یہ دیس ہمارا ہے

تحریر:سبل زاہرا
عنوان: یہ دیس ہمارا ہے
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،ہم ایک ہیں ۔سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں ، یہ نغمہ تو یقیناًآپ نے بہت سنا ہوگا۔یہ نغمہ لہو کو گرمادیتا ہے اور دلوں میں ایک نیا ولولہ،ایک نئی تڑپ اور ایک نیا جذبہ پیدا کر دیتا ہے ۔قوم کو پھر سے ایک نئی زندگی بخش دیتا ہے اور پاکستانی قوم پھر سے اپنی بقا کے لئے اپنی آن ،بان اور شان کے لئے ایک جگہ پر کھڑی نظر آتی ہے۔کیونکہ اس نغمہ میں ہمارے سبزہلالی پرچم کا زکر ہے۔ہاں اسی پرچم کا جس کا سبز اور سفید رنگ اسے دنیا بھر میں ممتاز بنا دیتا ہے۔وہی سبز ہلالی پرچم جس کے سائے تلے ہم ایک قوم بنتے ہیں اسی پرچم کے سائے تلے جس میں پانچ کونوں والا ایک تارا اور چاند ہے جو اس کی عظمت و استقلال کا نشان ہے اور جواس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس وطن میں ناصرف مسلمان بلکہ غیر مسلمان قومیں بھی محفوظ ہیں۔یہ پرچم پاکستانی قوم کودنیا بھر میں ممتاز بناتا ہے۔ اسی سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے برصغیر کے مسلمانوں نے انتھک محنت کی ،مسلسل جستجو کی،جان کی قربانیاں دی،جوانیاں لوٹائیں،اپنے خون کو پانی کی طرح بہایا، ظلم سہا، تکلیفیں برداشت کی مگر ہمت نہ ہاری اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ایک ملک،ایک سلطنت،ایک ریاست،یعنی پاکستان کی طرف قدم بڑھائے۔ سفر کا آغاز 1857ء کی جنگ آزادی سے ہوتا ہے۔مسلمان اپنا کھویا ہوا نام و مقام دوبارہ حاصل کر نے کے لئے ہر ہر محاذ پر انگریز حکومت اور ہندوؤں سے بیک وقت مقابلہ کرتے رہے۔اپنی تعلیم،اپنی سیاست اور اپنی ثقافت کو بچانے کے لئے بے تحاشہ قربانیاں دیتے ہیں ۔ قافلہ بنا رکے مسلسل اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔قائداعظم ،علامہ اقبال اور مسلم لیگ کے دوسرے مسلما ن لیڈروں کی ہمراہی میں قوم مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ خواب،خواہشیں،مستقبل کی اچھی امید اور جذبات اس کا حصہ بنتے رہے۔فاصلہ کم ہوتا گیا اور آخرکار 23 مارچ 1940ء کا وہ پر عظمت دن آگیا جس دن آل انڈیا مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی جسے ہندو پریس نے قرارداد پاکستان کا نام دیا اور ہم بھی آج اسے قرار داد پاکستان کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ٍٍٍٍٍٍٍقرارداد میں باقاعدہ طور پر پہلی دفعہ ایک الگ اسلامی ریاست کا مطالبہ کیا گیا ۔برصغیر کے مسلمان ایک عزم اور ایک ارادہ لیے اس پرچم کے سائے تلے جمع ہوگئے ۔ان کی امیدوں ،امنگو،آرزؤں اور خواہشات کا واحد مرکز پاکستان کا حصول بن گیا۔وہ خواب بننے لگے کہ ان کی آنی والی نسلیں ایک آزاد ملک ،آزاد اسلامی ریاست میں سانس لیں گی ۔ اپنی زندگیوں کو غیروں کے تسلط اور جبر سے آزادگزاریں گی۔اسلام کو اپنا شعار بنائیں گی۔ ہاں انھوں نے اس نئی ریاست کے لئے بہت سے خواب دیکھے کہ اس میں ہر کوئی آزاد ہوگا،جس کا ہر باشندہ اس ملک کو آگے سے آگے لے کر جائے گا اور اس کے سبز ہلالی پرچم کو دنیا بھر میں عزت و استقلال کی نگاہ سے دیکھا جائے گا،جس کا نظام وہی ہوگا جو مدینہ کا نظام تھا کیونکہ دنیا میں ریاست مدینہ کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی وہ ریاست ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ہاں وہی پاکستان جس میں ہم اور آپ آج سانس لے رہے ہیں اور عزت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور ایک نئی ریاست بنانے کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئی وقت کا پہیہ اور بھی آگے بڑھا اور 23 مارچ 1940کے محض سات سال بعد یعنی 14 اگست 1947 کودنیا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔آج پھر 23 مارچ ہے تاریخ کا وہ دن ،عظمت رفتہ کی وہ داستان جب برصغیر کے مسلمان آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کے تحت ایک جگہ اکھٹے ہوئے اور ایک اسلامی ریاست حاصل کر کے وہ کر دکھایا جس کا دنیا نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا اور پھر دنیا نے اسے مسلسل آگے بڑھتے اور چاند کی طرح چمکتے دیکھا۔وہ ملک جس کے بارے میں دنیا کا اور خصوصاً پڑوسی ملک بھارت کا یہ خیال تھا کہ وہ کچھ دن بھی قائم نہیں رہ پائے گا وہ دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی قوت کا حامل ملک بنا۔آج پھر ہماری تاریخ کا روشن ترین دن ہے ۔آج پھر 23 مارچ کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ آج پھر اسی جذبے کو دہرانے کا دن ہے کیونکہ آج ہمارا ملک زخمی ہے۔دہشت گردی کا ناسور،کرپشن، امن و امان کی خراب صورتحال ،نا انصافی اور بد دیانتی کی کئی ضربیں اور کئی چوٹیں اسے لگی ہیں ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ اسے یہ زخم کسی اور نے نہیں اس کے اپنوں نے دیے ہیں۔ شاید دنیا کا خیال ہے کہ اسے اب دنیا کے نقشے سے مٹ جانا چاہیے مگر یہ پھر بھی عظمت و ہمت کا نشان ہے اور مسلسل اپنے دشمنوں کو زیر کر رہا ہے اور ان کو ہر میدان اور ہر مرحلے پر شکست دے رہا ہے اور جلد ہی اپنے سب محاذو پر سر خرو ہو گا ۔ اس کی سب سے بڑی مثال آپریشن ضرب عضب اور اس کی کامیابی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ یہ اپنی ہر جنگ جیت کر دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دے گا۔دنیا کو یہ باور کرا دے گا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسی برصغیر کے ان باعظمت اور باہمت لوگوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے ظلم سہا،اپنی جانوں کی قربانیاں دیں،اپنی جوانیاں قربان کی مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان مٹنے کے لئے نہیں بلکہ تا قیامت قائم رہنے کے لئے بنا ہے ۔اس دیس کے غیرت مند،با شعور،اور باہمت بیٹے اور بیٹیاں ابھی زندہ ہیں اور ان کے ہوتے کوئی اسے میلی آنکھ سے نہ دیکھنے کی ہمت نہ کرے ۔پاکستان کے ادارے چاہے وہ پاک آرمی ہو، رینجرز ہو،پولیس ہو یا سول حکومت اس پاک وطن کی حفاظت کے لئے اس پرچم کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com