تصور ہند آئین کی روشنی میں!

محمد آصف ا قبال، نئی دہلی 
26؍جنوری1950ء آزاد ہندوستان کا دستور نافذ ہوا۔دستور کی روشنی میں ہندوستان ایک مکمل اختیار والی عوامی جمہوریہ ہے۔ تمہید میں غیر مبہم الفاظ میں کہا گیا ہے کہ انصاف، آزادی، برابری، بھائی چارہ دستور کے مقاصد ہیں۔ دستور کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ فیڈریشن ہونے کے باوجود اس کا مقصد یونین کے استحکام کے لیے تمام بنیادی معاملات میں یکسانیت پیدا کرنا و جاری رکھنا ہے۔ دستور کے تحت نظام عدالت، ضابطہ دیوانی، فوجداری اور خاص کر کل ہند ملازمتوں کے بارے میں یکساں قوانین ہیں۔ آئین کے تحت یونین ناقابل تقسیم ہے اور کوئی بھی ریاست یونین سے نہ الگ ہوسکتی ہے اور نہ ہی دستور مرتب کر سکتی ہے۔دستور کا دوسرا امتیازی پہلو یہ ہے کہ یہ حالات کے تقاضے کے مطابق وحدانی بھی ہو سکتا ہے۔ عام حالات میں حکومت فیڈرل انداز سے کام کرے گی ۔لیکن جنگ یا دوسرے ہنگامی حالات میں پورا ملک ایک واحدہ کی صورت اختیار کرلے گا۔دستور کے تحت حالانکہ رئیس مملکت کو (President) یعنی صدر کہا جائے گا لیکن حکومت کی بنیاد امریکی طرز پر نہیں بلکہ پارلیمانی طرز کی جمہوریت پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح صدر اپنے عاملانہ اختیار وزیروں ہی کے مشورے سے استعمال کرے گا۔ یہ وزیر پالیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ اور چونکہ پارلیمنٹ کے ارکان بالغ الرائے دہندگی کی بنیاد پر منتخب ہوں گے اس لیے وہی عوامی حکومت چلانے کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔ پارلیمانی طرز کی ذمہ دار حکومت کا اصول اس تجربے کو پیش نظر رکھ کر اختیار کیا گیا ہے جو متعدد برسوں تک ہندوستان کے صوبوں میں اس طرز کی حکومت رائج ہونے سے حاصل کیا گیا ہے۔ہندوستان کا دستور دنیا کی تاریخ میں ایک نیا اور بہت بڑاتجربہ ہے۔یہ دستور چھوت چھات اور مذہبی امتیاز کے خاتمہ کی ضمانت ہے۔ اس کی رو سے ہر شخص کو مذہب و ملت اور ذات کے لحاظ کے بغیر ایک جیسے حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ دستورنے ریاستوں کی مطلق العنانی ختم کردی ہے، عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دینے کی ذمہ داری عائد کی ہے ساتھ ہی ہر شخص تحریر و تقریر کے معاملہ میں آزاد ہے۔ 
دستور کی چند خصوصیتیں:منظوری کے وقت ہندوستانی دستور میں کل۳۵۹ دفعات اور آٹھ شیڈول تھے۔بعد کی ترمیموں سے بعض دفعات نکل گئیں اور بعض کا اضافہ کیا گیا۔دستور کے مرتبین نے دیگر جمہوری ممالک کے کانسٹی ٹیوشن کو سامنے رکھا ہے۔مثلاً ہندوستانی صدر کے اختیار جرمن جمہوریہ کے صدر کا چربہ ہیں۔ساتھ ہی 1935ء کے گورمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی بہت سی دفعات کو لفظ بہ لفظ موجودہ کانسٹی ٹیوشن میں جگہ دی گئی ہے۔ اقتدار اعلیٰ یا حاکمیت:دستور نے ہندوستانی عوام کو سر چشمہ اقتدار مانا ہے۔اس کو صاف اور کھلے ہوئے لفظوں میں دستور کی تمہید میں بیان کیا گیا ہے۔ دستور نے ہندوستان کو ایک بااقتدار ، خود مختار عوامی جمہوریہ(Sovereign Democratic Republic) مانا ہے۔نیز بلاتفریق و امتیاز ،مذہب و ملت، جنس و رنگ اور ذات پات ہر بالغ ہندوستانی کو حکومت کی تشکیل میں ووٹ کا حق دیا ہے۔اور انہیں ووٹوں سے مرکز اور ریاستوں میں حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ غیر مذہبی جمہوریت(Secular Democracy)دستور کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ملک میں غیر مذہبی جمہوریت قائم کی ہے۔یعنی اسٹیٹ کا کوئی مذہب نہیں ہے اور ہر مذہب کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔دوسرے ہندوستان کے تمام باشندے خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ایک مشترک شہریت میں منسلک کردیئے گئے ہیں۔ ہر ہندوستانی شہری کو اسٹیٹ سے متمتع اور اس سے فائدہ اٹھانے کا پوراحق ہے۔ مذہب یا ذات پات یا کسی خاص علاقہ یا ریاست میں پیدا ہونے کی بنا پر کسی ہندوستانی کو شہریت کے کسی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے ساتھ کسی قسم کی تفریق کی جاسکتی ہے۔وفاقی ڈھانچہ (Federal Structure) جمہوریہ ہند کا دستور وفاقی یا Federalہے۔ اس میں وفاقی دستور کی خصوصیتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ ایک لکھی ہوئی دستاویز(written document) ہے جس میں مرکز اور ریاستوں کے اختیارات کو صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔برسر اقتدار سیاسی جماعتوں سے بلند اور بالا غیر جانبدار عدلیہ(judiciary)قائم کی ہے۔جسے مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختلافی چیزوں کے فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی عدلیہ کو دستور کی تعبیر اور تشریح کا حق بھی حاصل ہے۔ لیکن ہندوستانی فیڈریشن اورامریکن فیڈریشن اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کا مرکز زیادہ وسیع اختیارات کا مالک ہے ۔جن امور کو مشترک(concurrent) یا ریاستی امور کی فہرست میں نہیں رکھا گیا ہے۔وہ سب مرکز یا یونین حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ ان کے بارے میں قانون بنانے اور ان پر کارروائی کرنے کا حق مرکزی حکومت کو حاصل ہے۔یہی نہیں بلکہ مرکز کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ ریاستوں کو اہم مسئلوں میں مشترک اور یکساں پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرے۔مرکزی حکومت کی صورت سے ہندوستانی فیڈریشن خاصا لچک دار (flexible) ہے۔ہنگامی صورت حال(emergency) میں یا جنگ چھڑ جانے کی صورت میں مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔بنیادی حقوق (Fundamental Rights)ہر آزاد جمہوریہ ملک میں شہریوں کو کچھ ایسے حقوق حاصل ہوتے ہیں جن سے ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقوق شہریوں کے لیے اتنے ضروری ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر وہ اپنی شخصیت کی تعمیر نہیں کرسکتے۔ہمارے ملک کے دستور میں شہریوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی رو سے ہر شہری خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، سکھ ہو یا عیسائی قانون کی نگاہ میں برابر ہے۔ مذہب ، ذات پات، جنس، رنگ یا جائے پیدائش کی بنا پر کسی کے خلاف کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ ہر شہری کو آزادئ خیال اور آزادئ مذہب حاصل ہے۔ ساتھی ہی ہر شہری کو سرکاری ملازمتیں نیز بڑے سے بڑا عہدہ بلا امتیاز وتفریق حاصل کرنے کا حق ہے۔ 
دستور نے صدیوں سے چلے آرہے چھوت چھات کے رواج کوجرم قرار دیا ہے ۔ اوراقلیتوں کو مذہبی وتمدنی آزادی دی ہے۔ انہیں اس بات کا بھی حق دیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کریں۔ اپنی تہذیب یا تمدن ،زبان اور رسم الخط(script) کو قائم وبرقرار رکھیں اورانہیں ترقی دیں۔ ساتھ ہی مخصوص مذہب کی تبلیغ اور مذہبی مراسم اداکرسکیں۔دستور کی لچک(Flexibiligy)ایک اچھے دستور کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں حالات کے مطابق خو د کو ڈھالنے اور بدلنے کی صلاحیت موجود ہو۔ لہذا دستور کو بدلنے اور ضروری ترمیمیں کرنے کے لیے سیدھا اور آسان طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ قبائلی(Tribe) اور پسماندہ(Bacward) علاقوں کے لیے مخصوص دفعات:ہندوستان میں آج بھی ایسے بے شمار قبائل موجود ہیں جو تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بہت پچھڑے ہوئے ہیں۔ ان قبیلوں اور علاقوں کا اس طرح پچھڑے رہنا ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے از حد مضر ہے۔ اس لیے دستور اساسی میں ان کی ترقی کے لیے مخصوص دفعات رکھی گئی ہیں۔ تاکہ پسماندہ اور پچھڑے ہوئے قبیلے اور علاقے ترقی و خوشحالی حاصل کرسکیں۔اس تعلق سے مخصوص دفعات کا مطلب یہ ہے ان علاقوں اور قبیلوں کی بہبودی کو مدنظر رکھا جائے گا۔(جاری۔۔۔۔۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com