سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت خوش آئند

سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت خوش آئند

( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) 
جنوبی ایشیاء کے ملک چین سے شروع ہونے والی پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت تعمیر و ترقی کی نئی راہیں و منزلیں کھل جائیں گی جسے اقتصادی ماہرین نے گیم چینجر کا نام دے چکے ہیں تیزی سے اپنے سفر پر گامزن ہے ،پاکستان چین اقتصادی راہداری پر مغربی ممالک ،امریکہ اور ہمسایہ دشمن ملک بھارت نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچے مگر حکومت پاکستان ،چین اور پاک فوج کے پر عزم جوانوں نے سی پیک مختلف مخالف دشمن قوتوں کو مکمل طور پر اپنے مذموم مقاصد میں ناکام کیا اور اب یہ منصوبہ انتہائی تیزی سے اپنی کامیاب منزل کی جانب گامزن ہے،بھارت اور افغانستان نے تو امریکہ کی شہہ پر ملک دشمن سرگرمیوں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو تاحال جاری ہیں ،پاک چین اقتصادی راہداری بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی اور خودمختار علاقے سنکیانگ تک تجارتی سامان کی نقل و حمل کو مزید بہتر بنانا ہے گوادر بندرگاہ سے ریلوے اور موٹر وے کے ذریعے دیگر سامان کے علاوہ تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا اصل مقصدہے،کاشغر گوادر سے تقریباً2442کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،کاشغر عوامی جمہوریہ چین کے خود مختار علاقے سنکیانگ کا ایک شہر ہے جو صحرائے تکلامکان کے مغرب کی جانب کوہ نیان شیان کے دامن میں دریائے کاشغر کے کنارے واقع ہے،کاشغر بذریعہ شاہراہ قراقرم و درہ خنجراب پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے منسلک ہے دوسری جانب درہ تودگرت اور اکشام سے لے کر کرغستان سے ملا ہوا ہے،حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال کے ایک شعر میں اسی کاشغر کا ذکر ہے،اس شہر میں صدیوں سے ہاتھ سے بنے کپاس اور ریشم کے پارچہ جات ،قالین ،چمڑے کی مصنوعات اور زیورات تیار کئے جاتے ہیں جو آج بھی یہاں کی اہم ترین صنعت ہے ترکوں کے اوبغد قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلمان یہاں بکثرت آباد ہیں جبکہ گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں ایک قدیمی آبادی ہے جسے تین اطراف سے سمندر نے گھیر رکھا ہے گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے قریب مٹی کی بلند و بالا چٹانیں موجود ہیں گوادر بہت جلد انتہائی اہمیت کا حامل اور بین الاقوامی شہر کی حیثیت حاصل کر جائے گا، دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع یہ شہر جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر بندرگاہ کی وجہ سے عالمی سطع پر انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے،آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین،افغانستان اور وسط ایشیا کے ممالک تاجکستان،قازقستان،آذربائیجان،ازبکستان ترکمناستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں بھی آئے گاجس کی وجہ سے پاکستان ترقی کی دہلیز پر جسے پیش بہا محصول ملے گا،یہ بندرگاہ خلیج فارس ،بحیرہ عرب ،بحر ہند ،خلیج بنگال اور اسی پٹی میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ14.5میٹر گہری بڑی وسیع اور محفوظ ترین بندرگاہ ہے جہاں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز بآسانی لنگر انداز ہو سکیں گے جن میں ڈھائی لاکھ ٹن و زنی جہاز تک شامل ہوں گے،اس کا ایک فیز مکمل ہو کر فنکشنل ہو چکا ہے جس میں 3برتھ اور ایک ریمپ شامل ہے ایک برتھ کی لمبائی 600میٹر ہے ان برتھوں پر بیک وقت کئی کئی جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں دوسرے فیز میں10برتھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، سی پیک کی اہمیت کے پیش نظر سعودی عرب اب اس منصوبے میں شامل ہو چکا ہے اس شمولیت کا انکشاف پاکستان میں موجود سعودی سفیر نو ۔۔۔نے بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں تشکیل پاکستان میں مسلم دنیا کا کردار کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا، انہوں نے کہا سعودی عرب پاکستان کو درپیش چیلنجز میں ساتھ کھڑا ہے پاکستان اور سعودی عرب تعلقات کی اصل بنیاد اسلام ہے ہم پاکستان کے تحفظ اور استحکام پر یقین رکھتے ہیں ہمیں پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیوں پر فخر ہے،سعودی عرب کے جتنے بھی بادشاہ آئے ان کی پاکستان سے ایک خاص محبت رہی ہے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد بہت گہری ہے جس پر آج تک کوئی قوت اثر انداز نہیں ہو سکی سعودی عرب وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے باوجود 2بلین ڈالر امداد دی تھی،سعودی سفیر کے مطابق سعودی عرب کی ترقی اوراستحکام کے لئے اس وقت 30لاکھ سے زائد پاکستانی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں سی پیک میں سرمایہ کاری کر کے سعودی عرب کو اس طرح کا کردار پاکستان میں ادا کرنے کا موقع میسر ہو گا،دوماہ قبل سعودی عرب نے کہا تھا وہ سی پیک کے لئے گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے،2015میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 146 ارب ڈالر کے51معاہدوں کی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے تھے جس کی مالیت اب بڑھ کر151 ارب 50کروڑ ڈالر ہو چکی ہے،اس منصوبے کے تحت گوادر میں ایکسپریس وے کی تعمیر کے ساتھ بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بہت بڑا منصوبہ شامل ہے جبکہ کئی منصوبوں پر ملک بھر میں تعمیر جاری ہے،گذشتہ ماہ پاکستان میں تعینات چینی سفیر سن ویڈنگ نے ایران کو بھی سی پیک میں شمولیت کی پیش کش کی ہے معلوم ہوا ہے کہ چین ایران کے ساتھ تعاون بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے چینی سفیر کے مطابق چین سی پیک کے ذریعے علاقائی تعاون بڑھانے کا خواہش مند ہے ایران اس حوالے سے ایک اہم ملک ثابت ہو سکتا ہے اور ہم تمام علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں،پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی نہر دوست۔۔نے کہا ہے ایران پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے ۔ایران توانائی کی فراہمی ،سڑکوں اور ڈیمز کی تعمیر کے ذریعے پاکستان کی معیشت کی ترقی میں مدد کرنے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے ،پاکستانی ٹیکسٹائل ،چاول ،طبی آلات ،کھیلوں کے سامان اور زرعی مصنوعات کی ایران میں بہت مانگ ہے ،ایرانی گیس پاکستان کے لئے توانائی کا سب سے سستا،تیز رفتار اور سب سے زیادہ قابل اعتماد ذریعہ ہے ،گیس سپلائی کا منصوبہ زیر تکمیل ہے ایران نے تو 12 ارب ڈالر کی لاگت سے اپنی طرف پٗائپ لائن مکمل کر لی ہے جبکہ پاکستان عالمی پابندیوں کی وجہ سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں کر سکا حالانکہ بہت سے ممالک چین،ہندوستان ،ترکی ،جاپان اور جنوبی کوریا عالمی پابندیوں کے دوران اور بعد میں بھی ایران سے گیس خرید رہے ہیں پاکستان اور ایران نے 2009میں پاک ایران گیس معاہدے پر دستخط کئے تھے تاہم امریکا کی جانب سے ایران پر جوہری پابندی عائد ہونے کے بعد اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہو سکا جبکہ ایران اس وقت پاکستان کو72میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے جو مستقبل میں ایک ہزار میگا واٹ تک ہو سکتی ہے،ایرانی سفیر نے گوادر اور چاہ بہار بند گاہوں کے حوالے سے کہایہ حریف نہیں بلکہ یہ خطے میں بحری تجارت کا مرکز رہنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں گی،پاکستان کی ایران سے دوری کے باعث گذشتہ سال مئی میں ایرانی صدرحسن روحانی ،ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے ایران کی جنوبی بند رگاہ چاہ بہارکے حوالے سے تین طرفہ ٹرانزٹ معاہدہ کیا تھا تب انڈیا نے کہا تھا وہ اس بندر گاہ کی تعمیر کے لئے 50کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گااب تہران اور دہلی کے درمیان آئل اینڈ گیس سیکٹر،پیٹرو کیمیکل ،ٹیکنالوجیکل ،بینکنگ ،سیمنٹ و دیگر شعبہ جات میں بھی مزید تعاون کرے گا واضح رہے کہ ایران پر لگنے والی عالمی پابندیوں سے قبل ایران ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک تھا،بہر حال سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت بہت خوش آئند ہے جو مسلم امہ میں امن کے لئے متحرک کردار ادا کر رہا ہے امید ہے جلد ہی ایران بھی سی پیک کا حصہ بن جائے گا ،رواں ماہ کے آخرمیں وزراء اورمختلف ڈویژنوں کے سربراہوں پر مشتمل سعودی عرب کا وفد کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی غرض سے پاکستان کا دورہ کرے گا اس کے علاوہ پاکستانی حکام کے ساتھ سعودی عرب کے وژن 2030میں پاکستان کی شرکت ،معیشت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا اب سعودی عرب ایک نئے روپ میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے کرپشن کے خلاف اس کا فوری ایکشن بہت بڑی تبدیلی کی غمازی کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com