صوبہ سرائیکستان کی دُہائی 

صوبہ سرائیکستان کی دُہائی 
پاکستان رنگوں تہواروں موسموں ، زبانوں وتہذیب کی وجہ سے ثقافتی لحاظ سے مالا مال ہے یہ رسم ورواج زبان اور تہذیب اس ملک کی شان ہیں جو اسکی رونقوں میں مذید چار چاند لگاتے ہیں اس میں خوشیا ں پھیلاتے ہیںیہ تہذیب وثقافت ہماری کمزوری نہیں طاقت کا سرچشمہ ہیں سب کسی گلشن میں کھلے پھولوں کی طرح ہیں جن کے رنگ بوایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر انہی سے اس گلشن کی بہار ہے وہ سب ساتھ ہیں تو گلشن حسین ہے اور اگر اس گلشن کو رنگوں اور خوشبوؤں کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو گلشن کا حسن مانند پر جائیگا اور وہ گلشن گلشن ہی نہیں رہے گا وہ اپنامقام اپنی پہچان کھودے گا میرا ملک بھی تو ایک گلشن ہے میرے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا گلشن ہے یہ وہ گلشن ہے جس کی اقبال ؒ نے روشن خیالی سے بنیاد رکھی اور جس کو لاکھوں لوگوں نے اپنی جان ومال کی قربانی دیکر محمدعلی جناح ؒ اور مادرملت فاطمہ جناح ؒ کی رہنمائی میں حاصل کیا اس گلشن کی اہمیت کو میری ناقص سوچ اور ناقص قلم اجاگر کرنے کے لائق نہیں اسکی اہمیت کو پوچھنا ہے تو ان سے پوچھو جنہوں نے اسے حاصل کرنے کے لیے اپنا تن من اور دھن وار دیا ،ان سے پوچھوجن کے لہوکی خوشبوسے آج بھی اس وطن کی مٹی مہک رہی ہے یا پھر ان سے پوچھوجنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو شہید ہوتے دیکھا اور دو گڑی اپنے پیاروں کی لاشوں پر رونا بھی نصیب نہ ہوا ،وہ جاکر اپنے پیاروں کی آخری رسومات تک ادا نہ کرسکے سوچیے قیا م پاکستان کے وقت کیا قیامت سامنظر ہوگا جب ہر شارع عا م پل صراط بنی ہوئی تھی اور اس پل صراط پرچلنے والوں کو یہ تک خبر نہیں تھی کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں میں اور اپ بھلاکیسے جان سکتے ہیں اس وطن کی اہمیت کو ، ہمارے لیے تو یہ محض پاکستان ہے مگر جنہوں نے اس پل صراط پر ایک کٹھن مسافت کو طے کرکے اسے حاصل کیا ان کے لیے یہ جنت الفردوس سے کم نہیں ،مگر آج یہ وطن بہت افسردہ ہے جس کی ہمیں بلکل خبر نہیں کیونکہ اس وطن کے باسی بے حس ہوچکے ہیں اس لیے تو آج اس وطن میں زبان اور تہذیب کی دُہائی دے کر اس میں نفرتوں اور نفاق کو ہوا دی جارہی ہے بہت سے شرپسند عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے صوبہ سرائیکستان کی دہائی دے رہے ہیں اور معصوم کو عوام کو بے وقوف بنا کر اپنی ہاں میں ہاں ملواکر اپنے مفادات اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ہماری معصوم عوام تو ہے ہی ایک رٹو طوطے کی طرح جیسے کسی رٹو طوطے کے سامنے ایک بار کہہ دیا جائے میاں مٹھو چوری کھاؤ گے تووہ بنا سوچے کہ سامنے والا مجھے بے وقوف بنا رہا ہے وہ طوطا اگلے چند منٹ تک وہی با ت دہراتا رہتا ہے اس طرح میرے ملک کی عوام بھی بہت معصوم ہے جو ان سیاستدانوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے خاص کر جنوبی پنجاب کی عوام رٹو طوطے کی طرح صوبہ سرائیکستان کے قیا م کی دہائی دے رہی ہے کچھ نام نہاد ہارنے ہوئے سیاستدان عوام میں زبردستی مسلسل احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں سرائیکی صوبے کے نام پر عوام کو انکے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی دُہائی دے رہے ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ حرص ولالچ سے بھرے بے دل اور رال ٹپکاتی جیبوں اور تجوریوں کے لیے وزارتوں کی دُہائی دے رہے ہیں ایک مشہور محاورہ ہے کہ انگور اکھٹے ہیں جو ان سیاسیدانوں پر صادق آتا ہے کیونکہ صوبہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں وزارتوں کی تقسیم کے وقت ان کے حصے میں جو وزارتیں آتی ہیں ان سے ان کی ہوس پوری نہیں ہوتی کیونکہ یہ رکھتے ہیں لالچی کتے کی سی فطرت جو گوشت کا ایک ٹکڑا ملنے کے بعد بھی دوسرا حاصل کرنا چاہتاہیں اس لیے صوبہ سرائیکستان کے قیام کی دُہائی دے رہے ہیں کیونکہ جب ایک اورالگ صوبہ بنے گا تو انہیں ڈھیرساری وزارتیں بھی ملے گی جن کی تقسیم اندھے کی ریوڑیوں کی طرح ہوگی اب اس معصوم عوام کو کون سمجھائے کہ جو لوگ ملک سے غداری پر تلے ہیں شر اور نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں وہ عوام کے حق میں بھلے کیسے ثابت ہوسکتے ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور زبان وتہذیب کی بنیاد پر ایک قوم دوحصوں میں تقسیم کردیا کہتے ہیں حالات اور مسائل کتنے ہی کھٹن اور دشوار کیوں نہ ہو ان کا حل ضرور ہوتا ہے اگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں شر پسند عناصر بڑھ چڑھ حصہ نہ لیتے تو اقبا ل ؒ کا خواب اور قائدکی تعبیر دو ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوتی بنگالی عوام کی محرمیوں کا ازالہ کرکے بھی تو اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا تھا پر سچ کہتے ہیں جو توڑنا جانتے ہیں وہ جوڑ نہیں سکتے شیطان اور اس کے چمچے صرف شرپھیلاسکتے خیر نہیں یہی سب سرایئکستان کے معاملے میں ہورہا ہے جہاں جنوبی پنجاب کی عوام کے زہنوں میں اپنے ہی ہم وطن شہر لاہور یعنی پاکستان کے دل کی عوام کے خلاف ایسے جذبا ت پیدا کردئیے ہیں جیسے انڈیا اور پاکستانی عوام کے ایک دوسرے کے لیے ہیں لاہوراور جنوبی پنجاب کی عوام میں یہ منحوس سیاسیدان مقابلے کی فضا پیدا کررہے ہیں قوم کو سرائیکی اور پنجابی کی بنیاد پر توڑنا چاہتے ہیں میں آج یہ سوال کرتا ہوں ان سیاستدانوں سے کہ وہ کون سی محرمیاں ہیں جن کا شکا ر سرائیکی عوام ہے میں بھی اس سرائیکی خطے کا باسی ہوں شہر ملتان کا پیدائشی رہائشی ہوں مجھے تو کوئی بھی انوکھی محرومی نظر نہیں آتی اگربات غربت مہنگائی ،بے روزگا ری اور تعلیمی مسائل کی ہے تو ان تمام مسائل کا شکار تو میراسارا ملک ہے اس میں سرائیکی عوام ہی کیوں شکوہ کناں ہے چلوایک پل کے لیے مان لیتا ہوں کہ جنوبی پنجاب کی عوام کچھ ایسے مسائل کا شکار ہے جو شائد میں نہیں دیکھ پارہا کیوں کہ میں صرف پاکستانی بن کر دیکھتا ہوں سندھی ،پنجابی، مہاجر ،بلوچی ،سرائیکی یا پٹھان بن کر نہیں مجھے لگتا ہے سرائیکی عوام کو بھی وہی مسائل درپیش ہیں جو ملک کی دیگر عوام کو ہیں سرائیکی صوبہ کی دُہائی دینے والو اگر آپ اپنی خاص اہلیت اور کسی خاص دورہین سے باقی عوام سے ہٹ کر کچھ منفرد مسائل یکھ رہے ہو تو میری آپ سے درخواست ہے کہ ان مسائل کی حکمرانو ں کو نشاندہی کراؤ ان مسائل کی دُہا ئی دوصیح معنوں میں عوام کے لیے لڑو صرف ان نا دیدہ مسائل کے حل کے لیے تحریکیں چلاؤ ،اور مجھے یقین ہے کہ جب تم مخلصانہ کوشش کرو گے تو مسائل ضرور حل ہونگے پر خدارا ،رنگ زبان اور تہذیب کی بنیاد پر میرے قائد اعظم ؒ کے گلشن میں نفرتوں کھے بیج مت بوؤ ،اس گلشن کے پرندوں کو آزاد فضاؤں میں بنا تضاد کے اڑنے دو،اس میں نفاق کی سرحدیں مت قائم کرو ،اس گلشن کے سب پھولوں کو مل جل کر رہنے دو انہیں رنگ اور خوشبو کی بنیا د پر تقسیم مت کرو ، اگر سچ میں اس ملک سے محبت کرتے ہو صرف پاکستانی بن کر سوچو سندھی ،پنجابی ،مہاجر ، بلوچی،سرائیکی یا پٹھان بن کر نہیں ،اگر اپنا حق مانگنا ہے تو صرف پاکستانی بن کر مانگو کسی خاص خطے کا رہائشی بن کر نہیں کیونکہ اس دیس کا ہر خطہ ہمارا ہے یہ ملک ہمارا سائبان ہے ہماراگھر ہے ہمارا سرپرست ہے ہمارا باپ بھی یہی ہے اور ہماری ماں بھی جس طرح ایک ماں کے لیے اس کے سبھی بچے یکساں ہوتے ہیں مگر ہر ایک سے اسکی محبت کا ایک خاص انداز ہوتا ہے ہر بچے کی الگ صفات ہوتی ہیں اور جب کوئی بھی بچہ تکلیف میں ہو تو ماں تڑپ اٹھتی ہے اس طرح اس ملک کے لیے اس کا ہر شہری خواہ وہ کسی بھی حصے میں رہائش پزیرہووہ اس ملک کے لیے اسکی اولاد ہے اور اس سے کسی کی تکلیف بھی سہی نہیں جا تی ،خدارا تخت لاہور کا نعرہ لگانا چھوڑدو لاہور کوئی ہمارا دشمن ملک نہیں بلکہ میرے دیس کا دل ہے جہاں میرے اقبالؒ آرام فرما رہے ہیں جہاں پاکستان کی قرار داد منظور ہوئی اسی طرح ملتان کی ایک پہچان اور تاریخی حثیت ہے جو اولیا ء کی سرزمین ہونے کے ناتے قابل احترام شہر ہے تھبی تو لوگ عقیدت سے ملتان کو ملتان شریف کہتے ہیں ایک بار پھرسے کہوں گا کہ اس ملک کے درد کو سمجھو اگر یہ تمھیں بنا قربا نی کے تھالی میں سجا سجایا ملا ہے تو اس کی قدر کرو اس میں نفرتوں کی فضاء قائم کرکے اسے تکلیف مت دو ،اس کے معاشی حالات کو سمجھو ،آپس کے اختلافات بھلاکر بیرونی قوتوں کاڈٹ کر مقابلہ کرو اس وقت ہم اس حالت میں ہیں کہ ہر قدم پر ہمیں ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے اور ہر چیلنچ سے نبٹنے کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا تاکہ ہمارے ملک میں امن اور خوشحالی کی فضاء قائم ہوسکے ،خدارا یہ نفاق کے نعرے لگانا چھوڑکر ملکی حالات کو سمجھو زرا سوچو کہ اگر سرائیکستان بنے گاتو صوبہ بہالپور کے بھی نعرے لگیں گے اور پھر دیکھا دیکھی ایک مخصوص پارٹی جو ایک خاص چال کے تحت آج صوبہ سرائکستان کے قیام کی حامی ہے کل وہ کراچی کو الگ کرنے کی آواز اٹھائے گی ایک کے بعد ایک نئی آواز بلند ہوگی اور خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہوکہ کسی دن کوئی آواز ایسی بلند ہو جیسی آواز مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت ہوئی تھی آج میری تما م شرپسند عناصر سے درخواست ہے کہ اپنے ذاتی مفادات اور سیاست کو چمکانے کا مقصد چھوڑ کر صرف پاکستانی بن کر سوچنا شروع کرو کسی خاص خطے کا باسی بننا چھوڑ دو کیونکہ ایک فرد ایک ہی پہچان ہوسکتی ہے دو نہیں یا تو ہم سب پاکستانی ہیں ؟یا پھر صرف سندھی ،پنجابی ،پٹھان ،مہاجر ،یا سرائیکی اگرہم ان سب میں سے کچھ بن کر سوچیں گے تو ملک کے لیے کچھ بھی نہیں کر پائیں گے اور اگر پاکستانی بن کر سوچیں گے تو ہم سب کے لیے کچھ کر پائیں گے اب عوام کو بھی سیاسیدانوں کی چال کو سمجھنا ہوگا اور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور تما م شر پسند عنا صر کا اپنے باہمی اتحاد اور محبت کی طاقت سے سرکچلنا ہوگا ۔پاکستان زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com