آندولن کی آگ میں جب امرتسر جل رہا تھا ۔۔۔ 

آندولن کی آگ میں جب امرتسر جل رہا تھا ۔۔۔ 
تحریر : مولانا محمد انور امرتسری ‘ قاسمی ‘ ندوی
جنرل سیکٹری قومی حقوق انسانی سوشل جسٹس کونسل( سٹیٹ یونٹ پنجاب)

جب پڑا وقت گلستاں پر توخوں ہم نے دیا 
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں
ہندوستان میں انگریزوں کی جابرانہ حکومت اور ان کے ظلم و استبداد کے خلاف غیور ہندوستانیوں نے روز اول ہی سے اپنی مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ مزاحمت رفتہ رفتہ ایک زبردست تحریک بن گئی جو ہندوستان کی آزادی کے لئے اس قدر سرگرم ہوئی کہ انگریز جیسی نا قابل تسخیر طاقت اسے دبا نہ سکی ۔ یہ ان بیش بہا قربانیوں کا نتیجہ تھا جو اس تحریک کے شرکاء نے ایک صدی کے اندر پیش کی تھیں اور انہوں نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اب ہندوستانی کسی حال میں غیر ملکی حکمرانوں کو قبول نہیں کریں گے ۔ اس تحریک میں یوں تو ہندو اور مسلمان سب ہی شریک رہے لیکن مسلمانوں نے اپنے مخلص رہنماؤں اورعلمائے دین کی قیادت میں جو نمایاں حصہ لیا اور زبردست قربانیاں پیش کیں وہ عام طور پر نظروں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہیں ۔ اگر لاعلمی کا یہی حال رہا تو شاید آنے والی نسل کو یہ بھی یاد نہ رہے گا کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں ہمارا اور ہمارے اسلاف کا بھی نا قابل فراموش کردار تھا ۔ مئی 1857ء کی تاریخ ہمارے اس پر وقار سفر کی آخری سرحد ثابت ہوئی اور اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ہم خون کے دریا میں ڈوب گئے اور پھر اس سے نکلنے کے لئے ہماری کوئی چھلانگ کامیاب نہ ہوسکی ۔
15 اگست 1947 کے بعد ایک نئے ہندوستان نے جنم لیا ۔ جذبات کی رو تھم گئی اور اس کی جگہ سنجیدگی و متانت اور تدبر و فراست نے لے لی ۔ 
پنجاب پر آگ اور خون کی بارش : امرتسر اور پنجاب کے دوسرے اضلاع میں ستیہ گرہ کمیٹی کی جانب سے 30 مارچ 1919 اور 7 اپریل کو ہڑتال کی گئی ۔ پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں ۔ 9 اور 10 اپریل کو ڈاکٹر سیف الدین کچلو اورڈاکٹر ستیہ پال گرفتار کر لئے گئے اور جلا وطن کر دیئے گئے پھر اس کے بعد جب گاندھی جی کی گرفتاری کی افواہ اڑی تو پورے پنجاب میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا ۔ مقامی حکام نے حکومت ہند سے مارشل لاء نافذ کرنے کی سفارش کی اور 15 اپریل 1919ء کو لاہور اور امرتسر میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ۔ 
جلیانوالہ باغ میں : جنگ آزادی کے دورمیں سب سے زیادہ خونریز اورکربناک واقعہ اور انگریزی حکومت کی وحشیانہ درندگی کا ہولناک مظاہرہ جلیانوالہ باغ امرتسر میں ہوا ۔ اس سے پہلے 1913 ء میں کانپور میں ایک سڑک کو سیدھی کرنے کے نام سے ایک مسجد کو کمال لاپروائی سے شہید کرنے کے نتیجہ میں جو مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی تھی تواسے گولیوں کی بے پناہ بوچھاروں سے فرو کیا گیا تھا ۔ لیکن جس درندگی و بربریت کا مظاہرہ جلیانوالہ باغ میں ہوا اس کے مقابلے میں یہ سب واقعات ہلکے ہیں ۔ 
صورت یہ ہوئی کہ پنجاب کے کئی اضلاع میں مارشل لاء لگایا جا چکا تھا ۔ پولیس کو چوکنا کردیا گیا تھا ۔ ستیہ گرہ کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق عمل درآمد کے نتیجہ میں امرتسر میں مکمل ہڑتال ہوئی ۔ انگریزوں کے نادر شاہی مزاج کے لئے یہ جرم کافی تھا ۔ پنجاب کے دو مشہور و مقبول لیڈروں کو گرفتار کر کے جلا وطن کر دیاگیا جن میں سے ایک ڈاکٹر ستیہ پال اور دوسرے ڈاکٹر سیف الدین کچلو تھے ۔ عوام کو جب پتہ چلا کہ حکومت انتقام پر اتر آئی ہے تو ان میں بھی اشتعال پیدا ہوا اور لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تاکہ اپنے لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر سکیں ۔مجمع زیادہ تھااور حکومت کے جابرانہ طرز عمل سے مشتعل بھی ۔ مجمع نے ایک بنک پر حملہ کردیا ۔ عمارت کو آگ لگا دی اور نقصان پہنچایا اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتا ہوا واپس ہوگیا اور اعلان کیا گیا کہ شام کو ساڑھے چار بجے جلیانوالہ باغ میں جلسہ عام ہو گا تاکہ اپنے محبوب لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ہو سکے ۔ 
پنجاب کا ہٹلر جنرل ڈائر : جنرل ڈائر ہٹلرانہ دل و دماغ اور نادر شاہی مزاج کا ایک فوجی افسر تھا ۔ وہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو لے کر امرتسر پہنچ گیا ۔ اس نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ اب ہندوستانیوں کے خون سے ہی اپنی پیاس بجھاؤں گا ۔
اس نے آتے ہی جس طرح جنگ کے موقع پر احکام نافذ کئے جاتے ہیں منادی کرا دی کہ جولوگ مارشل لاء کی خلاف ورزی کریں گے انہیں فوج کے ذریعہ کچل دیا جائے گا۔ یہ اعلان عوام نے سنا لیکن نظر انداز کردیا اور پھر جلسہ میں شرکت کے لئے جلیانوالہ باغ کا رخ کیا ۔ یہ مجمع تقریباً 15 ہزار سے اوپر تھا ۔ عوام کا مقصد صرف اپنے اوپر ہونے والے مظالم اور نافذ کئے جانے والے جابرانہ قوانین اور پولیس کے ہٹلرانہ رویہ کے خلاف احتجاج کی آواز کو بلند کرنا تھا ۔ 
امرتسر خون میں نہا گیا : جب جنرل ڈائر کو یہ معلوم ہوا کہ جلیانوالہ باغ میں جلسہ ہونا یقینی ہوگیا ہے تو وہ اپنی فوج کے ایک دستہ کو لے کر موقع پر پہنچ گیا ۔ باغ کی حصار بندی کردی گئی اور عوام کے بھاگ کر جانے کے بھی راستے بند کر دیئے ۔ جنرل ڈائر نے دیکھا کہ ایک شخص سٹیج پر تقریر کر رہا ہے اور مجمع خاموشی سے سن رہا ہے تو وہ بوکھلا گیا اور اس درندہ صفت انسان نے بغیر کسی انتظار اور اعلان کے فوج کو گولیاں برسانے کا حکم دیا پھر کیا تھا ۔ میدان قیامت تھا ۔ محشرِ قتل تھا اور جنرل ڈائر باغ کے ایک گوشہ میں کھڑا مسکراتا رہا ۔ فوج نے کہا ۔ گولیاں ختم ہو گئیں ۔ جنرل ڈائر نے کہا ۔ کھیل بھی ختم ہو گیا آؤ واپس چلیں ۔ 
امرتسر شہر میں سکھوں ‘ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ آبادی تھی ۔ اس برطانوی فوج کی گولیوں نے سینوں کو چھلنی کرنے میں کسی طرح کا امتیاز نہیں کیا ۔ اس خون میں فرق کرنا ممکن نہ تھا کہ یہ خون ہندو اور سکھ کا ہے یاپھر کسی مسلمان کا ۔ ہر ایک کی رگوں میں مادرِ ہند کا خون تھا جو آزادی کی راہ میں اور مادرِ ہند کی عظمت کو بچانے کے لئے ایک ساتھ بہہ رہا تھا ۔ 
ہم سلام کرتے ہیں شمع آزادی کے ان تمام پروانوں کو جن کی بدولت آج ہم کھلی فضاء میں آزاد سانسیں لے رہے ہیں ۔ خاص طورپر ڈاکٹر سیف الدین کچلو امرتسری جن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کی گرفتاری پر لوگ بپھر اٹھے اور حکومت سے ٹکر لینے کی ٹھان لی ۔مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی جو ملک گیر شہرت کے مالک تھے مجلس احرار اسلام کے بلند پایہ لیڈر بہت پرجوش تقریریں کرتے تھے ۔ انگریزوں کے خلاف جب مسلمانوں کو للکارتے تھے تو بزدل سے بزدل مسلمان کو بھی ایک بار جھرجھری آ جاتی تھی ۔
عطاء اللہ شاہ بخاری جن کی تقریریں آدمی کا رخ پلٹ دیتی تھیں جنہیں امیر شریعت پنجاب کہا جاتا تھا ۔ برطانوی سامراج ان کی تقاریر سے لرزہ براندام تھا۔ 14 اگست 1947 تک تحریک پاکستان کی مخالفت کرتے رہے مگر آزادی کے بعد اپنے وطن کو چھوڑ نہ سکے ۔ ساری زندگی اپنے وطن میں ہی گزاری ‘ وہیں انتقال ہوا ۔ علامہ انور صابری ‘ مجلس احرار اسلام نے پرجوش اور شعلہ بیاں مقرروں کی جو ٹیم بنائی تھی اس میں علامہ انور صابری بھی شامل تھے ۔ آپ نے جہادِ آزادی میں اپنی شاعری سے تلوار کاکام لیا ہے ۔ہم پنجاب کے اُن ویر جوانوں کو بھی سلام کرتے ہیں جنہیں تاریخ سردار بھگت سنگھ ‘ شہید اُودھم سنگھ ‘ لالہ لاجپت رائے اور سکھدیو کے نام سے ہمیشہ یاد کرتی رہے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com