6 دسمبر 1971 کا دُلہا

6 دسمبر 1971 ء کا دُلہا تحریر: راجہ عدیل بھٹی

تاریخ گواہ ہے جب بھی وطن عزیز اسلا می جمہوریہ پاکستان پر کٹھن اور مشکل وقت آن پڑا تو ہماری پاک فوج کے بہادر ‘ زیرک اور جرّی نوجوانوں نے صف اوّل کا کردار ادا کیا اور دُشمنانِ ملک و ملت کے تمام ناپاک عزائم اور مذموم مقاصد اور منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ وطن عزیز کی طرف اُٹھنے والی دُشمن کی توپوں ‘ گنوں اور ٹینکوں کے گولے اپنے کشادہ سینوں سے روک کر دُشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی عسکری تاریخ اَن گنت اور اَنمٹ نقوش اور کارناموں سے بھری پڑی ہے ۔ ہر دور میں محب وطن پاکستانی فوجی جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی بلکہ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرحدوں کی رکھوالی کرتے ہوئے قربانیاں دیں کچھ نے دُشمنانِ وطن کو دندان شکن اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے وطن عزیز پر قربان ہوکر عظیم المرتبت رتبہ شہادت نوش کیا اور کچھ غازیانِ پاکستان کے عظیم الذی وقار درجہ سے سرفراز ہوئے ۔ ایسا ہی ایک بہادر اور جری نوجوان کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ جس کا تعلق ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ سے تھا‘ نے وطن عزیز کی خاطر عین عنفوانِ شباب میں جان کا نذرانہ دے کر شہادت کے عظیم الذیشان مرتبہ سے سرفراز ہوا ۔ اس نوجوان نے چھمب سیکٹر پر دُشمنانِ وطن کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے نہ صرف چھمب کو فتح کیا بلکہ شہادت کا سہرا اپنی جبین پر سجایا ۔ تجھے مٹانے والے نہ مٹا سکیں گے تیرے نقش ہیں ایسے زمین پر اک میں ہی نہیں دُنیا شیدا تیری تیرے چرچے ہیں عرشِ برین پر نبھا گیا ہے کیسی لج نام کی شبیر تُو تا ابد سجا گیا ہے سہرا جبین پر دے دی جان اپنی چھمب اندر ہو گیا قربان خادمؔ سیّد دین پر دسمبر 1971 ء کو آزاد جموں و کشمیر میں چھمب کے محاذ پر حق وباطل کا معرکہ بپاہوا‘جس میں خطہ پوٹھوہار کے مایہ ناز اور نامورسپوت کیپٹن شبیر حسین شاہ نے اپنے آباؤ اجدادکے نقش قدم پر چل کر دادِشجاعت کی داستان رقم کرتے ہوئے اور فتح چھمب میں اپنا کردارادا کرتے ہوئے 6دسمبر1971ء کو دریائے توی کے کنارے جامِ شہادت نوش کیا۔ یوں تووطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی و بقاء اور آزادیٔ جموں و کشمیر کی خاطر اَن گنت انسانوں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بہادری کے ایسے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن اسلام کے اس شیر جوان کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ نے صحیح معنوں میں رسمِ شبیر ؑ کو ادا کیا ۔ اس جو ان نے جو کارنامے کر دکھائے ہیں ان کو پسِ پُشت ڈالنا کسی صورت ممکن نہیں۔ اگر کیپٹن سیّد شبیر حسین شہید کو ’’6 دسمبر 1971 ء کا دُلہا‘‘ کا خطاب دیا جائے تو یہ ان کی جرأت اور بہادری کا کھلے دل سے اعتراف ہو گا ۔ رکھ کے صدق یقین ایمان کامل کیتی دان جان سیّد پاکستان اُتے رکھی لج کربل آلے سیّد نی آن دِتّا نئیں حرف اپنے خاندان اُتے بن کے قہر دُشمناں تے جا ٹُٹیا سیّد کر گیا روشن نام جہان اُتے خادمؔ پا گیا رُتبہ شہادتاں دا تارا چمکیا ویکھو آسمان اُتے ہمارے وطن عزیز کی سرحدوں کوقائم ہی شبیر حسین شاہ جیسے شہیدوں اور مجاہدوں نے کیاہے۔ تمام ناموراور گمنام مجاہد اور شہداء ہمارے محسن ہیں۔انہیںعقیدت و محبت سے یادکرناہمارا قومی و دینی فریضہ ہے ۔ آج انہی کی بدولت ہم آزاد فضا میںسُکھ کا سانس لے رہے ہیں ۔ان مجاہدوں نے ہمیشہ بے لوث اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب حضرت محمدؐ کی رضا کی خاطر راہِ حق میں قربانیاں دے کر شہادت کا درجہ حاصل کیایاپھر غازی بن کر چانداور سورج کی طرح روشن ہوئے۔اسی ضمن میں ڈاکٹر محمد سلیمانؔ کے ملی نغمہ کا ایک بند پیش خدمت ہے ۔ دُنیا میں گر فوج ہے یارو فوج ہے پاکستان کی فتح و نصرت خواہش ہے ہر فوجی جوان کی ’’ آؤ بچو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘‘ ’’جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی‘‘ پاکستان زندہ باد ، پاکستان زندہ باد کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ شہید نے آنکھ ہی قتل و غارت اور خونریزی کے علاقے اور دَور میں کھولی تھی۔ کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ کے والد محترم پیر سیّد محمد اقبال شاہ مینڈھر ضلع پونچھ کے باسی تھے۔ جب 1947ء کی تحریکِ آزادی شروع ہوئی تو ان کے والد محترم پیر محمد سیّد اقبال شاہ نے اپنی برادری ، قبائل اور عقیدت مندوں کی قیادت کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور دادِ شجاعت کی کئی داستانیں اپنے خونِ جگر سے رقم کیں ۔ 9 مارچ 1948ء کو آپ پیر سیّد محمد اقبال شاہ کے ہاں پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام سیّد شبیر حسین شاہ رکھا گیا ۔ دسمبر 1948ء میں جب انڈین آرمی نے مینڈھر ضلع پونچھ پر قبضہ کر لیا تو آپ کے والد اپنے گھرانہ ، افراد قبیلہ اور دیگر احباب کے ہمراہ ہجرت کر کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں آکر آباد ہو گئے ۔ کیپٹن شبیر حسین شاہ بچپن ہی سے ہونہاراور ذہین تھے ۔پرائمری سکول سوہاوہ سے بہترین کارکردگی کی بناء پرپانچویں جماعت میں پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔مڈل اورمیٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سوہاوہ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔آپ کا شمار ذہین ترین طلباء میں ہوتا تھا ۔ آپ کانام سکول کے آنر بورڈ پر درج تھا۔آپ ہاکی کے بہترین کھلاڑی اور سکول کی بزم ادب کے بہترین مقرر بھی رہے ۔گوجرخان کالج سےF.Sc کا امتحان 1966ء میں پاس کیا۔وہاں بھی کالج کی بزم ادب کے جنرل سیکرٹری رہے ۔کالج کی طرف سے دوسرے اضلاع میں کئی ایک ادبی مقابلوں میں حصہ لیااور ہر بارمیڈل ، ٹرافیاں ، انعامات اور اسنادحاصل کیں ۔ آپ نے2جولائی 1967ء کوپاک آرمی میں کمیشن حاصل کیااور 29 دسمبر 1967ء کو13آزادکشمیر رجمنٹ میں تعینات ہوئے ۔یکم جولائی 1969ء کوکمپنی کمانڈر اور21اگست 1970ء کو اپنی رجمنٹ کے ایڈجوڈنٹ مقرر ہوئے ۔ دسمبر 1971ء کے معرکۂ پاک بھارت میںآپ کی رجمنٹ چھمب سیکٹرپر تعینات تھی۔کون جانتاتھا کہ AK-13 رجمنٹ کا یہ جواں سال ایڈجوڈنٹ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے ایک ایسے علاقہ پر یلغار کرے گا ،جسے فوجی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت حاصل ہے اور یہ جرأتمنداپنے خون سے وطن عزیزکی عسکری تاریخ میں ایک روشن اور تابناک بابِ جرأت کا اضافہ کرے گا،جس کا کارنامہ تاریخ میں جلی حروف سے لکھا جائے گا ۔ چار دسمبر کی صبح AK-13 رجمنٹ نے اپنے جرأت منداور پرعزم کمانڈنگ آفیسرکی کمان میں تیزی کے ساتھ دریائے توی پارکر کے چھمب اورمنور کا علاقہ دشمن سے خالی کرالیا۔ کیپٹن شبیر حسین شاہ کوبحیثیت ایڈجوڈنٹ یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ آپ بٹالین کمانڈر کی وائرلیس والی جیپ پر رہیں تاکہ ایک طرف بریگیڈہیڈ کوارٹر سے رابطہ ہو اور دوسری طرف پلٹن کی کمپنیوں کے متعلق معلومات حاصل کرکے بریگیڈہیڈ کوارٹر تک پہنچاتے رہیں اور مناسب کا رروائی کراتے رہیں ۔ 4اور5دسمبرکی درمیانی رات کوAK-13 کے رجمنٹ نے دریائے توی کے پار حملہ کیااور توی سے ساڑھے تین میل دورپلانوالہ کی پہاڑی پرقبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئی لیکن دریائے توی کے پارAK-13 فوراًہی دشمن کے توپ خانے کی زد میں آگئی ۔جس کادشمن نے نہایت ہی مضبوطی سے اہتمام کیاہواتھا۔ اس موقع پر کیپٹن شبیر حسین شاہ نے اپنی جنگی حکمت عملی،ذاتی شجاعت اوربلند حوصلے کے جوھردکھائے آپ اپنی جیپ پر تمام اطراف تیزی سے حرکت کرتے ہوئے پلٹن کی کمپنیوں کے حالات اور صورتحال کو ملا حظہ کرتے اور مناسب کارروائی کراتے رہے ۔جس کی وجہ سے پلٹن پردشمن کادباؤکم ہوگیا۔اسی اثنا میںدشمن کی فضائیہ بھی اپنی فوج کی مددکے لئے آگئی ۔دشمن کے توپ خانے نے بھی زبردست گولہ باری شروع کردی۔ چوبیس گھنٹے کی زبردست گھمسان کی جنگ ہوئی ۔اس جنگ میں دونوں فوجوں کا زبردست جانی نقصان ہوالیکن جانبازاور جواں ہمت ڈویژنل کمانڈر نے بھی ہمت نہ ہاری، وہ ایسی شحضیت نہ تھے کہ دشمن کو سانس لینے دیتے۔ 6 دسمبر سحری کے وقت جنگی حکمت عملی کے تحت انھوں نے اپنی فوج پیچھے ہٹائی اورازسر نوترتیب دے کر دشمن کی پوزیشن پر دونوں اطراف سے یلغار کردی ۔یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور دشمن کا حصار ٹوٹ گیا۔چھمب اور منور کے علاوہ دریائے توی کے پارپلانوالہ کی پہاڑی پر وطن عزیزکا سبزہلالی پرچم لہرانے لگا۔اسی معرکہ میں کیپٹن شبیر حسین شاہ نے 6 دسمبر صبح 8بجے دادشجاعت دیتے ہوئے مرتبۂ شہادت پایا۔اسی دن 6 دسمبر بروز سوموار آپ کا جسد خاکی آپ کی رہائش گاہ سوہاوہ ضلع جہلم روانہ کردیاگیا۔جہاں 7 دسمبر 1971ء کو سینکڑوں اشکبار آنکھوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سپردخاک کیا۔ کیپٹن شبیر حسین شہید کی شہادت کے پیچھے بھی ایک فلسفہ ہے … اس فلسفہ شہادت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے سیّد کبیر حسین شاہ اخترؔ جو کہ کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ شہید کے حقیقی بھائی ہیں ، کہتے ہیں کہ 1948 ء کو ہمارے خاندان نے مینڈھر ضلع پونچھ سے ہجرت کی تو اُس وقت کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ شہیدصرف چند ماہ کے تھے ، قتل و غارت اور بمباری عروج پر تھی اُس وقت ہماری والدہ محترمہ نے اللہ ربّ العزت کی بارگاہ ِ اقدس میں دُعا کی کہ ’’اے باری تعالیٰ ! میرے اس بیٹے کو اس خون آشام ماحول سے محفوظ نکال اور سلامت رکھ جب یہ بڑا ہو گا تو میں اسے تمہاری ہی راہ میں قربان کروں گی ‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا … اور عین عالم شباب میں کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ نے شہادت کا مرتبہ پایا ۔ یہ سُننے کے بعد فوراً ہی ہمارے ذہن میں یہ شعر اُترا۔۔۔ ماں کی مانگی ہوئی دُعا کب رد ہوتی ہے ہوتی ہے قبول جب جوانی کی حد ہوتی ہے آخر میں وزیر اعظم و صدر پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر سے پُر زور اپیل کریں گے کہ کیپٹن سیّد شبیر حسین شاہ شہید نے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پائی ہے ۔ اس لئے پاکستان اور کشمیر میں ان کے نام سے سرکاری عمارت ، سکول ، کالج یا سڑک وغیرہ موسوم کی جائے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف حال رہیں ۔ دُعا ہے اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے آمین۔ عظیم مسلم فلسفی ، شاعر اعظم ، مفکر و مصورپاکستان ، حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے ان اشعار بعنوان ’’طارق کی دُعا‘‘(اُندلس کے میدان میں) کے ساتھ اجازت چاہیں گے۔ یہ غازی‘ یہ تیرے پُر اسرار بندے جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دِل کو عجب چیز ہے لذتِ آشنائی شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے قبا چاہیے اس کو خونِ عرب سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com