کب سمجھو گے ہم وطنو، 

ضیغم سہیل وارثی
کب سمجھو گے ہم وطنو، 
سیکھنے پر آ ئیں کہیں سے بھی سیکھ سکتے ہیں ، ہمار ے سیاست دان بہت مہر با ن رہتے ہیں ہر بار مو قع فراہم کر تے ہیں کہ سمجھ جا ؤ مگر ہم ویسے ہی رہتے ہیں ، جو لا رے لگا رہے ہیں کہ بہتری لا کر رہیں گے ان کے لیے شا عر ،،،،،،
نہ خنجر اٹھے گانہ تلوار ان سے 
یہ با زو میر ے آ زما ئے ہو ئے ہیں 
اب مو سم سیاسی چلے گا ۔ کچھ حد تک چل پڑا ہے ، پر ند ے اڑنا شر وع ہو گے ہیں ، یا کچھ تیا ری کر کے بیٹھے ہیں ، جب یہ ایک طر ف سے دوسری طر ف جا تے ہیں تو ان کی منطق بڑی دلچسپ ہو تی ہے، ہو تی پرا نی ہی کہا نی مگر ہر سیاست دان اس کا استعمال اس لیے کھو لے د ل سے کر تاہے کیو نکہ وہ جا نتا ہے کہ عوام سادہ اس نے کچھ سو چنا نہیں ، اور نہ ہی سمجھنا ہے ، لہذا جو مقا صد ہیں وہ پو رے کیے جا ئیں ، سا دہ سا سوال کیا یہ سلسلہ چلتا رہے گا کہ مو زے گند ے کبھی الٹے کر کے تو کبھی سید ھے کر کہ پہنے جا ئیں گے ا ور سمجھا جا ئے گا صفا ئی ہو گئی، نہیں ، نہیں ، بلکے ایسے نہیں ، بد لنا ہے ، بد لنا ضر وری ہے ، ورنہ یہی رونا روتے رہیں گے کہ تبد یلی نہیں آ تی اور امیر طبقہ چند خا ندا ن اور با قی عوام بس بے چا ری پر ابلم بر داشت کر تی آ ئی اور کر تی آ ئے گی ، ان دنوں تحر یک انصا ف کی جما عت پو ری اپو زیشن کا رول ادا کر نے کی کوشش کر رہی ہے ، کا فی حد تک کا میا ب بھی ہو ئی ، کچھ سیاسی بیا نا ے دیے گے وہ ٹھیک نہیں تھے مگر بڑ ے لیو ل کی سیاست میں اتنا بلنڈر چل جا تا ہے ۔
ان دنوں خبر گر م ڈا کٹر فر دوس عا شق اعوان تحر یک انصا ف میں شا مل ہو رہی ہیں ، سو شل میڈیا پر ان صا حبہ کی دوکلپ سنی ہیں ، جہا ں وہ اپنے علا قے کے مجمے سے خطا ب کر رہی تھیں ،وہ فر ما رہی تھیں کہ ، مجھے جب پتہ چلا کہ ایک طرف نیب میرے خلا ف ثبو ت تلا ش کر رہی ہے تو دوسری جا نب میری پا رٹی پیپلز پا رٹی کی قیا دت ایک ٹیبل پر مسلم لیگ ن کے رہنما ؤ ں کے ساتھ کھا نا کھا تے ہیں تو مجھے بہت افسو س ہو ا اور میں نے اپنی قیا دت کو بتا یا بھی کہ یہ رو یہ اچھا نہیں ہے کہ جو جما عت میر ے خلا ف ثبو ت تلا ش کر رہی آ پ کے ان کے ساتھ تعلقا ت اچھے اور ورک کی کو ئی اہمیت نہیں ،یہاں سا دہ سا سوا ل کہ ملک کا ایک ادارہ جو آ پ کی کر پشن کے ثبوت تلا ش کر ئے تو اس کے پیچھے اقتدار میں بیٹھی سیا سی جما عت ہو گی ؟ اگر ایسا ہی ہے تو آ پ کے دور میں جو ہو تا رہا اور جو منظر نا مے پر نہیں آ سکا وہ سب کیا اس کے پیچھے آ پ کی سیاسی جما عت تھی، آپ کی سیاسی خد مت اپنی پا رٹی کے لیے یہ کہ جب تک آ پ کی پشت پر کھڑی رہے اس کے ساتھ ورنہ وہ پا رٹی چھو ڑنے کی نو بت آ جا تی ہے تو ملک کے لیے کیا خا ک آ پ اچھی نیت سے کا م کر یں گے ،را قم کے یہ الفا ظ ہر اس سیاست دان کے لیے جو اس طر ح کی منطق پیش کر تے ہیں ، آ گے کیا ارشادات ڈا کٹر صا حبہ کے ، مجھے تیر ہ کے الیکشن میں پی ٹی آ ئی کی جا نب سے اپنے حلقے سے ٹکٹ کی آ فر کی گئی تھی کہ ہما ری پا رٹی کی طرف سے الیکشن لڑ یں اور جب میں نے انکا ر کیا یہ کہا کر کہ مجھے اپنی پا رٹی پیپلز پا رٹی کے ساتھ وفا داری کر نی ہے چا ہیے کچھ بھی مجھے منظو ر تو ٹکٹ آ فر کر نے والے نے کہا تھا کہ آ پ اس پا رٹی کی عوام مخا لفت کی وجہ سے الیکشن ہا ر جا ئیں گئیں اور جو کا میا ب ہو گا وہ اتنا قا بل نہیں ہو گا کہ عوام کی اچھے سے خد مت کر سکے ، تب مجھے بھی احسا س تھا لیکن پیپلز پا رٹی کے سا تھ وفا داری نبھا نی تھی ، بہت خو ب ڈاکٹر صا حبہ ، تب آ پ جا نتے تھے تا زہ تا زہ منسٹری کے مز ے لیے اب پا رٹی کیسے چھو ڑ سکتے تھو ڑا سا تو ظر ف دیکھا نا تھا ،اور یہ بھی جا نے کہ جو سیا سی پا رٹی آ فر کر رہی وہ وفا ق تک نہیں جا ئے گی تو کچھ ملے گا نہیں لہذا ابھی انتظا ر کیا جا ئے ، اب سب سیاست دان سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آ ئی آ نے والے الیکشن میں کا فی حد تک وفا ق میں اثر وثو ق رکھے گی ، اب عوام پر کہ وہ اس ایک سیا ست دان کی تا زہ مثال ، اس منطق کو سمجھ کر ہو ش میں آ ئیں کہ ہم کو کیسے بے وقو ف بنا یا جا تا ۔
یہ بھی سا منے کا سوال کہ تحر یک انصا ف اس طر ح کے لو گوں کو شا مل کر رہی ہے جو لا زمی بعد میں حصہ ما نگے گے تو کیا تحر یک انصا ف اپنا امیج قا ئم رکھ سکے گی ، کیو نکہ ابھی صو با ئی حکومت ان کے پا س تو یہ دفا ع میں ہیں کہ وفا ق پو را تعا ون نہیں کر رہی تب صو بے میں زیا دہ بہتری نہیں آ سکے اور یہ بھی پلس پو ائنٹ تحر یک انصا ف کے پاس آ نے وا لے الیکشن میں کہ پہلے سب کو آ زما چکے ہیں اب خاں صا حب کو چا نس ملنا چا ہیے ، مگر کیا خاں صا حب کی ٹیم کے با قی فر نٹ کے کھلا ڑی جو اڑے کے آ ئے ہیں اب ایسا بھی نہیں کہ وہ ذا تی مقا صد فکس کر کے نہ بیٹھے ہو ں ، تو ایسی صو رت حال میں عوام کی مشکلا ت کیسے کم ہو ں گئیں ، صرف زنجیر یں تبد یل کی جا رہی ہیں اور کی جا ئیں گئیں ، 
سیاسی کھیل میں سب جا ئز ہے ، مگر ہما رے سیاست دان ہر حد کر اس کر رہے ہیں، سیاسی دانوں کا کیا امیج رہ گیا ، کہ یہ صرف ذا تی مفا د کے پتر ہو تے ہیں ، 
سیکھنے پر آ ئیں کہیں سے بھی سیکھ سکتے ہیں ، ہمار ے سیاست دان بہت مہر با ن رہتے ہیں ہر بار مو قع فراہم کر تے ہیں کہ سمجھ جا ؤ مگر ہم ویسے ہی رہتے ہیں ، جو لا رے لگا رہے ہیں کہ بہتری لا کر رہیں گے ان کے لیے شا عر ،،،،،،
نہ خنجر اٹھے گانہ تلوار ان سے 
یہ با زو میر ے آ زما ئے ہو ئے ہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com