی تائید سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی بھی کرتے ر ہے ہیں اور جس کا احساس مولوی فرید احمد کی شہادت سے بھی ہوتا ہے، قائداعظم نے تحفظ پاکستان کی قسم کھاتے ہوئے کہا تھا: " خدا کی قسم ! جب تک ہمارے دشمن ہمیں اُٹھا کر بحیرہ عرب میں نہ پھینک دیں ہم ہار نہیں مانے گے۔ پاکستان کی حفاظت کیلئے میں تنہا لڑونگا ، اُس وقت تک لڑوں گا جب تک میرے ہاتھوں میں سکت ہے اور میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔ مجھے آپ سے فقط یہ کہنا ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسا وقت آ جائے جب پاکستان کی حفاظت کیلئے جنگ لڑنی پڑ جائے تو کسی صورت ہتھیار نہ ڈالیں ۔پہاڑوں میں ، جنگلوں میں ، میدانوں میں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں" ۔ حیرت ہے کہ ایک نااہل وزیراعظم اور بھارتی دشمنِ پاکستان نریندرا مودی کی دوستی کے خالق میاں محمد نواز شریف نے غدار پاکستان مجیب الرحمن کا لہجہ اختیار کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے مستند قائد علامہ اقبالؒ کے مزار پر وزارت عظمیٰ کے منصب سے اپنی سبکدوشی پر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ کا دوبارہ ذکر نے کی جسارت کرتے ہوئے مزار اقبالؒ کی ہرزہ سرائی میں قابل شرم کردار ادا کیا جس سے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔کیا نواز شریف نہیں جانتے کہ اگر پاکستان کی سلامتی پر کبھی بھی کڑا وقت آیا تو مشرقی پاکستان کی ایک ہزار میل دوری کی طرح کا کوئی عنصر مغربی پاکستان کے کسی حصے میں موجود نہیں ہے چنانچہ پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح تحفظ پاکستان کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں دیر نہیں کریگی۔
حیرت کی بات ہے کہ نواز شریف حکومت کی باقیات و حاشیہ بردار پراپیگنڈا بازوں نے قومی مفادات کیلئے سینہ سپر ہونے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے عزم و ہمت سے فیصلے کرنے والے سپریم کورٹ کے ججز اور پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے ارکان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی شیطانی مہم جوئی شروع کی ہوئی ہے جو بلآخر رحمانی طاقتوں سے ٹکر کر چکنا چور ہو جائے گی۔ اِسی اَمر کا تذکرہ قومی مفادات کے حامل افسروں سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے جے آئی ٹی کی طرح کے ایسے ہی بے لوث افسران سے خطاب کرتے ہوئے 14 اپریل 1948 میں پشاور میں کہا تھا: " حکومتیں بنتی ہیں اور حکومتیں گرتی ہیں لیکن آپ لوگ وہیں رہتے ہیں ۔ اِس طرح آپ کے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری آ جاتی ہے ۔ آپ کو اِس لئے بھی تکلیف پہنچ سکتی ہے کہ آپ غلط کام کے بجائے صیح کام کیوں کر رہے ہیں۔ آپ کو اِس ملک کیلئے قربانی دینی ہوگی اور میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور اِس ملک کی بہتری کیلئے قربانی دیں خواہ آپ کو حکومت بلیک لسٹ کر دے یا پریشانی اور تکلیف میں مبتلا کردے کیونکہ آپ کی اِس قربانی سے ہی ملکی حالات بدل جائیں گے" ۔ 
اندیں حالات کچھ عاقبت نا اندیش سیاست دان جنہیں تاریخ کا بھی صحیح ادراک نہیں ہے ملک کو عظمت کی بلندیوں پر لے جانے کے بجائے عوام کو مایوسی کے اتھاہ سمندر میں دھکیلنے کیلئے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ آج کا پاکستان ، مہنجو دارو یعنی مردہ شہر سے بھی پیچھے چلا گیا ہے تو کیا اِن سیاست دانوں کا مطلب یہی ہے کہ آج کے پاکستان میں آپ کی آنے جانے والی حکومتیں پاکستان کے وسائل کو لوٹنے میں ہی لگی ہوئی ہیں؟ اِن عاقبت نا اندیش سیات دانوں کو چین کے ایک مشہور شاعر لوہ ینگ کے اِس نوحہ پر ہی نظر ڈال لینی چاہیے جو اُنہوں نے قائداعظم کی وفات پر درد دل محسوس کرتے ہوئے کہا تھا: " اے جناح ! اے استقلال ، جہاد اور انقلاب کے نشان… جسے صحراؤں کے رہنے والے بھی پہچانتے تھے اور گنگا کے کنارے بسنے والے بھی… میرا کمزور دل آج تیرے غم کے مقابلے میں عاجز ہے ، میں رونے پر مجبور ہوں اور میرے آنسو رواں ہیں … اگرچہ یہ آنسو میرے غم کی شدت کے اظہار سے قاصر ہیں پھر بھی اے جناح ! انسانیت کی روح تجھے کبھی بھول نہ پائیگی… گو کہ حکمرانوں کی نخوت اور دشمنوں کی خون آشامی کی لذت برقرار رہیگی مگر تو صبر سے اپنی آنکھیں بند کر لے کیونکہ جنگلوں میں اور ساحلوں پر تیرے بیٹے ہی نہیں تیری بیٹیاں بھی، ہاتھوں میں تلواریں لئے حق کی حمایت کرتی رہیں گی … وہ تیرے جہاد کے طویل سفر کو نئے جوش سے شروع کریں گیاور یہی نسل تیرے کام کی تکمیل کریگی کیونکہ یہ صرف ایک نوحہ نہیں بلکہ حلف ہے" ۔ 
درج بالا تناظر میں راقم کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ اور جے آئی ٹی کے تمام اراکین کی جناح و اقبال کے پاکستان کی بے لوث خدمت کرنے پر خراج تحسین پیش کر سکے۔ چنانچہ مزار اقبالؒ پر نااہل وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہرزاہ سرائی کے مقابلے میں راقم اِس ادنی درجے کے مقالے کو علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی اندلس کے میدان میں طارق کی اِس دعا پر ختم کرتا ہوں …….. ؂ 
یہ غازی یہ تیرے پُر اسرار بندے 
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی 
دونیم اِن کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سِمٹ کر پہاڑ اِن کی ہیبت سے رائی
دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّت آشنائی!
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!
ختم شد۔۔۔۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com