جھوٹ کا جہان

جھوٹ کا جہان

محمد رضوان خان
ہفتے کے دن میرے دوست کا فون آیا اس نے مجھے ٹائم بتایا کہ میرے کزن کا جنازہ ہے۔ میں نے حامی بھر کر فون بند کردیا ۔مٹی کا بنا انسان ہونے کے ناطے میری کوشش ہوتی ہے کہ خوشی میں بھلے ہی شرکت کروں یا نہ کروں مگر دکھ بانٹنے کی پوری کوشش کرتا ہوں کیونکہ دکھ بھلے ہی آدھا ہوتا ہے یا نہیں مگر انسان کو حوصلہ ضرور ملتا ہے۔ آج ہم کسی کے جنازے میں شرکت کریں گے تو کل ہمارے جنازے میں بھی سات قطاریں پوری ہونے پر ہمارے لواحقین خوش ہو کر بتائیں گے کہ نیک آدمی تھا کافی بڑا جنازہ تھا شاید یہی ہماری مغفرت کا باعث بن جائے۔ یہی سوچ کر میں نے وضو کیا اور ابدالی مسجد جنازہ پڑھنے چل نکلا۔ جوان لڑکے کی موت پرہر آنکھ در حقیقت اشک بار تھی ۔لڑکے کے والد کی حالت صدمے سے سخت نڈھال تھی آخر جوان بیٹا مرا تھا بُڑھاپے کا سہارا چھن گیا تھا مرحوم ماں باپ تین بہنوں کا اکلوتا سہا را تھا۔ لوگ باپ کو تسلی دینے کی کوشش کرتے تھے مگر ایسے موقعوں پر الفاظ تسلی نہیں دے پاتے ایسے زخم وقت کا مرہم ہی مندمل کرتا ہے۔ ۔دوست سے پوچھنے پر معلوم پڑا کہ لڑکا انجینئرنگ کا سٹوڈنٹ تھااور ایک اسلام آباد کے سرکاری انسٹیٹیوٹ میں فرسٹ ائیر میں زیرِتعلیم تھا۔ تمام انجینئرنگ یونیورسٹیز میں ایڈمشن چھوڑ کر کوالٹی کے نام پر اس نے اس ادارے کو ترجیح دی تھی ۔جمعہ کی صبح باقی طلباء کی طرح مرحوم بھی اُٹھا اور واش روم گیاجہاں پہلے سے ہی انسٹنٹ گیزر سے گیس لیک ج کے باعث گیس ٹریپ ہوئی تھی ۔گیس سے بھرے واش روم میں داخل ہوتے ہی لڑکے پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور بالا آخر موت کی وادی میں جا سویا ۔ساتھ والے واش روم میں بھی لیک ج تھی مگر قدرے کم وہاں داخل ہونے والا لڑکا بھی بے ہوش ہوا مگر نیم سو اس نے بہ مشکل بچاؤ کے لیے آواز لگائی جو باہر موجود سوئپر نے سن لی اور اسے باہر نکال لیا۔ میرے دوست کا کزن شاید اتنا خوش قسمت نہ تھا ۔لڑکے کے کافی سارے دوست جنازہ پڑھنے ملتان آئے ہو ئے تھے ہر ایک غم سے نڈھال اور اشک بار تھا ۔اسٹوڈنٹ دورکے رشتے ناطے یاریاں بالکل خالص اور بے لوث ہو تے ہیں۔ بات یہیں تک ہوتی تو اسے ایک حادثہ سمجھ کر اگنور کر دیا جاتا مگر یہ حادثہ کم اور غفلت ہونے کی وجہ سے قتل زیادہ ہے۔ طلباء نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ اس گیس لیک کی تین چار مرتبہ انتظامیہ کو شکایت کی گئی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اور واقعہ ہو جانے کے بعد انتظامیہ نے طلباء کو مزید دبانا شروع کردیا کہ اگر کسی نے سوشل میڈیا پر یا کہیں اس حادثہ کے بارے میں زبان کھولی تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ گویا انتظامیہ میں متعلقہ ذمہ داران اپنی نوکریاں بچانے کی فکر میں ہیں۔ ان کی بلا سے کون مرا کون جیا ۔ان کی نوکری کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔انہیں نہیں احساس کہ ان کی غفلت کی یا کرپشن کی کسی ماں باپ نے کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اور نجانے کب تک وہ رو رو کر اپنے جوان بیٹے کو یاد کر کے قیمت ادا کرتے رہیں گے۔ زندگی ہر کسی کو مکمل سبق دیتی ہے۔ چند دن پہلے شوکت عزیز ایکس پرائم منسٹر کے جوان بیٹے کی وفات پر عوام نے جس طرح کمنٹس کئے وہ ٹھیک تھے یا غلط یہ ایک الگ بحث ہے۔ خدا کسی کو ایسی آزمائش میں نہ ڈالے ۔مگر یہ ویک اپ کال ہے اُن لوگوں کے لئے جو اس زندگی اور دنیا کو مکمل جینے کی آرزو میں مبتلا ہیں۔ جو موت کو ایک خواب سمجھ کر بھولے ہو ئے ہیں۔ جن کے نزدیک یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ یہ عہدوں کی بھوک پیاس پیسے کی ہوس میں اندھا دھند بھاگے جا رہے ہیں۔ اس وقت تک کہ جب ٹھڈا لگتا ہے اور لوگ ان پر ہنسنے اور مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کسی نے گیزر کی مرمت کے بل تو کھا لیے کاغذوں میں ایک نمبر کوالٹی کا گیزر
خریدا مگر لگوایا دو نمبر کوالٹی کا ۔میں حیران ہوں کہ ان کا ضمیر بھی ان کو کچھ شرم نہیں دلاتا نہ ملامت کرتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ کر جی رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ ان کا لوٹ مار کا بازار اسی طرح آباد رہے گا۔ یہ زندگی سے آشنا نہیں موت ان کے شیڈول میں شامل نہیں ہے۔ یہ ابد آباد تک جینے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔ ان کے ارد گرد ہر روز کوئی بیمار ہوتا ہے۔ کوئی مرتا ہے۔ مگر یہ لوگ کان پر جوں تک نہیں رینگنے دیتے ہیں۔ یہ لوگ جنازوں میں بھی اپنے لوٹ مار کے منصوبوں کو پورے جوش و جذبے سے ڈسکس کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ مرنا تو اسی نے تھا جو آج مر گیا اور چلا گیا۔ یہ واقعی ہی بہت دلچسپ لوگ ہیں مگر رب کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔وہ ان کی رسی ڈھیلی کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اچانک رسی کی ڈھیل ختم کرتا ہے تو یہ اوندھے منہ گرے ہوئے ملتے ہیں۔ لوگ ان سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے جنازوں تک میں شریک ہونے کی زحمت نہیں کرتے ۔ان کے یار دوست جو ان کے جنازے پڑھنے آتے ہیں وہ اتنے دین دار ہوتے ہیں کہ اکثر کو نمازِجنازہ تک نہیں آتی ۔ان کے جانے کے بعد کوئی نہ ان کو یاد کرتا ہے نہ ان کے لیے دعا گو ہو تا ہے۔ بات آخر میرے رب کی سچی ہوتی ہے کہ یہاں تک کہ انہوں نے قبریں جا دیکھیں سزا اور جزا قیامت پر ہی موقوف نہیں زندگی خود بھی لوگوں کو ان کے کیے کی سزا دیتی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں۔ خدا ہم سب کو مٹی سے بنا انسان بنائے ہمارے اندر کے فرعون ہم سے پہلے دفن ہو جائیں۔ ہم اگر ان کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیں تو اسی میں ہماری بھلائی ہے ورنہ ہر ظالم اس شعر کو یاد رکھے۔
امیری میں کیا ہے جو فقیری میں نہیں
دنیا میری نہیں تو دنیا تیری بھی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com