صرف ایک سال کے لیے اسلامی سزاؤں کا نفاذ کرکے دیکھیں

صرف ایک سال کے لیے اسلامی سزاؤں کا نفاذ کرکے دیکھیں
(ابن نیاز)
ابھی زینب کے لہو کی پکار تازہ ہے۔ ابھی میڈیا بھی شور مچا رہا ہے اور عوام بھی۔ ابھی اپنے مطلب کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی شور کر رہی ہیں اور اسلامی تنظیمیں بھی ۔ ابھی موم بتی مافیا بھی زور و شور سے سرگرم ہے کہ زینب کے قاتل یا قاتلین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ چونک ابھی زینب انصاری کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تو اسلامی نظریانی کونسل جو کہ آج کے سائنسی نظریے پر یقین نہیں رکھتی (لکیر کی فقیر ہے ) کو چاہیے کہ حکومت سے اسلامی سزاؤں کے عملی نفاذ کے لیے سفارش کرے اور اس کے بھرپور سفارش کرے۔ بے شک اس طرح کے کیسز کے لیے چار عادل و ثقہ گواہ میسر نہ ہوں گے، لیکن عدالت میں شاید کوئی جھوٹے گواہی ہی سچی گواہی دے دیں۔ کیونکہ جھوٹے گواہ جس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں اسی دھڑلے سے جب وہ سچ بولیں گے تو اپنے سچ پر قائم رہیں گے۔ بھلے وکیل ان کو اِدھر اُدھر گھمائے لیکن وہ اپنی بات پرہٹ دھرمی سے قائم رہتے ہیں۔ ایک نقصان پہنچانے والے مچھر سے اگر اللہ پاک نمرود کو ہلاک کروا سکتا ہے تو کیا چند جھوٹے گواہان مل کر سچی گواہی نہیں دے سکتے اور اس قائم نہیں رہ سکتے؟ اللہ سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔
اگر آج یہ اسلامی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں تو پھر مختاراں مائی (اس سے پہلے بھی بہت سے واقعات ہوئے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوئے) سے لیکن ڈاکٹر شازیہ خالد، رضیہ کبرٰی، زنیرہ، نسیمہ ، کائنات سومرو جیسے زیادتی کے واقعات ہوتے رہیں گے اور عوامی مجرم عوام میں دندناتے پھریں گے۔مذکورہ بالا خواتین بالغ تھیں اور سب کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی رہی۔ مجرم پکڑے بھی گئے۔ سائینسی طور پر ان کے خلاف جرم ثابت بھی ہوا۔ لیکن بھلا ہو ہمارے عدالتی نظام کا ، ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک، جنھوں نے یہ کہہ کر مجرموں کو آزاد کر دیا کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔ کیا جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ، اس کی اپنی گواہی ناکافی ہے؟ مزے کی بات تو یہ ہے کہ کوئی کیس بھی کسی شرعی عدالت میں پیش بھی نہیں ہوا پھر بھی عام عدالت نے کیس کو عدم ثبوت ہونے کی بنا پر خارج کیا۔ جس میں عادل گواہوں کی غیر موجودگی اور ہسپتالوں کی جانب سے خواتین کی ذہنی صورتحال کا واضح نہ ہونا ثابت ہے۔ جب کہ خاتون خود ان سب مجرموں کو چہرہ بہ چہرہ پہچان رہی ہے اور عدالت کو بتا رہی ہے۔ جرم ہونے کی جگہ سے پولیس نے مرد و خواتین کے کپڑے تک برآمد کیے ہیں۔ اس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے جرم ثابت ہوا ہے لیکن عدالت کہتی ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں۔ اگر عدالتیں بالغ خاتون یا لڑکی کا بیان نہیں مانتیں تو پھر کس کومانیں گی؟ عدالت مجرم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتی ہے۔ پھر پولیس کو مجرم اپنا بیان ریکارڈ کرواتا ہے اور عدالت میں مکرتا بھی نہیں ہے اور پھر عدالت کہتی ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں۔ کوئی بتلائے کہ ہمیں بتائیں کیا؟
زینب انصاری سے پہلے ماریہ ، عبد الشکور اور دو ہزار پندرہ میں قصور شہر ہی کے تین سو بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات زبان زدِ عام ہوئے۔ان تین سو بچوں کے ساتھ زیادتیاں کرکے ان کی ویڈیوز بنائی گئیں ۔ ان کے والدین کو بلیک میل کیا گیا ۔ مجرم گرفتار ہوئے بمع ثبوت گرفتار ہوئے۔ لیکن سرکردہ سیاستدانوں کی مداخلت کی وجہ سے اصل مجرم رہا ہوئے اور نقلی مجرموں کو کچھ سالوں کی سزائیں دی گئیں۔ جب مختلف صحافیوں نے اور دیگر ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں در حقیقت بین الاقوامی گروہ شامل ہے۔ جو پورنو گرافی پر کام کرتا ہے خاص طور پر بچوں کیساتھ زیادتی کی ویڈیوز بنا کر ان سے پیسے کماتا ہے اور لاکھوں کروڑوں کماتا ہے۔اس گروہ میں ہر ملک کا ہر وہ بڑا آدمی شامل ہے جس کے ہاتھ قانون سے زیادہ لمبے ہیں۔ جس کے لیے قانون واقعی اندھا ہے، اس کے ہاتھ میں بٹیر کہہ کر ایک کوا تھماد یا جائے تو وہ مان جائے گا۔
ابھی زینب کا لہو بھی نہیں خشک ہوا کہ کے پی کے سے شہر مردان سے بھی ایک خبر آئی ہے کہ وہاں بھی ایک چار سالہ بچی عاصمہ کو دوپہر کے وقت اغوا کیا گیا اور شام کو اس کی لاش ملی ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس کو گلہ دبا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ باقی جنسی زیادتی ہوئی ہے یا نہیں وہ فرانزک لیبارٹری سے رپورٹ آنے کے بعد علم ہو گا۔ اس معصوم کلی عاصمہ کے قتل کے بعد یہ کہنا لازمی بنتا ہے کہ معصوم بچوں کی لاشوں پر زیادتی کرنے والے سیاستدان اب کے پی کے میں اس قتل کے بارے میں کیاکہیں گے؟ اعلان تو بڑے زور و شور سے کیا تھا کہ اگر یہ واقعہ کے پی کے میں ہوا ہوتا تو اب تک قاتلین گرفتار ہو چکے ہوتے۔ دیکھتے ہیں اب قاتل کتنے وقت میں گرفتار ہو کر پایہ انجام تک پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ کوئی پہلا یا دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ ہزاروں واقعات گذشتہ کئی سالوں میں رونما ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔ پھانسی تو درکنار، اس پر ثبوت کے ناکافی ہونے کی وجہ سے اس کو "باعزت " طور پر بری کر دیا گیا۔ اب ثبوت اگر ناکافی تھے (جو کہ بہت کافی تھے) تو اس میں اس معصوم کا کیا قصور ہے جس پر ظلم کی انتہا کی گئی ۔ اگر ثبوت ناکافی تھے تو پھر پولیس سے کیوں نہیں پوچھا گیا۔ عدالت نے مجرم کو پولیس کسٹڈی میں رکھ کر مزید ثبوت اکٹھے کرنے کا حکم دینا تھا۔ جب مقصور کا بیان ریکارڈ پر تھا اور مجرمین کو پہچانا گیا تھا تو پھر تو ثبوت کے ناکافی ہونے کا بہانہ نہیں چاہیے تھا۔ اگر پھر تھا تو پولیس کو مزید ثبوت کا کہنا چاہیے تھا۔ایک تاریخی رپورٹ کے مطابقج جب نواب آف کالا باغ امیر محمد خان 1960 میں مغربی پاکستان کے گورنر بنے جس کا مطلب وہ آج کے پورے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ نواب آف کالاباغ اپنے سخت گیر طرز حکمرانی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کے دور حکومت میں لاہور سے پانچ سال کا ایک بچہ اغوا ہوگیا۔ نواب آف کالا باغ نے ایس ایس پی کو بلو ا کر 24 گھنٹے کے اندر بچہ بازیاب کرانے کا حکم دیا لیکن پولیس نے مغوی بازیاب نہ کرایا۔بچہ بازیاب نہ ہونے پر نواب آف کالاباغ نے اگلے دن اے ایس پی ، ایس پی اور ایس ایس پی کے بیٹوں کو اٹھوا کر کالاباغ بھجوادیا اور اعلان کردیا کہ جب تک مغوی بچہ نہیں ملے گا تب تک افسران کے بچے واپس نہیں ملیں گے،ان کا یہ نسخہ کامیاب ہوا اور پولیس نے اسی دن بچہ بازیاب کرالیا۔ تو کیا آج کے معزز ججز یہ کام نہیں کر سکتے؟
پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ اگر پولیس نے مجرم پکڑنے ہوتے ہیں تو ایک سیاستدان کا ڈرائیور قتل ہوتا ہے اور قاتل ایک دن میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب واضح ثبوتوں کے باوجود گرفتار نہیں کرنے ہوتے تو آج کتنے دن ہو گئے ہیں، ابھی تک مجرم کے خاکے ہی بن رہے ہیں۔ اوپر سے ہمارے صوبہ پنجاب کے سیاستدانوں کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ مجرمین ہر گز نہیں پکڑے جائیں گے۔ اس حکومت پر معصوم زینب کے والد کے اعتبار کی حد دیکھیں کہ انھوں نے بھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف ہی نگاہ کی ہے۔
اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی اور ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کی جتنی آج ضرور ت ہے آج سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آپ چند افراد کو حدود کی سزائیں یا پھر جو سزائیں اسلامی قوانین کے تحت مقرر کی گئی ہیں، برسرِ بازار، بیچ چوراہے میں دی جائیں اور ان کی لاشیں یا زندہ اجسام شام تک مقام سزا پر برائے عبرت پڑے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ جرم میں ایک بڑی کمی نہ آئے۔ چار مجرموں کا چوری کرنے پر ہاتھ قلم کرکے دیکھیں، دوسرا کوئی ہمت بھی کر جائے۔ زنا کے مجرم کو سنگسار یا کوڑے لگا کر دیکھیں، اگر وہاں اس طرح گناہ گار بھی ہوں گے تو فوراًسے پیشتر جا نماز بچھا کر اللہ سے توبہ استغفار شروع کر دیں گے اور اپنے گناہوں پر پردہ پڑنے کی دعا کریں گے۔ آزمائش شرط ہے۔ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com