تاریخی کردار کی ماہیت ۔،۔ طارق حسین بٹ شانؔ

تاریخی کردار کی ماہیت ۔،۔
طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال
پاکستان میں تاریخی لفظ کا استعمال بڑا عام ہے لہذا یہاں ہر شخص اپنے طور پر تاریخ بنانے کے عمل میں جٹا دکھائی دیتا ہے۔کوئی بھی بڑا مرحلہ درپیش ہوکوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیا جائے جسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے۔انسان اپنے تئیں جن افعال کا سزوار بنتا ہے وہ انھیں تاریخی سمجھتا ہے چاہے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہوں یا نہ ہوں ۔اسے یہ زعمِ باطل لاحق ہو جاتا ہے کہ اس کا فیصلہ اور اس کا کارنامہ تاریخی ہے اور عوام اس کے فیصلے اور کارنامے نہ صرف عش عش کر اٹھیں گے بلکہ اسے صدیوں یاد رکھیں گے ۔وہ اپنی کج فہمی سے جبر کو انصاف اور باطل کو حق سے تشبیہ دے رہا ہوتا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہوتی ہے ۔ سازش والے بھی اپنے اعمال کو تاریخی سمجھتے ہیں حالانکہ انھیں خود بھی علم ہوتا ہے کہ ان کا فیصلہ اور کارنامہ تاریخی نہیں بلکہ قابلِ مذمت ہے اور تاریخ اسے جلد یا بدیر کوڑھے دان میں پھینکنے سے گریز نہیں کریگی۔ تاریخ نہ تو اس طرح رقم ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی طرزِ عمل میزانِ وقت میں اپنا آپ منواتاہے؟تاریخ وہ نہیں ہے جو لکھوائی جاتی ہے،پڑھائی جاتی ہے یا سمجھائی جاتی ہے بلکہ تاریخ وہ ہے جو خود اپنے ہونے کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔ایک بات ہے تاریخی واقعہ اور ایک بات ہے اس واقعہ میں کسی انسان کا کردار ،اس کی جرات،اس کی بسالت،اس کی بے باکی،اس کی دانش اور اس کی فہم و فراست۔واقعہ تاریخی تو ہو سکتاہے لیکن اس واقعہ کے کردار کیاتا ریخ میں امر ہو سکتے ہیں اس کا فیصلہ کوئی انسان خود نہیں کر سکتا؟اس کا فیصلہ تاریخ کا بے رحم پہیہ کرتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظالم اپنے اقتدار، طاقت اور دولت کی بدولت کسی مظلوم کو مجرم بنا کر پیش کرتے ہیں اور کئی عشروں تک وہ مجرم ہی بنا رہتا ہے حالانکہ وہ مظلوم ہو تا ہے اور ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہوتا ہے لیکن خو ف کی وجہ سے کوئی اپنی زبان کھولنے کی جرات نہیں کرتا ۔ لوگ مناسب وقت کی تلاش میں رہتے ہیں اور جیسے ہی وہ وقت آتا ہے سچ دھرتی کا سینہ چیر کر باہر نکل آتا ہے ۔وقت کے بطن سے سچ کا ظہور ہوتا ہے اور وہ جسے مجرم بنا کر منوں مٹی کے نیچے دفن کر دیا گیا ہوتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے سچائی کا استعارہ اور قومی ہیرو کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔موجودہ دور جمہوری قدروں کا دور ہے اور جمہوریت میں عوامی رائے کو سب پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔اسے حسنِ اتفاق کہہ لیجیئے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تخلیق ہی عظیم جمہوری جدو جہد کا شاخسانہ ہے۔عوامی ووٹ کی قوت سے ظہور پذیر ہونے والی ریاست میں جمہوریت کی اہمیت مسلمہ ہونی چائیے تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہ سکا جبکہ یہ ملک ابتدا سے ہی مہم جوئی کا شکار ہو گیا ور وہ سلسلہ ایسا چلا کہ کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔گاہے گاہے مہم جوئی اپنا رنگ دکھاتی رہی جس کے خلاف جمہوریت پسند اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے اور طالع آزماؤں کو آمرانہ روش کی بجائے جمہوریت کی جانب پلٹ جانے پر مجبور کرتے رہے۔اس کی ابتدا تو ایک بیوو کریٹ گورنر جنرل غلام محمد سے ہوئی لیکن بعد میں فوجی سپہ سالاروں نے اسے اقتدار پر قبضہ کا پکا اصول قرار دے لیا۔،چھوٹے چھوٹے وقفوں سے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لینااب ایک روائت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔جس سپہ سالار کا جی چاہتا ہے وہ سیاستدانوں پر جھوٹا سچا الزام لگا کر خود مسندِ اقتدار پر جلوہ گر ہو جاتاہے۔اس کے پاس چونکہ اسلحہ، بندوق،توپ اور ٹینکوں کی طاقت ہوتی ہے لہذا لوگ دبک کر بیٹھ جاتے اور یوں جمہوریت کا اپنی آنکھوں کے سامنے خون ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ ان کا دل اس طرح کے شب خو ن پر خون کے آنسو روتا ہے لیکن وہ مجبورہیں کیونکہ وہ نہتے ہیں اور توپوں ٹینکوں کا سامنا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔،۔
اس نا انصا فی اور شب خون کے سامنے وہ پہلی آواز جس نے اس غیر جمہوری عمل کو للکارا اور اس کے خلاف کھڑا ہونے کی جسارت کی وہ ذولفقار علی بھٹو کی ذات تھی۔کسے خبر تھی کہ نازو نعم میں پلا ہوا فیوڈل گھرانے کا ایک نہتا انسان بندوقوں والوں کے سامنے ڈٹ جائیگا اور ان کے جھوٹے غرور کو خاک میں ملا دے گا؟کمال یہ ہے کہ ادھر ذولفقار علی بھٹو نے کھڑا ہونے کا اعلان کیا تو پھر پورا ملک اس کے ساتھ آہنی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔کوڑے ،پھانسیاں،جیلیں اور عقوبت خا نے ان سر فروشوں کا مقدربنے لیکن اپنے قائد سے ان کی سچی محبت کی راہ میں یہ سزائیں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ ان سرفروشوں نے اپنے عمل سے جس گواہی کو رقم کیا وہی گواہی تاریخ میں امر ہو گئی۔وہ گواہی اب نسل در نسل چل رہی ہے اور شائداسے ہی تاریخی نوشتہ کہتے ہیں جسے کوئی خود رقم تو کوئی نہیں کرتا لیکن جو سب کے لبوں پر ہوتا ہے۔فوجی شب خون کو للکارنے کا نتیجہ وہ پھانسی تھی جوذولفقار علی بھٹو کا مقدر بنی لیکن یہی پھانسی اسے تاریخ کے سینے میں ایک زندہ و جاوید مقام عطا کرنے کا باعث بنی۔اسے توخود بھی علم نہیں تھا کہ اس کا یہ فعل اور اس کی یہ قربانی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے گی؟لیکن چونکہ اس کے دل میں جمہوریت ، انسان دوستی،آزادی،برابری اور سچائی کی شمع روشن تھی لہذا اس روشنی کو ایک دن ضرور پھیلنا تھا۔سچائی کی آواز پر لبیک کہنے کی یہی ادا تاریخ ہے لیکن جب کوئی فرد سچائی سے منہ موڑ لیتا ہے تو پھر وہ گمنامی اور رسوائی کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔کہاں ہیں ذولفقار علی بھٹو کو سزا دینے والے خود ساختہ سورمے؟وہ تو بڑے طاقتور تھے اور انھیں اپنی حکومت اور طاقت پر بڑا ناز تھا ۔لہذا ثابت ہوا کہ تاریخ میں زندہ رہنے کیلئے جس چیز کی اشد ضروت ہوتی ہے وہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی ادا ہوتی ہے۔جو ایسا کرجاتا ہے تاریخ اسے اپنے شانوں پر بٹھا لیتی ہے لیکن جو ظلم کا ساتھی بنتا ہے تاریخ اس کی ایسی قبر کھودتی ہے کہ ڈھونڈے سے بھی اس کا نشان نہیں ملتا۔کہاں ہے مولوی مشتاق حسین اور انوارالحق جن کی غرورو تمکنت سے گردنیں نہیں جھکتی تھیں۔ جو اپنے فیصلے کو خدائی فیصلہ تصور کرتے تھے ۔ جو اپنی ذاتی نفرت کو انصاف سے علیحدہ دیکھنے سے معذور تھے۔جو اپنے مخالف کو مار دینے میں اپنی جیت سمجھ رہے تھے۔جو اپنے فیصلے کو تاریخی ثابت کرنے پر مصر تھے۔کیا کوئی شخص جسٹس منیر کا نام احترام سے لیتا ہے؟ کیا کوئی انسان ان کے فیصلوں کومثال بنا کر ان کی پیروی کرنے کا اعلان کرتا ہے ؟کہاں ہے جسٹس ارشادحسن جس نے طیارہ سازش کیس میں جنرل پرویز مشرف کے شب خون کو آئینی جواز بخشا تھا ؟یہ سارے واقعات ہماری تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ اپنے وقت میں خود کو اختیارات کا حامل سمجھنے والے تاریخ کی عدالت میں رسوائی کا استعارہ بن جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے ذاتی مفادات کی خاطر سچائی کا خون کیا تھا۔یاد رکھو جو کوئی بھی سچائی کا خون کرتا ہے تاریخ خود اس کا خون کر دیتی ہے۔۲۸ جولائی کو جو فیصلہ سنایا گیا ہے اس کا فیصلہ بھی تاریخ کی عدالت نے سنانا ہے ۔اس کیلئے جب سارے منصف اپنے اپنے منصب سے ہٹ جائیں گے، جب جبر کی رات ڈھل جائیگی ،جب وقت کا پہیہ کچھ آگے کو سرک جائیگا۔ جب وہ سارے کردار جو اس وقت اختیار اور طاقت کی علامت ہیں معدوم ہو جائیں گے تو پھر تاریخ اپنے دامن میں سمیٹے سارے سچ اگل دے گی اور ہر شخص سازش کی ڈوریاں ہلانے والوں کے چہرے پہچان لے گا ۔سچ کو تو ایک دن ظاہر ہو کر رہنا ہوتا ہے ۔اسے آج تک کوئی چھپا نہیں سکا لہذا اسے کل بھی کوئی نہیں چھپا سکے۔کوئی نہ کوئی سر پھرا اسے طشت از بام کر دیگا۔ کل ہم نہیں ہوں گے لیکن سچ کی آواز سدا گھونجتی رہیگی اور اس آوز کو سن کر سچ لکھنے والے سچے قلمکار ہماری جگہ کھڑے ہو جائیں گے ۔تاریخی فیصلہ لکھنے والوں کو تب یقین آئیگا کہ ان کا فیصلہ سچائی کا نہیں بلکہ کسی کے دباؤ اور جبر کا نتیجہ تھا کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سچائی کا کھلے عام خون ہو اور وہ خود کو آشکار نہ کرپائے ۔ آنے والے دنوں میں سچائی آشکار ہو کر رہیگی لہذا جسے روکنا ہے آگے بڑھ کر اسے روک لے ۔ تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ جو کوئی بھی سچ کو روکنے کی جسارت کرتا ہے اسے سوائے پچھتاوے کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتاکیونکہ سچائی کسی کے روکنے سے رکتی نہیں ہے ۔پاکستان کی پہچان جمہوریت ہے لہذا کرپشن کے نام پر منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے کی روش کا خاتمہ ہو جانا چائیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com