افتخار قیصر: اِک دُھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے 

افتخار قیصر: اِک دُھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے 
ڈاکٹر غلام شبیر رانا
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر پشاور میں مقیم ٹیلی ویژن کے آزمودہ کارمزاحیہ اداکار افتخارقیصر(افتخار حسین الیاس) 17 ۔ ستمبر 2017 کے دن کوہِ ندا کی آواز سنتے ہی ساتواں در کھول کر عازم اقلیم عدم ہوگیا۔اجل کے بے رحم ہاتھوں سے طنز و مزاح اور ظریفانہ اداکاری کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی زمیں بوس ہو گئی۔ سال 1956میں ادب اور فنون لطیفہ کے افق پر طلوع ہونے والا یہ نیّرِ تاباں فنون لطیفہ کی پُوری دنیا کواپنی تابانیوں سے منور کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے غرو ب ہوگیا ۔ افتخار قیصر کو پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور اس نے ہر زبان میں اپنے اشہبِ قلم کی خوب جو لانیاں دکھائیں۔ اُردو ، فارسی ،عربی ،انگریزی ،پشتو،پنجابی ،ہندکو اور ہندی زبان کے ادبیات میں اس نے ہمیشہ گہری دلچسپی لی۔ اس نے زندگی بھر اداکاری ،طنزو مزاح ،تصنیف و تالیف ،شاعری ڈرامہ نگاری ،ہدایت کاری،فلم سازی،صحافت، سفر نامہ نگاری، او ر صد ا کاری میں جس انہماک کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔اس عظیم اداکار نے اردو ،ہندکو اور پشتو زبان کے سیکڑوں یاد گا ڈراموں میں اپنے فن کے جو ہر دکھائے ۔ یہ یگانۂ روز گار ادا کار گزشتہ کچھ روز سے فا لج کے مرض میں مبتلا ہونے کے با عث لیڈی ریڈنگ ہسپتال(پشاور ) میں زیر علاج تھا۔ ذیا بیطس ، عارضۂ قلب اور گُردوں کی تکلیف میں مبتلا اس اداکار نے اپنے غم کا بھید کبھی نہ کھولا ۔ زندگی کے آخری ایام میں جب وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (پشاور)میں زیر علاج تھا اسے بہتر علاج کی غرض سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آ ف میڈیکل سائنسز (اسلام آباد)منتقل کیا گیا ۔ لواحقین اور معالجین کی سب تدبیریں اُلٹی ہو گیں اور کسی دوا نے کام نہ کیا اور اس کی طبیعت سنبھل نہ سکی ۔ناچار اسے واپس لیڈی ریڈنگ ہسپتال (پشاور) پہنچایا گیا جہاں اس نے داع�ئ اجل کو لبیک کہا ۔پشاور کی زمین نے فنون لطیفہ کے اِس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چُھپا لیا ۔ افتخار قیصر نے اپنے دکھ کسی کو نہ بتائے اور ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں ہمہ وقت اپنے آنسو پنہاں رکھنا اپنا شعار بنا لیا۔ پیہم سینتالیس سا ل(1970-2017) تک اپنے خون جگر سے ادب اور فنون لطیفہ کی آبیاری کر نے والا کٹھن حالات میں با وقار طور سے زیست کر گیا اور پیمانۂ عمر بھر گیا ۔
صدارتی ایوارڈ یافتہ اس نابغ�ۂ روز گار ،شگفتہ مزاج اور ہر فن مولا فن کار نے اداکاری کے ہر شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ادب اور فنون لطیفہ کی اقلیم کے اِس فرماں روا نے اپنی پر لطف اور با کمال اداکاری کے جوہر اس طرح دکھائے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ ریڈیو پا کستا ن سے صدا کاری کاآغاز کر نے والے اس با صلا حیت ادا کار نے فنونِ لطیفہ میں اپنی فقید المثال کامرانیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کے جو پر وگرام بے حدمقبول ہوئے ان میں ہندکو پروگرام’’ ویکھدا جاندا رہ‘‘ اور پشتو زبان کا مقبول پروگرام ’’ رنگ پہ رنگ ‘‘شامل ہیں۔ افتخار قیصر نے مختار علی نیّر کے لکھے ہوئے اور نسیم جان کی ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جانے والا پروگرام ’’ویکھدا جاندا رہ ‘‘میں اپنی انتہائی پر کشش اور موثر اداکاری کی بدولت وہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی جس میں اس کا کوئی شریک و سہیم نہیں ۔ اس نے صلاح الدین ، بیگم شمسی ، خالدہ روہی ، عشرت عباس کے ساتھ یاد گار کر دار ادا کیے۔ اس نے چار پشتو فلموں میں بھی کا م کیا مگر بعد میں فلم میں اداکاری سے کنار ہ کش ہوگیا۔افتخار قیصر کی گل افشانئ گفتار کا ایک عالم معترف تھا۔اس نے جن فلموں اور ڈراموں میں یاد گار کر دار ادا کیے ان میں ڈرامہ ’’لاوا ‘‘میں اداکار فردو س جمال کے سا تھ،فلم ’’ سوال‘‘ میں اداکارآصف خان کے ساتھ ڈرامہ’’ زنجیریں‘‘ میں اداکار امان کے ساتھ، اورڈرامہ ‘‘ خواہشوں کے جزیرے ‘‘ میں بیدار بخت کے ساتھ اہم کردار شامل ہیں ۔
افتخار قیصر کو اس بات کا شدید قلق تھا کہ پسِ نو آبادیاتی دور میں عالمی سازشوں کے نتیجے میں وطن عزیز میں سلطان�ئجمہور کا خواب کبھی شرمند�ۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔اس کاکہنا تھا کہ فرصتِ زندگی کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ قطعی نا کافی ہے مگر یہی عرصہ اگرمصلحت اندیشی ،تدبر اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے کا میابی سے گزا ر لیا جائے تو یہ حیات مستعار کافی ہے ۔ عملی زندگی میں دُکھی اور مجبور انسانیت کی فلاح و بہبود سے غافل ہونے کا لرزہ خیز اور اعصا ب شکن نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے اکثر مجبور عوام آزادی کے ثمرات کے لیے ترس گئے ہیں۔ اس دنیا کے میلے میں مقدر نے افتخار قیصر کے ساتھ عجب کھیل کھیلے مگر اس نے صبر کی روایت میں سدا تحمل اور برداشت کو شعار بنایا ۔یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جب بھی فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے اِس لیجینڈ کے کمالِ فن کی تحسین اور فقید المثال کارکردگی کی پزیرائی کی کوئی صورت پیدا ہوتی مقدر کی تیرہ شبی سد سکندری بن کر راہ میں حائل ہو جاتی۔مہیب سناٹوں ،سفاک ظلمتوں اور جان لیوا مایوسیوں کے ہراساں شب و روز سے بچنے کی خاطر وہ جب بھی اُمید کی مشعل تھام کر مقدر آزمانے کے لیے سفر پر نکلتاگردشِ ایام بھی اس کے ساتھ چل پڑتی۔ حالات نے عجب گُل کھلائے کہ سمے کے سم کے ثمرنے اُس کی زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر اور آہیں بے اثر کر دیں۔ اِدھر’’ زنجیریں ‘‘ میں بہترین اداکاری پر جب اس کوایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیاتو اُدھر وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر اس کی تمناؤں کا �آشیانہ بننے والا تھا ۔جب افتخار قیصر فن اداکاری کی بلندیوں پر تھا اس وقت ذوقِ سلیم سے عاری مقتدر حلقوں نے غیر جمہوری انداز میں پیہم آ ٹھ برس تک ادب اور فنون لطیفہ سے وابستہ فن کاروں کی پزیرائی کے لیے دئیے جانے والے ایوارڈ ز کا سلسلہ روک دیا۔ آٹھ برس کے صبر آزما انتظار کے بعد جب ایوار ڈ دینے کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا تو ڈرامہ ’’مقدمۂ کشمیر ‘‘میں عمدہ اداکاری کی بنا پر افتخار قیصرکو ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ۔اس بار افتخار قیصر کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا اور اُسے اس بات کا پختہ یقین تھا کہ اب اس کی محنت ٹھکانے لگنے والی ہے ۔اب فروغ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم اس کے نہاں خانۂ دِل پر دستک دے رہا تھا ۔ اس موقع پراس نے اپنے تمام احباب کو اپنی کامرانیوں اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی قدر افزائی اور پزیرائی کی نوید سنائی۔ سب احباب اس مژدۂ جاں فزا کو سُن کر خوشیوں سے پُھولے نہ سمائے اور اس مخلص ،قناعت پسند اور منکسر المزاج فن کار کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کیا۔تقدیر اگر ہر لمحہ ہر گام انسانی تدبیر کی دھجیاں نہ بکھیر دے اور انسانی منصوبوں کے پر خچے نہ اُڑائے تو اُسے تقدیرکیسے کہا جاسکتا ہے؟ اس باروفاقی حکومت نے لاہور میں ایوارڈ یافتگان کے قیام وطعام کا مناسب انتظام کر رکھا تھا ۔ انعام کاحق دار قرار دئیے جانے والے فن کاروں کی یہ تیاری ،جذبۂ بے اختیار،بے قراری ،اشتیاق اور تجسس دیکھ کر تقدیر خندہ زن تھی ۔ مقررہ دن جب ایوارڈ لینے کے لیے فرطِ مسرت سے سرشار افتخار قیصر پشاور سے لاہور کے لیے روانہ ہوا تو جوں ہی وہ لاہور کے قریب پہنچا ،یہ جان کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کہ وہ حکومت جس نے اِن ایوارڈ ز کا اہتمام کیا تھا اُسے آمریت کا سیلِ رواں خس و خاشاک کے مانند بہا لے گیاہے ۔ دعوتوں ،مسرتوں اور جشن کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔نہ صر ف انعامات و ایوارڈ دینے کی مذکورہ تقریب منسوخ ہو گئی بل کہ ایو ارڈ دینے کا فیصلہ بھی کا لعدم قرار پایا ۔سب اداکار اپنا سا منھ لے کررہ گئے اورحقائق خیال وخواب بن گئے اور حسرتوں کے مدفن مستقل عذاب بن گئے۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ جس طرح اس عالمِ آب و گِل کی وسعتوں کو حدود و قیود کا پا بند نہیں کیا جا سکتا اُسی طرح انسان کے تخیل کی شادابی اور کج روی کی مظہرخوش فہمی کی بھی کوئی حد نہیں۔وہ اس رائے سے متفق تھا کہ ظالم و سفاک ،موذی و مکار استحصالی عناصر کے بارے میں کسی عصبیت کی گنجائش نہیں بل کہ سب سے یکساں نفرت نا گزیر ہے ۔ زندگی بھر ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز رہنے والے اس فن کار نے اس سانحہ پر کفِ افسوس ملنے کے بجائے اسے نوشتۂ تقدیر سمجھ لیا اور کہا:
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹُوٹی کہاں کمند 
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
پروفیسر ڈاکٹر صابر کلوروی کے ساتھ افتخار قیصر کے قریبی مراسم تھے۔ایک ملاقات میں پروفیسر ڈاکٹر صابر کلوروی نے بتایا کہ افتخار قیصر ایک فقیر اور درویش منش انسان تھا ۔وہ اپنی دنیا آپ پیدا کر کے ابتلا اور آزمائش کی ہر گھڑی میں صبر و تحمل اور قناعت و استغنا کا بھرم قائم رکھنے کا عادی تھا ۔ادب اور فنون لطیفہ سے وابستہ اکثر افراد کے تکلیف دہ حالات دیکھ کر اسے بہت ملال ہوتا تھا۔وہ اس بات پر اپنے دلی رنج کا اظہار کرتا تھا کہ پوری دنیا میں تبدیلی اور انقلاب کی دستک زنی کا سلسلہ جاری ہے مگر ادب اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور حریتِ ضمیر سے جینے والے فن کاروں کے حالات جوں کے توں ہیں ۔ ادب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی وہ شخصیات جنھوں نے اپنی زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ان کا ذکر کرتے وقت افتخار قیصر کی آ نکھیں بھیگ بھیگ جاتیں ۔وہ اس بات پر آزردہ رہتا کہ معاشرتی زندگی میں علم و ادب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے فقیروں کا کوئی پرسان حال ہی نہیں مگر اس بے حس معاشرے میں بے ضمیروں کے وارے نیارے اور استحصالی عناصر کی پانچوں گھی میں ہیں ۔وہ خاص طور پر اداکارہ مینا شوری (1921-1989)،گلو کارہ نسیم نازلی عرف مالا (1939-1990)، محمد اختر ساغر صدیقی(1928-1974)، ریاض احمد شگفتہ رام ریاض (1933-1990)،خادم مگھیانوی،فضیلت بانو اوراطہر ناسک کی حسرت ناک زندگی کے الم ناک انجام کے بیان پر دِل گرفتہ ہو جاتا اور اُس کے آ نکھیں ساون کے بادلوں کی طرح بر سنے لگتیں ۔
سلانوالی (سرگودھا )میں مقیم ممتاز ماہرِ تعلیم، مخلص خادمِ خلق ،بے لوث سماجی کارکن اورا قلیم معرفت کے رمز آ شنا شیر خان اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں اور ادب شناسی ان کا امتیازی وصف ہے۔اُنھوں نے ملازمت کے سلسلے میں کچھ عرصہ ایبٹ آباد میں گزارا۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور علم و ادب سے وابستہ ممتاز شخصیات سے ان کا معتبر ربط رہا ہے ۔ افتخار قیصر کی فن کارانہ صلاحیتوں کے وہ بہت مداح ہیں۔ ایبٹ آباد میں منعقد ہونے والے ایک سٹیج شو میں اُنھیں افتخار قیصر کے ساتھ گزرنے والے لمحات آج بھی یاد ہیں۔اُن کا کہنا ہے افتخار قیصر کا ادبی مقام بہت بلند تھا ۔ اداکاری اور صداکاری میں اس کا سلوب لائقِ صد افتخار تھااوراسی منفرد اسلوب کی بدولت وہ عوام میں بے حد مقبول تھا ۔بابائے ہندکو مختا ر علی نیّر کی ہندکوشاعری افتخار قیصر کو بہت پسند تھی۔ شیر خان بھی مختار علی نیّر کی علمی و ادبی خدمات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مختا رعلی نیّر ( 1935-2010)نے ہندکو میں بیس سے زائد کتب لکھ کر پاکستانی ادبیات کی ثروت میں جو اضافہ کیااس کی بنا پر انھیں سال 1992میں حکومتِ پاکستان نے تمغۂ امتیاز سے نوازا ۔گزشتہ صدی کے ستر کے عشرے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول پروگرام’’ دیکھدا جاندا رہ ‘‘ میں’’ کلام ماہر بہ زبان ماہر‘‘ دراصل مختار علی نیّر ہی کی شاعری تھی جسے شگفتہ مزاج اداکار افتخارقیصر حرفیوں کے رُو پ میں پیش کر کے محفل لُوٹ لیتا تھا۔اس تخلیقی تجربہ(اب میں بولوں کہ نہ بولوں) کی اثر آفرینی اور انفرادیت میں افتخار قیصر کی اداکاری اور صدا کاری کو محوری حیثیت حاصل تھی ۔وہ اپنے چہرے کے تاثرات ،الفاظ کی ترنگ اور دبنگ لہجے سے موضوع کی تشریح و توضیح کا فن جا نتا تھا ۔مثال کے طور پر ان حرفیوں میں زندگی کی حقیقی معنویت اور معاشرتی زندگی کی کجیوں اور تضادات کی نہایت موثر انداز اور ہمدردانہ اسلوب اپناتے ہوئے فن کارانہ انداز میں ترجمانی کی گئی ہے :
مٹی دے بُت! نہ بِٹ بِٹ تک تُوتی ،بُوتی میں تیری اُڈا دیساں 
ترجمہ :اے مٹی کے مادُھو ! نہ گُھور کے دیکھ، میں تیرا حلیہ بگاڑ دُو ں گا
ذرا دیکھ! کہ اَگے کیہہ ہوندا اے ،ذرا ٹھہر !ایہہ جھگڑا مُکا دیساں 
ترجمہ :تُو دیکھ تو سہی تیرا حشر کیا ہو گا ،میں جلد ہی تجھے پِچھاڑ دُوں گا 
درجہ چہارم تے رِیس درجہ اوّل دی میڈیکل ایڈمیں تینوں بُھلا دیساں 
ترجمہ :درجہ چہارم کا شخص درجہ اوّل سے رشک کرے طبی امداد میں تیری لتاڑ دُوں گا
اللہ بیمار کری تے وَت مر جاویں کِدروں کھدر دا کفن میں پَوا دیساں 
ترجمہ :رب کرے تُو علیل ہو ،مر کے ذلیل ہو ،تجھے کھدر کے کفن کا کِھلواڑ دُوں گا 
—————————————————————————-
مٹیدے بُت! بے ایمانی ہار ،ایمان داری بازار وِچ کدوں وِکسیں 
ترجمہ: مٹی کے مادھو !مثلِ بے ایمانی کب دیانت داری بِکے گی بازاروں میں
قدم قدم پیغام مِلاوٹ دا، خالص داری بازار وِچ کدوں وِ کسیں
ترجمہ: ہر مر حلے پر ہے راج مِلاوٹ کلا کب خالص داری بِکے گی بازاروں میں
ایتھے ہر اِک دُوسرے نُوں کھاندا پیا ،وضع داری بازار وِچ کدوں وِ کسیں
ترجمہ : یہاں ہر شخص دوسرے کو کھاتا ہے کب وضع داری بِکے گی بازاروں میں 
سُکے دُودھ ہارچن جی! سُکے لہُو دی ،ٹھیکے داری بازار وِچ کدوں وِکسیں 
ترجمہ : خشک دُودھ کے مانند اے ساجن!خشک لہو کی کب ٹھیکے داری بِکے گی بازاروں میں
———————————————————————————
افتخار قیصر عملی زندگی میں نہایت سنجیدہ ،شفیق ،ملنسار اور مخلص انسان تھا ۔اپنے ملاقاتیوں کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے پیش آنا سدا اس کا شیوہ رہا ۔ مہمان نوازی، خوش اخلاقی اور شگفتہ مزاجی اس کی جبلت میں شامل تھی۔اس نے کئی ڈراموں میں اپنی فطری شگفتہ مزاجی کو رو بہ عمل لاتے ہوئے مزاحیہ کردار ادا کیے۔ گردِشِ ایام ،زندگی کے تضادات ، سماجی زندگی کے نشیب و فراز،بے ہنگم ارتعاشات ،بے اعتدالیاں اور حالات کی ستم ظریفی دیکھ کر وہ ان شقاوت آمیز نا انصافیوں پر اپنی شدید نفرت کا فن کا رانہ اور ہمدردانہ انداز میں اظہار کرتا تھا۔ مزاحیہ کردار اور مسخر ے میں جو فر ق ہے وہ اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں ۔یہ عام مشاہدہ ہے کہ معاشرتی زندگی میں مسخرے عزت واحترام سے مکمل طور پر محروم ہوتے ہیں ۔ مسخروں کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا محال ہوتا ہے۔اس بر عکس جہاں تک مزاحیہ کردار کا تعلق ہے تو یہ اپنی خود ساختہ جعلی اور فرضی توقیر و تکریم کی بنا پر اپنے تئیں عصرِ حاضر کا نابغہ سمجھتا ہے ۔ اس کی نظر میں کوئی اہلِ کمال جچتا ہی نہیں ۔ ہر مزاحیہ کردار جو در اصل بونا ہوتا ہے وہ خود کو باون گزا ثابت کرنے میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مزاحیہ کردار جعلی وقار کا بھرم قائم رکھنے کے لیے بناوٹ ، دکھاوے اور منافقت کا سہار ا لیتا ہے مگر مسخر ے کے عیوب اس قد ر واضح ہوتے ہیں کہ انھیں چھپانے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔افتخار قیصر نے ڈراموں میں مزاحیہ کردار ادا کرتے وقت نفسیات اور علم بشریات پر اپنی کا مل دسترس کا ثبوت دیا ہے اور معاشرے کے اُن افراد کے مکر و فریب کو طشت از بام کرنے کی سعی کی ہے جو اپنی جہالت کا انعام پا کر جاہ و منصب پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں کا میاب ہو چُکے ہیں ۔اس کی مزاحیہ اداکاری دیکھنے و الے کو احتساب ذات پر مائل کرتی ہے ۔وہ موت کو ماندگی کے ایک وقفے سے تعبیر کیا کرتا تھا جس کے بعد نئی منزل کی جانب پیش قدمی نا گزیر ہے ۔ وہ موت کو ایک اٹل حقیقت کا نام دیتا تھا اور زندگی کو ایک ایسی گُتھی سمجھتا تھا کہ جب کوئی اس کی گرہ کشائی کی جانب نصف منزل طے کرلیتا ہے تو اجل کے بے رحم ہاتھ اسے دبوچ لیتے ہیں اور زندگی کے سربستہ رازوں سے دُور کر دیتے ہیں۔ اس طرح زندگی کے بارے میں اس شخص کی داستان نا گفتہ رہ جاتی ہے۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ پیر ا سا ئیکالوجی اور ما بعد الطبیعات میں گہری دلچسپی لینے لگا۔وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ اس کائنات کی ہر شے مسافر ہے ا ور ہر چیز راہی ہے ۔جب یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اس فانی دنیا کی ہر چیز کا وجود نقش بر آب ہے توپھر یہ بات کیا معنی رکھتی ہے کہ کون سا نقش کب اور کس وقت ہمیشہ کے لیے مِٹتا ہے ۔
افتخار قیصر کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر دِل دہل گیااورآنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔زندگی اور موت کے اسرار و رموز پر ابہام کے پردے کچھ اس طرح پڑے ہیں کہ کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔اپنی تمام تر پیش بینی اور بصیرت کے باوجود یہ بات کسی شخص کو معلوم نہیں کس جگہ اور کس وقت اُس کی زندگی کا بے آوازساز ٹُوٹے گا اور ہمیشہ کے لیے سکوتِ مرگ طاری ہو جائے گا۔ زندگی کی رعنائیاں اوررنگینیاں جب انسانوں کو سرابوں کے عذابوں کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں تو یہ موت کا نا گزیر اور اٹل خوف ہے جو الم نصیبوں کو نشانِ منزل دیتا ہے ۔ وہ جر ی اور شگفتہ مزاج صداکار جو زندگی بھر اپنے لبوں سے قہقہے لُٹا کر اپنے لاکھوں مداحوں میں مسرتیں با نٹتا رہا وہ چُپکے سے ہماری بزمِ وفا سے اُٹھ کر ہم سے بہت دُور چلا گیا ۔افتخار قیصر توسب سلسلے توڑ کر چلا گیا مگر یہ احساس دلا گیا کہ موت سائے کی طرح ہر زندہ شے کا تعاقب کرتی ہے ۔شہرِ خموشاں کا جان لیوا سکوت موت کی تلخ حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے۔ موت کا سیلِ رواں فراست ،تدبر ،بصیرت ،تفکر ،ثروت ،قوت ،ہیبت ،حشمت اور جاہ و جلال کے سب سفینوں کو غرقاب کر دیتا ہے اور بڑے بڑے نامیوں کے نام تاریخ کے طوماروں میں دب جاتے ہیں ۔قیصر و کسریٰ ،دارا و سکندر اور جمشید کاسب ٹھاٹ یہیں پڑا رہ جاتا ہے اور ہر بنجارہ عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار جاتا ہے ۔ یہی اصولِ فطرت ہے اور یہی قضا و قدر کا فیصلہ ۔ افتخار قیصر کے لاکھوں الم نصیب مداح مشیتِ ایزدی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ افتخار قیصر !اللہ حافظ ۔
ہر دردِ محبت سے اُلجھا ہے غمِ ہستی 
کیا کیا ہمیں یا دآیا جب یاد تیری آئی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تیری یادیں 
جس سمت نظر اُٹھی آواز تیری آئی
(صوفی تبسم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com