کمسن مزدور بچے 

کمسن مزدور بچے 
تحریر :ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور ، لاہور
جس عمر میں بچے کے کھیل کود ،کھلونوں اور کھانے پینے کے دن ہوتے ہیں بد قسمتی سے وہ اس عمر میں مزدوری اور محنت و مشقت کرتے ہیں۔بچوں کی مزدوری کے حوالے سے پاکستان کاچھٹا نمبر ہے یہ ہمارے لئے لحمہ فکریہ ہے ۔ دنیا بھر میں کم سن بچوں سے محنت اور مشقت کروائی جاتی ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق یہ تعدا د سترہ کروڑ سے زیادہ ہے ۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب اور پسماندہ ممالک سے ہے۔اس کی اصل وجہ غربت ہی ہے کیونکہ غربت کے باعث اکثر ماں باپ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایسے بچے جو سکول نہیں جاتے ایک کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔اور اتنی ہی تعدا ایسے بچوں کی ہے جو محنت و مشقت کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرتے ہیں ۔ان میں زیادہ تر 14 سال سے کم عمر ہیں ۔جب کہ پاکستان میں اب قانون موجود ہے کہ چودہ سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروانا قابل جرم اور ناقابل ضمانت ہے اور اس کی باقائدہ سزا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ایسے بچوں کی تعدا ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے جو مختلف ہوٹلوں ،ورکشاپ ،بھٹوں، کاشتکاری ،ملوں،ر فیکٹریوں ،پٹرول پمپ ،بس اڈوں اور گھروں میں کام کرتے ہیں۔ابھی حال ہی میں کتنے کیس رپورٹ ہوئے جس میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد ثابت ہوا ہے ان میں سے ایسے کئی کیس ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے ۔گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے کام کرنے کے اوقات کار بھی مقرر نہیں ہیں جو ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے ۔گھروں میں کام کرنے والے بچوں کو نہ ہی سماجی اور نہ ہی کوئی قانونی تحفظ میسر ہے۔ایک تو ظلم یہ کہ ان سے سارا دن گھر کا کام لیا جاتا ہے اور اس کے باوجود ان کے حقوق سلب کئے جاتے ہیں۔بچوں کی مزدوری کے حوالے سے پاکستان میں جب سے قانون بنا ہے تب سے کسی حد تک بھٹہ ،ورکشاپوں ہوٹلوں اور پٹرول پمپوں پر ان کی کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ قانون کے مطابق ایسے مالک کو سزا دی جا سکے گی جو کم عمر بچوں سے مزدوری لیتا ہو گا۔
ایک اندازے کے مطابق حکومت وقت کا دعویٰ ہے کہ اس نے پچاس ہزار سے زائدہ بچوں کو جو کہ بھٹہ مزدوری کرتے تھے انہیں سکولوں میں داخل کروا چکی ہے۔انہیں نہ صرف مفت تعلیم دی جا رہی ہے بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔یہ ایک خوش آئیند بات ہے۔بچوں کی فلاح و بہبود صرف حکومت کا فرض نہیں ہے اس کے لئے این جی اوز کو بھی سامنے آنا چاہیئے اور ایسے بچوں کی کفالت کا بیڑہ اٹھانا چایئے جو غربت کی وجہ سے پڑھ لکھ نہ سکتے ہوں تا کہ یہ بھی پاکستان کے اچھے شہری بن سکیں اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ یہ بچے دہشت گردوں کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں اور ملک کے لئے ایک اور بڑاا مسئلہ بن سکتے ہیں۔اس لئے اس مسئلے کے حل کے لئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہو گا۔
ویسے تو دنیا بھر میں بارہ اپریل کو بچوں کا عالمی ڈے منایا جاتا ہے جو بچے بے گھر ہوں یا در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوں ان کے تحفظ اور حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ہے اس کے لئے بڑے بڑے سیمینار اور بحث و مباحثوں ، واکس اور مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں بچوں کی مزدوری کو کم نہیں کیا جا سکا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان ممالک میں غربت ہے اس کے علاوہ آبادی میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ ہے جب کہ اس بڑھتی آبادی کے لئے وسائل کی کمی ہے۔اس کے علاوہ ان ترقی پذیر ممالک میں بے روز گاری بھی اس کا ایک سبب ہے جس کی بنا پر والدین اپنے ان کم سن بچوں سے مزدوری کروانے پر مجبور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com