بچوں کے حقوق اور عالمی قوانین
تحریر: عرفان اعوان 

بچے کسی بھی ریاست کا مستقبل ہوتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے حقوق تسلیم کرنے کے ساتھ ان حقوق کو تحفظ بھی دیا ہے۔پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور آئے روز بچے استحصال کا شکار ہورہے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے حقوق کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں۔پاکستان میں اس وقت سیودی چلڈرن،آکسفیم ، یونیسیف،بیداری،چائلڈ رائٹس موومنٹ،چائلڈ کئیرفاؤنڈیشن آف پاکستان،روزن،ایس اوایس چلڈرن ویلج آف پاکستان،پبلک ویلفئیر آرگنائزیشن،ورمنی،برگد،ساحل ، پہچان اورسپارک جیسی تنظیمیں بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کررہے ہیں ۔حکومتی سطح پرکچھ اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیربیورو کام کررہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہے اس میں چاہے پیدائش کا اندراج ہو، چائلڈ لیبر ہو ،تعلیم ، صحت یا کم عمری کی شادی ،بچوں کے حقوق کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

بچے کی تعریف ؟
بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدہ کے تحت 18سال سے کم عمر تمام افراد بچہ کہلاتے ہیں۔
حق کیا ہے؟
ایک ایسا دعویٰ جو قانونی اور معاشرتی بنیاد رکھتاہو ۔
بچوں کے حقوق کیا ہیں؟
بچوں کے حقوق میں سے چند بنیادی حقوق جو کہ ان کی زندگی اور نشوونما سے متعلق ہیں کچھ یوں ہیں زندگی اور نشوونما کا حق، تعلیم، پیدائش کا اندراج ، اظہار خیال کی آزادی ، جبری مشقت سے بچاؤ پیار اور محبت ،خصوصی بچوں کا خیال،صحت کی سہولیات کی فراہمی،تشدد سے بچاؤ ،نشہ آور اشیاء سے بچاؤ ،فرسودہ رسم و رواج سے بچاؤ ،کھیل کو د اور تفریح۔
بچوں کے مسائل :۔
1۔ بچوں کا سکول نہ جانا 2۔ کم عمری کی شادی 3۔ بچوں پر نفسیاتی ، جسمانی و جنسی تشدد 
4۔ بچوں کے ساتھ مار پیٹ اور تشدد 5۔ بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا 6۔ بچوں کا منشیات استعمال کرنا 
7۔ بچوں کا بری صحبت کا شکار ہونا8 ۔ بچوں کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ 9 ۔ بچوں کا اغوا اور زیادتی 
10۔ بچوں کی تاریخ پیدائش کا اندراج نہ کرانا 11۔ غربت دور کرنے کے لیے بچوں سے مزدوری ومشقت کروانا 12۔ خصوصی بچوں اور ان کی ضروریات سے لا تعلقی

بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدہ کا تعارف 
نومبر 1989ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کا عالمی معاہدہ کیا اور 2ستمبر 1990ء اس عملی شکل دی ۔یہ معاہدہ کل54دفعات پر مشتمل ے۔ ان میں سے 41دفعات بچوں کے دفعات بچوں کے حقوق پر مشتمل ہیں جبکہ 13دفعات ایسی ہیں جو کہ ریاستوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی ذمہ داریں ہیں۔29سے 30ستمبر 1990ء کو ہونے والے اجلاسوں میں 71سربراہان اور 88اعلیٰ افسروں سے شرکت کی۔ اس معاہدے پر 190ممالک نے دستخط کئے جبکہ سومالیہ خانہ جنگی اور امریکہ نے سپر پاور ہونے کے زعم میں دستخط نہیں کیے۔
بچوں کے حقوق کامعاہدہ کیا ہے؟
یہ معاہدہ اقوم متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان طویل مذاکرات کے نتیجہ میں عمل میں آیا ۔ اقوم متحدہ کے رکن ممالک 10سال کے طویل عرصہ میں اس معاہدے کے مسودے پر متفق ہوسکے ۔اگر کوئی ملک کسی بین الاقوامی معاہدے کی مکمل حمایت کرتا ہے تو اس کامطلب ہے کہ وہ ملک معاہدے کاپابند رہنے پر تیار ہوتا ہے اور یہ کہ اس معاہدے کا رکن ملک ہونے کے ناطے میں معاہدے میں عائد تمام فرائض کے مانتے ہوئے پاکستان نے بھی اس معاہدے کی12دسمبر 1990ء میں توسیع کر دی اور یوں بچوں کے حقوق کے معاہدے کا شریک ملک ہونے کے ناطے اور معاہدے کی روشنی میں قومی قوانین میں ترمیم کرنے اور ملک میں اس معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں باقاعدگی سے رپورٹ دینے کا پابند ٹھہرا۔

آرٹیکل نمبر 1۔بچے کی تعریف
اٹھارہ سال سے کم عمر تمام لڑکے اورلڑکیوں کو بچہ مانا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 2۔غیر امتیازی سلوک : 
بچوں کے ساتھ رنگ و، نسل ،عقیدے ،مذہب ،زبان ،ملک وقوم ،قبیلے یا کسی معذوری کی وجہ سے امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا۔
آرٹیکل نمبر 3۔ بہترین مفاد 
بچوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت عدالتیں، سماجی ادارے یا سرکاری حکام بچے کے بہترین مفاد کو ہمیشہ مدنظر رکھیں گے۔
آرٹیکل نمبر 4۔حقوق کانفاذ
تمام مما لک معاہدے میں درج کیے گئے حقوق پر عمل در آمد کیلئے ضروری قانونی اور انتظامی کاروائی کرنے کے پابند ہوں گے۔
آرٹیکل 5۔بچوں کی پرورش 
ہر ملک بچوں کے والدین سرپرست اور خاندان ا س حق ذمہ داری اور فرض کا احترام کرے گا کہ وہ بچے کی صلا حیتوں کو ابھارنے کیلئے اسکی مناسب تعلیم وس تربیت اور رہنمائی کریں۔
آرٹیکل 6۔بقاء اور نشوونما
زندہ رہنا بچے کا پیدائشی حق ہے اور ستمام ملک اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جان بچائی جائے۔
آرٹیکل نمبر 7۔پیدائش کا اندراج 
پیدا ئش کے فوراًبعد بچے کا نام رکھا جائے اسے شہریت دی جائے گی اور اس کی پیدائش ریکارڈ سرکاری ادارہ رکھے گا۔
آرٹیکل نمبر 8۔ تحفظ و شناخت 
حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ نام شہریت اور خاندان کے حوالے سے بچوں کی پہچان قائم رہے۔
آرٹیکل نمبر 9۔والدین سے علیحدگی 
کوئی بچہ اپنے والدین سے ان کی مرضی کے بغیر جدا نہ ہونے پائے اگر کسی وجہ سے قانونی طور پر ایسی جدائی ضروری ہوجائے تو بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 10۔رشتوں کا ملاپ
اگر بچہ اور اس کے والدین دو الگ الگ ملکوں میں رہ رہے ہوں تو ان کو یہ حق ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کوملنے کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک میں آجا سکیں۔
آرٹیکل نمبر 11۔اغواء اور رہائی 
ہر حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ بچوں کو اغواکرنے یاان کو زبردستی دوسرے ملکوں میں لے جانے یا رکھنے کی ہر کوشش کو روکے اور اغواہونے والے بچوں کو واپس لایا جائے۔
آرٹیکل نمبر 12۔بچوں کی رائے 
جب بچہ اس قابل ہوجائے کہ اپنی رائے کا اظہار کرسکے تو حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ اس کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دے 
آرٹیکل نمبر 13۔اظہار رائے
ہر بچے کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہوگی۔ وہ اپنی پسند کے مطابق زبانی لکھ کر یا تصویر کے ذریعے معلومات ملک کے اندر یاباہر سے حاصل کرسکے گااور انہیں دوسروں تک پہنچاسکے۔
آرٹیکل نمبر 14۔آزادی فکر 
ہر بچے کو سوچنے سمجھنے بات کہنے اور اس کے مطابق کام کرنیکی آزدی ہوگی اور اسے ماں باپ کی رہنمائی اور ملک کے قانون کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق ہوگا۔
آرٹیکل نمبر 15۔تنظیم سازی کی آزادی 
بچوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ دوسروں سے ملیں کسی انجمن میں شامل ہو جائیں یا خود کوئی انجمن بنالیں ۔
آرٹیکل نمبر 16۔ذاتی زندگی میں مداخلت 
کسی بچے کی ذاتی زندگی اس کے خاندان گھر یا ذاتی خط و کتابت میں کسی طرح کی غیر قانونی مداخلت نہیں ہونے دی جائے گی۔
آرٹیکل نمبر 17مناسب معلومات
حکومت اس بات کا انتظام کرے گی کہ بچوں کومختلف ذریعوں سے دنیا بھر سے ایسی مفید معلومات حاصل ہوتی رہیں۔
آرٹیکل نمبر 18۔والدین کی ذمہ داری 
بچوں کی اچھی تربیت اور بہتر دیکھ بھال والدین اور سرپرست کی بنیادی ذمہ داری ہے حکومت ہر طرح سے مدد کرے گی کہ والدین یہ ذمہ داری پوری کرسکیں۔
آرٹیکل نمبر 19تشدد کی روک تھام 
بچوں کو ہر قسم کے جسمانی،ذہنی اور جنسی تشدد عدم توجیہی اورناروا سلوک سے بچانے کے لئے حکومت تمام موزوں قانونی ،انتظامی ،معاشرتی،اور تعلیمی اقدامات کرے گی۔
آرٹیکل نمبر 20۔لاوارث بچوں کی کفالت 
بے گھر لاوارث بچوں کی حفاظت کے لئے حکومت خصوصی اقدامات کرے گی حکومت ان کے لئے گھر جیسا ماحول مہیا کرے گی یا ایسے ادارے قائم کرے جو ان بچوں کی دیکھ بھال کرے گی۔
آرٹیکل 21۔بچے کو گود لینا 
بچے کو گود لینے کے سلسلے میں بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سے منظوری لینا ہوگی۔
آرٹیکل نمبر 22۔مہاجر بچے 
ہجرت کرنے والے مہاجر بچوں یا پناہ کی درخواست کرنے والے بچوں کی حفاظت کا خاص طور پر انتظام کیا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر23۔خصوصی بچے
ْخصوصی معذور بچوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ ان کی تعلیم و تربیت اور خاص طریقوں سے دیکھ بھال کے جائے۔
آرٹیکل نمبر 24۔ علاج معالجہ کی سہولتیں 
ہر بچے کے اس حق کو تسلیم کیا جائے گا کہ وہ پوری طرح تندرست و توانا اور اسے صحت اور علاج کی ضروری سہولتیں حاصل ہوں ۔
نو مولود بچوں کے مرنے کی شرح کو کم کیا جائیگا۔
آرٹیکل نمبر 25۔فلاح و بہبود کے مراکز 
بچوں کی حفاظت دیکھ بھال اور علاج کے اداروں کی کارکردگی کا وقفے وقفے سے حکومت جائزہ لے گی اور بچوں کو ملنے والی سہولتوں کا کم از کم معیار قائم رکھا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 26۔معاشرتی تحفظ 
بچوں کے اس حق کو تسلیم کیا جائے گا کہ ان کو ضروری سماجی حفاظت ملنی چاہیے جس میں بیمہ کی سہولت بھی ہو۔
آرٹیکل نمبر 27۔معیار زندگی 
ہر بچے کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اسے زندگی کے کم ازکم معیار کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں یہ بچے کے والدین کی اولین ذمہ داری ہوگی اور حکومت کا فرض ہوگا کہ اس کہ ذمہ داری کو پورا کروایا جائے۔
آرٹیکل نمبر 28۔حصول تعلیم
تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ پرائمری تک تعلیم کو لازمی اور مفت فراہم کیا جائے اور ہر بچے کو تعلیمی اور فنی معلومات تک رسائی ہو۔
آرٹیکل نمبر 29۔بہتر تعلیمی نظام
حکومت تعلیم کے نظام کواس طرح بہتر بنائے گی کہ جس سے بچے کی صلاحیت اور شخصیت کو نکھار ملے اور اسے ایک اچھا ذمہ دار شہری بنایا جاسکے۔
آرٹیکل نمبر30۔اقلیتی بچے
ملک کی اقلیتی آبادی کے بچوں کو یہ حق حاصل ہوگاکہ وہ اپنی زبان مذہب اور رہن سہن کے طریقوں کے مطابق پوری آزادی سے اپنی زندگی گزار سکیں۔
آرٹیکل نمبر31۔تفریحی سرگرمیاں
بچوں کو یہ حق حاصل ہوگاکہ انہیں تفریحی اور کھیل کے مواقع ملیں اسی طرح انہیں اپنے ملک کے رسم و رواج کے مطابق تصویریں بنائے ،موسیقی ،گیت ،ڈرامے،شاعری اورعلم و ادب کے دوسرے کاموں میں بھی حصہ لینے کا پورا حق ہوگا۔
آرٹیکل نمبر 32۔بچوں سے مشقت
حکومت کا یہ فرض ہوگاکہ وہ بچوں کو ایسے کاموں سے بچائے جن سے ان کی صحت تعلیم یاجسمانی ترقی میں رکاوٹ پڑسکتی ہو۔ حکومت روزگار کیلئے کم ازکم عمر مقرر کرے گی اور ملازمت کی شرائط طے کرے گی۔
آرٹیکل نمبر 33۔منشیات سے بچاؤ
بچوں کو منشیات سے بچایا جائے گا۔انہیں نشے والی دواؤں سے محفوظ رکھتے ہوئے ایسی خطرناک دواؤں کی تیاری یا تقسیم میں کسی طرح بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 34۔جنسی تشدد
بچوں کی ہر قسم کی بدسلوکی ،زیادتی اور بے حرمتی سے بچایا جائے گاور ہر قسم کے مکروہ کاروبار سیدور رکھا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 35۔بچوں کی خریدو فروخت 
ہر حکومت کا یہ فرض ہوگاکہ وہ دیگر ممالک سے مل کر ایسا انتظام کرے کہ بچوں کے اغواجیسے مکروہ کاروبار کا خاتمہ کیا جاسکے گا۔
آرٹیکل نمبر 36۔استحصالی عوامل
بچوں کو یہ بھی حق ہوگاکہ انہیں ہر قسم کی ایسی لوٹ کھسوٹ سے بچایا جائے جو ان کو ترقی میں رکاوٹ بنے۔
آرٹیکل نمبر 37۔ہتک آمیز سلوک یا سزا
بچوں کو ہر قسم کے تشد د ظالمانہ سلوک اور سخت سزاؤں سے جن میں موت اور عمر قید کی سزاشامل ہے سے محفوظ رکھا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر38۔جنگ کا شکار بچے
15سال سے کم عمر کے کسی بچے کو براہ راست جنگ یا لڑائی میں شامل نہیں کیا جائے گا اور نہ فوج میں بھرتی کیا جائے گا۔
آرٹیکل نمبر 39۔متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال
حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ جنگ تشد دظالمانہ سلوک لا پرواہی یا لوٹ کھسوٹ کا شکار ہونے والے بچوں کا مناسب علاج اور دیکھ بھال کرے۔
آرٹیکل نمبر40۔عدالتی انصاف کا حصول 
جن بچوں پر کوئی الزام ہو یا انہوں نے کوئی جرم کیا ہوا نہیں یہ حق حاصل ہوگا کہ ان کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ان سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے ۔انہیں قانونی امداد دی جائے تاکہ وہ اپنی صفائی پیش کر سکیں۔
آرٹیکل نمبر 41۔اعلیٰ معیار کے لئے جدو جہد 
اس بات کا خیا ل رکھا جائے کہ اگر کسی ملک کے قانون یا عالمی قانون میں بچوں کے حقوق کا معیار موجودہ معاہدے سے بہتر ہے تو اس بہتر اور اعلیٰ معیار کو قائم رکھا جائیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com