مسجد اقصی اور ہماری ذمہ داری 

مسجد اقصی اور ہماری ذمہ داری 

جنیدرضا، کراچی 

مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“

احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔

جب عمر فاروق ؓ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر ؓ نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ مسجد اقصٰی سے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔مسجداقصٰی کا بانی حضرت یعقوب کو مانا جاتا ہے اور اسکی تجدید حضرت سلیمان نے کی۔بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔

پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 2 اکتوبر 1187ء کو فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔

مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جو اسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پر ہوتا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:

”مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نماز پڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“بیت المقدس 1 اگست 1967 کو اسرائیلی قبضے میں چلا گیا جو آج تک جاری ہے۔

21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔

صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔

 

اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔

 

اب دور حاضر میں ٹرمپ کے بیان کے بعد اہل فلسطین پر ظلم و بربریت کی ایک انتہائی الم ناک داستان رقم کی جارہی ہیں۔ مگر مسلمانوں سمیت مسلم ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے ابھی تک غفلت کی چادر اوڑھے رکھنا شاہد کسی صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم کی مدد کے منتظر ہیں ۔ روز کئی پیمانوں پر اہل فلسطین کے بچوں کی جانب سے آنے والی تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے مسلمانوں کی ایمانی غیرت و جرت کو جگایا اور ٹھٹولا جارہا ہے  مگر افسوس صد افسوس کہ ہم اپنے پاس سوشل میڈیا کی طاقت رکھنے کے باوجود انفرادی افرا تفری میں لپٹے ہوئے ہیں ۔

ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی ایمانی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارم پر اجتماعی طور باہم آواز بن کر ابھرے، ورنہ اس اہم اور ایمانی مسئلہ پر ہماری خاموشی  تاریخ میں ہمیں سر جکھائے اور بے حسوں و بے غیرتوں کے صف میں پیش کرتی نظر آئے گی ۔۔۔

بس آخر مسجد اقصی کے نام چند اشعار اور اجازت

 

مسجد اقصی تری حرمت کے ہم وارث نہیں 

ہم تو بس آنسو بہانا جانتے ہیں مرگ پر 

ہم ہیں متروک زماں،  ہم دربدر ، ہم بے اثر 

تارک قراں , زمیں کا بوجھ ہیں ہم بے بصر 

تیری حرمت کے امیں عمر ( رض )  و صلاح الدین تھے 

جن کی نظروں سے پگھلتے تھے بتان آزری 

جن کے ہاتھوں میں دئیے تھے عرش نے لوح و قلم 

جن کے پاؤں چومتی تھی بحر و بر کی سرکشی 

جن کی شمشیریں گرجتی تھیں نیاموں میں پڑی 

وہ تو سالار زمیں تھے وہ تھے فخرآسماں 

ہم کو کیا نسبت ہے ان سے،  ہم کہاں اور وہ کہاں 

کفر کی زینت سے خیرہ ہے ہماری آرزو

موت سے لرزاں مسلماں طالبان رنگ و بو 

ہم تو بس دھوکے میں ڈالے جا چکے مغضوب ہیں 

نیل کے صحرا سے تا بہ کاشغر معتوب ہیں 

ہم تو بس شرمندہ ءکون و مکاں ارض و سماں 

ہم کہ دھتکارے ہوئے، ہارے ہوئے ، ہم بے اماں 

ہم پہ بے تاثیر ہے  ہر نعرہ سر نہاں 

ہم پہ بے تاثیر ہے تکبیر بھی تدبیر بھی 

ہم پہ بے تاثیر ہے کونین (ص) کی توقیر بھی 

مسجد اقصی تری حرمت کے ہم وارث نہیں 

تُو پکار اب پھر کسی سالار با کردار کو 

کیا خبر تری ندا پر عرش کے روزن کھلیں 

کیا خبر نصرت کوئی اترے کہیں افلاک سے

مسجد اقصی ہمیں اب اور آوازیں نہ دے 

ہم تو بس آنسو بہانا جانتے ہیں مرگ پر 

مرگ حرمت ہو کہ غیرت ہو کہ مرگ آرزو 

 

جنیدرضا ،کراچی 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com